صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب طلاق کے مسائل کا بیان

The book of divorce.

حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔

(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهَا : سُبَيْعَةُ كَانَتْ تَحْتَ زَوْجِهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ حُبْلَى ، فَخَطَبَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ ، فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا يَصْلُحُ أَنْ تَنْكِحِيهِ حَتَّى تَعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ ، فَمَكُثَتْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرِ لَيَالٍ ، ثُمَّ جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : انْكِحِي .

Narrated Um Salama: (the wife of the Prophet) A lady from Bani Aslam, called Subai'a, become a widow while she was pregnant. Abu As-Sanabil bin Ba'kak demanded her hand in marriage, but she refused to marry him and said, By Allah, I cannot marry him unless I have completed one of the two prescribed periods. About ten days later (after having delivered her child), she went to the Prophet and he said (to her), You can marry now.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے، کہا کہ مجھے خبر دی ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہ زینب ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ ایک خاتون جو اسلام لائی تھیں اور جن کا نام سبیعہ تھا، اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھیں، شوہر کا جب انتقال ہوا تو وہ حاملہ تھیں۔ ابوسنان بن بعکک رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا لیکن انہوں نے نکاح کرنے سے انکار کیا۔ ابوالسنابل نے کہا کہ اللہ کی قسم! جب تک عدت کی دو مدتوں میں سے لمبی نہ گزار لوں گی، تمہارے لیے اس سے ( جس سے نکاح وہ کرنا چاہتی تھیں ) نکاح کرنا صحیح نہیں ہو گا۔ پھر وہ ( وضع حمل کے بعد ) تقریباً دس دن تک رکی رہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب نکاح کر لو۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ اللَّيْثِ ، عَنْ يَزِيدَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ كَتَبَ إِلَيْهِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِ الْأَرْقَمِ أَنْ يَسْأَلَ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ ، كَيْفَ أَفْتَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : أَفْتَانِي إِذَا وَضَعْتُ أَنْ أَنْكِحَ .

Narrated `Abdullah bin `Abdullah: that his father had written to Ibn Al-Arqam a letter asking him to ask Subai'a Al-Aslamiya how the Prophet had given her the verdict. She said, The Prophet, gave me his verdict that after I gave birth, I could marry.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے، ان سے یزید نے کہ ابن شہاب نے انہیں لکھا کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے اپنے والد (عبداللہ بن عتبہ بن مسعود) سے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ابن الارقم کو لکھا کہ سبیعہ اسلمیہ سے پوچھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق کیا فتویٰ دیا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ جب میرے یہاں بچہ پیدا ہو گیا تو نبی کریم نے مجھے فتویٰ دیا کہ اب میں نکاح کر لوں۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ تَنْكِحَ ، فَأَذِنَ لَهَا ، فَنَكَحَتْ .

Narrated Al-Miswer bin Makhrama: Subai'a Al-Aslamiya gave birth to a child a few days after the death of her husband. She came to the Prophet and asked permission to remarry, and the Prophet gave her permission, and she got married.

ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے مسور بن مخرمہ نے کہ سبیعہ اسلمیہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد چند دنوں تک حالت نفاس میں رہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے نکاح کی اجازت مانگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور انہوں نے نکاح کیا۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِيِنَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ : اتَّقِ اللَّهَ وَارْدُدْهَا إِلَى بَيْتِهَا ، قَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ : إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ غَلَبَنِي ، وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ : أَوَمَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ : لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ ، فَقَالَ مَرْوَانُ بْنُ الحَكَمِ : إِنْ كَانَ بِكِ شَرٌّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ .

Narrated Qasim bin Muhammad and Sulaiman bin Yasar: that Yahya bin Sa`id bin Al-`As divorced the daughter of `Abdur-Rahman bin Al-Hakarn. `Abdur- Rahman took her to his house. On that `Aisha sent a message to Marwan bin Al-Hakam who was the ruler of Medina, saying, Fear Allah, and urge your brother) to return her to her house. Marwan (in Sulaiman's version) said, Abdur-Rahman bin Al-Hakam did not obey me (or had a convincing argument). (In Al-Qasim's versions Marwan said, Have you not heard of the case of Fatima bint Qais? Aisha said, The case of Fatima bint Qais is not in your favor.' Marwan bin Al-Hakam said to `Aisha, The reason that made Fatima bint Qais go to her father's house is just applicable to the daughter of `Abdur-Rahman.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار نے، وہ دونوں بیان کرتے تھے کہ یحییٰ بن سعید بن العاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی صاحبزادی ( عمرہ ) کو طلاق دے دی تھی اور ان کے باپ عبدالرحمٰن انہیں ان کے ( شوہر کے ) گھر سے لے آئے ( عدت کے ایام گزرنے سے پہلے ) ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے مروان بن حکم کے یہاں، جو اس وقت مدینہ کا امیر تھا، کہلوایا کہ اللہ سے ڈرو اور لڑکی کو اس کے گھر ( جہاں اسے طلاق ہوئی ہے ) پہنچا دو۔ جیسا کہ سلیمان بن یسار کی حدیث میں ہے۔ مروان نے اس کو جواب یہ دیا کہ لڑکی کے والد عبدالرحمٰن بن حکم نے میری بات نہیں مانی اور قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ( مروان نے ام المؤمنین کو یہ جواب دیا کہ ) کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے معاملہ کا علم نہیں ہے؟ ( انہوں نے بھی اپنے شوہر کے گھر عدت نہیں گزاری تھی ) ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ اگر تم فاطمہ کے واقعہ کا حوالہ نہ دیتے تب بھی تمہارا کچھ نہ بگڑتا ( کیونکہ وہ تمہارے لیے دلیل نہیں بن سکتا ) ۔ مروان بن حکم نے اس پر کہا کہ اگر آپ کے نزدیک ( فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ان کے شوہر کے گھر سے منتقل کرنا ) ان کے اور ان کے شوہر کے رشتہ داری کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے تھا تو یہاں بھی یہی وجہ کافی ہے کہ دونوں ( میاں بیوی ) کے درمیان کشیدگی تھی۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِيِنَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ : اتَّقِ اللَّهَ وَارْدُدْهَا إِلَى بَيْتِهَا ، قَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ : إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ غَلَبَنِي ، وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ : أَوَمَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ : لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ ، فَقَالَ مَرْوَانُ بْنُ الحَكَمِ : إِنْ كَانَ بِكِ شَرٌّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ .

Narrated Qasim bin Muhammad and Sulaiman bin Yasar: that Yahya bin Sa`id bin Al-`As divorced the daughter of `Abdur-Rahman bin Al-Hakarn. `Abdur- Rahman took her to his house. On that `Aisha sent a message to Marwan bin Al-Hakam who was the ruler of Medina, saying, Fear Allah, and urge your brother) to return her to her house. Marwan (in Sulaiman's version) said, Abdur-Rahman bin Al-Hakam did not obey me (or had a convincing argument). (In Al-Qasim's versions Marwan said, Have you not heard of the case of Fatima bint Qais? Aisha said, The case of Fatima bint Qais is not in your favor.' Marwan bin Al-Hakam said to `Aisha, The reason that made Fatima bint Qais go to her father's house is just applicable to the daughter of `Abdur-Rahman.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار نے، وہ دونوں بیان کرتے تھے کہ یحییٰ بن سعید بن العاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی صاحبزادی ( عمرہ ) کو طلاق دے دی تھی اور ان کے باپ عبدالرحمٰن انہیں ان کے ( شوہر کے ) گھر سے لے آئے ( عدت کے ایام گزرنے سے پہلے ) ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے مروان بن حکم کے یہاں، جو اس وقت مدینہ کا امیر تھا، کہلوایا کہ اللہ سے ڈرو اور لڑکی کو اس کے گھر ( جہاں اسے طلاق ہوئی ہے ) پہنچا دو۔ جیسا کہ سلیمان بن یسار کی حدیث میں ہے۔ مروان نے اس کو جواب یہ دیا کہ لڑکی کے والد عبدالرحمٰن بن حکم نے میری بات نہیں مانی اور قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ( مروان نے ام المؤمنین کو یہ جواب دیا کہ ) کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے معاملہ کا علم نہیں ہے؟ ( انہوں نے بھی اپنے شوہر کے گھر عدت نہیں گزاری تھی ) ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ اگر تم فاطمہ کے واقعہ کا حوالہ نہ دیتے تب بھی تمہارا کچھ نہ بگڑتا ( کیونکہ وہ تمہارے لیے دلیل نہیں بن سکتا ) ۔ مروان بن حکم نے اس پر کہا کہ اگر آپ کے نزدیک ( فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ان کے شوہر کے گھر سے منتقل کرنا ) ان کے اور ان کے شوہر کے رشتہ داری کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے تھا تو یہاں بھی یہی وجہ کافی ہے کہ دونوں ( میاں بیوی ) کے درمیان کشیدگی تھی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : مَا لِفَاطِمَةَ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ ؟ يَعْنِي فِي قَوْلِهَا : لَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةَ .

Narrated Al-Qasim: Aisha said, What is wrong with Fatima? Why doesn't she fear Allah? by saying that a divorced lady is not entitled to be provided with residence and sustenance (by her husband).

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا فاطمہ بنت قیس، اللہ سے ڈرتی نہیں! ان کا اشارہ ان کے اس قول کی طرف تھا ( کہ مطلقہ بائنہ کو ) «نفقة وسكنى» دینا ضروری نہیں جو کہتی ہے کہ طلاق بائن جس عورت پر پڑے اسے مسکن اور خرچہ نہیں ملے گا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : مَا لِفَاطِمَةَ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ ؟ يَعْنِي فِي قَوْلِهَا : لَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةَ .

Narrated Al-Qasim: Aisha said, What is wrong with Fatima? Why doesn't she fear Allah? by saying that a divorced lady is not entitled to be provided with residence and sustenance (by her husband).

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا فاطمہ بنت قیس، اللہ سے ڈرتی نہیں! ان کا اشارہ ان کے اس قول کی طرف تھا ( کہ مطلقہ بائنہ کو ) «نفقة وسكنى» دینا ضروری نہیں جو کہتی ہے کہ طلاق بائن جس عورت پر پڑے اسے مسکن اور خرچہ نہیں ملے گا۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ : أَلَمْ تَرَيْ إِلَى فُلَانَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ ، فَخَرَجَتْ ، فَقَالَتْ : بِئْسَ مَا صَنَعَتْ ، قَالَ : أَلَمْ تَسْمَعِي فِي قَوْلِ فَاطِمَةَ ، قَالَتْ : أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ لَهَا خَيْرٌ فِي ذِكْرِ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَزَادَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَابَتْ عَائِشَةُ أَشَدَّ الْعَيْبِ ، وَقَالَتْ : إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا ، فَلِذَلِكَ أَرْخَصَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

Narrated Qasim: Urwa said to Aisha, Do you know so-and-so, the daughter of Al-Hakam? Her husband divorced her irrevocably and she left (her husband's house). `Aisha said, What a bad thing she has done! 'Urwa said (to `Aisha), Haven't you heard the statement of Fatima? `Aisha replied, It is not in her favor to mention. 'Urwa added, `Aisha reproached (Fatima) severely and said, Fatima was in a lonely place, and she was prone to danger, so the Prophet allowed her (to go out of her husband's house).

ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے کہ عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ فلانہ ( عمرہ بنت حکم ) بنت حکم کا معاملہ نہیں دیکھتیں۔ ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائنہ دے دی اور وہ وہاں سے نکل آئیں ( عدت گزارے بغیر ) ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو کچھ اس نے کیا بہت برا کیا۔ عروہ نے کہا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے متعلق نہیں سنا۔ بتلایا کہ اس کے لیے اس حدیث کو ذکر کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے اور ابن ابی زناد نے ہشام سے یہ اضافہ کیا ہے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( عمرہ بنت حکم کے معاملہ پر ) اپنی شدید ناگواری کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا تو ایک اجاڑ جگہ میں تھیں اور اس کے چاروں طرف خوف اور وحشت برستی تھی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وہاں سے منتقل ہونے کی ) انہیں اجازت دے دی تھی۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ : أَلَمْ تَرَيْ إِلَى فُلَانَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ ، فَخَرَجَتْ ، فَقَالَتْ : بِئْسَ مَا صَنَعَتْ ، قَالَ : أَلَمْ تَسْمَعِي فِي قَوْلِ فَاطِمَةَ ، قَالَتْ : أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ لَهَا خَيْرٌ فِي ذِكْرِ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَزَادَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَابَتْ عَائِشَةُ أَشَدَّ الْعَيْبِ ، وَقَالَتْ : إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا ، فَلِذَلِكَ أَرْخَصَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

Narrated Qasim: Urwa said to Aisha, Do you know so-and-so, the daughter of Al-Hakam? Her husband divorced her irrevocably and she left (her husband's house). `Aisha said, What a bad thing she has done! 'Urwa said (to `Aisha), Haven't you heard the statement of Fatima? `Aisha replied, It is not in her favor to mention. 'Urwa added, `Aisha reproached (Fatima) severely and said, Fatima was in a lonely place, and she was prone to danger, so the Prophet allowed her (to go out of her husband's house).

ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے کہ عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ فلانہ ( عمرہ بنت حکم ) بنت حکم کا معاملہ نہیں دیکھتیں۔ ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائنہ دے دی اور وہ وہاں سے نکل آئیں ( عدت گزارے بغیر ) ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو کچھ اس نے کیا بہت برا کیا۔ عروہ نے کہا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے متعلق نہیں سنا۔ بتلایا کہ اس کے لیے اس حدیث کو ذکر کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے اور ابن ابی زناد نے ہشام سے یہ اضافہ کیا ہے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( عمرہ بنت حکم کے معاملہ پر ) اپنی شدید ناگواری کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا تو ایک اجاڑ جگہ میں تھیں اور اس کے چاروں طرف خوف اور وحشت برستی تھی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وہاں سے منتقل ہونے کی ) انہیں اجازت دے دی تھی۔

حَدَّثَنِي حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ .

Narrated 'Urwa: Aisha disapproved of what Fatima used to say.'

مجھ سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی اس بات کا ( کہ مطلقہ بائنہ کو «نفقة وسكنى» نہیں ملے گا ) انکار کیا۔

حَدَّثَنِي حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ .

Narrated 'Urwa: Aisha disapproved of what Fatima used to say.'

مجھ سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی اس بات کا ( کہ مطلقہ بائنہ کو «نفقة وسكنى» نہیں ملے گا ) انکار کیا۔