Narrated Abu Bakrah: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to al-Hasan ibn Ali. This son of mine is a Sayyid (chief), and I hope Allah may reconcile two parties of my community by means of him. Hammad's version has: And perhaps Allah may reconcile two large parties of Muslims by means of him.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے میری امت کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا ۔ حماد کی روایت میں ہے: شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ۱؎ ۔
Narrated Hudhayfah: There is no one who will be overtaken by trial regarding whom I do not fear except Muhammad ibn Maslamah, for I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Trial will not harm you.
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جس کو فتنہ پہنچے اور مجھے اس کے فتنے میں پڑنے کا خوف نہ ہو، سوائے محمد بن مسلمہ کے کیونکہ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کوئی فتنہ ضرر نہ پہنچائے گا ۔
Thalabah bin Dubaiah said: We entered upon Hudhaifah. He said: I know a man whom the trails will not harm. We came out and found that a tent was pitched. We entered and found in it Muhammad bin Maslamah. We asked him about it. He said: I do not intent that any place of your towns should occupy me until that which is prevailing is removed.
ثعلبہ بن ضبیعہ کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ نے کہا: میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جسے فتنے کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ہم نکلے تو دیکھا کہ ایک خیمہ نصب ہے، ہم اندر گئے تو اس میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ملے، ہم نے ان سے پوچھا ( کہ آبادی چھوڑ کر خیمہ میں کیوں ہیں؟ ) تو فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ تمہارے شہروں کی کوئی برائی مجھ سے چمٹے، اس لیے جب تک فتنہ فرو نہ ہو جائے اور معاملہ واضح اور صاف نہ ہو جائے شہر کو نہیں جاؤں گا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Dubaiah bin Husain al-Tha’labi through a different chain of narrators to the same effect.
ضبیعہ بن حصین ثعلبی سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
Qais bin Abbad said: I said to ‘All (Allah be pleased with him): Tell me about this march of yours. Is this an order that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had given you, or is this your opinion that you have? He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not give me any order; but this is an opinion that I have.
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں آپ ( معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ کے لیے ) اپنی اس روانگی کے متعلق بتائیے کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم ہے جو انہوں نے آپ کو دیا ہے یا آپ کا اپنا خیال ہے جسے آپ درست سمجھتے ہیں، وہ بولے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم نہیں دیا بلکہ یہ میری رائے ہے۔
Abu Saeed reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: In the event of the dissension among Muslims an emerging sect will emerge ; one of the two parties that is nearer to the truth will kill it.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں اختلاف کے وقت ایک فرقہ نکلے گا جسے دونوں گروہوں میں سے جو حق سے قریب تر ہو گا قتل کرے گا ۔