TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3112 - CHAPTER: Clipping The Nails And Shaving The Pubes Of A Sick Person. - Funerals (kitab al-jana'iz) - Sunnan Abu Dawood in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
CHAPTER: Clipping The Nails And Shaving The Pubes Of A Sick Person.
باب: قریب الموت مریض کے ناخن کاٹے جائیں اور زیر ناف کی صفائی بھی کی جائے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ خُبَيْبًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرٍ يَوْمَ بَدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا. حتَّى أَجْمَعُوا لِقَتْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَعَارَ مِنَ ابْنَةِ الْحَارِثِ مُوسًى يَسْتَحِدُّ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَعَارَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَدَرَجَ بُنَيٌّ لَهَا وَهِيَ غَافِلَةٌ. حتَّى أَتَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدَتْهُ مُخْلِيًا وَهُوَ عَلَى فَخْذِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُوسَى بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَفَزِعَتْ فَزْعَةً عَرَفَهَا فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ ؟ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَى هَذِهِ الْقِصَّةَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَةَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمْ حِينَ اجْتَمَعُوا يَعْنِي لِقَتْلِهِ اسْتَعَارَ مِنْهَا مُوسًى يَسْتَحِدُّ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَعَارَتْهُ.
Narrated Abu Hurairah: Banu al-Harith bin Amir bin Nawfal bought Khubaib. Khubaib killed al-Harith bin Amir on the day of Badr. Khubaib remained with them as a prisoner until they agreed on his killing. He borrowed razor form the daughter of al-Harith to shave his pubes. She let it to him. A small child of her crept to him while she was inattentive. When she same, she found him alone and the child was on this thigh and the razor was in his hand. She was terrified and he realized its effect on her. He said: Do you fear that I shall kill him ? I am not going to do that. Abu Dawud said: Shuaib bin Abi Hamzah transmitted this narrative from al-Zuhri. He said: Ubaid Allah bin Ayyash told me that the daughter of al-Harith told him that when they gathered for killing him, he borrowed a razor from her to shave (his pubes). She lent it to him.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خبیب رضی اللہ عنہ کو خریدا ۱؎ اور خبیب ہی تھے جنہوں نے حارث بن عامر کو جنگ بدر میں قتل کیا تھا، تو خبیب ان کے پاس قید رہے ( جب حرمت کے مہینے ختم ہو گئے ) تو وہ سب ان کے قتل کے لیے جمع ہوئے، خبیب بن عدی نے حارث کی بیٹی سے استرہ طلب کیا جس سے وہ ناف کے نیچے کے بال کی صفائی کر لیں، اس نے انہیں استرہ دے دیا، اسی حالت میں اس کا ایک چھوٹا بچہ خبیب کے پاس جا پہنچا وہ بےخبر تھی یہاں تک کہ وہ ان کے پاس آئی تو دیکھا کہ وہ اکیلے ہیں، بچہ ان کی ران پر بیٹھا ہوا ہے، اور استرہ ان کے ہاتھ میں ہے، یہ دیکھ کر وہ سہم گئی اور ایسی گھبرائی کہ خبیب بھانپ گئے اور کہنے لگے: کیا تم ڈر رہی ہو کہ میں اسے قتل کر دوں گا، میں ایسا ہرگز نہیں کر سکتا ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس قصہ کو شعیب بن ابوحمزہ نے زہری سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی ہے کہ حارث کی بیٹی نے انہیں بتایا کہ جب لوگوں نے خبیب کے قتل کا متفقہ فیصلہ کر لیا تو انہوں نے موئے زیر ناف صاف کرنے کے لیے اس سے استرہ مانگا تو اس نے انہیں دے دیا ۳؎۔
3112
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 3112 In-book reference : Book 21, Hadith 24 English translation : Book 20, Hadith 3106
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم : (۲۶۶۰)، (تحفة الأشراف: ۱۴۲۷۱)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : سو اونٹ کے بدلہ میں خریدا تاکہ انہیں قتل کر کے اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لیں۔ ۲؎ : کیونکہ اسلام میں کسی بے گناہ بچے کا قتل جائز نہیں۔ ۳؎ : پھر ان کافروں نے خبیب رضی اللہ عنہ کو تنعیم میں سولی دے دی، جو حدود حرم سے باہر ہے، خبیب نے اتنی مہلت مانگی کہ وہ دو رکعت ادا کر سکیں تو کافروں نے انہیں مہلت دے دی، آپ نے دو رکعت ادا کی پھر یہ شعر پڑھے: «فلست أبالي حين أقتل مسلمًا على أي جنب كان في الله مصرعي وذلك في ذات الإله وإن يشأ يبارك على أوصال شلو ممزع» (جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں مارا جاؤں تو مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ کس پہلو پر ہوں۔ میرا یہ قتل اللہ کے لئے ہے، اگر اللہ چاہے تو پارہ پارہ عضو کے جوڑ جوڑ میں برکت دے دے۔)

Related Chapters

524
1
CHAPTER: It Is Recommended To Purify The Clothes Of The Dying Person At The Time Of Death.
باب: مستحب ہے کہ قریب الموت آدمی کے کپڑے پاک صاف کر دیے جائیں ۔
Sunnan Abu Dawood
2
(74) CHAPTER. A sick person may perform Tawaf (of the Kabah) while riding.
مریض آدمی سوار ہو کر طواف کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
3
(64) CHAPTER. The clipping of nails.
ناخن ترشوانے کا بیان
Sahih Bukhari
4
(4) CHAPTER. For expiation (of one's oath) one should feed ten poor persons no matter whether they are relatives or not.
کفارہ میں دس مسکینوں کو کھانا دیا جائے خواہ وہ قریب کے رشتہدار ہوں یادور کے بلکہ قریب والوں کو کھلانے میں ثواب اور بھی زیادہ ہے
Sahih Bukhari
5
Chapter: When the first ten days of Dhul-Hijjah begin, it is forbidden for the one who wants to offer a sacrifice to remove anything from his hair, nails or skin
جب ذوالحجہ کا(پہلا) عشرہ شروع ہوجائے تو جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،اس کے لیے بال اور ناخن کٹوانے کی ممانعت
Sahih Muslim
6
Chapter: Talbinah Gives Comfort To The Sick Person
آٹےوغیرہ سے بنا یا ہوا نرم حریرہ مریض کے دل کو راحت پہنچانے والا ہے
Sahih Muslim
7
CHAPTER: A Person Observing I’tikaf Visiting The Sick.
باب: اعتکاف کرنے والا مریض کی عیادت کر سکتا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
8
CHAPTER: Supplicating For The Sick Person To Be Cured When Visiting Him.
باب: عیادت کے موقع پر مریض کے لیے شفاء کی دعا کرنا ۔
Sunnan Abu Dawood
9
Chapter: What Has Been Related About: When The Night Advances And The Day Retreats, Then The Fasting Person Break The Fast
باب: جب رات آ جائے اور دن چلا جائے یعنی سورج ڈوب جائے تو صائم افطار کرے
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Fasting Person Who Is Overcome By Vomiting
باب: روزہ دار کو (خودبخود) قے آ جائے اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Virtue For The Fasting Person When Others Are Eating In His Presence
باب: روزہ دار کی فضیلت کا بیان جب اس کے پاس کھایا جائے
Jam e Tirmazi
12
Chapter: (What Has Been Related About) When The Boundaries Are Defined And The Areas Are Fixed Then There Is No Preemption.
باب: جب حد بندی ہو جائے اور حصے تقسیم ہو جائیں تو شفعہ نہیں
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Camels, Cows, And Sheep, When They Flee And Become Wild: Are They Shot With An Arrow Or Not ?
باب: اونٹ، گائے اور بکری بدک کر وحشی بن جائیں تو انہیں تیر سے مارا جائے گا یا نہیں؟
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Constriction Of Time And The Curtailment Of Hope
باب: قرب قیامت زمانہ سمٹ جائے گا اور آرزوئیں کم ہو جائیں گی
Jam e Tirmazi
15
قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
Musnad Ahmad
16
قریب الموت کے پاس سورۂ یس کی تلاوت کرنے، شدتِ موت، روح کے عالَم نزع میت کی آنکھیں بند کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
17
قریب الموت کو دکھائے جانے والے مناظر اور جسم سے جدا ہونے کے بعد روح کا ٹھکانہ
Musnad Ahmad
18
جب دو داعی جمع ہو جائیں تو کیا کیا جائے، نیز دوسرے اور تیسرے دن کی دعوت قبول کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
19
(9) CHAPTER. The Statement of the Prophet : It is probable that a person who receives a piece of information indirectly may comprehend it better than he who has heard it directly from its source.”
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل میں کہ بسا اوقات وہ شخص جسے ( حدیث ) پہنچائی جائے سننے والے سے زیادہ ( حدیث کو ) یاد رکھ لیتا ہے ۔
Sahih Bukhari
20
(44) CHAPTER. When a religious learned man is asked, “Who is the most learned person,” it is better for him to attribute or entrust absolute knowledge to Allah and to say, “Allah is the Most Learned (than anybody else) .”
اس بیان میں کہ جب کسی عالم سے یہ پوچھا جائے کہ لوگوں میں کو ن سب سے زیادہ علم رکھتا ہے ؟ تو بہتر یہ ہے کہ اللہ کے حوالے کر دے یعنی یہ کہہ دے کہ اللہ سب سے زیادہ علم رکھتا ہے یا یہ کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کو ن سب سے بڑا عالم ہے ۔
Sahih Bukhari
21
(69) CHAPTER. If a dead body or a polluted thing is put on the back of a person offering Salat (prayer), his Salat will not be annulled (rejected by Allah).
جب نمازی کی پشت پر ( اچانک ) کوئی نجاست یا مردار ڈال دیا جائے تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی
Sahih Bukhari
22
CHAPTER. If the clothes of a praying person in prostration touched his wife [would that make his Salat (prayer) invalid]?
جب سجدے میں آدمی کا کپڑا اس کی عورت سے لگ جائے تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
23
(59) CHAPTER. If the Imam has not had the intention of leading the prayer and then some persons join him and he leads them.
نماز شروع کرتے وقت امامت کی نیت نہ ہو ، پھر کچھ لوگ آ جائیں اور وہ ان کی امامت کرنے لگے ( تو کیا حکم ہے )
Sahih Bukhari
24
(77) CHAPTER. If a person stands by the left side of the Imam, and the Imam draws him to the right from behind, his Salat (prayer) is correct.
اگر کوئی شخص امام کے بائیں طرف کھڑا ہو اور امام اپنے پیچھے سے اسے دائیں طرف کر دے تو نماز ہو جائے گی
Sahih Bukhari
25
(38) CHAPTER. If some people leave the Imam during the Salat-ul-Jumuah (Jumuah prayer), then the Salat (prayer) of the remaining people and the Imam is permissible.
اگر جمعہ کی نماز میں کچھ لوگ امام کو چھوڑ کر چلے جائیں تو امام اور باقی نمازیوں کی نماز صحیح ہو جائے گی
Sahih Bukhari
26
(14) CHAPTER. If a person in Salat (prayer) is asked to step forward, or is requested to wait and he waits, there will be no harm therein.
اس بارے میں کہ اگرنماز ی سے کوئی کہے کہ آگے بڑھ جایا ٹھہر جا اور وہ آگے بڑھ جائے یا ٹھہر جائے تو کوئی قباحت نہیں ہے
Sahih Bukhari
27
(6) CHAPTER. The superiority of the person whose child dies and he faces the event with patience hoping for Allah's reward.
اس شخص کی فضیلت جس کی کوئی اولاد مر جائے اور وہ اجر کی نیت سے صبر کرے
Sahih Bukhari
28
(14) CHAPTER. If one gives an object of charity to a wealthy person unknowingly.
اگر لاعلمی میں کسی نے مالدار کو صدقہ دے دیا ( تو اس کو ثواب مل جائے گا )
Sahih Bukhari
29
(5) CHAPTER. The statement of Allah: … And whosoever of you is ill or has an ailment in his scalp, (necessitating shaving), he must pay a Fidya (ransom), of either observing Saum (fasts) (three days), or giving Sadaqa (charity - feeding six poor persons), or offer sacrifice (one sheep) ...” (V.2:196)
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اگر تم میں کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں ( جوؤں کی ) کوئی تکلیف ہو تو اسے روزے یا صدقے یا قربانی کا فدیہ دینا چاہئے یعنی اسے اختیار ہے اور اگر روزہ رکھنا چاہے تو تین دن روزہ رکھے
Sahih Bukhari
30
(6) CHAPTER. The saying of Allah: ... Or giving Sadaqa … (V.2:196) Here Sadaqa is in the form of feeding six poor person.
اللہ تعالیٰ کا قول ” یا صدقہ “ ( دیا جائے ) یہ صدقہ چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے
Sahih Bukhari
31
(8) CHAPTER. It is not permissible to cut the trees of Haram (the sanctuary of Makkah).
اس بیان میں کہ حرم شریف کے درخت نہ کاٹے جائیں
Sahih Bukhari
32
(3) CHAPTER. If the debts due on a dead person are transferred to somebody, the transference is legal and valid.
اگر کسی میت کا قرض کسی ( زندہ ) شخص کے حوالہ کیا جائے تو جائز ہے
Sahih Bukhari
33
(3) CHAPTER. He who undertakes to repay the debts of a dead person has not the right to change his mind.
جو شخص کسی میت کے قرض کا ضامن بن جائے تو اس کے بعد اس سے رجوع نہیں کر سکتا ، حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا
Sahih Bukhari
34
(18) CHAPTER. The retaliation of the oppressed person if he finds the property of his oppressor.
مظلوم کو اگر ظالم کا مال مل جائے تو وہ اپنے مال کے موافق اس میں سے لے سکتا ہے
Sahih Bukhari
35
(4) CHAPTER. If one manumits a male slave owned by two persons or a female slave owned by a number of partners.
اگر مشترک غلام یا لونڈی کو آزاد کر دیا جائے
Sahih Bukhari
36
(18) CHAPTER. If somebody gives somebody else a present, or promises to give him a present, and one of them dies before the gift reaches the other person.
اگر ہبہ یا ہبہ کا وعدہ کر کے کوئی مر جائے اور وہ چیز موہوب لہ ( جس کو ہبہ کی گئی اس ) کو نہ پہنچی ہو ۔
Sahih Bukhari
37
(19) CHAPTER. It is recommended that something should be given in charity on behalf of a person who dies suddenly. And the execution of the vows of the deceased.
اگر کسی کو اچانک موت آ جائے تو اس کی طرف سے خیرات کرنا مستحب ہے اور میت کی نذروں کو پوری کرنا
Sahih Bukhari
38
(57) CHAPTER. How to invoke good upon a person who has married recently?
دولہا کو کس طرح دعا دی جائے ؟
Sahih Bukhari
39
(22) CHAPTER. What are the regulations concerning the property and family of a lost person?
جو شخص گم ہو جائے اس کے گھر والوں اور جائیداد میں کیا عمل ہو گا ۔
Sahih Bukhari
40
(15) CHAPTER. To visit a patient riding, walking or sitting with another person on a donkey.
مریض کی عیادت کو سوار ہو کر یا پیدل یا گدھے پر کسی کے پیچھے بیٹھ کر جانا ہر طرح جائز درست ہے
Sahih Bukhari
41
(24) CHAPTER. The treatment for a person suffering from diarrhea.
پیٹ کے عارضہ میں کیا دوا دی جائے ؟
Sahih Bukhari
42
(64) CHAPTER. May a person visit his friend daily, or visit him in the morning and in the evening?
کیا اپنے ساتھی کی ملاقات کے لئے ہر دن جا سکتا ہے یا صبح اور شام ہی کے اوقات میں جائے
Sahih Bukhari
43
(32) CHAPTER. Unmarried males and females (committing illegal sexual intercourse) should be flogged and exiled.
غیرشادیشدہ مرد و عورت کو کوڑے مارے جائیں اور ملک بدر کیا جائے
Sahih Bukhari
44
(42) CHAPTER. What Punishment may be inflicted on the person so that he may not commit the same sin again, or so that he may learn good manners.
اگر کسی شخص کی بےحیائی اور بے شرمی اور آلودگی پر گواہ نہ ہوں پھر قرائن سے یہ امر کھل جائے
Sahih Bukhari
45
(23) CHAPTER. Whoever thinks that if the Prophet (p.b.u.h.) did not disapprove of something (said or done in his presence), his silence indicated that it was permissible, but if another person faced a similar situation, his silence should not be taken as a sign of his agreement.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات کہی جائے اور آپ اس پر انکار نہ کریں جسے تقریر کہتے ہیں تو یہ حجت ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی کی تقریر پر حجت نہیں ۔
Sahih Bukhari
46
Chapter: Allah allows a person's thoughts and whatever occurs in his heart so long as they do not become established
اللہ تعالیٰ نے ان باتون سے جو دل ہی دل میں خود سے کی جاتی ہے اور دل میں آنے والے خیالات سے اگر وہ دل میں جاگزیں نہ ہو جائیں تو درگزر فرمایا ہے
Sahih Muslim
47
Chapter: Clarifying that Islam started as something strange, and will revert to being something strange, and it will retreat between the two Masajid
۔ اسلام کی ابتدا اس حالت میں ہوئی کہ وہ اجنبی تھا اور عنقریب پھر اپنے ابتدائی دور کے مانند اجنبی ہو جائے گا اور جو مسجدوں کے درمیان سمٹ آئے گا
Sahih Muslim
48
Chapter: The Praying Person Standing Close To The Sutrah
نمازی کا سترے کے قریب کھڑا ہونا
Sahih Muslim
49
Chapter: The poor person who cannot find enough to make him independent of means, but the people do not realize that he is in need, so they do not give Charity to him
ایسا مسکین جسے نہ تو نگری حاصل ہے نہ اس کا پتہ چلتا ہے کہ اس کو صدقہ دیا جائے
Sahih Muslim
50
Chapter: Clarifying that it does not matter whether the crescent is large or small, for Allah, the Most High, causes it to appear for long enough that people can see it, and if it is cloudy then thirty days should be completed
چاند کے چھوٹے اور بڑے ہونے کا اعتبار نہیں ‘اللہ تعالیٰ نے رؤیت کے لیے اسے بڑا کر دیا اگر اس کو چھپادیا جائے تو تیس (دن )مکمل کیے جائیں
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

452
Jam e Tirmazi
2732
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قَدِمَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَاهُ فَقَرَعَ الْبَابَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرْيَانًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ عُرْيَانًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ فَاعْتَنَقَهُ وَقَبَّلَهُ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Narrated 'Aishah: Zaid bin Harithah arrived in Al-Madinah while the Messenger of Allah (ﷺ) was in his house. So he went and knocked at the door, so the Messenger of Allah (ﷺ) stood naked (1), dragging his garment - and by Allah! I did not see him naked before nor afterwards - and he hugged him and kissed him. (1) They say that the meaning of naked here is that he was not wearing his Rida or upper wrap and it was that which was dragging, so the area between the navel and knees were covered. See Tuhfat Al-Ahwadhi.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ زید بن حارثہ مدینہ آئے ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، وہ آپ کے پاس آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا، تو آپ ان کی طرف ننگے بدن اپنے کپڑے سمیٹتے ہوئے لپکے اور قسم اللہ کی میں نے آپ کو ننگے بدن نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد دیکھا ۱؎، آپ نے ( بڑھ کر ) انہیں گلے لگا لیا اور ان کا بوسہ لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف زہری کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Sunnan Abu Dawood
2660
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّحَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً عَيْنًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ فَنَفَرُوا لَهُمْ هُذَيْلٌ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِمْ عَاصِمٌ لَجَئُوا إِلَى قَرْدَدٍ فَقَالُوا لَهُمْ:‏‏‏‏ انْزِلُوا فَأَعْطُوا بِأَيْدِيكُمْ وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ أَحَدًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَاصِمٌ:‏‏‏‏ أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَرَمَوْهُمْ بِالنَّبْلِ فَقَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَنَزَلَ إِلَيْهِمْ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ عَلَى الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ مِنْهُمْ خُبَيْبٌ وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ وَرَجُلٌ آخَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ أَطْلَقُوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ:‏‏‏‏ هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ وَاللَّهِ لَا أَصْحَبُكُمْ إِنَّ لِي بِهَؤُلَاءِ لَأُسْوَةً فَجَرُّوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَقَتَلُوهُ فَلَبِثَ خُبَيْبٌ أَسِيرًا حَتَّى أَجْمَعُوا قَتْلَهُ فَاسْتَعَارَ مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا فَلَمَّا خَرَجُوا بِهِ لِيَقْتُلُوهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لَهُمْ خُبَيْبٌ:‏‏‏‏ دَعُونِي أَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ تَحْسَبُوا مَا بِي جَزَعًا لَزِدْتُ .
Abu Hurairah said “The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم sent ten persons (on an expedition) and appointed Asim bin Thabit their commander. About one hundred men of Hudhail who were archers came out to (attack) them. When Asim felt their presence, they took cover in a hillock. They aid to them “Come down and surrender and we make a covenant and pact with you that we shall not kill any of you”. Asim said “I do not come to the protection of a disbeliever. Then they shot them with arrows and killed Asim in a company of seven persons. The other three persons came down to their covenant and pact. They were Khubaib, Zaid bin Al Lathnah and another man. When they overpowered them, they untied their bow strings and tied them with them”. The third person said “This is the first treachery. I swear by Allaah, I shall not accompany you. In them (my companions) is an example for me. They pulled him, but he refused to accompany them, so they killed him. Khubaib remained their captive until they agreed to kill him. He asked for a razor to shave his pubes. When they brought him outside to kill him. Khubaib said to them “Let me offer two rak’ahs of prayer”. He then said “I swear by Allaah, if you did not think that I did this out of fear. I would have increased (the number of rak’ahs).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمیوں کو جاسوسی کے لیے بھیجا، اور ان کا امیر عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بنایا، ان سے لڑنے کے لیے ہذیل کے تقریباً سو تیر انداز نکلے، جب عاصم رضی اللہ عنہ نے ان کے آنے کو محسوس کیا تو ان لوگوں نے ایک ٹیلے کی آڑ میں پناہ لی، کافروں نے ان سے کہا: اترو اور اپنے آپ کو سونپ دو، ہم تم سے عہد کرتے ہیں کہ تم میں سے کسی کو قتل نہ کریں گے، عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: رہی میری بات تو میں کافر کی امان میں اترنا پسند نہیں کرتا، اس پر کافروں نے انہیں تیروں سے مارا اور ان کے سات ساتھیوں کو قتل کر دیا جن میں عاصم رضی اللہ عنہ بھی تھے اور تین آدمی کافروں کے عہد اور اقرار پر اعتبار کر کے اتر آئے، ان میں ایک خبیب، دوسرے زید بن دثنہ، اور تیسرے ایک اور آدمی تھے رضی اللہ عنہم، جب یہ لوگ کفار کی گرفت میں آ گئے تو کفار نے اپنی کمانوں کے تانت کھول کر ان کو باندھا، تیسرے شخص نے کہا: اللہ کی قسم! یہ پہلی بدعہدی ہے، اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میرے لیے میرے ان ساتھیوں کی زندگی نمونہ ہے، کافروں نے ان کو کھینچا، انہوں نے ساتھ چلنے سے انکار کیا، تو انہیں قتل کر دیا، اور خبیب رضی اللہ عنہ ان کے ہاتھ میں قیدی ہی رہے، یہاں تک کہ انہوں نے خبیب کے بھی قتل کرنے کا ارادہ کر لیا، تو آپ نے زیر ناف کے بال مونڈنے کے لیے استرا مانگا ۱؎، پھر جب وہ انہیں قتل کرنے کے لیے لے کر چلے تو خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: مجھے چھوڑو میں دو رکعت نماز پڑھ لوں، پھر کہا: اللہ کی قسم! اگر تم یہ گمان نہ کرتے کہ مجھے مارے جانے کے خوف سے گھبراہٹ ہے تو میں اور دیر تک پڑھتا۔
Jam e Tirmazi
641
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا مَنْ وَلِيَ يَتِيمًا لَهُ مَالٌ فَلْيَتَّجِرْ فِيهِ وَلَا يَتْرُكْهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الصَّدَقَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ الْمُثَنَّى بْنَ الصَّبَّاحِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَالِ الْيَتِيمِ زَكَاةً، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ لَيْسَ فِي مَالِ الْيَتِيمِ زَكَاةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏وَشُعَيْبٌ قَدْ سَمِعَ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فِي حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ هُوَ عِنْدَنَا وَاهٍ وَمَنْ ضَعَّفَهُ فَإِنَّمَا ضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ أَنَّهُ يُحَدِّثُ مِنْ صَحِيفَةِ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا أَكْثَرُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فَيَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فَيُثْبِتُونَهُ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق وَغَيْرُهُمَا.
Amr bin Shu'aib narrated from his father, from his grandfather that : the Prophet addressed the people and said: As for one who is the guardian of an orphan who has wealth, then let him do business with it and not leave it until it becomes consumed by charity.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا تو فرمایا: ”جو کسی ایسے یتیم کا ولی ( سر پرست ) ہو جس کے پاس کچھ مال ہو تو وہ اسے تجارت میں لگا دے، اسے یونہی نہ چھوڑ دے کہ اسے زکاۃ کھا لے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے اور اس کی سند میں کلام ہے اس لیے کہ مثنیٰ بن صباح حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں، ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث عمرو بن شعیب سے روایت کی ہے کہ عمر بن خطاب نے کہا: … اور آگے یہی حدیث ذکر کی، ۳- عمرو: شعیب کے بیٹے ہیں، اور شعیب محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کے بیٹے ہیں۔ اور شعیب نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو سے سماعت کی ہے، یحییٰ بن سعید نے عمرو بن شعیب کی حدیث میں کلام کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ ہمارے نزدیک ضعیف ہیں، اور جس نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے صرف اس وجہ سے ضعیف کہا ہے کہ انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو کے صحیفے سے حدیث بیان کی ہے۔ لیکن اکثر اہل حدیث علماء عمرو بن شعیب کی حدیث سے دلیل لیتے ہیں اور اسے ثابت مانتے ہیں جن میں احمد اور اسحاق بن راہویہ وغیرہما بھی شامل ہیں، ۴- اس باب میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں کی رائے ہے کہ یتیم کے مال میں زکاۃ ہے، انہیں میں عمر، علی، عائشہ، اور ابن عمر ہیں۔ اور یہی مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۵- اور اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یتیم کے مال میں زکاۃ نہیں ہے۔ سفیان ثوری اور عبداللہ بن مبارک کا یہی قول ہے ۲؎۔
Jam e Tirmazi
697
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الصَّوْمُ يَوْمَ تَصُومُونَ وَالْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَالْأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا مَعْنَى هَذَا أَنَّ الصَّوْمَ وَالْفِطْرَ مَعَ الْجَمَاعَةِ وَعُظْمِ النَّاسِ.
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said: The fast is the day the people fast, the breaking of the fast is the day the people break their fast, and the sacrifice is the day the people sacrifice.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صیام کا دن وہی ہے جس دن تم سب روزہ رکھتے ہو اور افطار کا دن وہی ہے جب سب عید الفطر مناتے ہو اور اضحٰی کا دن وہی ہے جب سب عید مناتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تشریح یوں کی ہے کہ صوم اور عید الفطر اجتماعیت اور سواد اعظم کے ساتھ ہونا چاہیئے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
1128
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَسْلَمْنَ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَخَيَّرَ أَرْبَعًا مِنْهُنَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حُدِّثْتُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَإِنَّمَا حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ طَلَّقَ نِسَاءَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:‏‏‏‏ لَتُرَاجِعَنَّ نِسَاءَكَ أَوْ لَأَرْجُمَنَّ قَبْرَكَ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ عِنْدَ أَصْحَابِنَا، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ الشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
Ibn Umar narrated: Ghilan bin Salamah Ath-Thaqafi accepted Islam and he had ten wives in Jahiliyyah who accepted Islam along with him. So the Prophet ordered (him) to chose four (of them).
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ۱؎ ثقفی نے اسلام قبول کیا، جاہلیت میں ان کی دس بیویاں تھیں، وہ سب بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی چار کو منتخب کر لیں ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح اسے معمر نے بسند «الزهري عن سالم بن عبدالله عن ابن عمر» روایت کیا ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ یہ حدیث غیر محفوظ ہے۔ اور صحیح وہ ہے جو شعیب بن ابی حمزہ وغیرہ نے بسند «الزهري عن محمد بن سويد الثقفي» روایت کی ہے کہ غیلان بن سلمہ نے اسلام قبول کیا تو ان کے پاس دس بیویاں تھیں۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ صحیح زہری کی حدیث ہے جسے انہوں نے سالم بن عبداللہ سے اور سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ ثقیف کے ایک شخص نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی تو عمر نے اس سے کہا: تم اپنی بیویوں سے رجوع کر لو ورنہ میں تمہاری قبر کو پتھر ماروں گا جیسے ابورغال ۳؎ کی قبر کو پتھر مارے گئے تھے۔ ۴- ہمارے اصحاب جن میں شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی شامل ہیں کے نزدیک غیلان بن سلمہ کی حدیث پر عمل ہے۔
Jam e Tirmazi
2583
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ:‏‏‏‏ وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ ‏‏‏‏ 16 ‏‏‏‏ يَتَجَرَّعُهُ سورة إبراهيم آية 15-16،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ يُقَرَّبُ إِلَى فِيهِ فَيَكْرَهُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أُدْنِيَ مِنْهُ شَوَى وَجْهَهُ وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا شَرِبَهُ قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ دُبُرِهِ ،‏‏‏‏ يَقُولُ اللَّهُ:‏‏‏‏ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ سورة محمد آية 15 وَيَقُولُ:‏‏‏‏ وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ سورة الكهف آية 29 ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ،‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ لَهُ أَخٌ قَدْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُخْتُهُ قَدْ سَمِعَتْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ الَّذِي رَوَى عَنْهُ صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو حَدِيثَ أَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ أَخَا عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ.
Abu Umamah narrated regarding His (Allah's) statement: He will be given water of Sadid to drink, he will swallow it... that the Prophet (s.a.w) said: It will be brought toward his mouth and he will dislike it, so whenever it is brought closer to him it will melt his face and the skin of his head will fall into it. Then whenever he drinks from ithis bowels will be severed until it comes out from his anus. Allah, the Blessed and Exalted says: And they will be given water of Hamim to drink such that it cuts up their bowels... and He says: And if they call for drink they will be given water of Muhl which melts the faces, the worst of drinks and the worst of abodes.
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ويسقى من ماء صديد يتجرعه» ( ابراہیم: ۱۶ ) کے بارے میں فرمایا: ” «صديد» ( پیپ ) اس کے منہ کے قریب کی جائے گی تو اسے ناپسند کرے گا جب اسے اور قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ بھن جائے گا اور اس کے سر کی کھال گر جائے گی اور جب اسے پیئے گا تو اس کی آنت کٹ جائے گی یہاں تک کہ اس کے سرین سے نکل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وسقوا ماء حميما فقطع أمعاءهم» ”وہ «ماء حمیم» ( گرم پانی ) پلائے جائیں گے تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ دے گا“ ( سورۃ محمد: ۱۵ ) اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وإن يستغيثوا يغاثوا بماء كالمهل يشوي الوجوه بئس الشراب» ”اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تلچھٹ کی طرح ہو گا چہرے کو بھون دے گا اور وہ نہایت برا مشروب ہے“ ( الکہف: ۲۹ ) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی سند میں «عن عبيد الله بن بسر» کہا ہے اور ہم عبیداللہ بن بسر کو صرف اسی حدیث میں جانتے ہیں، ۳- صفوان بن عمر نے عبداللہ بن بسر سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ایک دوسری حدیث روایت کی ہے، عبداللہ بن بسر کے ایک بھائی ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور ان کی ایک بہن نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی ہے۔ جس عبیداللہ بن بسر سے صفوان بن عمرو نے یہ حدیث روایت کی ہے، یہ صحابی نہیں ہیں کوئی دوسرے آدمی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2681
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَقِيهٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ.
Narrated Ibn 'Abbas: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The Faqih is harder on Ash-Shaitan than a thousand worshipers.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عبادت کرنے والوں کے مقابلہ میں اکیلا شیطان پر حاوی اور بھاری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت سے صرف اسی سند جانتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
2883
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِيل أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَطَّارِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ نَوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَأْتِي الْقُرْآنُ وَأَهْلُهُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِهِ فِي الدُّنْيَا تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَآلُ عِمْرَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ نَوَّاسٌ:‏‏‏‏ وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ، ‏‏‏‏‏‏مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَأْتِيَانِ كَأَنَّهُمَا غَيَابَتَانِ وَبَيْنَهُمَا شَرْقٌ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ سَوْدَاوَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ كَأَنَّهُمَا ظُلَّةٌ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُجَادِلَانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ قِرَاءَتِهِ كَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ وَمَا يُشْبِهُ هَذَا مِنَ الْأَحَادِيثِ أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي حَدِيثِ النَّوَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَدُلُّ عَلَى مَا فَسَّرُوا، ‏‏‏‏‏‏إِذْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَأَهْلُهُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِهِ فِي الدُّنْيَا ، ‏‏‏‏‏‏فَفِي هَذَا دَلَالَةٌ أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ الْعَمَلِ.
Narrated An-Nawwas bin Sam'an: that the Prophet (ﷺ) said: The Qur'an shall come, and its people who acted according to it in the world. Surat Al-Baqarah and Al 'Imran shall be in front of it. An-Nawwas said: The Messenger of Allah (ﷺ) stated three parables about them which I have not since forgotten, he said: They will come as if they are two shades between which there is illumination, or as if they are two shady clouds, or as if they are shadows of lines of birds arguing on behalf of their people.
نواس بن سمعان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن اور قرآن والا جو دنیا میں قرآن پر عمل کرتا ہے دونوں آئیں گے ان کی پیشوائی سورۃ البقرہ اور آل عمران کریں گی“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تین مثالیں دیں، اس کے بعد پھر میں ان سورتوں کو نہ بھولا۔ آپ نے فرمایا: ”گویا کہ وہ دونوں چھتریاں ہیں، جن کے بیچ میں شگاف اور پھٹن ہیں، یا گویا کہ وہ دونوں کالی بدلیاں ہیں، یا گویا کہ وہ صف بستہ چڑیوں کا سائبان ہیں، یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں کا لڑ جھگڑ کر دفاع و بچاؤ کر رہی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اس باب میں بریدہ اور ابوامامہ سے بھی روایت ہے، ۳- اس حدیث کا بعض اہل علم کے نزدیک معنی و مفہوم یہ ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب آئے گا۔ اس حدیث اور اس جیسی دیگر احادیث کی بعض اہل علم نے یہی تفسیر کی ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب آئے گا، نواس رضی الله عنہ کی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، مفسرین کی اس تفسیر کی دلیل اور اس کا ثبوت ملتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول «وأهله الذين يعملون به في الدنيا» میں اشارہ ہے کہ قرآن کے آنے سے مراد ان کے اعمال کا ثواب ہے۔
Jam e Tirmazi
3170
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا سُمِّيَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ:‏‏‏‏ لِأَنَّهُ لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهِ جَبَّارٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
Narrated 'Abdullah bin Az-Zubair: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: It is only called Al-Bait Al-'Atiq because it has not been conquered by a tyrant.
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خانہ کعبہ کا نام «بيت العتيق» ۱؎ ( آزاد گھر ) اس لیے رکھا گیا کہ اس پر کسی جابر و ظالم کا غلبہ و قبضہ نہیں ہو سکا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث زہری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔