Jabir bin Samurah reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Why do you stand in rows as the angels do in the presence of their Lord? We asked: how do the angles stand in rows in the presence of their Lord? He replied: they make the first row complete and keep close together in the row.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس کرتے ہیں؟ ، ہم نے عرض کیا: فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔
Al-Numan bin Bashir said: the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم paid attention to the people and said three times; straighten your rows (in prayer); by Allah, you must straighten your rows, or Allah will certainly put your faces in contrary directions. I then saw that every person stood in prayer keeping his shoulder close to that of the other, and his knee close to that of the other, and his ankle close to that of the other.
ابوالقاسم جدلی کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست کرو - یہ ( جملہ آپ نے تاکید کے طور پر ) تین بار کہا- اللہ کی قسم تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں پھوٹ ڈال دے گا ، نعمان بن بشیر کہتے ہیں: تو میں نے آدمی کو اپنے ساتھی کے مونڈھے سے مونڈھا، گھٹنے سے گھٹنا اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر کھڑا ہوتے دیکھا۔
Al-Numan bin Bashir said: the prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to straighten us in the rows of prayer as the arrow is straightened, until he thought that we had learned it from him and understood it. One day he turned towards us, and shoulders in order, and say; Do not be irregular. And he would say: Allah and his Angels bless those who near the first rows.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں درست کیا کرتے تھے، جیسے تیر درست کیے جاتے ہیں ( اور یہ سلسلہ برابر جاری رہا ) یہاں تک کہ آپ کو یقین ہو گیا کہ ہم نے اسے آپ سے خوب اچھی طرح سیکھ اور سمجھ لیا ہے، تو ایک روز آپ متوجہ ہوئے، اتنے میں دیکھا کہ ایک شخص اپنا سینہ صف سے آگے نکالے ہوئے ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں برابر رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا ۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to pass through the row from one side to the other; he used to set out chests and shoulders in order, and say: Do not be irregular. And he would say: Allah and His angels bless those who are near the first rows.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کے اندر ایک طرف سے دوسری طرف جاتے اور ہمارے سینوں اور مونڈھوں پر ہاتھ پھیرتے تھے ( یعنی ہمارے سینوں اور مونڈھوں کو برابر کرتے تھے ) ، اور فرماتے تھے: ( صفوں سے ) آگے پیچھے مت ہونا، ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں ۔
Narrated An-Numan ibn Bashir: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to straighten our rows when we stood up to pray, and when we were straight, he said: Allah is most great (takbir).
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں درست فرماتے، پھر جب ہم لوگ سیدھے ہو جاتے تو آپ «الله أكبر» کہتے۔
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Set the rows in order, stand shoulder to shoulder, close the gaps, be pliant in the hands of your brethren, and do not leave openings for the devil. If anyone joins up a row, Allah will join him up, but if anyone breaks a row, Allah will cut him off. Abu Dawud said: The name of Abu Shjrah is Kathir bin Murrah.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ( قتیبہ کی روایت میں جسے انہوں نے ابوزاہریہ سے، اور ابوزاہریہ نے ابوشجرہ ( کثیر بن مرہ ) سے روایت کیا ہے، ابن عمر کا ذکر نہیں ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، اور اپنے کندھے ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اور ( صفوں کے اندر کا ) شگاف بند کرو، اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ اور شیطان کے لیے خالی جگہ نہ چھوڑو، جو شخص صف کو ملائے گا، اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا، اور جو شخص صف کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لينوا بأيدي إخوانكم» کا مطلب ہے کہ جب کوئی شخص صف کی طرف آئے اور اس میں داخل ہونا چاہے تو ہر ایک کو چاہیئے کہ اس کے لیے اپنے کندھے نرم کر دے یہاں تک کہ وہ صف میں داخل ہو جائے۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Stand close together in your rows, bring them near one another, and stand neck to neck, for by Him in Whose hand my soul is, I see the devil coming in through openings in the row just like a small black sheep.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہو، اور ایک صف دوسری صف سے نزدیک رکھو، اور گردنوں کو بھی ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں شیطان کو دیکھتا ہوں وہ صفوں کے بیچ میں سے گھس آتا ہے، گویا وہ بکری کا بچہ ہے ۔
Anas reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Straighten your rows for the straightening of the rows is part of perfecting the prayer.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست رکھو کیونکہ صف کی درستگی تکمیل نماز میں سے ہے ( یعنی اس کے بغیر نماز ادھوری رہتی ہے ) ۔
Muhammad bin Muslim bin al-Saib said: one day I prayed by the side of Anas bin Malik. He said ; Do you know why this stick is placed here ? I said: No, by Allah. He said; The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to put his hand upon it and say: Keep straight and straighten your rows.
صاحب مقصورہ محمد بن مسلم بن سائب کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بغل میں نماز پڑھی، تو انہوں نے کہا: کیا تم کو معلوم ہے کہ یہ لکڑی کیوں بنائی گئی ہے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس کا علم نہیں، انس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنا ہاتھ رکھتے تھے، اور فرماتے تھے: برابر ہو جاؤ، اور اپنی صفیں سیدھی رکھو ۔
This tradition has also ben transmitted by Anas through a different chain of transmitters. This version goes: when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stood for prayer, he took it (the stick) in his right hand and turning (to the right side) said; keep straight and straighten your rows. He then took it in his left hand and said; keep straight and straighten your rows.
اس سند سے بھی انس رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس لکڑی کو اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑتے، پھر ( نمازیوں کی طرف ) متوجہ ہوتے، اور فرماتے: سیدھے ہو جاؤ، اپنی صفیں درست کر لو ، پھر اسے بائیں ہاتھ سے پکڑتے اور فرماتے: سیدھے ہو جاؤ اور اپنی صفیں درست کر لو ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Complete the front row, then the one that comes next, and if there is any incompleteness, let it be in the last row.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرو، پھر اس کے بعد والی کو، اور جو کچھ کمی رہ جائے وہ پچھلی صف میں رہے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The best of you are those whose shoulders are soft in prayer.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو نماز میں اپنے مونڈھوں کو نرم رکھنے والے ہیں ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جعفر بن یحییٰ کا تعلق اہل مکہ سے ہے۔