TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4940 - (1) CHAPTER. - The book of commentary. - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
(1) CHAPTER.
سورۃ ( ( اذا السماء انشقت ) ) کی تفسیر
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ النَّضْرِ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ سورة الانشقاق آية 19 ، حَالًا بَعْدَ حَالٍ ، قَالَ : هَذَا نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Ibn `Abbas: (as regards the Verse):--'You shall surely travel from stage to stage (in this life and in the Hereafter).' (It means) from one state to another. That concerns your Prophet.
ہم سے سعید بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشیم نے خبر دی، کہا مجھ کو ابوبشر جعفر بن ایاس نے خبر دی، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «لتركبن طبقا عن طبق‏» یعنی ”تم کو ضرور ایک حالت کے بعد دوسرے حالت پر پہنچنا ہے۔“ بیان کیا کہ یہاں مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ آپ کو کامیابی رفتہ رفتہ حاصل ہو گی۔
4940
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

952
1
باب: سورۃ «إذا السماء انشقت» سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
2
(7) CHAPTER. Prostration while reciting Idhas-Sama-un-Shaqqat.
سورۃ اذا السماء انشقت میں سجدہ کرنا
Sahih Bukhari
3
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: So whosoever does good equal to the weight of an atom (or a small ant), shall see it. (V.99:7)
سورۃ اذا زلزلت کی تفسیر
Sahih Bukhari
4
اذا السماء انشقت» میں سجدہ کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
باب: سورۃ اذا زلزلت کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
باب: سورۃ فاتحہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
7
باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
8
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
9
باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
10
باب: سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
11
باب: سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
12
باب: سورۃ الاعراف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
13
باب: سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر​
Jam e Tirmazi
14
باب: سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
15
باب: سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
16
باب: سورۃ ہود سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
17
باب: سورۃ یوسف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
18
باب: سورۃ الرعد سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
19
باب: سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
20
باب: سورۃ الحجر سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
21
باب: سورۃ النحل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
22
باب: سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
23
باب: سورۃ الکہف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
24
باب: سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
25
باب: سورۃ طہٰ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
26
باب: سورۃ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
27
باب: سورۃ الحج سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
28
باب: سورۃ المومنون سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
29
باب: سورۃ النور سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
30
باب: سورۃ الفرقان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
31
باب: سورۃ الشعراء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
32
باب: سورۃ النمل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
33
باب: سورۃ قص سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
34
باب: سورۃ العنکبوت کی بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
35
باب: سورۃ الروم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
36
باب: سورۃ لقمان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
37
باب: سورۃ السجدہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
38
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
39
باب: سورۃ سبا سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
40
باب: سورۃ فاطر (ملائکہ) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
41
باب: سورۃ یس سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
42
باب: سورۃ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
43
باب: سورۃ ص سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
44
باب: سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
45
باب: سورۃ مومن سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
46
باب: سورۃ حم سجدہ (سورۃ فصلت) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
47
باب: سورۃ حم عسق (سورۃ شوریٰ) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
48
باب: سورۃ الزخرف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
49
باب: سورۃ الدخان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
50
باب: سورۃ الاحقاف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

15
Jam e Tirmazi
2180
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَرَجَ إِلَى خُيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏مَرَّ بِشَجَرَةٍ لِلْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهَا:‏‏‏‏ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، ‏‏‏‏‏‏يُعَلِّقُونَ عَلَيْهَا أَسْلِحَتَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏هَذَا كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى:‏‏‏‏ اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ سورة الأعراف آية 138، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرْكَبُنَّ سُنَّةَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ الْحَارِثُ بْنُ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
Abu Waqid Al-Laithi narrated that when the Messenger of Allah (s.a.w) went out to Hunain he passed a tree that the idolaters called Dhat Anwat upon which they hung their weapons. They(the Companions) said: O Messenger of Allah! Make a Dhat Anwat for us as they have a Dhat Anwat.' The Prophet (s.a.w) said: Subhan Allah! This is like what Musa's people said: Make for us a god like their gods. By the One in Whose is my soul! You shall follow the way of those who were before you.
ابوواقد لیثی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کے لیے نکلے تو آپ کا گزر مشرکین کے ایک درخت کے پاس سے ہوا جسے ذات انواط کہا جاتا تھا، اس درخت پر مشرکین اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے ۱؎، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیجئیے جیسا کہ مشرکین کا ایک ذات انواط ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! یہ تو وہی بات ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ ہمارے لیے بھی معبود بنا دیجئیے جیسا ان مشرکوں کے لیے ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم گزشتہ امتوں کی پوری پوری پیروی کرو گے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوواقد لیثی کا نام حارث بن عوف ہے، ۳- اس باب میں ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sahih Bukhari
103
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَا تَسْمَعُ شَيْئًا لَا تَعْرِفُهُ إِلَّا رَاجَعَتْ فِيهِ حَتَّى تَعْرِفَهُ ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ أَوَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8 ، قَالَتْ ، فَقَالَ : إِنَّمَا ذَلِكِ الْعَرْضُ ، وَلَكِنْ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَهْلِكْ .
Narrated Ibn Abu Mulaika: Whenever `Aisha (the wife of the Prophet) heard anything which she did not understand, she used to ask again till she understood it completely. Aisha said: Once the Prophet said, Whoever will be called to account (about his deeds on the Day of Resurrection) will surely be punished. I said, Doesn't Allah say: He surely will receive an easy reckoning. (84.8) The Prophet replied, This means only the presentation of the accounts but whoever will be argued about his account, will certainly be ruined.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہیں نافع بن عمر نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا جب کوئی ایسی باتیں سنتیں جس کو سمجھ نہ پاتیں تو دوبارہ اس کو معلوم کرتیں تاکہ سمجھ لیں۔ چنانچہ ( ایک مرتبہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے حساب لیا گیا اسے عذاب کیا جائے گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ( یہ سن کر ) میں نے کہا کہ کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صرف ( اللہ کے دربار میں ) پیشی کا ذکر ہے۔ لیکن جس کے حساب میں جانچ پڑتال کی گئی ( سمجھو ) وہ غارت ہو گیا۔
Jam e Tirmazi
2426
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ:‏‏‏‏ فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ‏‏‏‏ 7 ‏‏‏‏ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ‏‏‏‏ 8 ‏‏‏‏ سورة الانشقاق آية 7-8 قَالَ:‏‏‏‏ ذَلِكَ الْعَرْضُ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ أَيُّوبُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ.
Ibn 'Abi Mulaikah narrated that 'Aishah said: I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: 'Whoever his account is questioned about , he shall be ruined.' I said: 'O Messenger of Allah! Indeed Allah [Most High] has said: Then as for him who shall be given his Record in his right hand. He surely will receive an easy reckoning.' Then he said: 'That is the presentation.'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس سے حساب و کتاب میں سختی سے پوچھ تاچھ ہو گئی وہ ہلاک ہو جائے گا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «فأما من أوتي كتابه بيمينه فسوف يحاسب حسابا يسيرا» : ”جس شخص کو نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا“ ( الانشقاق: ۷ ) ۔ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد صرف اعمال کی پیشی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح حسن ہے، ۲- ایوب نے بھی ابن ابی ملیکہ سے اس حدیث کی روایت کی ہے۔
Jam e Tirmazi
3337
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ:‏‏‏‏ فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ إِلَى قَوْلِهِ يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 7 ـ 8 قَالَ:‏‏‏‏ ذَلِكِ الْعَرْضُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ.
Aishah said: “I heard that the Messenger of Allah saying: ‘Whoever is interrogated during the reckoning, then he will ruined.’ I said: ‘O Messenger of Allah! Allah, Blessed is He and Most High, said: ‘As for him who will be given his record in his right hand…” up to His saying: ‘…an easy reckoning.’ He said: ‘That is (only) the presentation.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس سے حساب کی جانچ پڑتال کر لی گئی وہ ہلاک ( برباد ) ہو گیا“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تو فرماتا ہے «فأما من أوتي كتابه بيمينه» سے «يسيرا» ”جس کو کتاب دائیں ہاتھ میں ملی اس کا حساب آسانی سے ہو گا“ ( الانشقاق: ۷-۸ ) ، تک آپ نے فرمایا: ”وہ حساب و کتاب نہیں ہے، وہ تو صرف نیکیوں کو پیش کر دینا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم سے بیان کیا سوید بن نصر نے وہ کہتے ہیں: ہمیں خبر دی عبداللہ بن مبارک نے، اور وہ روایت کرتے ہیں عثمان بن اسود سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح، ۳- ہم سے بیان کیا محمد بن ابان اور کچھ دیگر لوگوں نے انہوں نے کہا کہ ہم سے بیان کیا عبدالوہاب ثقفی نے اور انہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابن ابوملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے عائشہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔
Mishkat
5408
عَن أبي واقدٍ اللَّيْثِيّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَرَجَ إِلَى غَزْوَةِ حُنَيْنٍ مَرَّ بِشَجَرَةٍ لِلْمُشْرِكِينَ كَانُوا يُعَلِّقُونَ عَلَيْهَا أَسْلِحَتَهُمْ يُقَالُ لَهَا: ذَاتُ أَنْوَاطٍ. فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ هَذَا كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى (اجْعَل لنا إِلَهًا كَمَا لَهُم آلهةٌ) وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قبلكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابو واقد لیشی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوۂ حنین کے لیے روانہ ہوئے تو آپ ﷺ مشرکین کے ایک درخت کے پاس سے گزرے ، جس پر وہ اپنا اسلحہ لٹکایا کرتے تھے ، اسے ذات انواط کہا جاتا تھا ، صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہمارے لیے بھی ذات انواط مقرر فرما دیں جس طرح ان کے لیے ذات انواط ہے ، رسول اللہ ﷺ نے (تعجب سے) فرمایا :’’ سبحان اللہ ! یہ (بات) تو ایسے ہی ہے جیسے موسیٰ ؑ کی قوم نے کہا تھا :’’ ہمارے لیے بھی ایک معبود مقرر کر دیں جس طرح ان کے معبود ہیں ۔‘‘ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم بھی اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلو گے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Musnad Ahmad
8822
۔ (۸۸۲۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حُوسِبَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عُذِّبَ))، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَ لَیْسَ، قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَسِیرًا} [الانشقاق: ۸] قَالَ: ((لَیْسَ ذٰلِکَ بِالْحِسَابِ وَلٰکِنَّ ذلِکَ الْعَرْضُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عُذِّبَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۰۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روز قیامت جس کا بھی حساب لیا گیا، اس کو عذاب دیا جائے گا۔ میں (عائشہ) نے کہا: کیا اللہ تعالی نے نہیں فرمایا کہ {فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَسِیرًا} … عنقریب اس کا حساب آسان لیا جائے گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے مراد حساب نہیں ہے، یہ تو صرف اعمال کی پیشی ہے، روزقیامت جس کا حساب لیا گیا، اس کو عذاب ہو کر رہے گا۔
Sahih Bukhari
766
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ ، فَقَرَأَ : إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1 ، فَسَجَدَ فَقُلْتُ لَهُ : قَالَ : سَجَدْتُ خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ .
Narrated Abu Rafi`: I offered the `Isha' prayer behind Abu Huraira and he recited, Idha s-samaa'u n-shaqqat (84) and prostrated. On my inquiring, he said, I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet) (when he recited that Sura) and I will go on doing it till I meet him.
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا اپنے باپ سے، انہوں نے بکر بن عبداللہ سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی۔ اس میں آپ نے «إذا السماء انشقت‏» پڑھی اور سجدہ ( تلاوت ) کیا۔ میں نے ان سے اس کے متعلق معلوم کیا تو بتلایا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی ( اس آیت میں تلاوت کا ) سجدہ کیا ہے اور زندگی بھر میں اس میں سجدہ کروں گا، یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاؤں۔
Sahih Bukhari
768
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي التَّيْمِيُّ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ ، فَقَرَأَ : إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1 ، فَسَجَدَ فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ ؟ قَالَ : سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ .
Narrated Abu Rafi`: Once I prayed the `Isha' prayer with Abu Huraira and he recited, Idha s-samaa'u n-shaqqat (84) and prostrated. I said, What is that? He said, I prostrated behind Abul-Qasim, (the Prophet) (when he recited that Sura) and I will go on doing it till I meet him.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے تیمی نے ابوبکر سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء پڑھی، آپ نے «إذا السماء انشقت‏» اور سجدہ کیا۔ اس پر میں نے کہا کہ یہ سجدہ کیسا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ اس سورت میں میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ کیا تھا۔ اس لیے میں بھی ہمیشہ اس میں سجدہ کروں گا، یہاں تک کہ آپ سے مل جاؤں۔
Sahih Bukhari
1074
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَرَأَ : إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1 فَسَجَدَ بِهَا ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَلَمْ أَرَكَ تَسْجُدُ ؟ قَالَ : لَوْ لَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ لَمْ أَسْجُدْ .
Narrated Abu Salma: I saw Abu Huraira reciting Idha-Sama' un-Shaqqat and he prostrated during its recitation. I asked Abu Huraira, Didn't I see you prostrating? Abu Huraira said, Had I not seen the Prophet prostrating, I would not have prostrated.
ہم سے مسلم بن ابراہیم اور معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن ابی عبداللہ دستوائی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سورۃ «إذا السماء انشقت‏» پڑھتے دیکھا۔ آپ نے اس میں سجدہ کیا میں نے کہا کہ اے ابوہریرہ! کیا میں نے آپ کو سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ آپ نے کہا کہ اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرتے نہ دیکھتا تو میں بھی نہ کرتا۔