صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب ہبہ کےمسائل فضیلت اور ترغیب کا بیان

The book of gifts and the superiority of giving gifts and the exhortation for giving gifts.

اگر کسی کو کچھ ہدیہ دیا جائے اس کے پاس اور لوگ بھی بیٹھے ہوں تو اب اس کو دیا جائے جو زیادہ حقدار ہے

(25) CHAPTER. Whosoever is given a gift while some people are sitting with him, he only has the right to have it.

حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ أَخَذَ سِنًّا فَجَاءَ صَاحِبُهُ يَتَقَاضَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا ، ثُمَّ قَضَاهُ أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ ، وَقَالَ : أَفْضَلُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً .

Narrated Abu Huraira: The Prophet took a camel of special age from somebody on credit. Its owner came and demanded it back (harshly). The Prophet said, No doubt, he who has a right, can demand it. Then the Prophet gave him an older camel than his camel and said, The best amongst you is he who repays his debts in the most handsome way.

ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی شعبہ سے، انہیں ابوسلمہ بن کہیل نے، انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ بطور قرض لیا، قرض خواہ تقاضا کرنے آیا ( اور نازیبا گفتگو کی ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حق والے کو کہنے کا حق ہوتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اچھی عمر کا اونٹ اسے دلا دیا اور فرمایا ”تم میں افضل وہ ہے جو ادا کرنے میں سب سے بہتر ہو۔“

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَكَانَ عَلَى بَكْرٍ لِعُمَرَ صَعْبٍ ، فَكَانَ يَتَقَدَّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولُ أَبُوهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، لَا يَتَقَدَّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِعْنِيهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : هُوَ لَكَ ، فَاشْتَرَاهُ ، ثُمَّ قَالَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ، فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ .

Narrated Ibn `Umar: That he was in the company of the Prophet on a journey, riding a troublesome camel belonging to `Umar. The camel used to go ahead of the Prophet, so Ibn `Umar's father would say, O `Abdullah! No one should go ahead of the Prophet. The Prophet said to him, Sell it to me. `Umar said to the Prophet It is for you. So, he bought it and said, O `Abdullah! It is for you, and you can do with it what you like.

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا عمرو سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ وہ سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور عمر رضی اللہ عنہ کے ایک سرکش اونٹ پر سوار تھے۔ وہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آگے بڑھ جایا کرتا تھا۔ اس لیے ان کے والد ( عمر رضی اللہ عنہ ) کو تنبیہ کرنی پڑتی تھی کہ اے عبداللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے کسی کو نہ ہونا چاہئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! کہ عمر! اسے مجھے بیچ دے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یہ تو آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا۔ پھر فرمایا، عبداللہ یہ اب تیرا ہے۔ جس طرح تو چاہے استعمال کر۔