Ammar bin Yasir said: I came to my family when my hands had cracks. They dyed me with saffron. I then went to Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and saluted him, but he did not return me salutation. He said: Go and wash it away from you.
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹ گئے تھے، تو انہوں نے میرے ( ہاتھوں پر ) زعفران مل دیا، صبح کو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا اور فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو ۔
Aishah said: The camel of Safiyyah daughter of Huyayy was fatigued, and Zainab had a surplus mount. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to Zainab: Give her the camel. She said: Should I give to that Jewess? Thereupon the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم became angry and kept away from her during Dhu al-Hijjah, Muharram, and a part of Safar.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا ایک اونٹ بیمار ہو گیا اور ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ایک فاضل سواری تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب سے فرمایا: تم اسے ایک اونٹ دے دو وہ بولیں: میں اس یہودن کو دے دوں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور ذی الحجہ، محرم اور صفر کے چند دنوں تک ان سے بات چیت ترک رکھی۔