باب: وضو کی فرضیت کا بیان
CHAPTER: The Obligatory Status Of Wudu’.
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ .
Narrated Ali ibn Abu Talib: The key to prayer is purification i; its beginning s takbir and its end is taslim.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کنجی طہارت، اس کی تحریم تکبیر کہنا، اور تحلیل سلام پھیرنا ہے ۱؎۔
Reference : Sunan Abi Dawud 61
In-book reference : Book 1, Hadith 61
English translation : Book 1, Hadith 61
وضاحت: ۱؎ : تحریم سے مراد ان سارے افعال کو حرام کرنا ہے جنہیں اللہ تعالی نے نماز میں حرام کیا ہے، اسی طرح تحلیل سے مراد ان سارے افعال کو حلال کرنا ہے جنہیں اللہ تعالی نے نماز سے باہر حلال کیا ہے، یہ حدیث جس طرح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کا دروازہ بند ہے جسے انسان وضو کے بغیر کھول نہیں سکتا اسی طرح اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ اکبر کے علاوہ کسی اور دوسرے جملہ سے تکبیر تحریمہ نہیں ہو سکتی اور سلام کے علاوہ آدمی کسی اور چیز کے ذریعہ نماز سے نکل نہیں سکتا۔
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطھارة ۳ (۳)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ۳ (۲۷۵)، (تحفة الأشراف: ۱۰۲۶۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۲۳)، سنن الدارمی/الطھارة ۲۲ (۷۱۴) (حسن صحیح)