سنن ابوداؤد

Sunnan Abu Dawood

نماز سفر کے احکام و مسائل

Prayer (kitab al-salat): detailed rules of law about the prayer during journey

باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ ایک صف امام کے سا تھ کھڑی ہو اور دوسری صف دشمن کے سامنے ہو ۔

CHAPTER: Whoever Said That One Row Should Stand With The Imam, And Another Ro Face The Enemy

فيصلي بالذين يلونه ركعة ثم يقوم قائما حتى يصلي الذين معه ركعة أخرى ثم ينصرفون فيصفون وجاه العدو وتجيء الطائفة الأخرى فيصلي بهم ركعة ويثبت جالسا فيتمون لأنفسهم ركعة أخرى ثم يسلم بهم جميعا

امام ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ہوں ، ایک رکعت پڑھائے ، پھر وہ یوں ہی کھڑا رہے یہاں تک کہ جو لوگ اس کے ساتھ ہیں دوسری رکعت پوری کر لیں ۔ پھر وہ واپس جا کر دشمن کے سامنے صف بستہ ہو جائیں اور دوسری ٹکڑی آئے تو وہ امام کے ساتھ ایک رکعت ادا کرے ، اور امام یونہی بیٹھا رہے ، یہاں تک کہ وہ اپنی دوسری رکعت بھی مکمل کر لیں پھر امام ان سب کے ساتھ سلام پھیرے ۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي خَوْفٍ فَجَعَلَهُمْ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ خَلْفَهُمْ رَكْعَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَقَدَّمُوا وَتَأَخَّرَ الَّذِينَ كَانُوا قُدَّامَهُمْ فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ تَخَلَّفُوا رَكْعَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَلَّمَ .

Narrated Sahl bin Abi Hathmah: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم prayed in time of danger and divided them (the people) behind him in two rows. He then led those who were near him in one rak'ah. Then he stood and remained standing till those who were in second row offered one rak'ah. Thereafter they came forward and those who were in front of them (in the first row) stepped backward. The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم led them in one rak'ah of prayer. He sat down till those who were in the second row completed on rak'ah. He then uttered the salutation.

سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے ساتھ حالت خوف میں نماز ادا کی تو اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں پھر جو آپ سے قریب تھے ان کو ایک رکعت پڑھائی، پھر کھڑے ہو گئے اور برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ ان لوگوں نے جو پہلی صف کے پیچھے تھے، ایک رکعت ادا کی، پھر وہ لوگ آگے بڑھ گئے اور جو لوگ دشمن کے سامنے تھے، آپ کے پیچھے آ گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی پھر آپ بیٹھے رہے یہاں تک کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے ایک رکعت اور پڑھی پھر آپ نے سلام پھیرا۔