Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: One who was devoted to the Quran will be told to recite, ascend and recite carefully as he recited carefully when he was in the world, for he will reach his abode when he comes to the last verse he recites.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صاحب قرآن ( حافظ قرآن یا ناظرہ خواں ) سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے، تمہاری منزل وہاں ہے، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرآت ختم کرو گے ۲؎ ۔
Qatadah said: I asked Anas about the recitation of the Quran by the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He said: He used to express all the long accents clearly.
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مد کو کھینچتے تھے۔
Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin: Yala ibn Mumallak said that he asked Umm Salamah about the recitation and prayer of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. She said: What have you to do with his prayer? He would pray, then sleep as long as he had prayed, till morning. She then described his recitation and did so with an exposition word by word.
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اور نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: تم کہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کہاں؟ آپ نماز پڑھتے اور جتنی دیر پڑھتے اتنا ہی سوتے، پھر جتنا سو لیتے اتنی دیر نماز پڑھتے، پھر جتنی دیر نماز پڑھتے اتنی دیر سوتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی، پھر ام سلمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت بیان کی تو دیکھا کہ وہ ایک ایک حرف الگ الگ پڑھ رہی تھیں۔
Abdullah bin Mughaffal said: On the day of the Conquest of Makkah I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم riding his she-camel reciting Surah al-Fath repeating each verse several times.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے روز ایک اونٹنی پر سوار دیکھا، آپ سورۃ الفتح پڑھ رہے تھے اور ( ایک ایک آیت ) کئی بار دہرا رہے تھے۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Beautify the Quran with your voices.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو اپنی آواز سے زینت دو ۱؎ ۔
Narrated Saad ibn Abu Waqqas: (The narrator Qutaibah said: This tradition has been narrated by Saeed bin Abu Saeed in my collection): The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: He who does not chant the Quran is not one of us.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ۱؎ ۔
This tradition has also been transmitted by Saad (b. Abi Waqqas) from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم in a similar manner through a different chain of narrators.
اس سند سے بھی سعد رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
Narrated AbuLubabah: Ubaydullah ibn Yazid said: AbuLubabah passed by us and we followed him till he entered his house, and we also entered it. There was a man in a rusty house and in shabby condition. I heard him say: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: He is not one of us who does not chant the Quran. I (the narrator AbdulJabbar) said to Ibn Abu Mulaykah: Abu Muhammad, what do you think if a person does not have pleasant voice? He said: He should recite with pleasant voice as much as possible.
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں ہمارے پاس سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو ہم ان کے پیچھے ہو لیے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہو گئے تو ہم بھی داخل ہو گئے تو دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے۔ بوسیدہ سا گھر ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے، میں نے سنا: وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ عبدالجبار کہتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ سے کہا: اے ابو محمد! اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا: جہاں تک ہو سکے اسے اچھی بنائے۔
Waki and Ibn Uyainah said (explaining the meaning of taghanni): This means that the Quran makes a man neglect all other things, and be content with it.
محمد بن سلیمان انباری کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں وکیع اور ابن عیینہ نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ ( دیگر کتب یا ادیان سے ) بے نیاز ہو جائے۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Allah has not listened to anything as He does to a Prophet chanting the Quran with a loud voice.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی کی اتنی نہیں سنتا جتنی ایک خوش الحان رسول کی سنتا ہے جب کہ وہ قرآن کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھ رہا ہو ۔