TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5170 - (69) CHAPTER. Al-Walima (the wedding banquet) is recommended to be given even if one sheep is presented therein. - The book of (the wedlock). - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 4 in this chapter
(69) CHAPTER. Al-Walima (the wedding banquet) is recommended to be given even if one sheep is presented therein.
ولیمہ میں ایک بکری بھی کافی ہے ۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : بَنَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ فَأَرْسَلَنِي ، فَدَعَوْتُ رِجَالًا إِلَى الطَّعَامِ .
Narrated Anas: The Prophet consummated his marriage with a woman (Zainab), so he sent me to invite men to the meals.
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے بیان بن بشر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک خاتون ( زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ) کو نکاح کر کے لائے تو مجھے بھیجا اور میں نے لوگوں کو ولیمہ کھانے کے لیے بلایا۔
5170
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

923
1
(71) CHAPTER. Whoever gave a Walima (wedding banquet) of less than one sheep.
ایک بکری سے کم کا ولیمہ کرنا ۔
Sahih Bukhari
2
(72) CHAPTER. It is obligatory to accept the invitation to a Walima (wedding banquet) and other invitations.
ولیمہ کی دعوت اور ہر ایک دعوت کو قبول کرناحق ہے ۔
Sahih Bukhari
3
Chapter: What Has Been Reported About: One Sheep Will Suffice For The People In The Household
باب: ایک بکری کی قربانی گھر کے سارے افراد کی طرف سے کافی ہے
Jam e Tirmazi
4
(31) CHAPTER. How much is Zakat, and how much may be given in charity? And whoever gave a sheep in charity.
زکوٰۃ یا صدقہ میں کتنا مال دینا درست ہے اور اگر کسی نے ایک پوری بکری دے دی ؟
Sahih Bukhari
5
(49) CHAPTER. Beating the tambourine during the Nikah (marriage ceremony) and the Walima (wedding banquet).
نکاح اور ولیمہ کی دعوت میں دف بجانا ۔
Sahih Bukhari
6
(68) CHAPTER. The Walima (wedding banquet) is obligatory.
ولیمہ کی دعوت دولہا کو کرنا لازم ہے ۔
Sahih Bukhari
7
(70) CHAPTER. Whoeever gave a bigger Walima (wedding banquet) on marrying some wives than on marrying the other wives of his.
کسی بیوی کے ولیمہ میں کھانا زیادہ تیار کرنا کسی کے ولیمہ میں کم ، جائز درست ہے ۔
Sahih Bukhari
8
CHAPTER: A Sheep Sacrificed For A Group Of People.
باب: ایک بکری کی قربانی کئی آدمیوں کی طرف سے کافی ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
9
Chapter: What Has Been Related About (Al-Walimah) The Banquet
باب: ولیمہ کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: The 'Aqiqah With One Sheep
باب: عقیقہ میں ایک بکری ذبح کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
(16) CHAPTER. Whoever regarded ten sheep as equal to one camel in distribution.
تقسیم میں ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابرسمجھنا
Sahih Bukhari
12
(42) CHAPTER. The sheep which was poisoned (and presented) to the Prophet at Khaibar.
اس بکری کا گوشت جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر میں زہر دیا گیا تھا ۔ اس کو عروہ نے عائشہ رضیاللہعنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔
Sahih Bukhari
13
(73) CHAPTER. If somebody refuses an invitation [to a Walima (wedding banquet)] he indeed disobeys Allah and His Messenger .
جس کسی نے دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔
Sahih Bukhari
14
CHAPTER: Regarding A Fasting Person Who Is Invited To A Walimah (Wedding Feast).
باب: روزہ دار کو ولیمہ کھانے کی دعوت دی جائے تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
15
ایک اونٹ کے بدلے کتنی بکریوں کی قربانی کافی ہو گی؟۔
Sunnan Ibn e Maja
16
Chapter: What Has Been Related About Salat In Sheep Pens And The Resting Area Of Camels
باب: بکریوں کے باڑوں اور اونٹ باندھنے کی جگہوں میں نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Zakat On Camels and Sheep
باب: اونٹ اور بکری کی زکاۃ کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Garlanding Sheep
باب: ہدی کی بکریوں کو قلادہ (پٹہ) پہنانے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About One Who Comes To A Banquet Without An Invitation
باب: بغیر دعوت کے ولیمہ میں جانے کا حکم
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Lost Items, The Stray Camel And Sheep
باب: گری پڑی چیز اور گمشدہ اونٹ اور بکری کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Camels, Cows, And Sheep, When They Flee And Become Wild: Are They Shot With An Arrow Or Not ?
باب: اونٹ، گائے اور بکری بدک کر وحشی بن جائیں تو انہیں تیر سے مارا جائے گا یا نہیں؟
Jam e Tirmazi
22
Chapter: The Best Sacrifice Is The Male Sheep
باب: قربانی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About: Food For One is Sufficient For Two
باب: ایک آدمی کا کھانا تین آدمی کے لیے کافی ہوتا ہے
Jam e Tirmazi
24
Chapter: Something Else: The Supplication: “I Seek Forgiveness From Allah The One Whom There Is None Worthy Of Worship Except For Him, And He Is The Living, The Sustainer”
باب: سوتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
25
سلام کے فرض ہونے اور ایک سلام کے کافی ہونے کے متعلق بیان
Musnad Ahmad
26
اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
Musnad Ahmad
27
چور کے اقرار پر ہاتھ کاٹنے، حد کے بارے میں تلقین کرنے اور کاٹنے کے بعد ہاتھ کو داغنے کا بیان، نیز اس چیز کا بیان کہ کیا ایک مرتبہ چوری کا اعتراف کافی ہے
Musnad Ahmad
28
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
29
یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس زہر آلودہ بکری کے بارے میں بتلا دیا، جو ایکیہودی خاتون نے تحفہ کی صورت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیش کی تھی
Musnad Ahmad
30
(66) CHAPTER. (What is said) about the urine of camels, sheep and other animals and about their folds.
اونٹ ، بکری اور چوپایوں کا پیشاب اور ان کے رہنے کی جگہ کے بارے میں
Sahih Bukhari
31
(5) CHAPTER. To wash the body (parts) once only.
اس بیان میں کہ صرف ایک مرتبہ بدن پر پانی ڈال کر اگر غسل کیا جائے تو کافی ہوگا
Sahih Bukhari
32
(8) CHAPTER. Tayammum with one light stroke (on the earth).
تیمم میں ایک ہی دفعہ مٹی پر ہاتھ مارنا کافی ہے
Sahih Bukhari
33
(49) CHAPTER. To offer Salat (the prayer) in a sheep-fold.
بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا
Sahih Bukhari
34
(9) CHAPTER. Whoever thought it sufficient to invoke Allah for rain in the Salat-ul-Jumuah (Jumuah prayer).
پانی کی دعا کرنے میں جمعہ کی نماز کو کافی سمجھنا ( یعنی علیحدہ استسقاء کی نماز نہ پڑھنا اور اس کی نیت کرنا یہ بھی استسقاء کی ایک شکل ہے )
Sahih Bukhari
35
(38) CHAPTER. The Zakat of sheep.
بکریوں کی زکوٰۃ کا بیان
Sahih Bukhari
36
(110) CHAPTER. The garlanding of sheep.
بکریوں کو ہار پہنانے کا بیان
Sahih Bukhari
37
(8) CHAPTER. The Nusuk (offering) is one sheep.
قرآن مجید میں نسک سے مراد بکری ہے
Sahih Bukhari
38
(64) CHAPTER. The seller is not allowed to keep camels, cows, sheep or any other animal unmilked for a long time (so as to get more price by cheating).
اونٹ یا بکری یا گائے کے تھن میں دودھ جمع کر رکھنا بائع کو منع ہے
Sahih Bukhari
39
(2) CHAPTER. To shepherd sheep for Qirat.
چند قیراط کی مزدوری پر بکریاں چرانا
Sahih Bukhari
40
(4) CHAPTER. The pledge of protection given to Abu Bakr (by someone) during the lifetime by Allah's Messenger .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ( ایک مشرک کو ) امان دینا اور اس کے ساتھ آپ کا عہد کرنا
Sahih Bukhari
41
(4) CHAPTER. If a shepherd or a deputy saw dying sheep or something which is going to be spoiled, he is allowed to slaughter the sheep and save the thing liable to be spoiled.
چرانے والے نے یا کسی وکیل نے کسی بکری کو مرتے ہوئے یا کسی چیز کو خراب ہوتے دیکھ کر ( بکری کو ) ذبح کر دیا یا جس چیز کے خراب ہو جانے کے ڈر تھا اسے ٹھیک کر دیا ، اس بارے میں کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
42
(3) CHAPTER. Lost sheep.
گمشدہ بکری کے بارے میں بیان
Sahih Bukhari
43
(2) CHAPTER. Partners possessing joint property (sheep) have to pay its Zakat equally.
جو مال دو ساجھیوں کے ساجھے کا ہو وہ زکوٰۃ میں ایک دوسرے سے برابر برابر مجرا کرلیں
Sahih Bukhari
44
(3) CHAPTER. Division of sheep.
بکریوں کا بانٹنا
Sahih Bukhari
45
(12) CHAPTER. Distribution of sheep and dividing them justly.
بکریوں کو انصاف کے ساتھ تقسیم کرنا
Sahih Bukhari
46
(16) CHAPTER. If only one man attests the (good) conduct of another, then it is sufficient.
جب ایک مرددوسرے مرد کو اچھا کہے تو یہ کافی ہے
Sahih Bukhari
47
(19) CHAPTER. It is recommended that something should be given in charity on behalf of a person who dies suddenly. And the execution of the vows of the deceased.
اگر کسی کو اچانک موت آ جائے تو اس کی طرف سے خیرات کرنا مستحب ہے اور میت کی نذروں کو پوری کرنا
Sahih Bukhari
48
(140) CHAPTER. If a man has enlisted himself in the army and then his wife goes out for Hajj, or he has a genuine excuse, can he be given a leave?
ایک شخص اپنا نام مجاہدین میں لکھوا دے
Sahih Bukhari
49
(191) CHAPTER. What is hated regarding the slaughtering of the camels and sheep of the booty (before its distribution).
مال غنیمت کے اونٹ بکریوں کو تقسیم سے پہلے ذبح کرنا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
50
(7) CHAPTER. If anyone says Amin [during the Salat (prayer) at the end of the recitation of Surat Al-Fatiha], and the angels in heaven say the same, and the sayings of two coincide, all his past sins will be forgiven .
اس حدیث کے بیان میں کہ جب ایک تمہارا ( جہری نماز میں سورۃ الفاتحہ کے ختم پر باآواز بلند ) آمین کہتا ہے تو فرشتے بھی آسمان پر ( زور سے ) آمین کہتے ہیں اور اس طرح دونوں کی زبان سے ایک ساتھ ( با آواز بلند ) آمین نکلتی ہے تو بندے کے گزرے ہوئے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

846
Jam e Tirmazi
3219
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَنِي فَدَعَوْتُ قَوْمًا إِلَى الطَّعَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَكَلُوا وَخَرَجُوا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْطَلِقًا قِبَلَ بَيْتِ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى رَجُلَيْنِ جَالِسَيْنِ فَانْصَرَفَ رَاجِعًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ الرَّجُلَانِ فَخَرَجَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ سورة الأحزاب آية 53 ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
Narrated Anas bin Malik: The Messenger of Allah (ﷺ) was staying with one of his wives, so he sent me to invite people for a meal. When they ate and left, the Messenger of Allah (ﷺ) stood and went off in the direction of 'Aishah's house. He saw two men (still) sitting, so he turned to come back, then the two men stood up to leave. So Allah [the Mighty and Sublime] revealed: 'O you who believe! Do not enter the Prophet's house unless permission is given to you for a meal, not to wait for its preparation (33:53). And there is a long story with the narration.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے ایک بیوی کے ساتھ شادی والی رات گزاری، پھر آپ نے مجھے کچھ لوگوں کو کھانے پر بلانے کے لیے بھیجا۔ جب لوگ کھا پی کر چلے گئے، تو آپ اٹھے، عائشہ رضی الله عنہا کے گھر کا رخ کیا پھر آپ کی نظر دو بیٹھے ہوئے آدمیوں پر پڑی۔ تو آپ ( فوراً ) پلٹ پڑے ( انہیں اس کا احساس ہو گیا ) وہ دونوں اٹھے اور وہاں سے نکل گئے۔ اسی موقع پر اللہ عزوجل نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه» نازل فرمائی، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بیان کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ثابت نے انس کے واسطہ سے یہ حدیث پوری کی پوری بیان کی ہے۔
Sahih Bukhari
2166
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا نَتَلَقَّى الرُّكْبَانَ فَنَشْتَرِي مِنْهُمُ الطَّعَامَ ، فَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى يُبْلَغَ بِهِ سُوقُ الطَّعَامِ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : هَذَا فِي أَعْلَى السُّوقِ ، يُبَيِّنُهُ حَدِيثُ عُبَيْدِ اللَّهِ .
Narrated `Abdullah: We used to go ahead to meet the caravan and used to buy foodstuff from them. The Prophet forbade us to sell it till it was carried to the market.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم آگے قافلوں کے پاس خود ہی پہنچ جایا کرتے تھے اور ( شہر میں پہنچنے سے پہلے ہی ) ان سے غلہ خرید لیا کرتے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا کہ ہم اس مال کو اسی جگہ بیچیں جب تک اناج کے بازار میں نہ لائیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ ملنا بازار کے بلند کنارے پر تھا۔ ( جدھر سے سوداگر آیا کرتے تھے ) اور یہ بات عبیداللہ کی حدیث سے نکلتی ہے۔
Mishkat
3986
وَعَن أبي قتادةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَضَرَبْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ بِالسَّيْفِ فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ: مَا بَالُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَمْرُ اللَّهِ ثُمَّ رَجَعُوا وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ» فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ فَقُمْتُ فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟» فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَجُلٌ: صَدَقَ وَسَلَبُهُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنِّي فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَا هَا اللَّهِ إِذاً لَا يعمدُ أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ فأعطه» فأعطانيه فاتبعت بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مالٍ تأثَّلْتُه فِي الإِسلامِ
ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوہ حنین کے سال ہم نبی ﷺ کے ساتھ نکلے ، جب ہم (مشرکین سے) ملے تو مسلمانوں کو ہزیمت کا سامنا ہوا ، میں نے ایک مشرک شخص کو دیکھا جو ایک مسلمان شخص پر غالب آ چکا تھا ، میں نے اس کے پیچھے سے اس کی رگ گردن پر تلوار ماری اور اس کی زرہ کاٹ دی ، وہ میری طرف متوجہ ہوا تو اس نے مجھے اس قدر دبایا کہ مجھے اس کے (دبانے) سے اپنی موت نظر آنے لگی ، لیکن موت اس پر آ گئی اور اس نے مجھے چھوڑ دیا ، میں عمر بن خطاب ؓ سے ملا تو میں نے کہا : لوگوں کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے کہا : اللہ کا حکم (ہی ایسے تھا) ، پھر وہ (مسلمان) لوٹے اور نبی ﷺ بیٹھ گئے تو فرمایا :’’ جس نے کسی مقتول کو قتل کیا اور اس پر اس کے پاس دلیل ہو تو اس (مقتول) کا سازو سامان اس (قاتل) کے لیے ہے ۔‘‘ میں نے کہا : میرے حق میں کون گواہی دے گا ؟ پھر میں بیٹھ گیا ، نبی ﷺ نے پھر وہی بات فرمائی ، میں نے کہا : میرے حق میں کون گواہی دے گا ؟ پھر میں بیٹھ گیا ، پھر نبی ﷺ نے وہی بات فرمائی تو میں کھڑا ہوا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوقتادہ ! تمہارا کیا مسئلہ ہے ؟‘‘ میں نے آپ کو بتایا تو ایک شخص نے کہا ’’ اس نے سچ کہا ، اور اس کا سازو سامان میرے پاس ہے اسے میری طرف سے راضی کر دیں ۔ (اور مال میرے پاس ہی رہنے دیں) ابوبکر ؓ نے فرمایا : ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اللہ کا شیر جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے قتال کرتا ہے ، اور آپ ﷺ اس کا سازو سامان تجھے دیں گے ، تب نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر ؓ نے سچ کہا ، پس اسے دو ۔‘‘ چنانچہ اس نے اسے مجھے دے دیا ، میں نے اس سے بنو سلمہ میں ایک باغ خریدا ، اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے حالتِ اسلام میں جمع کیا تھا ۔ متفق علیہ ۔
Mishkat
5643
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ الْخَيْلَ أَفِي الْجَنَّةِ خَيْلٌ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ أُدْخِلْتَ الْجَنَّةَ أُتِيتَ بِفَرَسٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ لَهُ جَنَاحَانِ فَحُمِلْتَ عَلَيْهِ ثُمَّ طَارَ بِكَ حَيْثُ شِئْتَ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَأَبُو سَوْرَةَ الرَّاوِي يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ: أَبُو سَوْرَةَ هَذَا مُنكر الحَدِيث يروي مَنَاكِير
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی ، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں (دنیا میں) گھوڑے پسند کرتا ہوں ، کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تجھے جنت میں داخل کر دیا گیا تو تجھے یاقوت کا ایک گھوڑا دیا جائے گا ، جس کے دو پر ہوں گے ، تجھے اس پر سوار کیا جائے گا ، پھر تو جہاں چاہے گا وہ تجھے اڑا لے جائے گا ۔‘‘ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : اس حدیث کی سند قوی نہیں ، ابو سورہ راوی حدیث کے معاملے میں ضعیف قرار دیا گیا ہے ، میں نے امام بخاری سے سنا ، وہ فرما رہے تھے یہ منکر الحدیث ہے ، اور وہ منکر روایات بیان کرتا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Sahih Bukhari
5
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16 ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً ، وَكَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَأَنَا أُحَرِّكُهُمَا لَكُمْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا ، وَقَالَ سَعِيدٌ : أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُهُمَا ، فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ { 16 } إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ { 17 } سورة القيامة آية 16-17 ، قَالَ : جَمْعُهُ لَهُ فِي صَدْرِكَ وَتَقْرَأَهُ ، فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 18 ، قَالَ : فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19 ، ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ ، فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَرَأَهُ .
Narrated Said bin Jubair: Ibn 'Abbas in the explanation of the statement of Allah Move not your tongue concerning (the Quran) to make haste therewith. (75.16) said Allah's Apostle used to bear the revelation with great trouble and used to move his lips (quickly) with the Inspiration. Ibn 'Abbas moved his lips saying, I am moving my lips in front of you as Allah's Apostle used to move his. Said moved his lips saying: I am moving my lips, as I saw Ibn 'Abbas moving his. Ibn 'Abbas added, So Allah revealed 'Move not your tongue concerning (the Qur'an) to make haste therewith. It is for Us to collect it and to give you (O Muhammad) the ability to recite it (the Quran)' (75.16-17) which means that Allah will make him (the Prophet) remember the portion of the Qur'an which was revealed at that time by heart and recite it. The statement of Allah: 'And when we have recited it to you (O Muhammad through Gabriel) then you follow its (Quran) recital' (75.18) means 'listen to it and be silent.' Then it is for Us (Allah) to make it clear to you' (75.19) means 'Then it is (for Allah) to make you recite it (and its meaning will be clear by itself through your tongue). Afterwards, Allah's Apostle used to listen to Gabriel whenever he came and after his departure he used to recite it as Gabriel had recited it.
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے حدیث بیان کی، ان کو ابوعوانہ نے خبر دی، ان سے موسیٰ ابن ابی عائشہ نے بیان کی، ان سے سعید بن جبیر نے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کلام الٰہی «لا تحرك به لسانك لتعجل به‏» الخ کی تفسیر کے سلسلہ میں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزول قرآن کے وقت بہت سختی محسوس فرمایا کرتے تھے اور اس کی ( علامتوں ) میں سے ایک یہ تھی کہ یاد کرنے کے لیے آپ اپنے ہونٹوں کو ہلاتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا میں اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح آپ ہلاتے تھے۔ سعید کہتے ہیں میں بھی اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما کو میں نے ہلاتے دیکھا۔ پھر انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔ ( ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ) پھر یہ آیت اتری کہ اے محمد! قرآن کو جلد جلد یاد کرنے کے لیے اپنی زبان نہ ہلاؤ۔ اس کا جمع کر دینا اور پڑھا دینا ہمارا ذمہ ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں یعنی قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جما دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ پھر جب ہم پڑھ چکیں تو اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ( اس کا مطلب یہ ہے ) کہ آپ اس کو خاموشی کے ساتھ سنتے رہو۔ اس کے بعد مطلب سمجھا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ پھر یقیناً یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ اس کو پڑھو ( یعنی اس کو محفوظ کر سکو ) چنانچہ اس کے بعد جب آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام ( وحی لے کر ) آتے تو آپ ( توجہ سے ) سنتے۔ جب وہ چلے جاتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ( وحی ) کو اسی طرح پڑھتے جس طرح جبرائیل علیہ السلام نے اسے پڑھا تھا۔
Sahih Bukhari
86
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي ، فَقُلْتُ : مَا شَأْنُ النَّاسِ ، فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ ، فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ ، فَقَالَتْ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، قُلْتُ : آيَةٌ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ ، فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ ، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي الْمَاءَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ أُرِيتُهُ إِلَّا رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي حَتَّى الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ مِثْلَ أَوْ قَرِيبًا لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ ، قَالَتْ أَسْمَاءُ : مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، يُقَالُ : مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ لَا أَدْرِي بِأَيِّهِمَا ، قَالَتْ أَسْمَاءُ ، فَيَقُولُ : هُوَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا هُوَ مُحَمَّدٌ ثَلَاثًا ، فَيُقَالُ : نَمْ صَالِحًا ، قَدْ عَلِمْنَا إِنْ كُنْتَ لَمُوقِنًا بِهِ ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ ، قَالَتْ أَسْمَاءُ : فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي ، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ .
Narrated Asma': I came to `Aisha while she was praying, and said to her, What has happened to the people? She pointed out towards the sky. (I looked towards the mosque), and saw the people offering the prayer. Aisha said, Subhan Allah. I said to her, Is there a sign? She nodded with her head meaning, Yes. I, too, then stood (for the prayer of eclipse) till I became (nearly) unconscious and later on I poured water on my head. After the prayer, the Prophet praised and glorified Allah and then said, Just now at this place I have seen what I have never seen before, including Paradise and Hell. No doubt it has been inspired to me that you will be put to trials in your graves and these trials will be like the trials of Masih-ad-Dajjal or nearly like it (the sub narrator is not sure which expression Asma' used). You will be asked, 'What do you know about this man (the Prophet Muhammad)?' Then the faithful believer (or Asma' said a similar word) will reply, 'He is Muhammad Allah's Apostle who had come to us with clear evidences and guidance and so we accepted his teachings and followed him. And he is Muhammad.' And he will repeat it thrice. Then the angels will say to him, 'Sleep in peace as we have come to know that you were a faithful believer.' On the other hand, a hypocrite or a doubtful person will reply, 'I do not know, but I heard the people saying something and so I said it.' (the same).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے وہیب نے، ان سے ہشام نے فاطمہ کے واسطے سے نقل کیا، وہ اسماء سے روایت کرتی ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، وہ نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے کہا کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟ تو انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا ( یعنی سورج کو گہن لگا ہے ) اتنے میں لوگ ( نماز کے لیے ) کھڑے ہو گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، اللہ پاک ہے۔ میں نے کہا ( کیا یہ گہن ) کوئی ( خاص ) نشانی ہے؟ انہوں نے سر سے اشارہ کیا یعنی ہاں! پھر میں ( بھی نماز کے لیے ) کھڑی ہو گئی۔ حتیٰ کہ مجھے غش آنے لگا، تو میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔ پھر ( نماز کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف اور اس کی صفت بیان فرمائی، پھر فرمایا، جو چیز مجھے پہلے دکھلائی نہیں گئی تھی آج وہ سب اس جگہ میں نے دیکھ لی، یہاں تک کہ جنت اور دوزخ کو بھی دیکھ لیا اور مجھ پر یہ وحی کی گئی کہ تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے، «مثل» یا «قرب» کا کون سا لفظ اسماء نے فرمایا، میں نہیں جانتی، فاطمہ کہتی ہیں ( یعنی ) فتنہ دجال کی طرح ( آزمائے جاؤ گے ) کہا جائے گا ( قبر کے اندر کہ ) تم اس آدمی کے بارے میں کیا جانتے ہو؟ تو جو صاحب ایمان یا صاحب یقین ہو گا، کون سا لفظ فرمایا اسماء رضی اللہ عنہا نے، مجھے یاد نہیں۔ وہ کہے گا وہ محمد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جو ہمارے پاس اللہ کی ہدایت اور دلیلیں لے کر آئے تو ہم نے ان کو قبول کر لیا اور ان کی پیروی کی وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ تین بار ( اسی طرح کہے گا ) پھر ( اس سے ) کہہ دیا جائے گا کہ آرام سے سو جا بیشک ہم نے جان لیا کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین رکھتا تھا۔ اور بہرحال منافق یا شکی آدمی، میں نہیں جانتی کہ ان میں سے کون سا لفظ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا۔ تو وہ ( منافق یا شکی آدمی ) کہے گا کہ جو لوگوں کو میں نے کہتے سنا میں نے ( بھی ) وہی کہہ دیا۔ ( باقی میں کچھ نہیں جانتا۔ )
Sahih Bukhari
504
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ ، وَبِلَالٌ فَأَطَالَ ، ثُمَّ خَرَجَ وَكُنْتُ أَوَّلَ النَّاسِ دَخَلَ عَلَى أَثَرِهِ ، فَسَأَلْتُ بِلَالًا : أَيْنَ صَلَّى ؟ قَالَ : بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet entered the Ka`ba along with Usama bin Zaid, `Uthman bin Talha and Bilal and remained there for a long time. When they came out, I was the first man to enter the Ka`ba. I asked Bilal Where did the Prophet pray? Bilal replied, Between the two front Pillars.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے اور اسامہ بن زید عثمان بن طلحہ اور بلال رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک اندر رہے۔ پھر باہر آئے۔ اور میں سب لوگوں سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہی وہاں آیا۔ میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ آگے کے دو ستونوں کے بیچ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔
Sahih Bukhari
597
حدثنا ابو نعيم ، وموسى بن إسماعيل ، قالا : حدثنا همام ، عن قتادة ، عن انس ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : من نسي صلاة فليصل إذا ذكرها ، لا كفارة لها إلا ذلك ، واقم الصلاة لذكري ، قال موسى : قال همام : سمعته يقول بعد واقم الصلاة للذكرى ، وقال حبان : حدثنا همام ، حدثنا قتادة ، حدثنا انس ، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه .
Narrated Anas: The Prophet said, If anyone forgets a prayer he should pray that prayer when he remembers it. There is no expiation except to pray the same. Then he recited: Establish prayer for My (i.e. Allah's) remembrance. (20.14).
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آ جائے اس کو پڑھ لے۔ اس قضاء کے سوا اور کوئی کفارہ اس کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اور ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ) نماز میرے یاد آنے پر قائم کر۔ موسیٰ نے کہا کہ ہم سے ہمام نے حدیث بیان کی کہ میں نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ یوں پڑھتے تھے نماز پڑھ میری یاد کے لیے۔ حبان بن ہلال نے کہا، ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، پھر ایسی ہی حدیث بیان کی۔
Sahih Bukhari
845
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ .
Narrated Samura bin Jundub: The Prophet used to face us on completion of the prayer.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابورجاء عمران بن تمیم نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ( فرض ) پڑھا چکتے تو ہماری طرف منہ کرتے۔