Jabir bin Abdullah said: A man declared that his slave would be free after his death, but he had no other property. So the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم ordered (to sell him). He was then sold for seven hundred or nine hundred (dirhams).
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیچنے کا حکم دیا تو وہ سات سویا نو سو میں بیچا گیا۔
The tradition mentioned above also has been transmitted by Jabir bin Abdullah through a different chain of narrators. This version added: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: You are more entitled to his price, and Allah has no need of it.
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مجھ سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے یہی روایت بیان کی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس غلام کی قیمت کے زیادہ حقدار تم ہو اور اللہ اس سے بےپرواہ ہے ( یعنی اگر آزاد ہوتا تو اللہ زیادہ خوش ہوتا پر وہ بے نیاز ہے، اور بندہ محتاج ہے ) ۔
Jabir said: A man of the Ansar called Abu Madhkur declared that his slave called Ya'qub would be free after his death, but he had no other property. So the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم called him and said: Who will buy him ? Nu'aim bin Abdullah bin al-Nahham bought him for eight hundred dirhams. When he handed them over to him, he (Prophet) said: If any of you is poor, he should begin from himself ; if anything is left over, give it to your family; if anything is left over, give it to your relatives ; if anything is left over (when they received something), then here and here.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک ابومذکور نامی انصاری نے اپنے یعقوب نامی ایک غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: اسے کون خریدتا ہے؟ چنانچہ نعیم بن عبداللہ بن نحام نے آٹھ سو درہم میں اسے خرید لیا تو آپ نے اسے انصاری کو دے دیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی محتاج ہو تو اسے اپنی ذات سے شروع کرنا چاہیئے، پھر جو اپنے سے بچ رہے تو اسے اپنے بال بچوں پر صرف کرے پھر اگر ان سے بچ رہے تو اپنے قرابت داروں پر خرچ کرے یا فرمایا: اپنے ذی رحم رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر ان سے بھی بچ رہے تو یہاں وہاں خرچ کرے ۱؎ ۔