TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3522 - (10) CHAPTER. The story of the conversion of Abu Dhar Al-Ghifari to Islam. - The book of virtues. - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
(10) CHAPTER. The story of the conversion of Abu Dhar Al-Ghifari to Islam.
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کیاسلام لانے کا بیان ۔ زمزم کا واقعہ ۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لِأَخِيهِ ارْكَبْ إِلَى هَذَا الْوَادِي فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ , وَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ ائْتِنِي , فَانْطَلَقَ الْأَخُ حَتَّى قَدِمَهُ وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ ، فَقَالَ لَهُ : رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَكَلَامًا مَا هُوَ بِالشِّعْرِ ، فَقَالَ : مَا شَفَيْتَنِي مِمَّا أَرَدْتُ فَتَزَوَّدَ وَحَمَلَ شَنَّةً لَهُ فِيهَا مَاءٌ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَأَتَى الْمَسْجِدَ , فَالْتَمَسَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَعْرِفُهُ وَكَرِهَ أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ حَتَّى أَدْرَكَهُ بَعْضُ اللَّيْلِ , فَاضْطَجَعَ فَرَآهُ عَلِيٌّ فَعَرَفَ أَنَّهُ غَرِيبٌ , فَلَمَّا رَآهُ تَبِعَهُ فَلَمْ يَسْأَلْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَصْبَحَ , ثُمَّ احْتَمَلَ قِرْبَتَهُ وَزَادَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَظَلَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَلَا يَرَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَمْسَى , فَعَادَ إِلَى مَضْجَعِهِ فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : أَمَا نَالَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَهُ , فَأَقَامَهُ فَذَهَبَ بِهِ مَعَهُ لَا يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ , فَعَادَ عَلِيٌّ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ فَأَقَامَ مَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَا تُحَدِّثُنِي مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ ، قَالَ : إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيثَاقًا لَتُرْشِدَنِّي فَعَلْتُ , فَفَعَلَ فَأَخْبَرَهُ ، قَالَ : فَإِنَّهُ حَقٌّ وَهُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَاتْبَعْنِي , فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ عَلَيْكَ قُمْتُ كَأَنِّي أُرِيقُ الْمَاءَ , فَإِنْ مَضَيْتُ فَاتْبَعْنِي حَتَّى تَدْخُلَ مَدْخَلِي , فَفَعَلَ فَانْطَلَقَ يَقْفُوهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ فَأَخْبِرْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ , فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ , ثُمَّ قَامَ الْقَوْمُ فَضَرَبُوهُ حَتَّى أَضْجَعُوهُ , وَأَتَى الْعَبَّاسُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ ، قَالَ : وَيْلَكُمْ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مِنْ غِفَارٍ وَأَنَّ طَرِيقَ تِجَارِكُمْ إِلَى الشَّأْمِ , فَأَنْقَذَهُ مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ مِنَ الْغَدِ لِمِثْلِهَا , فَضَرَبُوهُ وَثَارُوا إِلَيْهِ فَأَكَبَّ الْعَبَّاسُ عَلَيْهِ .
Narrated Abu Jamra: Ibn `Abbas said to us, Shall I tell you the story of Abu Dhar's conversion to Islam? We said, Yes. He said, Abu Dhar said: I was a man from the tribe of Ghifar. We heard that a man had appeared in Mecca, claiming to be a Prophet. ! said to my brother, 'Go to that man and talk to him and bring me his news.' He set out, met him and returned. I asked him, 'What is the news with you?' He said, 'By Allah, I saw a man enjoining what is good and forbidding what is evil.' I said to him, 'You have not satisfied me with this little information.' So, I took a waterskin and a stick and proceeded towards Mecca. Neither did I know him (i.e. the Prophet ), nor did I like to ask anyone about him. I Kept on drinking Zam zam water and staying in the Mosque. Then `Ali passed by me and said, 'It seems you are a stranger?' I said, 'Yes.' He proceeded to his house and I accompanied him. Neither did he ask me anything, nor did I tell him anything. Next morning I went to the Mosque to ask about the Prophet but no-one told me anything about him. `Ali passed by me again and asked, 'Hasn't the man recognized his dwelling place yet' I said, 'No.' He said, 'Come along with me.' He asked me, 'What is your business? What has brought you to this town?' I said to him, 'If you keep my secret, I will tell you.' He said, 'I will do,' I said to him, 'We have heard that a person has appeared here, claiming to be a Prophet. I sent my brother to speak to him and when he returned, he did not bring a satisfactory report; so I thought of meeting him personally.' `Ali said (to Abu Dhar), 'You have reached your goal; I am going to him just now, so follow me, and wherever I enter, enter after me. If I should see someone who may cause you trouble, I will stand near a wall pretending to mend my shoes (as a warning), and you should go away then.' `Ali proceeded and I accompanied him till he entered a place, and I entered with him to the Prophet to whom I said, 'Present (the principles of) Islam to me.' When he did, I embraced Islam 'immediately. He said to me, 'O Abu Dhar! Keep your conversion as a secret and return to your town; and when you hear of our victory, return to us. ' I said, 'By H him Who has sent you with the Truth, I will announce my conversion to Islam publicly amongst them (i.e. the infidels),' Abu Dhar went to the Mosque, where some people from Quraish were present, and said, 'O folk of Quraish ! I testify that None has the right to be worshipped except Allah, and I (also) testify that Muhammad is Allah's Slave and His Apostle.' (Hearing that) the Quraishi men said, 'Get at this Sabi (i.e. Muslim) !' They got up and beat me nearly to death. Al `Abbas saw me and threw himself over me to protect me. He then faced them and said, 'Woe to you! You want to kill a man from the tribe of Ghifar, although your trade and your communications are through the territory of Ghifar?' They therefore left me. The next morning I returned (to the Mosque) and said the same as I have said on the previous day. They again said, 'Get at this Sabi!' I was treated in the same way as on the previous day, and again Al-Abbas found me and threw himself over me to protect me and told them the same as he had said the day before.' So, that was the conversion of Abu Dhar (may Allah be Merciful to him) to Islam.
مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے، کہا ہم سے مثنیٰ نے، ان سے ابوجمرہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم سے زید نے جو اخزم کے بیٹے ہیں، بیان کیا، کہا ہم سے ابوقتیبہ سلم بن قتیبہ نے بیان کیا، ان سے مثنیٰ بن سعید قصیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بارے معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے بھائی انیس سے کہا مکہ جانے کے لیے سواری تیار کر اور اس شخص کے متعلق جو نبی ہونے کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے، میرے لیے خبریں حاصل کر کے لا۔ اس کی باتوں کو خود غور سے سننا اور پھر میرے پاس آنا۔ ان کے بھائی وہاں سے چلے اور مکہ حاضر ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں خود سنیں پھر واپس ہو کر انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے، وہ اچھے اخلاق کا لوگوں کو حکم کرتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا وہ شعر نہیں ہے۔ اس پر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا جس مقصد کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا مجھے اس پر پوری طرح تشفی نہیں ہوئی۔ آخر انہوں نے خود توشہ باندھا، پانی سے بھرا ہوا ایک پرانا مشکیزہ ساتھ لیا اور مکہ آئے۔ مسجدالحرام میں حاضری دی اور یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے آپ کے متعلق پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھا، کچھ رات گزر گئی کہ وہ لیٹے ہوئے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس حالت میں دیکھا اور سمجھ گئے کہ کوئی مسافر ہے۔ علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا آپ میرے گھر چل کر آرام کیجئے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے لیکن کسی نے ایک دوسرے کے بارے میں بات نہیں کی۔ جب صبح ہوئی تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنا مشکیزہ اور توشہ اٹھایا اور مسجدالحرام میں آ گئے۔ یہ دن بھی یونہی گزر گیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے۔ شام ہوئی تو سونے کی تیاری کرنے لگے۔ علی رضی اللہ عنہ پھر وہاں سے گزرے اور سمجھ گئے کہ ابھی اپنے ٹھکانے جانے کا وقت اس شخص پر نہیں آیا، وہ انہیں وہاں سے پھر اپنے ساتھ لے آئے اور آج بھی کسی نے ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی، تیسرا دن جب ہوا اور علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ یہی کام کیا اور اپنے ساتھ لے گئے تو ان سے پوچھا کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ یہاں آنے کا باعث کیا ہے؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کر لو کہ میری راہ نمائی کرو گے تو میں تم کو سب کچھ بتادوں گا۔ علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کر لیا تو انہوں نے انہیں اپنے خیالات کی خبر دی۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ حق پر ہیں اور اللہ کے سچے رسول ہیں اچھا صبح کو تم میرے پیچھے پیچھے میرے ساتھ چلنا۔ اگر میں ( راستے میں ) کوئی ایسی بات دیکھوں جس سے مجھے تمہارے بارے میں کوئی خطرہ ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا ( کسی دیوار کے قریب ) گویا مجھے پیشاب کرنا ہے۔ اس وقت تم میرا انتظار مت کرنا اور جب میں پھر چلنے لگوں تو میرے پیچھے آ جانا تاکہ کوئی سمجھ نہ سکے کہ یہ دونوں ساتھ ہیں اور اس طرح جس گھر میں، میں داخل ہوں تم بھی داخل ہو جانا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور پیچھے پیچھے چلے تاآنکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے، آپ کی باتیں سنیں اور وہیں اسلام لے آئے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اب اپنی قوم غفار میں واپس جاؤ اور انہیں میرا حال بتاو تاآنکہ جب ہمارے غلبہ کا علم تم کو ہو جائے ( تو پھر ہمارے پاس آ جانا ) ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں ان قریشیوں کے مجمع میں پکار کر کلمہ توحید کا اعلان کروں گا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے واپس وہ مسجدالحرام میں آئے اور بلند آواز سے کہا کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں“ یہ سنتے ہی ان پر سارا مجمع ٹوٹ پڑا اور سب نے انہیں اتنا مارا کہ زمین پر لٹا دیا۔ اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ آ گئے اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے اوپر اپنے کو ڈال کر قریش سے انہوں نے کہا افسوس! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے اور شام جانے والے تمہارے تاجروں کا راستہ ادھر ہی سے پڑتا ہے، اس طرح سے ان سے ان کو بچایا۔ پھر ابوذر رضی اللہ عنہ دوسرے دن مسجدالحرام میں آئے اور اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ قوم پھر بری طرح ان پر ٹوٹ پڑی اور مارنے لگے۔ اس دن بھی عباس ان پر اوندھے پڑ گئے۔ کیا میں ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا واقعہ تمہیں سناؤں؟ ہم نے عرض کیا ضرور سنائیے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے بتلایا۔ میرا تعلق قبیلہ غفار سے تھا۔ ہمارے یہاں یہ خبر پہنچی تھی کہ مکہ میں ایک شخص پیدا ہوئے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہیں ( پہلے تو ) میں نے اپنے بھائی سے کہا کہ اس شخص کے پاس مکہ جا، اس سے گفتگو کر اور پھر اس کے سارے حالات آ کر مجھے بتا۔ چنانچہ میرے بھائی خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور واپس آ گئے۔ میں نے پوچھا کہ کیا خبر لائے؟ انہوں نے کہا، اللہ کی قسم! میں نے ایسے شخص کو دیکھا ہے جو اچھے کاموں کے لیے کہتا ہے اور برے کاموں سے منع کرتا ہے۔ میں نے کہا کہ تمہاری باتوں سے تو میری تشفی نہیں ہوئی۔ اب میں نے توشے کا تھیلا اور چھڑی اٹھائی اور مکہ آ گیا۔ وہاں میں کسی کو پہچانتا نہیں تھا اور آپ کے متعلق کسی سے پوچھتے ہوئے بھی ڈر لگتا تھا۔ میں ( صرف ) زمزم کا پانی پی لیا کرتا تھا، اور مسجدالحرام میں ٹھہرا ہوا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ علی رضی اللہ عنہ میرے سامنے سے گزرے اور بولے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس شہر میں مسافر ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کہا: جی ہاں۔ بیان کیا کہ تو پھر میرے گھر چلو۔ پھر وہ مجھے اپنے گھر ساتھ لے گئے۔ بیان کیا کہ میں آپ کے ساتھ ساتھ گیا۔ نہ انہوں نے کوئی بات پوچھی اور نہ میں نے کچھ کہا۔ صبح ہوئی تو میں پھر مسجدالحرام میں آ گیا تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کسی سے پوچھوں لیکن آپ کے بارے میں کوئی بتانے والا نہیں تھا۔ بیان کیا کہ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے سامنے سے گزرے اور بولے کہ کیا ابھی تک آپ اپنے ٹھکانے کو نہیں پا سکے ہیں؟ بیان کیا، میں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھا پھر میرے ساتھ آئیے، انہوں نے بیان کیا کہ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا۔ آپ کا مطلب کیا ہے۔ آپ اس شہر میں کیوں آئے؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کہا: آپ اگر ظاہر نہ کریں تو میں آپ کو اپنے معاملے کے بارے میں بتاؤں۔ انہوں نے کہا کہ میں ایسا ہی کروں گا۔ تب میں نے ان سے کہا۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہاں کوئی شخص پیدا ہوئے ہیں جو نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ میں نے پہلے اپنے بھائی کو ان سے بات کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ لیکن جب وہ واپس ہوئے تو انہوں نے مجھے کوئی تشفی بخش اطلاعات نہیں دیں۔ اس لیے میں اس ارادہ سے آیا ہوں کہ ان سے خود ملاقات کروں۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ نے اچھا راستہ پایا کہ مجھ سے مل گئے۔ میں انہیں کے پاس جا رہا ہوں۔ آپ میرے پیچھے پیچھے چلیں۔ جہاں میں داخل ہوں آپ بھی داخل ہو جائیں۔ اگر میں کسی ایسے آدمی کو دیکھوں گا جس سے آپ کے بارے میں مجھے خطرہ ہو گا تو میں کسی دیوار کے پاس کھڑا ہو جاؤں گا، گویا کہ میں اپنا جوتا ٹھیک کر رہا ہوں۔ اس وقت آپ آگے بڑھ جائیں چنانچہ وہ چلے اور میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا اور آخر میں وہ ایک مکان کے اندر گئے اور میں بھی ان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اندر داخل ہو گیا۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اسلام کے اصول و ارکان مجھے سمجھا دیجئیے۔ آپ نے میرے سامنے ان کی وضاحت فرمائی اور میں مسلمان ہو گیا۔ پھر آپ نے فرمایا: اے ابوذر! اس معاملے کو ابھی پوشیدہ رکھنا اور اپنے شہر کو چلے جانا۔ پھر جب تمہیں ہمارے غلبہ کا حال معلوم ہو جائے تب یہاں دوبارہ آنا۔ میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں تو ان سب کے سامنے اسلام کے کلمہ کا اعلان کروں گا۔ چنانچہ وہ مسجدالحرام میں آئے۔ قریش کے لوگ وہاں موجود تھے اور کہا، اے قریش کی جماعت! ( سنو ) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) قریشیوں نے کہا کہ اس بددین کی خبر لو۔ چنانچہ وہ میری طرف لپکے اور مجھے اتنا مارا کہ میں مرنے کے قریب ہو گیا۔ اتنے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ آ گئے اور مجھ پر گر کر مجھے اپنے جسم سے چھپا لیا اور قریشیوں کی طرف متوجہ ہو کر انہوں کہا۔ ارے نادانو! قبیلہ غفار کے آدمی کو قتل کرتے ہو۔ غفار سے تو تمہاری تجارت بھی ہے اور تمہارے قافلے بھی اس طرف سے گزرتے ہیں۔ اس پر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ پھر جب دوسری صبح ہوئی تو پھر میں مسجدالحرام میں آیا اور جو کچھ میں نے کل پکارا تھا اسی کو پھر دہرایا۔ قریشیوں نے پھر کہا: پکڑو اس بددین کو۔ جو کچھ انہوں نے میرے ساتھ کل کیا تھا وہی آج بھی کیا۔ اتفاق سے پھر عباس بن عبدالمطلب آ گئے اور مجھ پر گر کر مجھے اپنے جسم سے انہوں نے چھپا لیا اور جیسا ا نہوں نے قریشیوں سے کل کہا تھا ویسا ہی آج بھی کہا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کی ابتداء اس طرح سے ہوئی تھی۔
3522
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

186
1
(33) CHAPTER. The conversion of Abu Dhar Al-Ghifari to Islam.
حضرت ابوذر رضیاللہعنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ ۔
Sahih Bukhari
2
(35) CHAPTER. The conversion of Umar bin Al-Khattab to Islam.
حضرت عمر بنخطاب رضیاللہعنہ کے اسلام لانے کا واقعہ
Sahih Bukhari
3
(53) CHAPTER. The conversion of Salman Al-Farisi to Islam.
حضرت سلمان فارسی رضیاللہعنہ کے ایمان لانے کا واقعہ
Sahih Bukhari
4
سیدنا ابوذرغفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ
Musnad Ahmad
5
(30) CHAPTER. The conversion of Abu Bakr As-Siddiq to Islam.
حضرت ابوبکر صدیق رضیاللہعنہ کے اسلام قبول کرنے کابیان
Sahih Bukhari
6
(31) CHAPTER. The conversion of Sad to Islam.
حضرت سعدبنابیوقاص رضیاللہعنہ کے اسلام قبول کرنے کا بیان
Sahih Bukhari
7
(37) CHAPTER. The asking of (angel) Jibril (Gabriel) from the Prophet about Belief, Islam, Ihsan (perfection) and the knowledge of the Hour (Doomsday) .
حضرت جبرائیل علیہ السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان ، اسلام ، احسان اور قیامت کے علم کے بارے میں پوچھنا
Sahih Bukhari
8
(24) CHAPTER: The Statement of Allah: Has there come to you the story of Musa (Moses)? (V.79:15) And Allah's Statement: ...And to Moses Allah spoke directly. (V.4:164)
( سورۃ طہٰ میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمان اور کیا تجھ کو موسیٰ کا واقعہ معلوم ہوا ہے اور ( سورۃ نساء میں ) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا ۔
Sahih Bukhari
9
(25) CHAPTER. The signs of Prophethood in Islam.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان ۔
Sahih Bukhari
10
(8) CHAPTER. The story of the Bai'a (pledge) (after Umar) and the unanimous election of of Uthman bin Affan as a caliph.
حضرت عثمان رضیاللہعنہ سے بیعت کا قصہ اور آپ کیخلافت پر صحابہ کا اتفاق کرنا اور اس باب میں امیرالمؤمنین حضرت عمر بنخطاب رضیاللہعنہ کی شہادت کا بیان
Sahih Bukhari
11
(35) CHAPTER. The conversion of Umar bin Al-Khattab to Islam.
سعید بنزید بنعمرو بن نفیل رضیاللہعنہ کا اسلام قبول کرنا
Sahih Bukhari
12
(80) CHAPTER. The narration of Kab bin Malik.
حضرت کعب بنمالک رضیاللہعنہ کے واقعہ کا بیا ن
Sahih Bukhari
13
(1) CHAPTER. What has been said about the Prophet (p.b.u.h.) inviting his followers (nation) to Tauhid Allah i.e., Islamic Monotheism (worshiping none but Allah Alone).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دینا
Sahih Bukhari
14
Chapter: The Lengthy Hadith Of Jabir And The Story Of Abu Al-Yasar
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طویل حدیث اور حضرت ابو یسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قصہ
Sahih Muslim
15
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
16
Chapter: What Has Been Related About Giving To Those Whose Hearts Are Inclined (Toward Islam)
باب: تالیف قلب اور قریب لانے کے مقصد سے زکاۃ میں سے خرچ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
Musnad Ahmad
18
لعان کے سبب، تہمت والی آیات کی تفسیر، لعان اور سیدنا ہلال بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
Musnad Ahmad
19
شراب کے مفاسد اور شراب کی حرمت سے قبل سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دو اونٹنیوں کے متعلق واقعہ
Musnad Ahmad
20
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بھوک کا واقعہ اور اس معاملے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عظیم معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
21
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیّدنا حمزہ بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کا واقعہ اور ان کے قاتل اور قتل کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
22
غزوۂ بنو مصطلق میں واقعۂ افک کی وجہ سے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی ابتلاء وآزمائش کا بیان
Musnad Ahmad
23
غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی قریظہ کے بعض مشترکہ واقعات اور سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے کا واقعہ
Musnad Ahmad
24
سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا واقعہ یہ دراصل گزشتہ دو ابواب کی تلخیص پر مشتمل ہے
Musnad Ahmad
25
اس زہر آلود بکری کا واقعہ جو یہود نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھانے کے لیے بھیجی تھی اور اس موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا ظہور
Musnad Ahmad
26
غزوۂ فتح مکہ کی تاریخ اور اہلِ مکہ کے نام حاطب بن ابی بلتعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مکتوب کا واقعہ
Musnad Ahmad
27
سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا واقعہ، جبکہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، اور ان کی توبہ کی قبولیت کے بیان میں قرآن کریم نازل ہوا
Musnad Ahmad
28
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مدینہ منورہ آمد، ان کی بیعت اور قبولِ اسلام کا واقعہ
Musnad Ahmad
29
واقعۂ افک ،سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی آزمائش اور سات آسمانوں کے اوپر سے ان کی براء ت کا نزول
Musnad Ahmad
30
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پیالہ توڑنے کے واقعہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عدل اور آپ کے اخلاق کا ظہور
Musnad Ahmad
31
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
32
سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کا واقعہ اور ان کے قبول اسلام کا از اول تا آخر مکمل اور مفصل واقعہ
Musnad Ahmad
33
سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
Musnad Ahmad
34
باب دوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اور واقعۂ سقیفہ کا بیان
Musnad Ahmad
35
فصلِ دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلا فت میں ۱۵ ھ ؁ میں ہونے والے واقعۂ یرموک کا بیان
Musnad Ahmad
36
باب چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ
Musnad Ahmad
37
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ربذہ کی طرف شہربدری
Musnad Ahmad
38
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
Musnad Ahmad
39
فصل چہارم: عبداللہ بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہ مفصل حدیث جو انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو سنائی تھی، یہ حدیث خوارج کے تفصیلی واقعہ پر مشتمل ہے
Musnad Ahmad
40
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
Musnad Ahmad
41
ٔٔفصل: عہد خلافت ِمعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک اہم واقعہ غزوۂ قسطنطنیہ ہے
Musnad Ahmad
42
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
Musnad Ahmad
43
(17) CHAPTER. (The Statement of Allah) “But if they repent [by rejecting Shirk (polytheism) and accept Islamic Monotheism] and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and give Zakat then leave their way free.” (V.9:5)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ ( کافر ) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ( یعنی ان سے جنگ نہ کرو )
Sahih Bukhari
44
(32) CHAPTER. Ad-Din (good, righteous deed - act of worship) loved most by Allah is that which is done regularly. (And in fact the best religion with Allah is Islam).
اللہ کو دین ( کا ) وہ ( عمل ) سب سے زیادہ پسند ہے جس کو پابندی سے کیا جائے ۔
Sahih Bukhari
45
(15) CHAPTER. Whoever fights so that Allah's Word (i.e., Allah's religion of Islamic Monotheism) be superior.
جس شخص نے اس ارادہ سے جنگ کی کہ اللہ تعالیٰ ہی کا کلمہ بلند رہے ‘ اس کی فضیلت
Sahih Bukhari
46
(28) CHAPTER. (What about) a disbeliever who kills a Muslim and later on embraces Islam and starts doing good deeds and gets killed (in Allah's Cause)?
کافر اگر کفر کی حالت میں مسلمان کو مارے پھر مسلمان ہو جائے ‘ اسلام پر مضبوط رہے اور اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
47
(102) CHAPTER. The invitation of the Prophet (p.b.u.h) to embrace Islam, and to believe in his Prophethood and not to take each other as Lords instead of Allah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( غیر مسلموں کو ) اسلام کی طرف دعوت دینا
Sahih Bukhari
48
(182) CHAPTER. Allah may support the religion (Islam) with a Fajir (an evil, disobedient, wicked) man.
اللہ تعالیٰ کبھی اپنے دین کی مدد ایک فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے
Sahih Bukhari
49
(23) CHAPTER. The Statement of Allah: And has there come to you the story of Musa (Moses)? When he saw a fire.. (up to ).. in the acred vally, Tuwa. (V.20:9-12)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ طہٰ ) میں فرمانا ۔
Sahih Bukhari
50
(27) CHAPTER. The story of Al-Khidr with Musa (Moses).
حضرت خضراور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات ۔
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

24
Sahih Bukhari
3861
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لِأَخِيهِ ارْكَبْ إِلَى هَذَا الْوَادِي فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ , وَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ ائْتِنِي , فَانْطَلَقَ الْأَخُ حَتَّى قَدِمَهُ وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ ، فَقَالَ لَهُ : رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَكَلَامًا مَا هُوَ بِالشِّعْرِ ، فَقَالَ : مَا شَفَيْتَنِي مِمَّا أَرَدْتُ فَتَزَوَّدَ وَحَمَلَ شَنَّةً لَهُ فِيهَا مَاءٌ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَأَتَى الْمَسْجِدَ , فَالْتَمَسَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَعْرِفُهُ وَكَرِهَ أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ حَتَّى أَدْرَكَهُ بَعْضُ اللَّيْلِ , فَاضْطَجَعَ فَرَآهُ عَلِيٌّ فَعَرَفَ أَنَّهُ غَرِيبٌ , فَلَمَّا رَآهُ تَبِعَهُ فَلَمْ يَسْأَلْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَصْبَحَ , ثُمَّ احْتَمَلَ قِرْبَتَهُ وَزَادَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَظَلَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَلَا يَرَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَمْسَى , فَعَادَ إِلَى مَضْجَعِهِ فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : أَمَا نَالَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَهُ , فَأَقَامَهُ فَذَهَبَ بِهِ مَعَهُ لَا يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ , فَعَادَ عَلِيٌّ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ فَأَقَامَ مَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَا تُحَدِّثُنِي مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ ، قَالَ : إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيثَاقًا لَتُرْشِدَنِّي فَعَلْتُ , فَفَعَلَ فَأَخْبَرَهُ ، قَالَ : فَإِنَّهُ حَقٌّ وَهُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَاتْبَعْنِي , فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ عَلَيْكَ قُمْتُ كَأَنِّي أُرِيقُ الْمَاءَ , فَإِنْ مَضَيْتُ فَاتْبَعْنِي حَتَّى تَدْخُلَ مَدْخَلِي , فَفَعَلَ فَانْطَلَقَ يَقْفُوهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ فَأَخْبِرْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ , فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ , ثُمَّ قَامَ الْقَوْمُ فَضَرَبُوهُ حَتَّى أَضْجَعُوهُ , وَأَتَى الْعَبَّاسُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ ، قَالَ : وَيْلَكُمْ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مِنْ غِفَارٍ وَأَنَّ طَرِيقَ تِجَارِكُمْ إِلَى الشَّأْمِ , فَأَنْقَذَهُ مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ مِنَ الْغَدِ لِمِثْلِهَا , فَضَرَبُوهُ وَثَارُوا إِلَيْهِ فَأَكَبَّ الْعَبَّاسُ عَلَيْهِ .
Narrated Ibn `Abbas: When Abu Dhar received the news of the Advent of the Prophet he said to his brother, Ride to this valley (of Mecca) and try to find out the truth of the person who claims to be a prophet who is informed of the news of Heaven. Listen to what he says and come back to me. So his brother set out and came to the Prophet and listened to some of his talks, and returned to Abu Dhar and said to him. I have seen him enjoining virtuous behavior and saying something that is not poetry. Abu Dhar said, You have not satisfied me as to what I wanted. He then took his journey-food and carried a waterskin of his, containing some water till be reached Mecca. He went to the Mosque and searched for the Prophet and though he did not know him, he hated to ask anybody about him. When a part of the night had passed away, `Ali saw him and knew that he was a stranger. So when Abu Dhar saw `Ali, he followed him, and none of them asked his companion about anything, and when it was dawn, Abu Dhar took his journey food and his water-skin to the Mosque and stayed there all the day long without being perceived by the Prophet, and when it was evening, he came back to his retiring place. `Ali passed by him and said, Has the man not known his dwelling place yet? So `Ali awakened him and took him with him and none of them spoke to the other about anything. When it was the third day. `Ali did the same and Abu Dhar stayed with him. Then `Ali said Will you tell me what has brought you here? Abu Dhar said, If you give me a firm promise that you will guide me, then I will tell you. `Ali promised him, and he informed `Ali about the matter. `Ali said, It is true, and he is the Apostle of Allah. Next morning when you get up, accompany me, and if I see any danger for you, I will stop as if to pass water, but if I go on, follow me and enter the place which I will enter. Abu Dhar did so, and followed `Ali till he entered the place of the Prophet, and Abu Dhar went in with him, Abu Dhar listened to some of the Prophet's talks and embraced Islam on the spot. The Prophet said to him, Go back to your people and inform them (about it) till you receive my order. Abu Dhar said, By Him in Whose Hand my life is, I will proclaim my conversion loudly amongst them (i.e. the pagans). So he went out, and when he reached the Mosque, he said as loudly as possible, I bear witness that None has the right to be worshipped except Allah, and Muhammad is the Apostle of Allah. The People got up and beat him painfully. Then Al-Abbas came and knelt over him ((to protect him) and said (to the people), Woe to you! Don't you know that this man belongs to the tribe of Ghifar and your trade to Sha'm is through their way? So he rescued him from them. Abu Dhar again did the same the next day. They beat him and took vengeance on him and again Al-Abbas knelt over him (to protect him).
مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے، کہا ہم سے مثنیٰ نے، ان سے ابوجمرہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے بھائی انیس سے کہا مکہ جانے کے لیے سواری تیار کر اور اس شخص کے متعلق جو نبی ہونے کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے۔ میرے لیے خبریں حاصل کر کے لا۔ اس کی باتوں کو خود غور سے سننا اور پھر میرے پاس آنا۔ ان کے بھائی وہاں سے چلے اور مکہ حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں خود سنیں پھر واپس ہو کر انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے، وہ اچھے اخلاق کا لوگوں کو حکم کرتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا وہ شعر نہیں ہے۔ اس پر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا جس مقصد کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا مجھے اس پر پوری طرح تشفی نہیں ہوئی، آخر انہوں نے خود توشہ باندھا، پانی سے بھرا ہوا ایک پرانا مشکیزہ ساتھ لیا اور مکہ آئے، مسجد الحرام میں حاضری دی اور یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھا، کچھ رات گزر گئی کہ وہ لیٹے ہوئے تھے۔ علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس حالت میں دیکھا اور سمجھ گئے کہ کوئی مسافر ہے۔ علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ میرے گھر پر چل کر آرام کیجئے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے لیکن کسی نے ایک دوسرے کے بارے میں بات نہیں کی۔ جب صبح ہوئی تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنا مشکیزہ اور توشہ اٹھایا اور مسجد الحرام میں آ گئے۔ یہ دن بھی یونہی گزر گیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے۔ شام ہوئی تو سونے کی تیاری کرنے لگے۔ علی رضی اللہ عنہ پھر وہاں سے گزرے اور سمجھ گئے کہ ابھی اپنے ٹھکانے جانے کا وقت اس شخص پر نہیں آیا، وہ انہیں وہاں سے پھر اپنے ساتھ لے آئے اور آج بھی کسی نے ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی، تیسرا دن جب ہوا اور علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ یہی کام کیا اور اپنے ساتھ لے گئے تو ان سے پوچھا کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ یہاں آنے کا باعث کیا ہے؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کر لو کہ میری راہ نمائی کرو گے تو میں تم کو سب کچھ بتا دوں گا۔ علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کر لیا تو انہوں نے اپنے خیالات کی خبر دی۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ حق پر ہیں اور اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اچھا صبح کو تم میرے پیچھے پیچھے میرے ساتھ چلنا۔ اگر میں ( راستے میں ) کوئی ایسی بات دیکھوں گا جس سے مجھے تمہارے بارے میں خطرہ ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا۔ ( کسی دیوار کے قریب ) گویا مجھے پیشاب کرنا ہے، اس وقت تم میرا انتظار نہ کرنا اور جب میں پھر چلنے لگوں تو میرے پیچھے آ جانا تاکہ کوئی سمجھ نہ سکے کہ یہ دونوں ساتھ ہیں اور اس طرح جس گھر میں، میں داخل ہوں تم بھی داخل ہو جانا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور پیچھے پیچھے چلے تاآنکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ آپ کی باتیں سنیں اور وہیں اسلام لے آئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اب اپنی قوم غفار میں واپس جاؤ اور انہیں میرا حال بتاؤ تاآنکہ جب ہمارے غلبہ کا علم تم کو ہو جائے ( تو پھر ہمارے پاس آ جانا ) ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ان قریشیوں کے مجمع میں پکار کر کلمہ توحید کا اعلان کروں گا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے واپس وہ مسجد الحرام میں آئے اور بلند آواز سے کہا کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ یہ سنتے ہی سارا مجمع ان پر ٹوٹ پڑا اور انہیں اتنا مارا کہ زمین پر لٹا دیا اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ آ گئے اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے اوپر اپنے آپ کو ڈال کر قریش سے کہا افسوس کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے اور شام جانے والے تمہارے تاجروں کا راستہ ادھر ہی سے پڑتا ہے اس طرح سے ان سے ان کو بچایا۔ پھر ابوذر رضی اللہ عنہ دوسرے دن مسجد الحرام میں آئے اور اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ قوم پھر بری طرح ان پر ٹوٹ پڑی اور مارنے لگی اس دن بھی عباس رضی اللہ عنہ ان پر اوندھے پڑ گئے۔
Sahih Muslim
6362
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ - وَتَقَارَبَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَاتِمٍ - قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ قَالَ لِأَخِيهِ: ارْكَبْ إِلَى هَذَا الْوَادِي، فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ، فَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ ائْتِنِي، فَانْطَلَقَ الْآخَرُ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ فَقَالَ: رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ [ص:1924]، وَكَلَامًا مَا هُوَ بِالشِّعْرِ، فَقَالَ: مَا شَفَيْتَنِي فِيمَا أَرَدْتُ فَتَزَوَّدَ وَحَمَلَ شَنَّةً لَهُ، فِيهَا مَاءٌ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَالْتَمَسَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَعْرِفُهُ، وَكَرِهَ أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ، حَتَّى أَدْرَكَهُ - يَعْنِي اللَّيْلَ - فَاضْطَجَعَ، فَرَآهُ عَلِيٌّ فَعَرَفَ أَنَّهُ غَرِيبٌ، فَلَمَّا رَآهُ تَبِعَهُ، فَلَمْ يَسْأَلْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ، حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ احْتَمَلَ قِرْبَتَهُ وَزَادَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَظَلَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَلَا يَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَمْسَى، فَعَادَ إِلَى مَضْجَعِهِ، فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ، فَقَالَ: مَا آنَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَهُ؟ فَأَقَامَهُ، فَذَهَبَ بِهِ مَعَهُ، وَلَا يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَقَامَهُ عَلِيٌّ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: أَلَا تُحَدِّثُنِي؟ مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ هَذَا الْبَلَدَ؟ قَالَ: إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيثَاقًا لَتُرْشِدَنِّي، فَعَلْتُ، فَفَعَلَ. فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: فَإِنَّهُ حَقٌّ وَهُوَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَاتَّبِعْنِي، فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ عَلَيْكَ، قُمْتُ كَأَنِّي أُرِيقُ الْمَاءَ، فَإِنْ مَضَيْتُ فَاتَّبِعْنِي حَتَّى تَدْخُلَ مَدْخَلِي، فَفَعَلَ، فَانْطَلَقَ يَقْفُوهُ، حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلَ مَعَهُ، فَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ، وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ فَأَخْبِرْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي» فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَثَارَ الْقَوْمُ فَضَرَبُوهُ حَتَّى أَضْجَعُوهُ، فَأَتَى الْعَبَّاسُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: وَيْلَكُمْ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مِنْ غِفَارٍ، وَأَنَّ طَرِيقَ تُجَّارِكُمْ إِلَى الشَّامِ عَلَيْهِمْ، فَأَنْقَذَهُ مِنْهُمْ، ثُمَّ عَادَ مِنَ الْغَدِ بِمِثْلِهَا، وَثَارُوا إِلَيْهِ فَضَرَبُوهُ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ الْعَبَّاسُ فَأَنْقَذَهُ
Ibn `Abbas reported that when Abu Dharr heard of the advent of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in Mecca he said: Brother, ride in this valley and bring information for me about the person who claims that there comes to him information from the Heavens. Listen to his words and then come to me. So he rode on until he came to Mecca and he heard his words (the sacred words of the Holy Prophet) and then came back to Abu Dharr and said: I have seen him exhorting (people) to develop good morals and his expressions can in no way be termed as poetry. He (Abu Dharr) said: I have not been satisfied with it regarding that which I had in my mind (as I sent you). So he took up provisions for the journey and a small water-skin containing water (and set forth) until he came to Mecca. He came to the mosque (Ka`bah) and began to look for Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he did not recognize him (the Holy Prophet) and he did not even like that he should ask about him from anyone until it was night, and he slept. `Ali saw him and found him to be a stranger. So he went with him. He followed him but one did not make any inquiry from the other about anything until it was morning. He then brought the water and his provisions to the mosque and spent a day there, but he did not see Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) until it was night. He then returned to his bed, and there happened to pass `Ali and he said: This man has not been able to find his destination until this time. He made him stand and he went with him and no one made an inquiry from his companion about anything. And when it was the third day he did the same. `Ali made him stand up and brought him along with him. He said: By Him, besides Whom there is no god, why don't you tell me (the reason) which brought you here to this town? He said: (I shall do this) provided you hold me promise and a covenant that you would guide me aright. He then did that. He (`Ali) said: Verily, he is truthful and he is a Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and when it is morning, follow me and if I would say anything from which I would sense fear about you I would stand (in a manner) as if I was throwing water and if I move on, you then follow me until I get in (some house). He did that and I followed him until he came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He entered (the house) of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) along with him and listened to his words and embraced Islam at this very place. Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: Go to your people and inform them until my command reaches you. Thereupon he said: By Him in Whose Hand is my life, I shall say to the people of Mecca this thing at the top of my voice. So he set forth until he came to the mosque and then spoke at the top of his voice (saying): I bear testimony to the fact that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. The people attacked him and made him fall down when al-`Abbas came and he leaned over him and said: Woe be upon you, don't you know that he is from amongst the tribe of Ghifar and your trading route to Syria passes through (the settlements of this tribe), and he rescued him. He (Abu Dharr) did the same on the next day and they (the Meccans) again attacked him and al-`Abbas leaned upon him and he rescued him.
ابو جمرہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ جب سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ میں مبعوث ہونے کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ سوار ہو کر اس وادی کو جا اور اس شخص کو دیکھ کر آ جو کہتا ہے مجھے آسمان سے خبر آتی ہے ، ان کی بات سن پھر میرے پاس آ ۔ وہ روانہ ہوا ، یہاں تک کہ مکہ میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنا ، پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ کر گیا اور بولا کہ میں نے اس شخص کو دیکھا ، وہ اچھی خصلتوں کا حکم کرتا ہے اور ایک کلام سناتا ہے جو شعر نہیں ہے ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اس سے تسلی نہیں ہوئی ۔ پھر انہوں نے خود زادراہ لیا اور پانی کی ایک مشک لی یہاں تک کہ مکہ میں آئے اور مسجدالحرام میں داخل ہوئے ۔ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہ تھے اور انہوں نے پوچھنا بھی مناسب نہ جانا ، یہاں تک کہ رات ہو گئی اور وہ لیٹ رہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا اور پہچانا کہ کوئی مسافر ہے پھر ان کے پیچھے گئے لیکن کسی نے دوسرے سے بات نہیں کی یہاں تک کہ صبح ہو گئی ۔ پھر وہ اپنا توشہ اور مشک مسجد میں اٹھا لائے اور سارا دن وہاں رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شام تک نہ دیکھا ۔ پھر وہ اپنے سونے کی جگہ میں چلے گئے ۔ وہاں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ گزرے اور کہا کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اس شخص کو اپنا ٹھکانہ معلوم ہو ۔ پھر ان کو کھڑا کیا اور ان کو ساتھ لے گئے لیکن کسی نے دوسرے سے بات نہ کی ۔ پھر تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا ۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے ساتھ کھڑا کیا ، پھر کہا کہ تم مجھ سے وہ بات کیوں نہیں کہتے جس کے لئے تم اس شہر میں آئے ہو؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے عہد اور وعدہ کرتے ہو کہ راہ بتلاؤ گے تو میں بتاتا ہوں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا تو انہوں نے بتایا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ شخص سچے ہیں اور وہ بیشک اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تم صبح کو میرے ساتھ چلنا ، اگر میں کوئی خوف کی بات دیکھوں گا جس میں تمہاری جان کا ڈر ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا جیسے کوئی پانی بہاتا ہے ( یعنی پیشاب کا بہانہ کروں گا ) اور اگر چلا جاؤں تو تم بھی میرے پیچھے پیچھے چلے آنا ۔ جہاں میں گھسوں وہاں تم بھی گھس آنا ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا اور ان کے پیچھے پیچھے چلے یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ پہنچے ۔ پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور اسی جگہ مسلمان ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی قوم کے پاس جا اور ان کو دین کی خبر کر یہاں تک کہ میرا حکم تجھے پہنچے ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں تو یہ بات ( یعنی دین قبول کرنے کی ) مکہ والوں کو پکار کر سنا دوں گا ۔ پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نکل کر مسجد میں آئے اور چلا کر بولے کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں“ ۔ لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور ان کو مارتے مارتے لٹا دیا ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ پر جھکے اور لوگوں سے کہا کہ تمہای خرابی ہو ، تم نہیں جانتے کہ یہ شخص ( قوم ) غفار کا ہے اور تمہارا سوداگری کا راستہ شام کی طرف ( قوم ) غفار کے ملک پر سے ہے ( تو وہ تمہاری تجارت بند کر دیں گے ) ۔ پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں سے چھڑا لیا ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے دوسرے دن پھر ویسا ہی کیا اور لوگ دوڑے اور مارا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے اور انہیں چھڑا لیا ۔
Jam e Tirmazi
3421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا إِنَّهُ لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏آمَنْتُ بِكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَكَعَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرَضِينَ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا سَجَدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ فَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَكُونُ آخِرَ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالسَّلَامِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Ali bin Abi Talib narrated that whenever the Messenger of Allah would stand for Salat, he would say: “I have directed my face towards the One who created the Heavens and the earth, as a Hanif, and I am not of the idolaters. Indeed, my Salat, my sacrifice, my living, and my dying is for Allah, the Lord of all that exists, there is no partner for Him, and with this have I been ordered, and I am among the Muslims. O Allah, You are the King, there is none worthy of worship except You. You are My Lord, and I am Your slave, I have wronged myself, and I admit to my sin, so forgive me all my sins, verily, there is none who forgives sins but You. And guide me to the best of the manners, none guides to the best of them except You, and turn the evil of them away from me, [verily,] none can turn the evil of them away from me except You. I have believed in You. Blessed are You and Exalted are You, I seek Your forgiveness and I repent to you (Wajjahtu wajhiya lilladhī faṭaras-samāwāti wal-arḍa ḥanīfan wa mā ana min al-mushrikīn, inna ṣalātī wa nusukī wa maḥyāya wa mamātī lillāhi rabbil-`ālamīn, lā sharīka lahū wa bidhālika umirtu wa ana min al-muslimīn. Allāhumma antal-maliku lā ilāha illā ant, anta rabbī, wa ana `abduka ẓalamtu nafsī wa`taraftu bidhanbī faghfirlī dhunūbī jamī`an, innahū lā yaghfir adh-dhunūba illā ant. Wahdinī li-aḥsanil-akhlāqi lā yahdī li-aḥsanihā illā ant. Waṣrif `annī sayyi’ahā [innahū] lā yaṣrifu `annī sayyi’aha illā ant. Āmantu bika tabārakta wa ta`ālaita astaghfiruka wa atūbu ilaik).” And when he would bow in Ruku`, he would say: “O Allah, to You I have bowed, and in You I believe, and to You have I submitted. My hearing, my sight, my brain, my bones and my sinew are humbled to you (Allāhumma laka raka`tu wa bika āmantu wa laka aslamtu. Khasha`a laka sam`ī wa baṣarī wa mukhkhī wa `iẓāmī, wa `aṣabī)” Then when he would raise his head, he would say: “O Allah, our Lord, to You is praise the fill of the Heavens and the earths and the fill of whatever You will of things. (Allāhumma rabbanā lakal-ḥamdu mil’as-samāwāti wal-arḍīna wa mā bainahumā, wa mil’a mā shi’ta min shay’in ba`d).” Then, when he prostrated, he would say: “O Allah, to You have I prostrated, and in You have I believed, and to You have I submitted, my face has prostrated to the One Who created it and fashioned it, and gave it its hearing and its sight. So Blessed is Allah, the Best of creators (Allāhumma laka sajadtu wa bika āmantu wa laka aslamtu, sajada wajhi lilladhī khalaqahū fa ṣuwwarahū wa shaqqa sam`ahū wa baṣarahū fatabārak Allāhu ahsanul-khāliqīn).” Then the last of what he would say between At-Tashah-hud and As-Salam would be: “O Allah, forgive me what I have done before and after, and what I have hidden and what I have done openly, and what You know more of it than I, You are the One who sends forth and the One who delays, there is none worthy of worship except You. (Allāhummaghfirlī mā qaddamtu wa mā akhkhartu wa mā asrartu wa mā a`lantu wa mā anta a`lamu bihī minnī antal-Muqaddimu wa antal-Mu’akhkhiru, lā ilāha illā ant).”
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں کھڑے ہوتے تو پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها إنه لا يصرف عني سيئها إلا أنت آمنت بك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك»،‏‏‏‏ پھر جب آپ رکوع کرتے تو پڑھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت خشع لك سمعي وبصري ومخي وعظامي وعصبي» پھر آپ جب سر اٹھاتے تو کہتے: «اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات والأرضين وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء بعد»،‏‏‏‏ پھر جب آپ سجدہ فرماتے تو کہتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت سجد وجهي للذي خلقه فصوره وشق سمعه وبصره فتبارك الله أحسن الخالقين» پھر آپ سب سے آخر میں تشہد اور سلام کے درمیان جو دعا پڑھتے تھے، وہ دعا یہ تھی: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3422
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَيُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَمِّي، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ يُوسُفُ أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَعْرَجُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، ‏‏‏‏‏‏لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَكَعَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَعِظَامِي وَعَصَبِي ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَفَعَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا سَجَدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ فَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Ali bin Abi Talib narrated that whenever the Messenger of Allah would stand for Salat, he would say: “I have directed my face towards the One who has created the heavens and the earth, as a Hanif, and I am not of the idolaters. Indeed, my Salat, my sacrifice, my living, my dying, is for Allah, the Lord of all that exists, without partner, and with this have I been ordered and I am of the Muslims. O Allah, You are the King, there is none worthy of worship except You. You are My Lord, and I am Your slave, I have wronged myself and I admit to my sin, so forgive me all my sins, verily, there is none who forgives sins but You, and guide me to the best of manners, none guides to the best of them except You, and turn away from me the evil of them, none can turn away from me the evil of them except You. Here I am in obedience to You, and in aiding Your cause, and the good, all of it is in Your Hands, and the evil is not attributed to You, I am reliant upon You and ever-turning towards You, Blessed are You and Exalted are You. I seek Your forgiveness and I repent to you (Wajjahtu wajhiya lilladhī faṭaras-samāwāti wal-arḍa ḥanīfan wa mā ana min al-mushrikīn, inna ṣalātī wa nusukī wa maḥyāya wa mamātī lillāhi rabbil-`ālamīn, lā sharīka lahū wa bidhālika umirtu wa ana min al-muslimīn. Allāhumma antal-maliku lā ilāha illā ant, anta rabbī, wa ana `abduka ẓalamtu nafsī wa`taraftu bidhanbī faghfirlī dhunūbī jamī`an, innahū lā yaghfir adh-dhunūba illā ant. Wahdinī li-aḥsanil-akhlāqi lā yahdī li-aḥsanihā illā ant. Waṣrif `annī sayyi’ahā lā yaṣrifu `annī sayyi’aha illā ant. Labaika wa sa`daika wal-khairu kulluhū fī yadaika, wash-sharru laisa ilaik, tabārakta wa ta`ālaita astaghfiruka wa atūbu ilaik).” And when he would bow in Ruku he would say: “O Allah, to You have I bowed, and in You have I believed, and to You have I submitted. My hearing, my sight, my bones, and my sinew are humbled to you (Allāhumma laka raka`tu wa bika āmantu wa laka aslamtu. Khasha`a laka sam`ī wa baṣarī wa `iẓāmī, wa `aṣabī).” And when he would rise he would say: “O Allah, our Lord, to You is praise filling the heaven and filling the earth, and filling what is between them, and filling whatever You have wished of things afterward (Allāhumma rabbanā lakal-ḥamdu mil’as-samāwāti wa mil’al-arḍ wa mil’a mā bainahumā, wa mil’a mā shi’ta min shay’in ba`d).” Then, when he prostrated, he would say: “O Allah, to You have I prostrated, and in You have I believed, and to You have I submitted (in Islam), my face has prostrated to the One Who created it, and fashioned it, and gave it its hearing and sight, [so] Blessed is Allah, the Best of Creators (Allāhumma laka sajadtu wa bika āmantu wa laka aslamtu, sajada wajhi lilladhī khalaqahū fa ṣuwwarahū wa shaqqa sam`ahū wa baṣarahū fatabārak Allāhu ahsanul-khāliqīn).” Then the last of what he would say between At-Tashahud and At-Taslim was: “O Allah, forgive me what I have done, before and after, and what I have hidden, and what I have done openly, and what I have transgressed the limit in, and what You know about more than me, You are the One Who sends forth and the One Who delays, there is none worthy of worship except You (Allāhummaghfirlī mā qaddamtu wa mā akhkhartu wa mā asrartu wa mā a`lantu wa mā asraftu wa mā anta a`lamu bihī minnī antal-Muqaddimu wa antal-Mu’akhkhiru, lā ilāha illā ant).”
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ( تکبیر تحریمہ کے بعد ) کہتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك»،‏‏‏‏ پھر جب آپ رکوع کرتے تو پڑھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت خشع لك سمعي وبصري وعظامي وعصبي»،‏‏‏‏ پھر جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو آپ کہتے: «اللهم ربنا لك الحمد ملء السماء وملء الأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء»،‏‏‏‏ پھر جب سجدہ میں جاتے تو کہتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت سجد وجهي للذي خلقه فصوره وشق سمعه وبصره فتبارك الله أحسن الخالقين»،‏‏‏‏ پھر آپ سب سے آخر میں تشہد اور سلام کے درمیان پڑھتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3423
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:‏‏‏‏ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَصْنَعُ ذَلِكَ أَيْضًا إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَصْنَعُهَا إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَامَ مِنْ سَجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ فَكَبَّرَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بَعْدَ التَّكْبِيرِ:‏‏‏‏ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، ‏‏‏‏‏‏لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏سُبْحَانَكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ‏‏‏‏‏‏ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا مَنْجَا وَلَا مَلْجَأَ إِلَّا إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقْرَأُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَكَعَ كَانَ كَلَامُهُ فِي رُكُوعِهِ أَنْ يَقُولَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُتْبِعُهَا اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا سَجَدَ قَالَ فِي سُجُودِهِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ الشَّافِعِيِّ وَبَعْضُ أَصْحَابِنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ لَا يَرَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ يَقُولُ:‏‏‏‏ هَذَا فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَلَا يَقُولُهُ فِي الْمَكْتُوبَةِ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْت أَبَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي التِّرْمِذِيَّ، ‏‏‏‏‏‏مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل بْنِ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ الْهَاشِمِيَّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا عِنْدَنَا مِثْلُ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ.
Ali bin Abi Talib narrated that : when the Messenger of Allah would stand for the obligatory prayer, he would raise his hands to the level of his shoulder, and he would do this [also] when he finished his recitation and intended to bow, and he would do it when he raised his head from Ruku`, and he would not raise his hands in any of his prayers while he was seated. When he would rise from the two prostrations, he would likewise raise his hands, and say the Takbir, and when he opened his Salat after the Takbir, he would say: “I have directed my face towards the One who has created the heavens and the earth, as a Hanif, and I am not of the idolaters. Indeed, my Salat, my sacrifice, my living, my dying, is for Allah, the Lord of all that exists, without partner, and with this have I been ordered and I am of the Muslims. O Allah, You are the King, there is none worthy of worship except You. Glorified are You, You are My Lord, and I am Your slave, I have wronged myself and I admit to my sin, so forgive me all my sins, verily, there is none who forgives sins but You, and guide me to the best of manners, none guides to the best of them except You, and turn away from me the evil of them, none turns away from me the evil of them except You, I am here in Your obedience and aiding Your cause, and I am reliant upon You and ever-turning towards You, [and] there is no refuge from You nor hiding place from You except (going) to You, I seek Your forgiveness, and I repent to you (Wajjahtu wajhiya lilladhī faṭaras-samāwāti wal-arḍa ḥanīfan wa mā ana min al-mushrikīn, inna ṣalātī wa nusukī wa maḥyāya wa mamātī lillāhi rabbil-`ālamīn, lā sharīka lahū wa bidhālika umirtu wa ana min al-muslimīn. Allāhumma antal-maliku lā ilāha illā ant, subḥānaka anta rabbī, wa ana `abduka ẓalamtu nafsī wa`taraftu bidhanbī faghfirlī dhunūbī jamī`an, innahū lā yaghfir adh-dhunūba illā ant. Wahdinī li-aḥsanil-akhlāqi lā yahdī li-aḥsanihā illā ant. Waṣrif `annī sayyi’ahā lā yaṣrifu `annī sayyi’aha illā ant. Labaika wa sa`daika, wa ana bika wa ilaika, [wa] lā manjā minka wa lā malja’a illā ilaik, astaghfiruka wa atūbu ilaik).” Then he would recite, then when he would bow, his speech in his Ruku`, would be to say: “O Allah, to You have I bowed, and in You have I believed, and to You have I submitted (in Islam), and You are my Lord. My hearing, my sight, my brain and my bones are humbled to Allah, the Lord of the Worlds all that exists (Allāhumma laka raka`tu wa bika āmantu wa laka aslamtu wa anta rabb ī. Khasha`a sam`ī wa baṣarī wa mukhkhī wa `aẓmī lillāhi, rabbil-`ālamīn).” Then, when he raised his head from Ruku he would say: “Allah hears the one who praises him (Sami`a Allāhu liman ḥamidah).” Then he would follow it with: “O Allah, our Lord, to You is praise filling the heavens and the earth and filling whatever You wish of things afterward (Allāhumma rabbanā wa lakal-ḥamdu mil’as-samāwāti wal-arḍi, wa mil’a mā shi’ta min shay’in ba`d.).” Then, when prostrated he would say in his prostration: “O Allah, to You have I prostrated, and in You have I believed, and to You have I submitted (in Islam), and You are my Lord, my face has prostrated to the One that created it, and granted its hearing and sight, Blessed is Allah, the Best of Creators (Allāhumma laka sajadtu wa bika āmantu wa laka aslamtu wa anta rabbī, sajada wajhi lilladhī khalaqahū wa shaqqa sam`ahū wa baṣarahū, tabārak Allāhu ahsanul-khāliqīn).” When he was finished with his Salat, we would say: “O Allah, forgive me what I have done, before and after, and what I have hidden, and what I have done openly, and You are my Deity, there is none worthy of worship except You (Allāhummaghfirlī mā qaddamtu wa mā akhkhartu wa mā asrartu wa mā a`lantu, wa anta ilāhī lā ilāha illā ant).”
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے برابر اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) ، اور ایسا اس وقت بھی کرتے تھے جب اپنی قرأت پوری کر لیتے تھے اور رکوع کا ارادہ کرتے تھے، اور ایسا ہی کرتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے ۱؎، بیٹھے ہونے کی حالت میں اپنی نماز کے کسی حصے میں بھی رفع یدین نہ کرتے تھے، پھر جب دونوں سجدے کر کے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اسی طرح، پھر تکبیر ( اللہ اکبر ) کہتے اور نماز شروع کرتے وقت تکبیر ( تحریمہ ) کے بعد پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت سبحانك أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك أنا بك وإليك ولا منجا ولا ملجأ إلا إليك أستغفرك وأتوب إليك» ( یہ دعا پڑھنے کے بعد ) پھر قرأت کرتے، رکوع میں جاتے، رکوع میں آپ یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وأنت ربي خشع سمعي وبصري ومخي وعظمي لله رب العالمين» پھر جب آپ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو کہتے: «سمع الله لمن حمده»،‏‏‏‏ «سمع الله لمن حمده» کہنے کے فوراً بعد آپ پڑھتے: «اللهم ربنا ولك الحمد ملء السموات والأرض وملء ما شئت من شيء» اس کے بعد جب سجدہ کرتے تو سجدوں میں پڑھتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت وأنت ربي سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره تبارك الله أحسن الخالقين» ۔ اور جب نماز سے سلام پھیرنے چلتے تو ( سلام پھیرنے سے پہلے ) پڑھتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسی پر عمل ہے امام شافعی اور ہمارے بعض اصحاب کا، ۳- امام احمد بن حنبل ایسا خیال نہیں رکھتے، ۴- اہل کوفہ اور ان کے علاوہ کے بعض علماء کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نفلی نمازوں میں پڑھتے تھے نہ کہ فرض نمازوں میں ۲؎ ۳- میں نے ابواسماعیل ترمذی محمد بن اسماعیل بن یوسف کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے سلیمان بن داود ہاشمی کو کہتے ہوئے سنا، انہوں نے ذکر کیا اسی حدیث کا پھر کہا: یہ حدیث میرے نزدیک ایسے ہی مستند اور قوی ہے، جیسے زہری کی وہ حدیث قوی و مستند ہوتی ہے جسے وہ سالم بن عبداللہ سے اور سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
3591
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ،‏‏‏‏ وَأَبُو أُسَامَةَ،‏‏‏‏ عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ،‏‏‏‏ وَالْأَعْمَالِ،‏‏‏‏ وَالْأَهْوَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمُّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ هُوَ قُطْبَةُ بْنُ مَالِكٍ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Ziyad bin `Ilaqah narrated from his uncle, that he said: “[The Prophet (ﷺ)] used to say: ‘O Allah, I seek refuge in You from evil character, evil actions, and evil desires (Allāhumma innī a`ūdhu bika min munkarātil-akhlāqi wal-a`māli wal-ahwā’).’”
زیاد بن علاقہ کے چچا قطبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من منكرات الأخلاق والأعمال والأهواء» ”اے اللہ! میں تجھ سے بری عادتوں، برے کاموں اور بری خواہشوں سے پناہ مانگتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۲- اور زیاد بن علاقہ کے چچا کا نام قطبہ بن مالک ہے اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں۔
Mishkat
813
وَعَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَفِي رِوَايَةً: كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أَمَرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» وَإِذَا رَكَعَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وبصري ومخي وعظمي وعصبي» فَإِذا رفع قَالَ: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وملء الأَرْض وملء مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصُوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ لِلشَّافِعِيِّ: «وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْك لَا مَنْجَى مِنْكَ وَلَا مَلْجَأَ إِلَّا إِلَيْكَ تَبَارَكْتَ»
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ نماز کا ارادہ فرماتے ، اور ایک روایت میں ہے : جب آپ ﷺ نماز شروع کیا کرتے تو تکبیر کہہ کر یہ دعا پڑھا کرتے :’’ میں نے یکسو ہو کر اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے زمین و آسمان کو عدم سے تخلیق فرمایا ، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ، بے شک میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا دونوں جہاں کے رب ، اللہ کے لیے ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں (اطاعت گزاروں) میں سے ہوں ، اے اللہ ! تو مالک ہے ، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں ، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ، میں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا ، پس تو میرے سارے گناہ معاف کر دے ، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہ بخش نہیں سکتا ، بہترین اخلاق کی طرف میری راہنمائی فرما ، اچھے اخلاق کی طرف صرف تو ہی راہنمائی کر سکتا ہے ، برے اخلاق مجھ سے دور کر دے ، کیونکہ صرف تو ہی برے اخلاق مجھ سے دور کر سکتا ہے ، میں تیری عبادت پر قائم ہوں اور یہ میرے لیے باعث سعادت ہے ، تمام خیرو بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے ، جبکہ برائی تیری طرف منسوب نہیں کی جا سکتی ، میں تیرے حکم و توفیق سے ہوں اور لوٹ کر تیری ہی طرف آنا ہے ، تو برکت والا بلند شان والا ہے ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اور جب آپ ﷺ رکوع کرتے تو یہ دعا پڑھتے :’’ اے اللہ ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا ، تجھ پر ایمان لایا ، تیری اطاعت اختیار کی ، میرے کان ، میری آنکھیں ، میرا دماغ ، میری ہڈیوں اور میرے اعصاب نے تیرے لیے ہی تواضع اختیار کی ۔‘‘ جب آپ ﷺ (رکوع سے) سر اٹھاتے تو یہ دعا پڑھتے :’’ اے اللہ ! ہمارے رب ! ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے جس سے آسمان و زمین اور جو اس کے درمیان ہے بھر جائے ، اور اس کے بعد اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو تو چاہے ۔‘‘ اور جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو یہ دعا کرتے :’’ اے اللہ ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا ، تجھ پر ایمان لایا ، تیری اطاعت اختیار کی ، میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اسے پیدا فرمایا ، اس کی تصویر و صورت بنائی ، اس کو سمع و بصر سے نوازا ، برکت والا اللہ بہترین تخلیق کرنے والا ہے ۔‘‘ پھر آخر پر تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان یہ دعا کرتے :’’ اے اللہ ! تو میرے اگلے پچھلے ، پوشیدہ اور ظاہر گناہ اور جو میں نے زیادتی کی اور وہ گناہ جن کے متعلق تو مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے ، سب معاف فرما ، تو ہی ترقی دینے والا اور تو ہی تنزلی کی جانب لے جانے والا ہے ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اور شافعی ؒ کی روایت میں ہے :’’ اور برائی تیری طرف منسوب نہیں کی جا سکتی ، ہدایت والا وہ ہے جسے تو ہدایت عطا فرمائے ، میں تیری توفیق سے ہوں اور میرا لوٹنا بھی تیری ہی طرف ہے ، نجات و پناہ صرف تجھ سے مل سکتی ہے ، تو برکت والا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Mishkat
820
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أَمَرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسلمين اللَّهُمَّ اهدني لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَقِنِي سَيِّئَ الْأَعْمَالِ وَسَيِّئَ الْأَخْلَاقِ لَا يَقِي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ نماز شروع کرتے تو تکبیر کہہ کر یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ بے شک میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ، دونوں جہانوں کے رب کے لیے ہے ، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا اطاعت گزار ہوں ، اے اللہ ! بہترین اعمال و اخلاق کی طرف میری راہنمائی فرما ، ان بہترین اعمال و اخلاق کی طرف صرف تو ہی راہنمائی کر سکتا ہے ، برے اعمال اور برے اخلاق سے مجھے بچا ، ان برے اعمال و اخلاق سے صرف تو ہی بچا سکتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Mishkat
2468
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوءِ الْأَخْلَاقِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں تنازع و اختلاف ، نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔