TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 482 - (88) CHAPTER. To clasp one's hands by interlocking the fingers in the mosque or outside the mosque. - The book of as-salat (the prayer). - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 5 in this chapter
(88) CHAPTER. To clasp one's hands by interlocking the fingers in the mosque or outside the mosque.
مسجد وغیرہ میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے قینچی کرنا درست ہے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ ، قَالَ ابْنُ سِيرِينَ : سَمَّاهَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَلَكِنْ نَسِيتُ أَنَا ، قَالَ : فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ، فَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا كَأَنَّه غَضْبَانُ ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، وَوَضَعَ خَدَّهُ الْأَيْمَنَ عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى ، وَخَرَجَتِ السَّرَعَانُ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالُوا : قَصُرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ ؟ ، قَالَ : لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ ، فَقَالَ : أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ، فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى مَا تَرَكَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ ، فَرُبَّمَا سَأَلُوهُ ثُمَّ سَلَّمَ فَيَقُولُ : نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ : ثُمَّ سَلَّمَ .
Narrates Ibn Seereen: Abu Huraira said, Allah's Apostle led us in one of the two `Isha' prayers (Abu Huraira named that prayer but I forgot it). Abu Huraira added, He prayed two rak`at and then finished the prayer with Taslim. He stood up near a piece of wood Lying across the mosque and leaned on it in such a way as if he was angry. Then he put his right hand over the left and clasped his hands by interlacing his fingers and then put his J right cheek on the back of his left hand. The people who were in haste left the mosque through its gates. They wondered whether the prayer was reduced. And amongst them were Abu Bakr and `Umar but they hesitated to ask the Prophet. A long-handed man called Dhul- Yadain asked the Prophet, 'O Allah's Apostle! Have you forgotten or has the prayer been reduced?' The Prophet replied, 'I have neither forgotten nor has the prayer been reduced' The Prophet added, 'Is what Dhul Yadain has said true?' They (the people) said, 'Yes, it is true.' The Prophet stood up again and led the prayer, completing the remaining prayer, forgotten by him, and performed Taslim, and then said, 'Allahu Akbar.' And then he did a prostration as he used to prostrate or longer than that. He then raised his head saying, 'Allahu Akbar; he then again said, 'Allahu Akbar', and prostrated as he used to prostrate or longer than that. Then he raised his head and said, 'Allahu Akbar.' (The subnarrator added, I think that they asked (Ibn Seereen) whether the Prophet completed the prayer with Taslim. He replied, I heard that `Imran bin Husain had said, 'Then he (the Prophet) did Taslim. )
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ ابن عون نے خبر دی، انہوں نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دوپہر کے بعد کی دو نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی۔ ( ظہر یا عصر کی ) ابن سیرین نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کا نام تو لیا تھا۔ لیکن میں بھول گیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ اس کے بعد ایک لکڑی کی لاٹھی سے جو مسجد میں رکھی ہوئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے آپ بہت ہی خفا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا اور ان کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا اور آپ نے اپنے دائیں رخسار مبارک کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے سہارا دیا۔ جو لوگ نماز پڑھ کر جلدی نکل جایا کرتے تھے وہ مسجد کے دروازوں سے پار ہو گئے۔ پھر لوگ کہنے لگے کہ کیا نماز کم کر دی گئی ہے۔ حاضرین میں ابوبکر اور عمر ( رضی اللہ عنہما ) بھی موجود تھے۔ لیکن انہیں بھی آپ سے بولنے کی ہمت نہ ہوئی۔ انہیں میں ایک شخص تھے جن کے ہاتھ لمبے تھے اور انہیں ذوالیدین کہا جاتا تھا۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے یا نماز کم کر دی گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز میں کوئی کمی ہوئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا۔ کیا ذوالیدین صحیح کہہ رہے ہیں۔ حاضرین بولے کہ جی ہاں! یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور باقی رکعتیں پڑھیں۔ پھر سلام پھیرا پھر تکبیر کہی اور سہو کا سجدہ کیا۔ معمول کے مطابق یا اس سے بھی لمبا سجدہ۔ پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ پھر تکبیر کہی اور دوسرا سجدہ کیا۔ معمول کے مطابق یا اس سے بھی طویل پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی، لوگوں نے باربار ابن سیرین سے پوچھا کہ کیا پھر سلام پھیرا تو وہ جواب دیتے کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ عمران بن حصین کہتے تھے کہ پھر سلام پھیرا۔
482
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

484
1
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Intertwine The Fingers During Salat
باب: نماز میں ایک ہاتھ کی انگلیوں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
(47) CHAPTER. While entering the mosque etc., one should start with the right foot.
مسجد میں داخل ہونے اور دوسرے کاموں میں بھی دائیں طرف سے ابتداء کرنے کے بیان میں
Sahih Bukhari
3
Chapter: It is recommended to lick one's fingers and wipe the bowl, and to eat a piece of food that is dropped after removing any dirt on it. It is disliked to wipe one's hand before licking it, because of the possibility that the blessing of the food may be in that remaining part. The Sunnah is to eat with three fingers
انگلیاں اور کھانے کا برتن چاٹنے اور نیچے گرجانے والے لقمے کو جو ناپسند چیز لگی ہے،اسے صاف کرکے کھالینے کااستحباب اور اس کو چاٹنے سے پہلے ،کہ برکت اسی میں ہوسکتی ہے،ہاتھ پونچھنا مکروہ ہے اور سنت تین انگلیوں سے کھانا ہے
Sahih Muslim
4
مسجد میں انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
Chapter: What Has Been Related About Putting The Fingers In The Ears For The Adhan
باب: اذان کے وقت شہادت کی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں داخل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
CHAPTER. To scrape off the sputum from the mosque with the hand (using some tool or other, or using no tool).
مسجد میں تھوک لگا ہو تو ہاتھ سے اس کا کھرچ ڈالنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
7
(60) CHAPTER. If one entered a mosque, one should offer two Raka (Tahayyat-al-Masjid) before sitting.
جب کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنی چاہیے
Sahih Bukhari
8
(67) CHAPTER. Passing through a mosque (is permissible).
مسجد میں تیر وغیرہ لے کر گزرنا
Sahih Bukhari
9
(77) CHAPTER. To pitch a tent in the mosque for patients, etc.
مسجد میں مریضوں وغیرہ کے لیے خیمہ لگانا
Sahih Bukhari
10
(82) CHAPTER. The entering of a pagan in the mosque.
مشرک کا مسجد میں داخل ہونا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
11
(71) CHAPTER. Whoever offered two Raka prayer of Tawaf outside the mosque.
اس شخص کے بارے میں جس نے طواف کی دو رکعتیں مسجدالحرام سے باہر پڑھیں
Sahih Bukhari
12
(141) CHAPTER. To raise the hands (for invocation) near Al-Jamrat-ud-Dunya and Al-Jamrat-ul-Wusta.
پہلے اور دوسرے جمرہ کے پاس جا کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا
Sahih Bukhari
13
(117) CHAPTER. The permission taken by a woman from her husband to go to the mosque.
مسجد وغیرہ میں جانے کے لئے عورت کا اپنے شوہر سے اجازت لینا ۔
Sahih Bukhari
14
(19) CHAPTER. Whoever passed a judgement in the mosque and when the actual legal punishement was to be put to action,he ordered the guilty person to be taken outside the mosque so that the punishment might be carried out.
حدکا مقدمہ مسجد میں سننا پھر جب حد لگانے کا وقت آئے تو مجرم کو مسجد کے باہر لے جانا
Sahih Bukhari
15
Chapter: The recommendation to place the hands on the knees when bowing, and the abrogation of tatbiq
رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا افضل ہے، تطبیق (ہتھیلیوں کو جوڑ کر، انگلیوں کو پیوستہ کر کے، انہیں گھٹنوں کے درمیان رکھنا) منسوخ ہے
Sahih Muslim
16
Chapter: Confirmation of the reward of the one who gives Charity, even if the Charity ends up in the hands of an evildoer, and the like
صدقہ کرنے والے کو اجر ملتا ہے چاہے (اس کا )صدقہ کسی فاسق وغیرہ کے ہاتھ لگ جائے ک
Sahih Muslim
17
Chapter: Supplication When Entering The Mosque
مسجد میں داخل ہونے کے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
18
(30)Chapter: [What Has Been Related] About Going Between The Fingers
باب: انگلیوں کے (درمیان) خلال کا بیان​
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Spreading The Fingers With The Takbir
باب: اللہ اکبر کہتے وقت انگلیاں کھلی رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Blood-Money For Fingers
باب: انگلیوں کی دیت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Licking The Fingers (After The Meal)
باب: کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related Linking The Obligations To Iman
باب: ایمان میں دوسرے فرائض و واجبات کے داخل ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related [About] The Muslims Is The One From (The Harm Of) Whose Tongue And Hand (other) Muslims Are Safe
باب: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ (کے شر) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں
Jam e Tirmazi
24
ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
Musnad Ahmad
25
صحابۂ کرام کاآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مبارک ہاتھ اور انگلیوں کے اثر سے تبرک حاصل کرنا
Musnad Ahmad
26
(52) CHAPTER. Teaching religious knowledge and giving religious verdicts in a mosque.
مسجد میں علمی مذاکرہ کرنا اور فتوی دینا جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
27
(57) CHAPTER. The Prophet and the people left the bedouin undisturbed till he finished urinating in the mosque.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک دیہاتی کو چھوڑ دینا جب تک کہ وہ مسجد میں پیشاب سے فارغ نہ ہوگیا
Sahih Bukhari
28
(58) CHAPTER. The pouring of water over the urine in the mosque.
مسجد میں پیشاب پر پانی بہا دینے کے بیان میں
Sahih Bukhari
29
(17) CHAPTER. If someone while in the mosque remembers that he is Junub , he should leave (the mosque to take a bath) and should not perform Tayammum.
جب کوئی شخص مسجد میں ہو اور اسے یاد آئے کہ مجھ کو نہانے کی حاجت ہے تو اسی طرح نکل جائے اور تیمم کرے
Sahih Bukhari
30
CHAPTER. To scrape off the sputum from the mosque with the hand (using some tool or other, or using no tool).
مسجد میں رینٹ کو کنکری سے کھرچ ڈالنا
Sahih Bukhari
31
(37) CHAPTER. The expiation for spitting in the mosque.
مسجد میں تھوکنے کا کفارہ
Sahih Bukhari
32
(38) CHAPTER. The burying of the expectoration in the mosque.
مسجد میں بلغم کو مٹی کے اندر چھپا دینا ضروری ہے
Sahih Bukhari
33
(41) CHAPTER. It is permissible to say, “Masjid (mosque) of Bani so-and-so?”
اس بارے میں کہ کیا یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ مسجد فلاں خاندان والو ں کی ہے
Sahih Bukhari
34
(42) CHAPTER. The distribution (of goods or wealth) and the hanging of a cluster of dates in the mosque.
مسجد میں مال تقسیم کرنا اور مسجد میں کھجور کا خوشہ لٹکانا
Sahih Bukhari
35
(43) CHAPTER. Receiving an invitation to dinner in the mosque and accepting it.
جسے مسجد میں کھانے کے لیے کہا جائے اور وہ اسے قبول کر لے
Sahih Bukhari
36
(44) CHAPTER. To give the judicial verdicts in the mosque and to perform the Al-Lian between men and women (husbands and wives) there.
مسجد میں فیصلے کرنا اور مردوں اور عورتوں ( خاوند ، بیوی ) کے درمیان لعان کرانا ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
37
(48) CHAPTER. Is it permissible to dig the graves of pagans of the Period of Ignorance, and to use that place as a mosque?
کیا دور جاہلیت کے مشرکوں کی قبروں کو کھود ڈالنا اور ان کی جگہ مسجد بنانا درست ہے ؟
Sahih Bukhari
38
(57) CHAPTER. Sleeping of a woman in the mosque (and residing in it).
عورت کا مسجد میں سونا
Sahih Bukhari
39
(58) CHAPTER. Sleeping of men in the mosque.
مسجدوں میں مردوں کا سونا
Sahih Bukhari
40
(61) CHAPTER. Al-Hadath (Passing wind) in the mosque.
مسجد میں ریاح ( ہوا ) خارج کرنا
Sahih Bukhari
41
(62) CHAPTER. The construction of (the Prophet's) mosque.
مسجد کی عمارت
Sahih Bukhari
42
(63) CHAPTER. To co-operate in building a mosque.
مسجد بنانے میں مدد کرنا ( یعنی اپنی جان و مال سے حصہ لینا کار ثواب ہے )
Sahih Bukhari
43
(64) CHAPTER. Employing the carpenter and the technical hand (artisan) in making the wooden pulpit or building the mosque.
بڑھئی اور کاریگر سے مسجد کی تعمیر میں اور منبر کے تختوں کو بنوانے میں مدد حاصل کرنا ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
44
(65) CHAPTER. (The superiority of) whoever built a mosque.
جس نے مسجد بنائی اس کے اجر و ثواب کا بیان
Sahih Bukhari
45
(66) CHAPTER. While passing through a mosque, (one should better) hold the arrowheads (with the hand).
جب کوئی مسجد میں جائے تو اپنے تیر کے پھل کو تھامے رکھے تاکہ کسی نمازی کو تکلیف نہ ہو
Sahih Bukhari
46
(68) CHAPTER. (What is said about) reciting poetry in the mosque?
مسجد میں شعر پڑھنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
47
(69) CHAPTER. The presence of spearmen (with their spears) in the mosque (is permissible).
چھوٹے چھوٹے نیزوں ( بھالوں ) سے مسجد میں کھیلنے والوں کے بیان میں
Sahih Bukhari
48
(70) CHAPTER. Mentioning about sales and purchases on the pulpit in the mosque.
مسجد کے منبر پر مسائل خریدوفروخت کا ذکر کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
49
(71) CHAPTER. Asking a debtor to repay what he owes, and catching the debtor in the mosque.
قرض کا تقاضہ اور قرض دار کا مسجد تک پیچھا کرنا
Sahih Bukhari
50
(72) CHAPTER. Sweeping (cleaning) of the mosque and removing rags, dirt and sticks from it.
مسجد میں جھاڑو دینا اور وہاں کے چیتھڑے ، کوڑے کرکٹ اور لکڑیوں کو چن لینا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

691
Mishkat
1017
وَعَن ابْن سِيرِين عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعشي - قَالَ ابْن سِيرِين سَمَّاهَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَلَكِنْ نَسِيتُ أَنَا قَالَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا كَأَنَّهُ غَضْبَانُ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَوَضَعَ خَدَّهُ الْأَيْمَنَ عَلَى ظَهْرِ كَفه الْيُسْرَى وَخرجت سرعَان مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالُوا قَصُرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ قَالَ يَا رَسُول الله أنسيت أم قصرت الصَّلَاة قَالَ: «لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ» فَقَالَ: «أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟» فَقَالُوا: نَعَمْ. فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى مَا تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ فَرُبَّمَا سَأَلُوهُ ثُمَّ سَلَّمَ فَيَقُولُ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ ثمَّ سلم. وَلَفْظُهُ لِلْبُخَارِيِّ وَفِي أُخْرَى لَهُمَا: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَلَ «لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ» : «كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ» فَقَالَ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ
ابن سرین ؒ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی ، ابن سرین ؒ نے فرمایا : ابوہریرہ ؓ نے اس کا نام بھی بتایا تھا لیکن میں اسے بھول گیا ہوں ، انہوں نے فرمایا : آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں ، پھر مسجد میں رکھی ہوئی لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے گویا آپ غصہ کی حالت میں تھے ، آپ نے دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا ، انگلیوں میں انگلیاں ڈالیں اور اپنا دایاں رخسار بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھ دیا ، اور جلد باز لوگ مسجد کے دروازوں سے باہر چلے گئے ، باقی صحابہ نے کہا : (کیا) نماز کم کر دی گئی ہے ؟ صحابہ کرام میں ابوبکر ؓ و عمر ؓ بھی موجود تھے ، لیکن وہ بھی آپ سے بات کرنے سے گھبراتے تھے ، صحابہ میں ایک آدمی تھا جس کے ہاتھ لمبے تھے اور اسے ذوالیدین کہا جاتا تھا ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں بھولا ہوں نہ نماز کم کی گئی ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا ایسے ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ آگے بڑھے ، اور جو نماز چھوڑی تھی وہ پڑھائی ، پھر سلام پھیرا ، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے سجدوں کی طرح یا ان سے بھی زیادہ لمبا سجدہ کیا ، پھر سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا ، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے سجدوں کی مثل یا ان سے زیادہ لمبا سجدہ کیا ، پھر اپنا سر اٹھایا ، اور اللہ اکبر کہا ۔ چنانچہ انہوں (تلامذہ) نے ابن سرین ؒ سے پوچھا : پھر آپ نے سلام پھیرا ؟ وہ بیان کرتے ہیں ، مجھے بتایا گیا کہ عمران بن حصین ؓ نے فرمایا : پھر آپ نے سلام پھیرا ۔ بخاری ، مسلم اور الفاظ حدیث بخاری کے ہیں ۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ((لم انس ولم تقصر)) کے بدلے ((کل ذالک لم یکن)) کہا :’’ یہ سب کچھ نہیں ہوا ۔‘‘ تو انہوں (ذوالیدین) نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ان میں (یعنی نہ میں بھولا ہوں نہ نماز قصر کی گئی ہے) سے کچھ تو ہوا ہے ۔ متفق علیہ ۔
Sunnan Nisai
1225
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَأَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ وَلَكِنِّي نَسِيتُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَلَّمَ فَانْطَلَقَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ بِيَدِهِ عَلَيْهَا كَأَنَّهُ غَضْبَانُ وَخَرَجَتِ السَّرَعَانُ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ،‏‏‏‏ فَقَالُوا:‏‏‏‏ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏ فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ يُسَمَّى ذَا الْيَدَيْنِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَقَالَ:‏‏‏‏ أَكَمَا قَالَ ذُو الْيَدَيْنِ ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ نَعَمْ،‏‏‏‏ فَجَاءَ فَصَلَّى الَّذِي كَانَ تَرَكَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَبَّرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ كَبَّرَ .
It was narrated that Muhammad bin Sirin said: Abu Hurairah said: 'The Prophet (ﷺ) led us in one of the nighttime prayers.' He said: Abu Hurairah said: 'But I forgot (which one).' He said: 'He led us in praying two rak'ahs, then he said the taslim and went to a piece of wood that was lying in the masjid and leaned his hand on it as if he was angry. Those who were in a hurry left the masjid, and said: The prayer has been shortened. Among the people were Abu Bakr and 'Umar but they hesitated to ask him for they revere him. Also among the people was a man with long hands who was known as Dhul-Yadain. He said: O Messenger of Allah (ﷺ), did you forget or has the prayer been shortened? He said: I did not forget and the prayer has not been shortened. He said: Is it as Dhul-Yadain says? They said: yes. So he came and prayed what he had missed, then he said the salam, then he said the takbir and prostrated as usual or longer than that. Then he raised his head and said the takbir, and prostrated as usual or longer than that. Then he raised his head and said the takbir.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو شام کی دونوں نمازوں  ( ظہر یا عصر )  میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی، لیکن میں بھول گیا  ( کہ آپ نے کون سی نماز پڑھائی تھی )  تو آپ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا، پھر آپ مسجد میں لگی ایک لکڑی کی جانب گئے، اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ گویا آپ غصہ میں ہیں، اور جلد باز لوگ مسجد کے دروازے سے نکل گئے، اور کہنے لگے: نماز کم کر دی گئی ہے، لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم  ( بھی )  تھے، لیکن وہ دونوں ڈرے کہ آپ سے اس سلسلہ میں پوچھیں، لوگوں میں ایک شخص تھے جن کے دونوں ہاتھ لمبے تھے، انہیں  ذوالیدین   ( دو ہاتھوں والا )  کہا جاتا تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں یا نماز ہی کم کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  نہ تو میں بھولا ہوں، اور نہ نماز ہی کم کی گئی ہے ، آپ نے  ( لوگوں سے )  پوچھا:  کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟  لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں،  ( ایسا ہی ہے )  چنانچہ آپ ( مصلے پر واپس آئے )  اور وہ  ( دو رکعتیں )  پڑھیں جنہیں آپ نے چھوڑ دیا تھا، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے سجدوں کے جیسا یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور اللہ اکبر کہا، اور اپنے سجدوں کی طرح یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا پھر اللہ اکبر کہا۔
Mishkat
287
وَعَنْهُ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ: «مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ نَفسه فيهمَا بِشَيْء إِلَّا غفر لَهُ مَا تقدم من ذَنبه» . وَلَفظه للْبُخَارِيّ
عثمان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا تو تین مرتبہ اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا ، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی ، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا ، پھر تین مرتبہ کہنی سمیت اپنا دایاں ہاتھ دھویا ، پھر تین مرتبہ کہنی سمیت اپنا بایاں ہاتھ دھویا ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر تین مرتبہ اپنا دایاں پاؤں دھویا ، پھر تین مرتبہ بایاں ، پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ کو دیکھا ، آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا ، پھر فرمایا :’’ جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرتا ہے ، پھر دو رکعتیں پڑھتا ہے اور وہ اس دوران اپنے دل میں کسی قسم کا خیال نہ لائے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ، حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۳۴) و مسلم ۔
Mishkat
791
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ بِ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ وَكَانَ يخْتم الصَّلَاة بِالتَّسْلِيمِ. رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نماز اللہ اکبر سے اور قراءت ((الحمدللہ رب العالمین)) سے شروع کیا کرتے تھے ، جب آپ رکوع کرتے تو اپنا سر مبارک اوپر اٹھاتے تھے نہ نیچے جھکاتے تھے ، بلکہ ان دونوں صورتوں کے درمیان (برابر) رکھتے تھے ، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بالکل سیدھا کھڑے ہوتے اور پھر سجدہ کرتے ، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو پھر اطمینان سے بیٹھ جاتے اور پھر دوسرا سجدہ کرتے ، آپ ہر دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھتے تھے ۔ آپ بائیں پاؤں کو بچھا دیتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے ، آپ شیطان کی طرح بیٹھنے (سرین کے بل بیٹھ کر ٹانگیں کھڑی کر لینا اور ہاتھ زمین پر لگا دینا) سے اور درندوں کی طرح بازو بچھا کر سجدہ کرنے سے منع کیا کرتے تھے ، اور آپ ﷺ ’’ السلام علیکم و رحمۃ اللہ ‘‘ پر نماز ختم کیا کرتے تھے ۔
Sahih Bukhari
1934
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حُمْرَانَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمَرْفِقِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى إِلَى الْمَرْفِقِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ، ثُمَّ الْيُسْرَى ثَلَاثًا ، ثُمّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وَضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا بِشَيْءٍ ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ .
Narrated Humran: I saw `Uthman performing ablution; he washed his hands thrice, rinsed his mouth and then washed his nose, by putting water in it and then blowing it out, and washed his face thrice, and then washed his right forearm up to the elbow thrice, and then the left-forearm up to the elbow thrice, then smeared his head with water, washed his right foot thrice, and then his left foot thrice and said, I saw Allah's Apostle performing ablution similar to my present ablution, and then he said, 'Whoever performs ablution like my present ablution and then offers two rak`at in which he does not think of worldly things, all his previous sins will be forgiven.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن زید نے، ان سے حمران نے انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، آپ نے ( پہلے ) اپنے دونوں ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا پھر کلی کی اور ناک صاف کی، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ کہنی تک دھویا، پھر بایاں ہاتھ کہنی تک دھویا تین تین مرتبہ، اس کے بعد اپنے سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ داہنا پاؤں دھویا، پھر تین مرتبہ بایاں پاؤں دھویا، آخر میں کہا کہ جس طرح میں نے وضو کیا ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے، پھر آپ نے فرمایا تھا کہ جس نے میری طرح وضو کیا پھر دو رکعت نماز ( تحیۃ الوضو ) اس طرح پڑھی کہ اس نے دل میں کسی قسم کے خیالات و وساوس گزرنے نہیں دیئے تو اس کے اگلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
Sahih Muslim
538
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ». ثُمَّ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ عُلَمَاؤُنَا يَقُولُونَ: هَذَا الْوُضُوءُ أَسْبَغُ مَا يَتَوَضَّأُ بِهِ أَحَدٌ لِلصَّلَاةِ
Humran, the freed slave of 'Uthman, said: Uthman b. 'Affan called for ablution water and this is how he performed the ablution. He washed his hands thrice. He then rinsed his mouth and cleaned his nose with water (three times). He then washed his face three times, then washed his right arm up to the elbow three times, then washed his left arm like that, then wiped his head; then washed his right foot up to the ankle three times, then washed his left foot like that, and then said: I saw the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) perform ablution like this ablution of mine. Then the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who performs ablution like this ablution of mine and then stood up (for prayer) and offered two rak'ahs of prayer without allowing his thoughts to be distracted, all his previous sins are expiated. Ibn Shihab said: Our scholars remarked: This is the most complete of the ablutions performed for prayer.
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عطاء بن یزید نے انہیں خبر دی کہ حمران نے ، جوحضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، انہیں بتایا کہ حضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے وضوکے لیے پانی منگوایا اور وضو کیا تو دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا ، پھر کلی کی اور ( ناک میں پانی ڈال کر ) ناک جھاڑی ، پھر تین بار چہرہ دھویا ، پھر تین بار دایاں بازو کہنیوں تک دھویا ، پھر اسی طرح بایاں دھویا ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر تین بار اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں تک دھویا ، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا کہ آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے اب کیا ہے ، پھر رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس شخص نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا ، پھر اٹھ کر دو رکعتیں ادا کیں ، ان دونوں کے دوران میں اپنے آپ سے باتیں نہ کیں ، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘ ابن شہاب نے کہا : ہمارے علماء ( تابعین ) کہا کرتے تھے کہ یہ کامل ترین وضو ہے جو کوئی انسان نماز کے لیے کرتا ہے ۔
Sahih Muslim
1110
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ. وَالْقِرَاءَةِ، بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ، وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ، حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ، لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا، وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ. وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ» وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ
A'isha reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to begin prayer with takbir (saying Allahu Akbar) and the recitation: Praise be to Allah, the Lord of the Universe. When he bowed he neither kept his head up nor bent it down, but kept it between these extremes; when he raised his head after bowing he did not prostrate himself till he had stood erect; when he raised his head after prostration he did not prostrate himself again till he sat up. At the end of every two rak'ahs he recited the tahiyya; and he used to place his left foot flat (on the ground) and raise up the right; he prohibited the devil's way of sitting on the heels, and he forbade people to spread out their arms like a wild beast. And he used to finish the prayer with the taslim.
محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو خالد احمر نے حسین معلم سے حدیث سنائی ، نیز اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ( الفاظ انہی کے ہیں ) ، ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ، کہا : ہمیں حسین معلم نے حدیث بیان کی ، انہوں نے بدیل بن میسرہ سے ، انہوں نے ابو جوزاء سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نماز کا آغاز تکبیر سے اور قراءت کا آغاز ﴿الحمد لله رب العالمين﴾ سے کرتے اور جب رکوع کرتے تو اپنا سر نہ پشت سے اونچا کرتے اور نہ اسے نیچے کرتے بلکہ درمیان میں رکھتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سجدے میں نہ جاتے حتیٰ کہ سیدھے کھڑے ہو جاتے اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو ( دوسرا ) سجدہ نہ کرتے حتیٰ کہ سیدھے بیٹھ جاتے ۔ اور ہر دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھتے اور اپنا بایاں پاؤں بچھا لیتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور شیطان کی طرح ( دونوں پنڈلیاں کھڑی کر کے ) پچھلے حصے پر بیٹھنے سے منع فرماتے اور اس سے بھی منع فرماتے اور اس سے بھی منع فرماتے کہ انسان اپنے بازو اس طرح بچھا دے جس طرح درندہ بچھاتا ہے ، اور نماز کا اختتام سلام سے کرتے ۔
Sunnan Abu Dawood
106
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْحُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا فَغَسَلَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ .
Humran bin Abban, the freed slave of Uthman, said: I saw Uthman bin Affan while he performed ablution. He poured water over his hands three times and then washed them. He then rinsed his mouth and then cleansed his nose with water (three times). He then washed his right arm up to the elbow three times, then two rakhahs of prayer without allowing his thoughts to be distracted, Allah will pardon all his past sins washed his left arm in a similar manner; then wiped his head; then washed his right foot three times, then washed his left foot in a similar manner, and then said: I saw the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم performing ablution like this ablution of mine. Then he (the Prophet) said: He who performs ablution like this ablution of mine and then offered.
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام حمران بن ابان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا تو پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالا ان کو دھویا، پھر کلی کی، اور ناک جھاڑی، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، اور اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، اور پھر اسی طرح بایاں ہاتھ، پھر سر پر مسح کیا، پھر اپنا داہنا پاؤں تین بار دھویا، پھر بایاں پاؤں اسی طرح، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اسی وضو کی طرح وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر دو رکعت نماز پڑھے اس میں دنیا کا خیال و وسوسہ اسے نہ آئے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے پچھلے گناہ کو معاف فرما دے گا ۔
Sunnan Abu Dawood
783
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَائِشَة، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشَخِّصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِي قَاعِدًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّاتُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ إِذَا جَلَسَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ وَعَنْ فَرْشَةِ السَّبُعِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ .
Aishah said: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم began prayer with the takbir (Allah is most great) and with reciting “Praise be to Allah, the Lord of the Universe”. And when he bowed, he neither raised up nor lowered down his head, but kept it between the two (conditions). And when he raised his head after bowing, he did not prostrate himself until he stood up straight; and when he raised his head after prostration, he did not prostrate (the second time) until he sat down properly; and he recited al-tahiyyat after every pair of rak’ahs; and when he sat, he spread out his left foot and raised his right. He forbade to sit like the sitting of the devil, and to spread out to hands (on the ground in prostration) like animals. He used to finish prayer with uttering the salutation.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو تکبیر تحریمہ «الله اكبر» اور «الحمد لله رب العالمين»کی قرآت سے شروع کرتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو نہ اپنا سر اونچا رکھتے اور نہ اسے جھکائے رکھتے بلکہ درمیان میں رکھتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاتے، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ بالکل سیدھے بیٹھ جاتے، اور ہر دو رکعت کے بعد «التحيات» پڑھتے، اور جب بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں بچھاتے اور اپنا داہنا پاؤں کھڑا رکھتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے ۱؎ سے اور درندوں کی طرح ہاتھ بچھانے ۲؎ سے منع کرتے اور نماز سلام سے ختم کرتے۔