Abu Bakrah said that he came to the mosque when the prophet صلی اللہ علیہ وسلم was bowing. So I bowed outside the row (before joining it). The prophet صلی اللہ علیہ وسلم said; May Allah increase your eagerness! But do not do it again.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ مسجد میں آئے اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، وہ کہتے ہیں: تو میں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) فرمایا: اللہ تمہارے شوق کو بڑھائے، آئندہ ایسا نہ کرنا ۔
Al-Hasan reported: Abu Bakrah came when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was bowing. So he bowed without the row (before joining it). He then went to the row. When the prophet صلی اللہ علیہ وسلم finished his prayer, he said: which of your bowed without the row, and then went to the row? Abu Bakrah said; it was i. the prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: May Allah increase your eagerness! but do not do it again.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ( مسجد میں ) آئے اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چلے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے، تو آپ نے پوچھا: تم میں سے کس نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا تھا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چل کر آیا؟ ، ابوبکرہ نے کہا: میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہاری نیکی کی حرص کو بڑھائے، آئندہ ایسا نہ کرنا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «زياد الأعلم» سے مراد زیاد بن فلاں بن قرہ ہیں، جو یونس بن عبید کے خالہ زاد بھائی ہیں۔