Ibn Umar said: We used to say in the times of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم: We do not compare anyone with Abu Bakr. Umar came next and then Uthman. We then would leave (rest of) the companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم without treating any as superior to other.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کہا کرتے تھے: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں جانتے، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو چھوڑ دیتے، ان میں کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتے۔
Ibn Umar said: When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was alive, we used to say: The most excellent member of the community of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم after himself is Abu Bakr, then Umar, then Uthman.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں، پھر عمر، پھر عثمان ہیں، رضی اللہ عنہم اجمعین۔
Muhammad bin al-Hanafiyyah said: I said to my father: Which of the people after the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم is best? He replied: Abu Bakr. I then asked: Who comes next? He said: Umar. I was then afraid of asking him who came next, and he might mention Uthman, so I said: You came next, O my father? He said: I am only a man among the Muslims.
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون تھا؟ انہوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ، میں نے کہا: پھر کون؟ پھر عمر رضی اللہ عنہ، پھر مجھے اس بات سے ڈر ہوا کہ میں کہوں پھر کون؟ اور وہ کہیں عثمان رضی اللہ عنہ، چنانچہ میں نے کہا: پھر آپ؟ اے ابا جان! وہ بولے: میں تو مسلمانوں میں کا صرف ایک فرد ہوں ۱؎۔
Muhammad al-Firyabl said: I heard Sufyan say: If anyone thinks that ‘All (Allah be pleased with him) was more deserving for the Caliphate than both of them, he imputed error to Abu Bakr, Umar, the Muhajirun (Immigrants), and the Ansar (Helpers) Allah be pleased with all of them. I think that with this (belief) none of his action will rise to the heaven.
سفیان کہتے تھے: جو یہ کہے کہ علی رضی اللہ عنہ ان دونوں ( ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ ) سے خلافت کے زیادہ حقدار تھے تو اس نے ابوبکر، عمر، مہاجرین اور انصار کو خطاکار ٹھہرایا، اور میں نہیں سمجھتا کہ اس کے اس عقیدے کے ہوتے ہوئے اس کا کوئی عمل آسمان کو اٹھ کر جائے گا۔
Sufyan al-Thawri said: The Caliphs are five: Abu Bakr, Umar, Uthman, ‘All and Umar bin Abd al-Aziz.
سفیان ثوری کہا کرتے تھے خلفاء پانچ ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ۔