TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5024 - CHAPTER: Regarding dreams. - General behavior (kitab al-adab) - Sunnan Abu Dawood in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 8 of 9 in this chapter
CHAPTER: Regarding dreams.
باب: خواب کا بیان ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،‏‏‏‏ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ تَحَلَّمَ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ شَعِيرَةً، ‏‏‏‏‏‏وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
Ibn Abbas reported the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: If anyone makes a representation of anything, Allah will punish him on the day of Resurrection for it until he breathes into it, but he will bw unable to do so. If anyone pretends to have had a dream which he did not see, he will gives the task of joining barley-seed. If anyone listens to other people’s talk when they try to avoid him, lead will be poured into his ears on the Day of resurrection.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی تصویر بنائے گا، اس کی وجہ سے اسے ( اللہ ) قیامت کے دن عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس میں جان ڈال دے، اور وہ اس میں جان نہیں ڈال سکتا، اور جو جھوٹا خواب بنا کر بیان کرے گا اسے قیامت کے دن مکلف کیا جائے گا کہ وہ جَو میں گرہ لگائے ۱؎ اور جو ایسے لوگوں کی بات سنے گا جو اسے سنانا نہیں چاہتے ہیں، تو اس کے کان میں قیامت کے دن سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا ۔
5024
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 5024 In-book reference : Book 43, Hadith 252 English translation : Book 42, Hadith 5006
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التعبیر ۴۵ (۷۰۴۲)، سنن الترمذی/اللباس ۱۹ (۱۷۵۱)، الرؤیا ۸ (۲۲۸۳)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ۵۹ (۵۳۶۱)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ۸ (۳۹۱۶)، (تحفة الأشراف: ۵۵۸۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۱۶، ۲۴۱، ۱۴۶، ۳۵۰ ، ۳۵۹، ۳۶۰)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : اور وہ یہ نہیں کر سکے گا کیونکہ جَو میں گرہ لگانا ممکن نہیں۔

Related Chapters

83
1
(1) CHAPTER. The commencement of the Divine Revelation to Allah's Messenger was in the form of good (righteous) dreams.
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء سچے خواب کے ذریعہ ہوئی
Sahih Bukhari
2
(2) CHAPTER. The dreams of righteous people (faithful believers).
صالحین کے خوابوں کا بیان
Sahih Bukhari
3
(3) CHAPTER. Good dreams are from Allah.
اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے
Sahih Bukhari
4
(9) CHAPTER. The dreams of prisoners, evil-doers and Mushrikun.
قیدیوں اور اہل شرک وفساد کے خواب کا بیان
Sahih Bukhari
5
(11) CHAPTER. Night dreams.
رات کے خواب کا بیان
Sahih Bukhari
6
(12) CHAPTER. Dreams (while sleeping) in the daytime.
دن کے خواب کا بیان
Sahih Bukhari
7
(13) CHAPTER. The dreams of women.
عورتوں کے خواب کا بیان
Sahih Bukhari
8
(48) CHAPTER. The interpretation of dreams after the Fajr prayer.
صبح کی نماز کے بعد خواب کی تعبیر بیان کرنا
Sahih Bukhari
9
Chapter: Interpretation Of Dreams
خواب کی تعبیر:۔
Sahih Muslim
10
Chapter: The Dreams Of The Prophet (SAW)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب:۔
Sahih Muslim
11
CHAPTER: A Woman Has Dreams Like A Man Has Dreams.
باب: عورت کو مرد ہی کی طرح ( خواب میں ) احتلام ہوتا ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
12
Chapter: Dreams are of Three Types
خواب کی تین قسمیں ہیں
Sunnan Ibn e Maja
13
Chapter: How Should Dreams be Interpreted
خواب کی تعبیر کس طرح بیان کی جائے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
14
Chapter: The People who see the Truest Dreams are those who are truest in speech
جو شخص جتنا ہی زیادہ سچا ہو گا اسی قدر اس کا خواب بھی سچا ہو گا
Sunnan Ibn e Maja
15
Chapter: Interpretation Of Dreams
خواب کی تعبیر کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
16
(90)Chapter: What Has Been Related About A Woman Who Sees In A Dream, Similar To What A Man Sees
باب: عورت کے خواب میں وہی چیز دیکھنے کا بیان جو مرد دیکھتا ہے
Jam e Tirmazi
17
باب: مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے
Jam e Tirmazi
18
باب: خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھنے پر کیا کرنا چاہئے؟
Jam e Tirmazi
19
باب: خواب کی تعبیر کا بیان
Jam e Tirmazi
20
باب: خوابوں کی تعبیر اور اچھے برے خواب کا بیان
Jam e Tirmazi
21
باب: خواب کے بارے میں جھوٹ بولنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں دودھ اور قمیص دیکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What One Says Upon Seeing A Dream He Dislikes
باب: برے اور ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
25
اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
Musnad Ahmad
26
ان دعاؤںکا بیان، جو نیند میں گھبراہٹ، بے خوابی اور وحشت کی صورت میں کی جائیںگی
Musnad Ahmad
27
اس چیز کا بیان کہ اچھا خواب نبوت کی خوشخبریوں میں سے ہے
Musnad Ahmad
28
اس امر کا بیان کہ مومن کا خواب نبوت کے اجزاء میں سے ہے
Musnad Ahmad
29
خوابوں کی اقسام اور اس چیز کا بیان کہ مکروہ خواب دیکھنے والا کیا کرے
Musnad Ahmad
30
خواب دیکھنے کے بہترین اوقات اور خواب کے بارے میں جان بوجھ کر جھوٹ بولنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
31
خوابوں کی تعبیر کا بیان
Musnad Ahmad
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
Musnad Ahmad
33
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب میں اللہ تعالی کو دیکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
34
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس خواب کا بیان جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ احد سے قبل دیکھا تھا۔
Musnad Ahmad
35
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
Musnad Ahmad
36
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
Musnad Ahmad
37
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
Musnad Ahmad
38
فصل سوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا خواب
Musnad Ahmad
39
(10) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And We made not the vision which We showed you [O Muhammad as an actual eye witness and not a dream on the night of Al-Isra], but a trial for the mankind...” (V.17:60)
آیت اور وہ خواب جو ہم نے تم کو دکھایا ہے ، اسے ہم نے صرف لوگوں کے لیے آزمائش بنایا ہے ، کی تفسیر
Sahih Bukhari
40
(4) CHAPTER. “A righteous good dream that comes true is one of the forty-six parts of An-Nubuwwa (Prophethood).”
اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے
Sahih Bukhari
41
(8) CHAPTER. If a number of persons have the same dream.
خواب کا توارد یعنی ایک ہی خواب کئی آدمی دیکھیں
Sahih Bukhari
42
(10) CHAPTER. Whoever saw the Prophet in a dream.
جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا
Sahih Bukhari
43
(14) CHAPTER. A bad dream is from Satan.
دودھ کو خواب میں دیکھنا
Sahih Bukhari
44
(16) CHAPTER. (If one sees in a dream) that milk is flowing in his limbs or nails.
خواب میں قمیص دیکھنا
Sahih Bukhari
45
(17) CHAPTER. (The seeing of) a shirt in a dream.
خواب میں کرتے کا گھیسٹنا ۔
Sahih Bukhari
46
(18) CHAPTER. What is said as regards dragging (a long Shirt) on the ground in a dream.
خواب میں سبزی یا ہرا بھرا باغ دیکھنا
Sahih Bukhari
47
(20) CHAPTER. Removing the veil of a woman in a dream.
خواب میں عورت کا منہ کھولنا
Sahih Bukhari
48
(21) CHAPTER. The seeing of silken garments in a dream.
خواب میں ریشم کے کپڑے کا دیکھنا
Sahih Bukhari
49
(22) CHAPTER. The seeing of keys in one's hand (in a dream).
ہاتھ میں کنجیاں خواب میں دیکھنا
Sahih Bukhari
50
(23) CHAPTER. Taking hold or handhold or a ring.
کنڈے یا حلقے کو ( خواب میں ) پکڑ کر اس سے لٹک جانا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,288
Jam e Tirmazi
1751
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً، ‏‏‏‏‏‏عَذَّبَهُ اللَّهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏يَعْنِي:‏‏‏‏ الرُّوحَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي جُحَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Ibn 'Abbas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever fashions an image, he will be punished by Allah until he breathes into it - meaning the soul - and he cannot breath (a soul) into it. And whoever listens to a people's conversation, while they have gone away from him for it, then He will have lead poured into his ears on the Day of Judgement. He said: There are narrations on this topic from 'Abdullah bin Mas'ud, Abu Hurairah, Abu Juhaifah, 'Aishah, and Ibn 'Umar. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Ibn 'Abbas is a Hasan Sahih Hadith.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی تصویر بنائی اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دیتا رہے گا یہاں تک کہ مصور اس میں روح پھونک دے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا، اور جس نے کسی قوم کی بات کان لگا کر سنی حالانکہ وہ اس سے بھاگتے ہوں ۱؎، قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ ڈالا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابوہریرہ، ابوحجیفہ، عائشہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1917
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قَبَضَ يَتِيمًا بَيْنِ الْمُسْلِمِينَ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ الْبَتَّةَ إِلَّا أَنْ يَعْمَلَ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ لَهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ مُرَّةَ الْفِهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَنَشٌ هُوَ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ حَنَشٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
Ibn 'Abbas narrated that: the Prophet said: Whoever takes in an orphan among the Muslims to raise, to feed him and give him drink, Allah admits him into Paradise without a doubt, unless he has done a sin for which he is not forgiven.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان یتیم کو اپنے ساتھ رکھ کر انہیں کھلائے پلائے، تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، سوائے اس کے کہ وہ ایسا گناہ ( شرک ) کرے جو مغفرت کے قابل نہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- راوی حنش کا نام حسین بن قیس ہے، کنیت ابوعلی رحبی ہے، سلیمان تیمی کہتے ہیں: یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ۲- اس باب میں مرہ فہری، ابوہریرہ، ابوامامہ اور سہل بن سعد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2283
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ تَحَلَّمَ كَاذِبًا كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَنْ يَعْقِدَ بَيْنَهُمَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Ibn 'Abbas narrated that the Prophet (s.a.w) said: Whoever lies about having a dream, he will be required to knot two barely kernels together on the Day Of Judgment., and he will never be able to knot them together.
عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے تو قیامت کے دن دو جو کے درمیان گرہ لگانے پر مکلف کیا جائے گا اور وہ ان دونوں کے درمیان گرہ ہرگز نہیں لگا سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3142
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ:‏‏‏‏ صِنْفًا مُشَاةً، ‏‏‏‏‏‏وَصِنْفًا رُكْبَانًا، ‏‏‏‏‏‏وَصِنْفًا عَلَى وُجُوهِهِمْ ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَقْدَامِهِمْ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏أَمَا إِنَّهُمْ يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى وُهَيْبٌ، عَنِ ابْن طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ هَذَا.
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: People will be gathered in three classes on the Day of Resurrection: A class walking, a class riding, and a class upon their faces. It was said: O Messenger of Allah! How will they walk upon their faces? He said: Indeed the One Who made them walk upon their feet, is able to make them walk upon their faces. Verily they will try to protect their faces from every bump and thorn.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگ تین طرح سے جمع کئے جائیں گے، ایک گروہ چل کر آئے گا، اور ایک گروہ سوار ہو کر آئے گا اور ایک گروہ اپنے منہ کے بل آئے گا“۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! وہ لوگ اپنے منہ کے بل کیسے چلیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”جس نے انہیں قدموں سے چلایا ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ وہ انہیں ان کے منہ کے بل چلا دے، سنو ( یہی نہیں ہو گا کہ وہ چلیں گے بلکہ ) وہ منہ ہی سے ہر بلندی ( نشیب و فراز ) اور کانٹے سے بچ کر چلیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- وہیب نے ابن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے باپ طاؤس سے اور طاؤس نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔
Jam e Tirmazi
3616
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ جَلَسَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُونَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْهُمْ سَمِعَهُمْ يَتَذَاكَرُونَ فَسَمِعَ حَدِيثَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ عَجَبًا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اتَّخَذَ مِنْ خَلْقِهِ خَلِيلًا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ آخَرُ:‏‏‏‏ مَاذَا بِأَعْجَبَ مِنْ كَلَامِ مُوسَى كَلَّمَهُ تَكْلِيمًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ آخَرُ:‏‏‏‏ فَعِيسَى كَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ آخَرُ:‏‏‏‏ آدَمُ اصْطَفَاهُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ سَمِعْتُ كَلَامَكُمْ وَعَجَبَكُمْ:‏‏‏‏ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلُ اللَّهِ وَهُوَ كَذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُوسَى نَجِيُّ اللَّهِ وَهُوَ كَذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَعِيسَى رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ وَهُوَ كَذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَآدَمُ اصْطَفَاهُ اللَّهُ وَهُوَ كَذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَأَنَا حَبِيبُ اللَّهِ وَلَا فَخْرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُحَرِّكُ حِلَقَ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُ اللَّهُ لِي فَيُدْخِلُنِيهَا وَمَعِي فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا فَخْرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا أَكْرَمُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ وَلَا فَخْرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
Narrated Ibn 'Abbas: that a group of people from the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) sat waiting for him. He said: Then he came out, such that when he came close to them, he heard them talking, and he heard what they were saying. So some of them said: 'It's amazing that Allah, the Mighty and Sublime, has taken a Khalil (close friend) from His creation. He took Ibrahim as a Khalil.' And some of them said: 'That is not more amazing than speaking to Musa, He spoke to him with real speech.' And some said: 'And 'Eisa is the word of Allah and His Spirit.' And some said: 'Adam was chosen by Allah.' So he (ﷺ) came out upon them and said his Salam, and said: 'I have heard your words, and your amazement that Ibrahim is the Khalil of Allah, and he is such, and that Musa is the one spoken to by Allah, and he is such, and that 'Eisa is the spirit of Allah and His Word, and he is such, and that Adam was chosen by Allah, and he is such. Indeed I am the beloved of Allah and I am not boasting, and I am the carrier of the Banner of Praise on the Day of Judgement, and I am not boasting. And I am the first intercessor, and the first to have intercession accepted from him on the Day of Judgement, and I am not boasting. And I am the first to shake the rings of Paradise (meaning on the gates of Paradise) and so Allah will open it for me and admit me into it. And with me will be the poor people from the believers, and I am not boasting. And I am the most noble among the first ones and the last ones, and I am not boasting.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگ بیٹھے آپ کے حجرے سے نکلنے کا انتظار کر رہے تھے، کہتے ہیں: پھر آپ نکلے یہاں تک کہ جب آپ ان کے قریب آئے تو انہیں آپس میں بحث کرتے سنا، آپ نے ان کی باتیں سنیں، کوئی کہہ رہا تھا، تعجب ہے اللہ نے اپنی مخلوق میں سے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست بنایا، دوسرے نے کہا: موسیٰ سے اس کا کلام کرنا کتنا زیادہ تعجب خیز معاملہ ہے، اور ایک نے کہا: عیسیٰ علیہ السلام اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، اور ایک دوسرے نے کہا: آدم کو اللہ نے تو چن لیا ہے، تو آپ نکل کر ان کے سامنے آئے اور انہیں سلام کیا اور فرمایا: ”میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں اور ابراہیم علیہ السلام کے خلیل اللہ ہونے پر تعجب میں پڑنے کو بھی، واقعی وہ ایسے ہی ہیں اور موسیٰ علیہ السلام کے اللہ کے نجی اللہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کے کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں اور آدم کے اللہ کا برگزیدہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں، سن لو! میں اللہ کا حبیب ہوں اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں، قیامت کے دن حمد کا پرچم میرے ہاتھ میں ہو گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور قیامت کے دن میں پہلا وہ شخص ہوں گا جو شفاعت ( سفارش ) کرے گا اور جس کی شفاعت ( سفارش ) سب سے پہلے قبول کی جائے گی اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور میں پہلا وہ شخص ہوں گا جو جنت کی کنڈی ہلائے گا تو اللہ میرے لیے جنت کو کھول دے گا، پھر وہ مجھے اس میں داخل کرے گا اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہوں گے اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور میں اگلوں اور پچھلوں میں سب سے زیادہ معزز ہوں اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
Sahih Muslim
469
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، كِلَاهُمَا عَنْ رَوْحٍ، قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يُسْأَلُ عَنِ الْوُرُودِ، فَقَالَ: نَجِيءُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ كَذَا وَكَذَا، انْظُرْ أَيْ ذَلِكَ فَوْقَ النَّاسِ؟ قَالَ: فَتُدْعَى الْأُمَمُ بِأَوْثَانِهَا، وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ، الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ، ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: مَنْ تَنْظُرُونَ؟ فَيَقُولُونَ: نَنْظُرُ رَبَّنَا، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْكَ، فَيَتَجَلَّى لَهُمْ يَضْحَكُ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ بِهِمْ وَيَتَّبِعُونَهُ، وَيُعْطَى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مُنَافِقًا، أَوْ مُؤْمِنًا نُورًا، ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ وَعَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ، تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللهُ، ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ، ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ، فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَأِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ كَذَلِكَ ثُمَّ تَحِلُّ الشَّفَاعَةُ، وَيَشْفَعُونَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنَ النَّارِ مِنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً، فَيُجْعَلُونَ بِفِنَاءِ الْجَنَّةِ، وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمُ الْمَاءَ حَتَّى يَنْبُتُوا نَبَاتَ الشَّيْءِ فِي السَّيْلِ، وَيَذْهَبُ حُرَاقُهُ، ثُمَّ يَسْأَلُ حَتَّى تُجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهَا مَعَهَا
It is reported on the authority of Abu Zubair that he heard from Jabir b 'Abdullah, who was asked about the arrival (of people on the Day of Resurrection). He said. We would come on the Day of Resurrection like this, like this, and see. carefully. that which concerns elevated people . He (the narrator) said: Then the people would be summoned along with their idols whom they worshipped, one after another. Then our Lord would come to us and say: Whom are you waiting for? They would say: We are waiting for our Lord. He would say: I am your Lord. They would say: (We are not sure) till we gaze at Thee, and He would manifest Himself to them smilingly, and would go along with them and they would follow Him; and every person, whether a hypocrite or a believer, would be endowed with a light, and there would be spikes and hooks on the bridge of the Hell, which would catch hold of those whom Allah willed. Then the light of the hypocrites would be extinguished, and the believers would secure salvation. and the first group to achieve it would comprise seventy thousand men who would have the brightness of full moon on their faces, and they would not be called to account. Then the people immediately following them would have their faces as the brightest stars in the heaven. This is how (the groups would follow one after another). Then the stage of intercession would come, and they (who are permitted to intercede) would intercede, till he who had declared: There is no god but Allah and had in his heart virtue of the weight of a barley grain would come out of the Fire. They would be then brought in the courtyard of Paradise and the inhabitants of Paradise would begin to sprinkle water over them till they would sprout like the sprouting of a thing in flood water, and their burns would disappear. They would ask their Lord till they would be granted (the bounties) of the world and with it ten more besides it.
ابو زبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، ان سے ( جنت اور جہنم میں ) وارد ہونے کے بارے میں سوال کیا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا : ہم قیامت کے دن فلاں فلاں ( سمت ) سے آئیں گے ( دیکھو ) ، یعنی اس سمت سے جو لوگوں کےاوپر ہے ۔ کہا : سب امتیں اپنے اپنے بتوں اور جن ( معبودوں ) کی بندگی کرتی تھیں ان کے ساتھ بلائی جائیں گی ، ایک کے بعد ایک ، پھر اس کے بعد ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا اور پوچھے گا : تم کس کا انتظار کر رہے ہو ؟ تو وہ کہیں گے : ہم اپنے رب کے منتظر ہیں ۔ وہ فرمائے گا : میں تمہارا رب ہوں ۔ توسب کہیں گے : ( اس وقت ) جب ہم تمہیں دیکھ لیں ۔ تو وہ ہنستا ہوا ان کےسامنے جلوہ افروز ہو گا ۔ انہوں نے کہا : وہ انہیں لے کر جائے گااور وہ اس کے پیچھے ہوں گے ، ان میں ہر انسان کو ، منافق ہویا مومن ، ایک نور دیا جائے گا ، وہ اس نور کے پیچھے چلیں گے ۔ اور جہنم کے پل پر کئی نوکوں والے کنڈے اور لوہے کے سخت کانٹے ہوں گے اور جس کو اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ اسے پکڑ لیں گے ، پھر منافقوں کا نور بجھا دیا جائے گا اور مومن نجات پائیں گے تو سب سے پہلا گروہ ( جو ) نجات پائے گا ، ان کے چہرے چودہویں کے چاند جیسے ہوں گے ( وہ ) ستر ہزار ہوں گے ، ان کا حساب نہیں کیا جائے گا ، پھر جو لوگ ان کے بعد ہوں گے ، ان کے چہرے آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے ، پھر اسی طرح ( درجہ بدرجہ ۔ ) اس کے بعد پھرشفاعت کا مرحلہ آئے گااور ( شفاعت کرنے والے ) شفاعت کریں گے حتی کہ ہر وہ شخص جس نے لا الہ الا اللہ کہا ہو گا اور جس کےدل میں جو کے وزن کے برابر بھی نیکی ( ایمان ) ہو گی ۔ ان کی جنت کے آگے کے میدان میں ڈال دیا جائے گا اور اہل جنت ان پر پانی چھڑکنا شروع کر دیں گے حتی کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے کوئی چیز سیلاب میں اگ آتی ہے اور اس ( کے جسم ) کا جلا ہوا حصہ ختم ہو جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا حتی کہ اس کو دنیا اور اس کے ساتھ اس سے دس گنا مزید عطا کر دیا جائے گا ۔
Sunnan Abu Dawood
49
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَيْتُهُ يَسْتَاكُ عَلَى لِسَانِهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَقَالَ سُلَيْمَانُ:‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْتَاكُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ وَضَعَ السِّوَاكَ عَلَى طَرَفِ لِسَانِهِ وَهُوَ يَقُولُ:‏‏‏‏ آهْ آهْ يَعْنِي يَتَهَوَّعُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ قَالَ مُسَدَّدٌ:‏‏‏‏ فَكَانَ حَدِيثًا طَوِيلًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنِّي اخْتَصَرْتُهُ.
Narrated Abu Burdah: On the authority of his father ( Abu Musa al-Ashari), reported (according to the version of Musaddad): We came to the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم to provide us with a mount, and found him using the tooth-stick, its one end being at his tongue (i. e. he wsa rinsing his mouth). According to the version of Sulaiman it goes: I entered upon the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم who was using the tooth-stick, and had it placed at one side of his tongue, producing a gurgling sound. Abu Dawud said: Musaddad said that the tradition was a lengthy but he shortened it.
ابوموسیٰ اشعری (عبداللہ بن قیس) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ( مسدد کی روایت میں ہے کہ ) ہم سواری طلب کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان پر مسواک پھیر رہے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور سلیمان کی روایت میں ہے: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے، اور مسواک کو اپنی زبان کے کنارے پر رکھ کر فرماتے تھے اخ اخ جیسے آپ قے کر رہے ہوں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے کہا: حدیث لمبی تھی مگر میں نے اس کو مختصر کر دیا ہے۔
Sunnan Abu Dawood
889
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ طَاوُسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُمِرْتُ . قَالَ حَمَّادٌ:‏‏‏‏ أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا .
Narrated Abdullah ibn Abbas: Ibn Abbas reported the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: I have been commanded - according to the version of Hammad: Your Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم was commanded - to prostrate on seven (bones), and not to fold back the hair or the clothing.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے - حماد بن زید کی روایت میں ہے: تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے - اور یہ کہ آپ نہ بال سمیٹیں اور نہ کپڑا ۱؎۔
Sunnan Abu Dawood
1615
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ فَعَدَلَ النَّاسُ بَعْدُ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُعْطِي التَّمْرَ فَأُعْوِزَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ التَّمْرَ عَامًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَى الشَّعِيرَ.
Abdullah (bin Umar) said “The people then began to pay half a sa’ of wheat later on. The narrator said: Abdullah (bin Umar) use to pay dried dates as sadaqah one year the people of Madina lacked dried dates, hence he paid barley.
نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کے بعد لوگوں نے آدھے صاع گیہوں کو ایک صاع کے برابر کر لیا، عبداللہ ( ایک صاع ) کھجور ہی دیا کرتے تھے، ایک سال مدینے میں کھجور کا ملنا دشوار ہو گیا تو انہوں نے جو دیا۔