صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب جزیہ وغیرہ کے بیان میں

The book of al-jizya and the stoppage of war.

دغابازی کرنے والے پر گناہ خواہ وہ کسی نیک آدمی کے ساتھ ہو یا بے عمل کے ساتھ

(22) CHAPTER. The sin of a betrayer (treacherous and perfidious person) whether he betrays a good or bad person.


حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : أَحَدُهُمَا يُنْصَبُ ، وَقَالَ : الْآخَرُ يُرَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ .

Narrated Anas: The Prophet said, ''Every betrayer will have a flag on the Day of Resurrection One of the two subnarrators said that the flag would be fixed, and the other said that it would be shown on the Day of Resurrection, so that the betrayer might be recognized by it.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور ثابت نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا، ان میں سے ایک صاحب نے بیان کیا کہ وہ جھنڈا ( اس کے پیچھے ) گاڑ دیا جائے گا اور دوسرے صاحب نے بیان کیا کہ اسے قیامت کے دن سب دیکھیں گے، اس کے ذریعہ اسے پہچانا جائے گا۔“

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح