TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1560 - (33) CHAPTER. The Statement of Allah: - The book of hajj. - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
(33) CHAPTER. The Statement of Allah:
اللہ پاک کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَلَيَالِي الْحَجِّ وَحُرُمِ الْحَجِّ ، فَنَزَلْنَا بِسَرِفَ ، قَالَتْ : فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ مَعَهُ هَدْيٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلَا ، قَالَتْ : فَالْآخِذُ بِهَا وَالتَّارِكُ لَهَا مِنْ أَصْحَابِهِ ، قَالَتْ : فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَكَانُوا أَهْلَ قُوَّةٍ ، وَكَانَ مَعَهُمُ الْهَدْيُ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الْعُمْرَةِ ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكِ يَا هَنْتَاهُ ؟ , قُلْتُ : سَمِعْتُ قَوْلَكَ لِأَصْحَابِكَ فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ ، قَالَ : وَمَا شَأْنُكِ ، قُلْتُ : لَا أُصَلِّي ، قَالَ : فَلَا يَضِيرُكِ ، إِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ ، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَكِيهَا ، قَالَتْ : فَخَرَجْنَا فِي حَجَّتِهِ حَتَّى قَدِمْنَا مِنًى فَطَهَرْتُ ، ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ مِنًى فَأَفَضْتُ بِالْبَيْتِ ، قَالَتْ : ثُمَّ خَرَجَتْ مَعَهُ فِي النَّفْرِ الْآخِرِ حَتَّى نَزَلَ الْمُحَصَّبَ وَنَزَلْنَا مَعَهُ ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ افْرُغَا ، ثُمَّ ائْتِيَا هَا هُنَا فَإِنِّي أَنْظُرُكُمَا حَتَّى تَأْتِيَانِي ، قَالَتْ : فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا فَرَغْتُ وَفَرَغْتُ مِنَ الطَّوَافِ ، ثُمَّ جِئْتُهُ بِسَحَرَ ، فَقَالَ : هَلْ فَرَغْتُمْ ؟ ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَآذَنَ بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ فَارْتَحَلَ النَّاسُ ، فَمَرَّ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ ضَيْرُ مِنْ ضَارَ يَضِيرُ ضَيْرًا ، وَيُقَالُ : ضَارَ يَضُورُ ضَوْرًا وَضَرَّ يَضُرُّ ضَرًّا .
Narrated Al-Qasim bin Muhammad: ' Aisha said, We set out with Allah's Apostles in the months of Hajj, and (in) the nights of Hajj, and at the time and places of Hajj and in a state of Hajj. We dismounted at Sarif (a village six miles from Mecca). The Prophet then addressed his companions and said, Anyone who has not got the Hadi and likes to do Umra instead of Hajj may do so (i.e. Hajj-al-Tamattu`) and anyone who has got the Hadi should not finish the Ihram after performing ' `Umra). (i.e. Hajj-al-Qiran). Aisha added, The companions of the Prophet obeyed the above (order) and some of them (i.e. who did not have Hadi) finished their Ihram after Umra. Allah's Apostle and some of his companions were resourceful and had the Hadi with them, they could not perform Umra (alone) (but had to perform both Hajj and Umra with one Ihram). Aisha added, Allah's Apostle came to me and saw me weeping and said, What makes you weep, O Hantah? I replied, I have heard your conversation with your companions and I cannot perform the Umra. He asked, What is wrong with you?' I replied, ' I do not offer the prayers (i.e. I have my menses).' He said, ' It will not harm you for you are one of the daughters of Adam, and Allah has written for you (this state) as He has written it for them. Keep on with your intentions for Hajj and Allah may reward you that. Aisha further added, Then we proceeded for Hajj till we reached Mina and I became clean from my menses. Then I went out from Mina and performed Tawaf round the Ka`ba. Aisha added, I went along with the Prophet in his final departure (from Hajj) till he dismounted at Al-Muhassab (a valley outside Mecca), and we too, dismounted with him. He called ' `Abdur-Rahman bin Abu Bakr and said to him, ' Take your sister outside the sanctuary of Mecca and let her assume Ihram for ' `Umra, and when you had finished ' `Umra, return to this place and I will wait for you both till you both return to me.' ' Aisha added, So we went out of the sanctuary of Mecca and after finishing from the ' `Umra and the Tawaf we returned to the Prophet at dawn. He said, 'Have you performed the ' `Umra?' We replied in the affirmative. So he announced the departure amongst his companions and the people set out for the journey, and the Prophet: too left for Medina.''
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر حنفی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے افلح بن حمید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے مہینوں میں حج کی راتوں میں اور حج کے دنوں میں نکلے۔ پھر سرف میں جا کر اترے۔ آپ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا جس کے ساتھ ہدی نہ ہو اور وہ چاہتا ہو کہ اپنے احرام کو صرف عمرہ کا بنا لے تو اسے ایسا کر لینا چاہئے لیکن جس کے ساتھ قربانی ہے وہ ایسا نہ کرے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے اس فرمان پر عمل کیا اور بعض نے نہیں کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعض اصحاب جو استطاعت و حوصلہ والے تھے ( کہ وہ احرام کے ممنوعات سے بچ سکتے تھے۔ ) ان کے ساتھ ہدی بھی تھی، اس لیے وہ تنہا عمرہ نہیں کر سکتے تھے ( پس انہوں نے احرام نہیں کھولا ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ( اے بھولی بھالی عورت! تو ) رو کیوں رہی ہے؟ میں نے عرض کی کہ میں نے آپ کے اپنے صحابہ سے ارشاد کو سن لیا، اب تو میں عمرہ نہ کر سکوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے کہا میں نماز پڑھنے کے قابل نہ رہی ( یعنی حائضہ ہو گئی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ آخر تم بھی تو آدم کی بیٹیوں کی طرح ایک عورت ہو اور اللہ نے تمہارے لیے بھی وہ مقدر کیا ہے جو تمام عورتوں کے لیے کیا ہے۔ اس لیے ( عمرہ چھوڑ کر ) حج کرتی رہ اللہ تعالیٰ تمہیں جلد ہی عمرہ کی توفیق دیدے گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بیان کیا کہ ہم حج کے لیے نکلے۔ جب ہم ( عرفات سے ) منیٰ پہنچے تو میں پاک ہو گئی۔ پھر منٰی سے جب میں نکلی تو بیت اللہ کا طواف الزیارۃ کیا۔ آپ نے بیان کیا کہ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب واپس ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی محصب میں آن کر اترے۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھہرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بلا کر کہا کہ اپنی بہن کو لے کر حرم سے باہر جا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ پھر عمرہ سے فارغ ہو کر تم لوگ یہیں واپس آ جاؤ، میں تمہارا انتظار کرتا رہوں گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق ) چلے اور جب میں اور میرے بھائی طواف سے فارغ ہو لیے تو میں سحری کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ فارغ ہو لیں؟ میں نے کہا ہاں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے سفر شروع کر دینے کے لیے کہا۔ سفر شروع ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس ہو رہے تھے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ جو «لايضيرک» ہے وہ «ضار يضير ضيراا» سے مشتق ہے ضار يضور ضورا» بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور جس روایت میں «لايضرک» ہے وہ «ضر يضر ضرا‏» سے نکلا ہے۔
1560
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

2,573
1
(37) CHAPTER. The Statement of Allah: “This is for him whose family is not present at the Al- Masjid-al-Haram (i.e. non-resident of Makkah). (V. 2:196)
اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا تمتع یا قربانی کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جن کے گھر والے مسجدالحرام کے پاس نہ رہتے ہوں۔
Sahih Bukhari
2
(16) CHAPTER. The Statement of Allah: … And eat and drink until the white thread of dawn appears to you distinct from the black.”
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ
Sahih Bukhari
3
(15) CHAPTER. The Statement of Allah: “ Yet he is the most quarrelsome of the opponents...” (V.2:204)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا ” اور وہ بڑا سخت جھگڑالو ہے “
Sahih Bukhari
4
(24) CHAPTER. Allah's Statement:
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگ یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں
Sahih Bukhari
5
(29) CHAPTER. Allah's Statement: “...And they came upon a people devoted to some of their idols (in worship)...” (V.7:138)
اللہ پاک کا ( سورۃ الاعراف میں ) فرمانا کہ ۔
Sahih Bukhari
6
(39) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And remember Our slave Dawud (David), endued with power. Verily, he was ever oft-returning in all matters and in repentance (toward Allah)... (up to)... And sound judgement in speech and decision. (V.38:17-20)
اللہ پاک کا سورۃ ص میں فرمانا ‘ ہمارے زوردار بندے داؤد کا ذکر کر ‘ وہ خدا کی طرف رجوع ہونے والا تھا ۔
Sahih Bukhari
7
(46) CHAPTER. The Statement of Allah: “(Remember) when the angels said: O Maryam (Mary)! Verily, Allah gives you glad tidings of a Word [Be! - and he was! i.e., Isa (Jesus) the son of Maryam] frm Him, his name will be Messiah Isa, the son of Maryam... (up to)... Be! - and it is. (V.3:45:47)
اللہ پاک کا سورۃ آل عمران میں فرمانا جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! ۔
Sahih Bukhari
8
(47) CHAPTER. The Statement of Allah: “O people of the Scriptures (Jews and Christians)! Do not exceed the limits in your religion... (up to )... as a Disposer of affairs. (V.4:171)
اللہ پاک کا سورۃ النساء میں فرمانا اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو ( سختی اور تشدد ) نہ کرو ۔
Sahih Bukhari
9
(18) CHAPTER. The Statement of Allah: “Do not marry Al-Mushrikat (idolatresses) till they believe (i.e., worship Allah Alone). And indeed a slave woman who believes is better than a (free) Mushrikah (idolatress) even though she pleases you. (V.2:221)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یوں فرمانا کہ اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور یقیناً مومنہ لونڈی مشرکہ عورت سے بہتر ہے گو مشرک عورت تم کو بھلی لگے ۔
Sahih Bukhari
10
(21) CHAPTER. The Statement of Allah: “Those who take an oath, not to have sexual relations with their wives, must wait four months.” (V.2:226)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ البقرہ میں فرمانا کہ ) ۔
Sahih Bukhari
11
(14) CHAPTER. (The Statement of Allah:) “And on the (father's) heir is incumbent the like of that (which was incumbent on the father) (V.2:233) And is a woman chargeable with any thing thereof? And Allah said: Allah puts forward (another) example of two men, one of them dumb... (V.16:76)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ بچے کے وارث ۔
Sahih Bukhari
12
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “Say (O Muhammad ): Who has forbidden the adornment with clothes given by Allah which He has produced for His slaves?” (V.7:32)
اللہ پاک کا سورۃ الاعراف میں فرمانا کہ
Sahih Bukhari
13
(32) CHAPTER. (The Statement of Allah): “(O you who believe!) When you are told to make room in the assemblies, (spread out and) make room...” (V.58:11)
اللہ پاک کا سورۃ المجادلہ میں فرمانا کہ
Sahih Bukhari
14
(8) CHAPTER. The Statement of Allah: “O mankind! Verily the Promise of Allah is true. So let not this present life deceive you, and let not the chief deceiver (Satan) deceive you about Allah. Surely, Satan is an enemy to you, so take (treat) him as an enemy. He only invites his Hizb (followers) that they may become the dwellers of the Blazing Fire.” (V.35:5,6)
اللہ پاک کا سورۃ فاطر میں فرمانا
Sahih Bukhari
15
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: (And remain always) turning in repentance to Him (only), and be afraid and dutiful to Him; and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and be not of Al-Mushrikun (the disbelievers in the Oneness of Allah, polytheists.idolaters). (V.30:31)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” اللہ پاک کی طرف رجوع کرنے والے ( ہو جاؤ ) اور اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ ۔ “ ( سورۃ الروم )
Sahih Bukhari
16
(40) CHAPTER. The Statement of Allah: Then when the (Jumuah) Salat (prayer) is ended, you may disperse through the land, and seek of the Bounty of Allah...” (V.62:10)
اللہ عزوجل کا ( سورۃ الجمعہ میں ) یہ فرمانا کہ جب جمعہ کی نماز ختم ہو جائے تو اپنے کام کاج کے لیے زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل ( روزی ، رزق یا علم ) کو ڈھونڈو
Sahih Bukhari
17
(53) CHAPTER. The Statement of Allah:
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد
Sahih Bukhari
18
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “And proclaim to mankind the Hajj .
اللہ پاک کا سورۃ الحج میں یہ ارشاد کہ
Sahih Bukhari
19
(9) CHAPTER. The statement of Allah: “… Then he should not have sexual relations (with his wife) … (V.2:197)
سورۃ بقررہ میں اللہ کا یہ فرمانا کہ حج میں شہوت کی باتیں نہیں کرنا چاہئے
Sahih Bukhari
20
(10) CHAPTER. The statement of Allah: “... nor commit sin nor dispute unjustly during Hajj … (V.2:197)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ بقررہ میں فرمانا کہ حج میں گناہ اور جھگڑا نہ کرنا چاہئے
Sahih Bukhari
21
(12) CHAPTER. Allah's Statement: “...Spend of the good things which you have (legally) earned...” (V.2:267)
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرو ( البقرہ : 267 )
Sahih Bukhari
22
(26) CHAPTER: “Allah will destroy Riba (usury) and will give increase for Sadaqat (deeds of charity, alms). And Allah likes not the disbelievers, sinners!” (V.2:276)
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو دو چند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا ہر منکر گنہگار کو
Sahih Bukhari
23
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “…No doubt! The curse of Allah is on the Zalimun (polytheists, oppressors, and the wrong-doers) (V.11:18)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ ہود میں یہ فرمانا کہ ” سن لو ! ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے ۔ “
Sahih Bukhari
24
(4) CHAPTER. The Statement of Allah: “... If they make terms of peace between themselves; and making peace is better … (V.4:128)
سورۃ نساء میں اللہ کا یہ فرمانا اگر میاں بیوی صلح کر لیں تو صلح ہی بہتر ہے
Sahih Bukhari
25
(8) CHAPTER. The Statement of Allah: “... After the payment of legacies he may have bequeathed or debts ...” (V.4:11)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ نساء میں ) یہ فرمانا کہ وصیت اور قرضے کی ادائیگی کے بعد حصے بٹیں گے
Sahih Bukhari
26
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: O you who believe! When death approaches any of you, and you make a bequest, (then take) the testimony of two just men of your own folk or two others from outside ... (up to) ... Allah guides not the people who are Al-Fasiqun (the rebellious and disobedient). (V.5:106-108)
( سورۃ المائدہ میں ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا مسلمانو ! جب تم میں کوئی مرنے لگے توآپس کی گواہی ۔ ۔ ۔
Sahih Bukhari
27
(5) CHAPTER. Allah's Statement: “And it is He Who sends the winds as heralds of glad tidings, going before his Mercy (rain)...” (V.25:48)
اللہ پاک کا سورۃ الاعراف میں یہ ارشاد کہ ” وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اپنی رحمت ( بارش ) سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے ‘‘ ۔
Sahih Bukhari
28
(14) CHAPTER. The Statement of Allah: ...And the moving (living) creatures of all kinds that He (Allah) has scattered therein...” (V.2:164).
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں ارشاد ” اور ہم نے زمین پر ہر طرح کے جانور پھیلادئیے “ ۔
Sahih Bukhari
29
(23) CHAPTER. The Statement of Allah: And has there come to you the story of Musa (Moses)? When he saw a fire.. (up to ).. in the acred vally, Tuwa. (V.20:9-12)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ طہٰ ) میں فرمانا ۔
Sahih Bukhari
30
(26) CHAPTER. The Statement of Allah: “[Those to whom We gave the Scripture (Jews and Christians)] recognise him (Muhammad (p.b.u.h) or the Kabah at Makkah) as they recognise their own sons. But verily, a party of them conceal the truth while they know it - [i.e., the qualities of Muhammad (p.b.u.h) which are written in the Taurat (Torah) and the Injeel (Gospel)]. (V.2:146)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ ارشاد کہ اہل کتاب اس رسول کو اس طرح پہچان رہے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بیشک ان میں سے ایک فریق کے لوگ حق کو جانتے ہیں پھر بھی وہ اسے چھپاتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
31
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Enter not houses other than your own... up to... (And Allah has knowledge of what you reveal) and what you conceal.” (V.24:27-29)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ النور میں یہ فرمانا
Sahih Bukhari
32
(19) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And invoke Allah for them...”.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ التوبہ میں فرمانا
Sahih Bukhari
33
(47) CHAPTER. The Statement of Allah: “Think they not that they will be resurrected (for reckoning), on a Great Day. The Day when (all) mankind will stand before the Lord of Al-Alamin (mankind, jinn and all that exists).” (V.83:4-6)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ المطففین میں یوں فرمانا کہ
Sahih Bukhari
34
(17) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths... (V.3:77) And also the Statement of Allah: And purchase not a small gain at the cost of Allah's Covenant. Verily! What is with Allah is better for you if you did but know. (V.16:95) And fulfil the Convenant of Allah (Baia: pledge for Islam) when you have convenanted, and break not the oaths after you have confirmed them - and indeed you have appointed Allah your surety... (V.16:91)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ آلعمران میں فرمانا
Sahih Bukhari
35
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “And fear the Fitnah (trial and affliction) which affects not in particular (only) those among you who do wrong...” (V.8:25). And the warning of the Prophet against Al-Fitan.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الانفال میں یہ فرمانا کہ
Sahih Bukhari
36
(20) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.) about Al-Hasan bin Ali, This son of mine is a chief, and Allah may make peace between two groups of Muslims through him.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حسن رضیاللہعنہ کے متعلق فرمانا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور یقیناً اللہ پاک اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا ۔
Sahih Bukhari
37
(3) CHAPTER. The Statement of Allah: (O you believe!) Enter not the Prophet's houses unless permission is given to you...” (V.33:53)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الاحزاب میں فرمانا کہ
Sahih Bukhari
38
(11) CHAPTER. The Statement of Allah: “... or to cover you with confusion in party strife...” (V.6:65)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الانعام میں یوں فرمانا کہ یا وہ تمہارے کئی فرقے کر دے ۔
Sahih Bukhari
39
(28) CHAPTER. The Statement of Allah: “... And who (conduct) their affair by mutual consultation...” (V.42:38) … And consult them in the affair… (V.3:159)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ شوریٰ میں ) فرمانا مسلمانوں کا کام آپس کے صلاح اور مشورے سے چلتا ہے
Sahih Bukhari
40
(10) CHAPTER. The Statement of Allah: “Say: He has power to (send torment on you from above)...” (V.6:65)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الانعام میں فرمانا کہ ” کہہ دیجئیے کہ وہی قدرت والا ہے “ ۔
Sahih Bukhari
41
(17) CHAPTER. The Statement of Allah: “... In order that you [O Musa (Moses)] may be brought up under My Eye.” (V.20:39)
سورۃ طہٰ میں اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ علیہالسلام سے فرمانا کہ
Sahih Bukhari
42
(40) CHAPTER. The Statement of Allah: “... Then do not set up rivals unto Allah (in worship) while you know (that He Alone has the right to be worshipped).” (V.2:22)
سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” پس اللہ کے شریک نہ بناؤ ۔
Sahih Bukhari
43
(46) CHAPTER. The Statement of Allah: “O Messenger (Muhammad (p.b.u.h.))! Proclaim (the Message) which has been sent down to you from your Lord. And if you do not, then you have not conveyed His Message...” (V.5:67)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ المائدہ میں فرمانا اے رسول ! تیرے پروردگار کی طرف سے جو تجھ پر اترا اس کو لوگوں تک پہنچا دے ۔
Sahih Bukhari
44
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: “Nay! This is a Glorious Quran (Inscribed), in Al-Lauh Al-Mahfuz (The Preserved Tablet).” (V.85:21,22)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البروج میں فرمانا بلکہ وہ عظیم قرآن ہے جو لوح محفوظ میں ہے ۔
Sahih Bukhari
45
(42) CHAPTER. The statement of the Prophet : Religion is An-Nasihah (to be sincere and true) to Allah, to His Messenger (Muhammad ), to the Muslim rulers, and to all the Muslims.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ دین سچے دل سے اللہ کی فرمانبرداری اور اس کے رسول اور مسلمان حاکموں اور تمام مسلمانوں کی خیرخواہی کا نام ہے
Sahih Bukhari
46
CHAPTER. The Statement of Allah: “... And take you (people) the Maqam (place) of Ibrahim (Abraham) (or the stone on which Abrahim stood while he was building the Kabah) as a place of prayer (for some of your Salat e.g., two Raka after the Tawaf of Kabah) ...”
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ’’ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ ۔ ‘‘ ( البقرہ : 125 )
Sahih Bukhari
47
(6) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Allah frightens Ibadahu (His devotees or slaves) with Kusuf (eclipse).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سورج گرہن کے ذریعہ ڈراتا ہے
Sahih Bukhari
48
(27) CHAPTER. The Statement of Allah.
( سورۃ واللیل میں ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
Sahih Bukhari
49
(67) CHAPTER. The Statement of Allah: … And those employed to collect (the funds) … (V. 9:60)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں فرمایا زکوٰۃ کے تحصیلداروں کو بھی زکوٰۃ سے دیا جائے گا
Sahih Bukhari
50
(47) CHAPTER. The Statement of Allah:
اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

10
Sahih Muslim
2922
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، وَفِي حُرُمِ الْحَجِّ، وَلَيَالِي الْحَجِّ، حَتَّى نَزَلْنَا بِسَرِفَ، فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: «مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ مِنْكُمْ هَدْيٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلَا» فَمِنْهُمُ الْآخِذُ بِهَا وَالتَّارِكُ لَهَا، مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، فَأَمَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، وَمَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ لَهُمْ قُوَّةٌ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ؟» قُلْتُ: سَمِعْتُ كَلَامَكَ مَعَ أَصْحَابِكَ فَسَمِعْتُ بِالْعُمْرَةِ قَالَ «وَمَا لَكِ؟» قُلْتُ: لَا أُصَلِّي، قَالَ: «فَلَا يَضُرُّكِ، فَكُونِي فِي حَجِّكِ، فَعَسَى اللهُ أَنْ يَرْزُقَكِيهَا، وَإِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، كَتَبَ اللهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ» قَالَتْ: فَخَرَجْتُ فِي حَجَّتِي حَتَّى نَزَلْنَا مِنًى فَتَطَهَّرْتُ، ثُمَّ طُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: «اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ لِتَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَإِنِّي أَنْتَظِرُكُمَا هَا هُنَا» قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فَأَهْلَلْتُ، ثُمَّ طُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَجِئْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: «هَلْ فَرَغْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَآذَنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ، فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ
A'isha (Allah be pleased with her) reported: We proceeded with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) putting on the Ihram for Hajj during the months of Hajj and the night of Hajj till we encamped at Sarif. He (the Holy Prophet) went to his Companions and said: He who has no sacrificial animal with him, in his case I wish that he should perform Umra (with this Ihram), and he who has the sacrificial animal with him should not do it. So some of them performed Hajj whereas others who had no sacrificial animals with them did not do (Hajj, but performed only 'Umra). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had a sacrificial animal with him and those too who could afford it (performed) Hajj). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to me (i. e. A'isha) while I was weeping, and he said: What makes you weep? I said: I heard your talk with Companions about Umra. He said: What has happened to you? I said: I do not observe prayer (due to the monthly period), whereupon he said: It would not harm you; you should perform (during this time) the rituals of Hajj (which you can do outside the House). Maybe Allah will compensate you for this. You are one among the daughters of Adam and Allah has ordained for you as He has ordained for them. So I proceeded on (with the rituals of Hajj) till we came to Mina. I washed myself and then circumambulated the House, and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) encamped at Muhassab and called, Abd al-Rahman b. Abu Bakr. and said: Take out your sister from the precincts of the Ka'ba in order to put on Ihram for Umra and circumambulate the House. and I shall wait for you here. She said: So I went out and put on Ihram and then circumambulated the House, and (ran) between al-Safa and al-Marwa, and then we came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he was in his house in the middle of the night. He said: Have you completed your (rituals)? I said: Yes. He then announced to his Companions to march on. He came out, and went to the House and circumambulated it before the dawn prayer and then proceeded to Medina.
افلح بن حمید نے قاسم سے انھوں نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم حج کا تلبیہ کہتے ہو ئے حج کے مہینوں میں حج کی حرمتوں ( پابندیوں ) میں اور حج کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں روانہ ہو ئے حتی کہ سرف کے مقا م پر اترے ۔ ( وہاں پہنچ کر ) آپ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے پاس تشریف لے گئے اور فر ما یا : "" تم میں سے جس کے ہمرا ہ قربانی نہیں ہے ۔ اور وہ اپنے حج کو عمرے میں بدلنا چاہتا ہے توا یسا کر لے اور جس کے ساتھ قربانی کے جا نور ہیں وہ ( ایسا ) نہ کرے ۔ ان میں سے کچھ نے جن کے پاس قربانی نہیں تھی اس ( عمرے ) کو اختیار کر لیا اور کچھ لوگوں نے رہنے دیا ۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور آپ کے ساتھ بعض صاحب استطاعت صحابہ کے ساتھ قربانیاں تھیں ۔ پھر آپ میرے پاس تشریف لا ئے تو میں رو رہی تھی ۔ آپ نے فر ما یا : "" کیوں روتی ہو؟ میں نے جواب دیا میں نے آپ کی آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ گفتگو سنی ہے اور عمرے کے متعلق بھی سن لیا ہے میں عمرے سے روک دی گئی ہوں ۔ آپ نے پو چھا : ( کیوں ) تمھیں کیا ہے ؟میں نے جواب دیا : میں نماز ادا نہیں کر سکتی ۔ آپ نے فر ما یا : "" یہ ( ایام عمرے حج میں ) تمھارے لیے نقصان دہ نہیں تم اپنے حج میں ( لگی ) رہو امید ہے کہ اللہ تعا لیٰ تمھیں یہ ( عمرے کا ) اجر بھی دے گا تم آدم ؑکی بیٹیوں میں سے ہو ۔ اللہ تعا لیٰ نے تمھارے لیے بھی وہی کچھ لکھ دیا ہے جو ان کی قسمت میں لکھا ہے کہا ( پھر ) میں احرا م ہی کی حا لت میں ) اپنے حج کے سفر میں نکلی حتیٰ کہ ہم منیٰ میں جا اترے اور ( تب ) میں ایام سے پاک ہو گئی پھر ہم سب نے بیت اللہ کا طواف ( افاضہ ) کیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محصب میں پڑاؤ ڈالا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( میرے بھا ئی ) کو بلا یا اور ان سے ) فر ما یا : "" اپنی بہن کو حرم سے باہر ( تنعیم ) لے جاؤ تا کہ یہ ( احرام باندھ کر ) عمرے کا تلبیہ کہے اور ( عمرے کے لیے بیت اللہ ( اور صفامروہ ) کا طواف کر لے ۔ میں ( تمھا ری واپسی تک ) تم دونوں کا یہیں انتظار کروں گا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : ہم نکل پڑے میں نے ( احرا م باندھ کر ) بیت اللہ اور صفامروہ کا طواف کیا ۔ ہم لوٹ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کے وقت اپنی منزل ہی پر تھے ۔ آپ نے ( مجھ سے ) پو چھا : "" کیا تم ( عمرے سے ) فارغ ہو گئی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں پھر آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں کو چ کے اعلان کا حکم دیا ۔ آپ ( وہاں سے ) نکلے بیت اللہ کے پاس سے گزرے اور فجر کی نماز سے پہلے اس کا طواف ( وداع ) کیا پھر مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔
Jam e Tirmazi
1402
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ،‏‏‏‏ عَنْ مَسْرُوقٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ:‏‏‏‏ الثَّيِّبُ الزَّانِي،‏‏‏‏ وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ،‏‏‏‏ وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ،‏‏‏‏ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ عُثْمَانَ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The blood of a Muslim man, who testifies that none has the right to be worshipped Allah, is not lawful except for one of three cases: The (previously married or) married adulterer, a life for a life, and the one who leaves the religion and parts from the Jama'ah (the community of Muslims.)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان شخص کا خون جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، حلال نہیں سوائے تین باتوں میں سے کسی ایک کے: یا تو وہ شادی شدہ زانی ہو، یا جان کو جان کے بدلے مارا جائے، یا وہ اپنا دین چھوڑ کر جماعت مسلمین سے الگ ہو گیا ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عثمان، عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1444
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ،‏‏‏‏ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَالشَّرِيدِ،‏‏‏‏ وَشُرَحْبِيلَ بْنِ أَوْسٍ،‏‏‏‏ وَجَرِيرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي الرَّمَدِ الْبَلَوِيِّ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ هَكَذَا رَوَى الثَّوْرِيُّ أَيْضًا،‏‏‏‏ عَنْ عَاصِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَرَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ،‏‏‏‏ وَمَعْمَرٌ،‏‏‏‏ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا فِي أَوَّلِ الْأَمْرِ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدُ،‏‏‏‏ هَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق،‏‏‏‏ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ،‏‏‏‏ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ،‏‏‏‏ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الرَّابِعَةِ،‏‏‏‏ فَضَرَبَهُ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَقْتُلْهُ،‏‏‏‏ وَكَذَلِكَ رَوَى الزُّهْرِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَرُفِعَ الْقَتْلُ،‏‏‏‏ وَكَانَتْ رُخْصَةً،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ،‏‏‏‏ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا فِي ذَلِكَ فِي الْقَدِيمِ وَالْحَدِيثِ،‏‏‏‏ وَمِمَّا يُقَوِّي هَذَا مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ،‏‏‏‏ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،‏‏‏‏ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ،‏‏‏‏ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ،‏‏‏‏ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي،‏‏‏‏ وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ .
Narrated Mu'awiyah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever drinks wine, then lash him. If he returns to it, then on the fourth time kill him.
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شراب پئیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پئے تو اسے قتل کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- معاویہ رضی الله عنہ کی حدیث کو اسی طرح ثوری نے بطریق: «عاصم عن أبي صالح عن معاوية عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور ابن جریج اور معمر نے بطریق: «سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ابوصالح کی حدیث جو بواسطہ معاویہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں آئی ہے، یہ ابوصالح کی اس حدیث سے جو بواسطہ ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، شرید، شرحبیل بن اوس، جریر، ابورمد بلوی اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا ۱؎ پھر اس کے بعد منسوخ ہو گیا، اسی طرح محمد بن اسحاق نے ” «محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله» کے طریق سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”جو شراب پئیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پئیے تو اسے قتل کر دو“، پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی تھی، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے اور قتل نہیں کیا، اسی طرح زہری نے قبیصہ بن ذویب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۵- چنانچہ قتل کا حکم منسوخ ہو گیا، پہلے اس کی رخصت تھی، عام اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، میرے علم میں اس مسئلہ میں ان کے درمیان نہ پہلے اختلاف تھا نہ اب اختلاف ہے، اور اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بےشمار سندوں سے آئی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو مسلمان شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو اس کا خون تین میں سے کسی ایک چیز کی بنا پر ہی حلال ہو سکتا ہے: ناحق کسی کا قاتل ہو، شادی شدہ زانی ہو، یا اپنا دین ( اسلام ) چھوڑنے والا ( مرتد ) ہو“۔
Jam e Tirmazi
2154
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الْمَوَالِي الْمُزَنِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ سِتَّةٌ لَعَنْتُهُمْ وَلَعَنَهُمُ اللَّهُ وَكُلُّ نَبِيٍّ كَانَ:‏‏‏‏ الزَّائِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُكَذِّبُ بِقَدَرِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُتَسَلِّطُ بِالْجَبَرُوتِ لِيُعِزَّ بِذَلِكَ مَنْ أَذَلَّ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيُذِلَّ مَنْ أَعَزَّ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُسْتَحِلُّ لِحَرَمِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِي مَا حَرَّمَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالتَّارِكُ لِسُنَّتِي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مُرْسَلًا وَهَذَا أَصَحُّ.
Aishah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Six are cursed, being cursed by Allah and by every Prophet that came: The one who adds to Allah's Book, the one who denies Allah's Qadar, the one who rules with tyranny by which he honors whom Allah has debased, and he dishonors whom Allah has honored, and the one who legalizes what Allah forbade, and the one from my family who legalizes what Allah forbade, and the abandoner of my Sunnah.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھ قسم کے لوگ ایسے ہیں جن پر میں نے، اللہ تعالیٰ نے اور تمام انبیاء نے لعنت بھیجی ہے: اللہ کی کتاب میں اضافہ کرنے والا، اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا، طاقت کے ذریعہ غلبہ حاصل کرنے والا تاکہ اس کے ذریعہ اسے عزت دے جسے اللہ نے ذلیل کیا ہے، اور اسے ذلیل کرے جسے اللہ نے عزت بخشی ہے، اللہ کی محرمات کو حلال سمجھنے والا، میرے کنبہ میں سے اللہ کی محرمات کو حلال سمجھنے والا اور میری سنت ترک کرنے والا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن ابوموالی نے یہ حدیث اسی طرح «عن عبيد الله ابن عبدالرحمٰن بن موهب عن عمرة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے۔ سفیان ثوری، حفص بن غیاث اور کئی لوگوں نے اسے «عن عبيد الله بن عبدالرحمٰن بن موهب عن علي بن حسين عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ یہ زیادہ صحیح ہے۔
Mishkat
110
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سِتَّةٌ لَعَنْتُهُمْ وَلَعَنَهُمُ اللَّهُ وَكُلُّ نَبِيٍّ يُجَابُ: الزَّائِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَالْمُكَذِّبُ بِقَدَرِ اللَّهِ وَالْمُتَسَلِّطُ بِالْجَبَرُوتِ لِيُعِزَّ مَنْ أَذَلَّهُ اللَّهُ وَيُذِلَّ مَنْ أَعَزَّهُ اللَّهُ وَالْمُسْتَحِلُّ لِحَرَمِ اللَّهِ وَالْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِي مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَالتَّارِكُ لِسُنَّتِي . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي الْمدْخل ورزين فِي كِتَابه
مطر بن عکامس بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ کسی بندے کے متعلق فیصلہ فرماتا ہے کہ اسے فلاں جگہ موت آ جائے تو وہ اس شخص کے لیے اس جگہ کوئی ضرورت پیدا کر دیتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد (۵/ ۲۲۷ ح ۲۲۳۳۲) و الترمذی (۲۱۴۶ ، ۲۱۴۷) و الحاکم (۱/ ۴۲ ، ۳۴۷) ۔
Sahih Muslim
4375
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ
Abdullah (b. Mas'ud) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: It is not permissible to take the life of a Muslim who bears testimony (to the fact that there is no god but Allah, and I am the Messenger of Allah, but in one of the three cases: the married adulterer, a life for life, and the deserter of his Din (Islam), abandoning the community.
حفص بن غیاث ، ابومعاویہ اور وکیع نے اعمش سے ، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی مسلمان کا ، جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ، خون حلال نہیں ، مگر تین میں سے کسی ایک صورت میں ( حلال ہے ) : شادی شدہ زنا کرنے والا ، جان کے بدلے میں جان ( قصاص کی صورت میں ) اور اپنے دین کو چھوڑ کر جماعت سے الگ ہو جانے والا ۔
Sunnan Abu Dawood
4352
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ:‏‏‏‏ الثَّيِّبُ الزَّانِي، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، ‏‏‏‏‏‏وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ .
Abdullah (bin Masud) reported the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: The blood of a Muslim man who testifies that there is no god but Allah and that I am the Messenger of Allah should not be lawfully shed but only for one of three reasons: married fornicator, soul for soul, and one who deserts his religion separating himself from the community.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان آدمی کا جو صرف اللہ کے معبود ہونے، اور میرے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو خون حلال نہیں، سوائے تین صورتوں کے: یا تو وہ شادی شدہ زانی ہو، یا اس نے کسی کا قتل کیا ہو تو اس کو اس کے بدلہ قتل کیا جائے گا، یا اپنا دین چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہو گیا ہو ۔
Sunnan Ibn e Maja
2534
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَأَبُو بَكْرِ بْنِ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَحَدُ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ .
It was narrated from 'Abdullah, who is Ibn Mas`ud, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “It is not lawful to shed the blood of a Muslim who bears witness that none has the right to be worshiped but Allah (SWT), and that I am the Messenger of Allah (ﷺ), except in one of three cases: a soul for a soul; a married person who commits adultery, and one who leaves his religion and splits from the Jama`ah.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کا جو صرف اللہ کے معبود برحق ہونے، اور میرے اللہ کا رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو، خون کرنا حلال نہیں، البتہ تین باتوں میں سے کوئی ایک بات ہو تو حلال ہے: اگر اس نے کسی کی جان ناحق لی ہو، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کا مرتکب ہوا ہو، یا اپنے دین ( اسلام ) کو چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو گیا ہو ( یعنی مرتد ہو گیا ہو ) ، ( تو ان تین صورتوں میں اس کا خون حلال ہے ) ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
4094
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْحُنَيْنِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ جَدِّهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ،‏‏‏‏ حَتَّى تَكُونَ أَدْنَى مَسَالِحِ الْمُسْلِمِينَ بِبَوْلَاءَ ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ بِأَبِي وَأُمِّي،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الْأَصْفَرِ وَيُقَاتِلُهُمُ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِكُمْ،‏‏‏‏ حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ رُوقَةُ الْإِسْلَامِ أَهْلُ الْحِجَازِ،‏‏‏‏ الَّذِينَ لَا يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ،‏‏‏‏ فَيَفْتَتِحُونَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ،‏‏‏‏ فَيُصِيبُونَ غَنَائِمَ لَمْ يُصِيبُوا مِثْلَهَا،‏‏‏‏ حَتَّى يَقْتَسِمُوا بِالْأَتْرِسَةِ،‏‏‏‏ وَيَأْتِي آتٍ،‏‏‏‏ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَرَجَ فِي بِلَادِكُمْ،‏‏‏‏ أَلَا وَهِيَ كِذْبَةٌ فَالْآخِذُ نَادِمٌ،‏‏‏‏ وَالتَّارِكُ نَادِمٌ .
It was narrated from Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf, from his father, that his grandfather said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Hour will not begin until the closest Muslim outpost will be at Baula’.’ Then he said: ‘O ‘Ali, O ‘Ali, O ‘Ali.’ He (‘Ali) said: ‘May my father and mother be ransomed for you.’ He said: ‘You will fight Banu Asfar (the Romans) and those who come after you will fight them, until the best of the Muslims go out to fight them, the people of Hijaz who do not fear the blame of anyone for the sake of Allah. They will conquer Constantinople with Tasbih and Takbir and will acquire such spoils of war as has never been seen before, which they will distribute by the shieldful. Someone will come and say: “Masih has appeared in your land!” But he will be lying, so the one who takes (some of the spoils) will regret it, and the one who leaves it behind will regret it too.’”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں کا نزدیک ترین مورچہ مقام بولاء میں نہ ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! اے علی! اے علی! انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ( فرمائیے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بہت جلد بنی اصفر ( اہل روم ) سے جنگ کرو گے اور ان سے وہ مسلمان بھی لڑیں گے جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے، یہاں تک کہ جو لوگ اسلام کی رونق ہوں گے ( یعنی اہل حجاز ) وہ بھی ان سے جنگ کے لیے نکلیں گے، اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں گے، بلکہ تسبیح و تکبیر کے ذریعہ قسطنطنیہ فتح کر لیں گے، اور انہیں ( وہاں ) اس قدر مال غنیمت حاصل ہو گا کہ اتنا کبھی حاصل نہ ہوا تھا، یہاں تک کہ وہ ڈھا لیں بھربھر کر تقسیم کریں گے، اور ایک آنے والا آ کر کہے گا: مسیح ( دجال ) تمہارے ملک میں ظاہر ہو گیا ہے، سن لو! یہ خبر جھوٹی ہو گی، تو مال لینے والا بھی شرمندہ ہو گا، اور نہ لینے والا بھی ۔