صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب جزیہ وغیرہ کے بیان میں

The book of al-jizya and the stoppage of war.

اگر بستی کے حاکم سے صلح ہو جائے تو بستی والوں سے بھی صلح سمجھی جائے گی

(2) CHAPTER. If the Imam concludes a truce with the king of a country, will peace be observed in regard to all the people of that country?

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّاسٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ وَأَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ ، وَكَسَاهُ بُرْدًا ، وَكَتَبَ لَهُ بِبَحْرِهِمْ .

Narrated Abu Humaid As-Saidi: We accompanied the Prophet in the Ghazwa of Tabuk and the king of 'Aila presented a white mule and a cloak as a gift to the Prophet. And the Prophet wrote to him a peace treaty allowing him to keep authority over his country.

ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباس ساعدی نے اور ان سے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم غزوہ تبوک میں شریک تھے۔ ایلہ کے حاکم ( یوحنا بن روبہ ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سفید خچر بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک چادر بطور خلعت کے اور ایک تحریر کے ذریعہ اس کے ملک پر اسے ہی حاکم باقی رکھا۔