TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6805 - (18) CHAPTER. The Prophet branded the eyes of those who fought (against Allah and His Messenger ). - The book of al-maharbeen. - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
(18) CHAPTER. The Prophet branded the eyes of those who fought (against Allah and His Messenger ).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتدین لڑنے والوں کی آنکھوں میں سلائی پھروانا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ أَوْ قَالَ عُرَيْنَةَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ مِنْ عُكْلٍ ، قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا ، فَشَرِبُوا حَتَّى إِذَا بَرِئُوا ، قَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي إِثْرِهِمْ ، فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ ، فَأُلْقُوا بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : هَؤُلَاءِ قَوْمٌ سَرَقُوا وَقَتَلُوا ، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ، وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
Narrated Anas bin Malik: A group of people from `Ukl (or `Uraina) tribe ----but I think he said that they were from `Ukl came to Medina and (they became ill, so) the Prophet ordered them to go to the herd of (Milch) she-camels and told them to go out and drink the camels' urine and milk (as a medicine). So they went and drank it, and when they became healthy, they killed the shepherd and drove away the camels. This news reached the Prophet early in the morning, so he sent (some) men in their pursuit and they were captured and brought to the Prophet before midday. He ordered to cut off their hands and legs and their eyes to be branded with heated iron pieces and they were thrown at Al-Harra, and when they asked for water to drink, they were not given water. (Abu Qilaba said, Those were the people who committed theft and murder and reverted to disbelief after being believers (Muslims), and fought against Allah and His Apostle ).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ عکل یا عرینہ کے چند لوگ میں سمجھتا ہوں عکل کا لفظ کہا، مدینہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دودھ دینے والی اونٹنیوں کا انتظام کر دیا اور فرمایا کہ وہ اونٹوں کے گلہ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔ چنانچہ انہوں نے پیا اور جب وہ تندرست ہو گئے تو چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہنکا لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ خبر صبح کے وقت پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے سوار دوڑائے۔ ابھی دھوپ زیادہ پھیلی بھی نہیں تھی کہ وہ پکڑ کر لائے گئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کے بھی ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی بھی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی اور انہیں حرہ میں ڈال دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ ابوقلابہ نے کہا کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان کے بعد کفر اختیار کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول سے غدارانہ لڑائی لڑی تھی۔
6805
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

724
1
(16) CHAPTER. The Prophet did not cauterize (the amputated limbs of) those who fought (against Allah and His Messenger) and of those who were renegades (reverted from Islam) (therefore they bled) till they died.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مرتد ڈاکوؤں کے ( زخموں پر ) داغ نہیں لگوایا ، یہاں تک کہ وہ مرگئے
Sahih Bukhari
2
(12) CHAPTER. The virtues of the relatives of Allah's Messenger . And the merits of Fatima the daughter of the Prophet.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہداروں کے فضائل اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کا بیان
Sahih Bukhari
3
(28) CHAPTER. The advent of the Prophet , (as Messenger of Allah).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا بیان
Sahih Bukhari
4
(62) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Our invocation against the Jews will be accepted (by Allah), but their invocations against us will not be accepted.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ یہودکے حق میں ہماری ( جوابی دعا ئیں قبول ہوتی ہیں لیکن ان کی کوئی بددعا ہمارے حق میں قبول نہیں ہوتی ۔
Sahih Bukhari
5
(45) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.): A man whom Allah gave the knowledge of the Quran and he read it [in Salat (prayer)] during the hours of the night and the day; and another man says, ‘If I have been given what this man has been given, I would do the same as he is doing.' So Allah's Messenger (p.b.u.h.) showed that his reciting the Quran in Salat in his action.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ ” ایک شخص جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا اور رات دن وہ اس مین مشغول رہتا ہے ۔
Sahih Bukhari
6
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Lying Against The Messenger Of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے
Jam e Tirmazi
7
(42) CHAPTER. The statement of the Prophet : Religion is An-Nasihah (to be sincere and true) to Allah, to His Messenger (Muhammad ), to the Muslim rulers, and to all the Muslims.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ دین سچے دل سے اللہ کی فرمانبرداری اور اس کے رسول اور مسلمان حاکموں اور تمام مسلمانوں کی خیرخواہی کا نام ہے
Sahih Bukhari
8
(17) CHAPTER. The statement of the Prophet : “O Allah! Bestow on him (Ibn Abbas) the knowledge of the Book (the Quran).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ” اللہ اسے قرآن کا علم عطا فرمائیو ! “
Sahih Bukhari
9
(38) CHAPTER. The sin of a person who tells a lie against the Prophet .
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والے کا گناہ کس درجے کا ہے
Sahih Bukhari
10
(3) CHAPTER. The Prophet used to wake his family up for the Witr prayer.
وتر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر والوں کو جگانا
Sahih Bukhari
11
(2) CHAPTER. Invocation of the Prophet : O Allah! Send (drought-famine) years on them (pagans of Makkah) like the (drought-famine) years of (Prophet) Yusuf (Joseph).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کے کافروں پر بددعا کرناکہ الٰہی ان کے سال ایسے کر دے جیسے یوسف علیہ السلام کے سال ( قحط ) کے گزرے ہیں
Sahih Bukhari
12
(6) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Allah frightens Ibadahu (His devotees or slaves) with Kusuf (eclipse).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سورج گرہن کے ذریعہ ڈراتا ہے
Sahih Bukhari
13
(36) CHAPTER. Hajj-at-Tamattu during the lifetime of Allah's Messenger .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تمتع کا جاری ہونا
Sahih Bukhari
14
(53) CHAPTER. Allah's Blessing in the Sa and Mudd of the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع اور مد کی برکت کا بیان
Sahih Bukhari
15
(4) CHAPTER. The pledge of protection given to Abu Bakr (by someone) during the lifetime by Allah's Messenger .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ( ایک مشرک کو ) امان دینا اور اس کے ساتھ آپ کا عہد کرنا
Sahih Bukhari
16
(102) CHAPTER. The invitation of the Prophet (p.b.u.h) to embrace Islam, and to believe in his Prophethood and not to take each other as Lords instead of Allah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( غیر مسلموں کو ) اسلام کی طرف دعوت دینا
Sahih Bukhari
17
(24) CHAPTER. The eyes of the Prophet (p.b.u.h) used to sleep, but his heart used not to sleep.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ظاہر میں سوتی تھیں لیکن دل غافل نہیں ہوتا تھا
Sahih Bukhari
18
(9) CHAPTER. The invocation of the Prophet : “O Allah! Improve and make right the state of the Ansar and the Muhajirun (i.e., the emigrants).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کرنا کہ ( اے اللہ ! ) انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما
Sahih Bukhari
19
(39) CHAPTER. The oath taken by the Mushrikun against the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشرکین کا عہد و پیمان کرنا
Sahih Bukhari
20
(49) CHAPTER. The statement of the Prophet : “O Allah! Complete the emigration of my Companions,” and his lamentation for those (emigrants) who died in Makkah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کہ اے اللہ ! میرے اصحاب کی ہجرت قائم رکھ اور جومہاجر مکہ میں انتقال کر گئے ان کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار رنج و غم
Sahih Bukhari
21
(40) CHAPTER. The appointment of a ruler for Khaibar by the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیبر والوں پر تحصیل دار مقرر فرمانا
Sahih Bukhari
22
(41) CHAPTER. The dealing of the Prophet with the people of Khaibar.
خیبر والوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ طے کرنا
Sahih Bukhari
23
(90) CHAPTER. How many Ghazawat the Prophet fought.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کل کتنے غزوے کئے ہیں ؟
Sahih Bukhari
24
(17) CHAPTER.The saying of Prophet : “So slaughter by mentioning the Name of Allah.”
اس بارے میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جانور کو اللہ ہی کے نام پر ذبح کرنا چاہیئے ۔
Sahih Bukhari
25
(3) CHAPTER. The Prophet seeking of Allah's forgiveness by daytime and at night.
دن اور رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار کرنا ۔
Sahih Bukhari
26
(29) CHAPTER. The invocation of the Prophet , “O Allah! (Let me join) the Highest Companions. (See Quran V.4:69)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرضالموت میں دعا کرنا کہ یا اللہ ! مجھ کو آخرت میں رفیق اعلیٰ ( ملائکہ اور انبیاء ) کے ساتھ ملا دے ۔
Sahih Bukhari
27
(33) CHAPTER. Can one (ask Allah) to send Salat on anybody other than the Prophet ? And the Statement of Allah: ...And invoke Allah for them. Verily! Your invocations are a source of security for them... (V.9:103)
کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور پر درود بھیجا جا سکتا ہے ؟
Sahih Bukhari
28
(34) CHAPTER. The statement of the Prophet : (O Allah!) If I should harm somebody, let that be a means of purification and mercy for him.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ اے اللہ ! اگر مجھ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو اس کے گناہوں کے لئے کفارہ اور رحمت بنا دے
Sahih Bukhari
29
(60) CHAPTER. The statement of the Prophet : “O Allah! Forgive my past and future sins.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں دعا کرنا کہ ” اے اللہ ! میرے اگلے اور پچھلے سب گناہ بخش دے ۔ “
Sahih Bukhari
30
(39) CHAPTER. The saying of the Prophet : “I have been sent, and the Hour (is at hand) as these two (fingers).” And the Statement of Allah: ...And the matter of the Hour is not but as a twinkling of the eye, or even nearer. Truly! Allah is Able to do all things. (V.16:77)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میں اور قیامت دونوں ایسے نزدیک ہیں جیسے یہ ( کلمہ اور بیچ کی انگلیاں ) نزدیک ہیں
Sahih Bukhari
31
(3) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Our (i.e., Messengers') property is not to be inherited, and whatever we leave (after our death), is Sadaqa (to be spent in charity).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ۔ جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے
Sahih Bukhari
32
(17) CHAPTER. No water was given to drink to those who turned renegades and fought (against Allah and His Messenger), till they died.
مرتد لڑنے والوں کو پانی بھی نہ دینا یہاں تک کہ پیاس سے وہ مرجائیں
Sahih Bukhari
33
(8) CHAPTER. The Statement of Prophet “The Hour will not be established till two (huge) groups fight against each other, their claim being one and the same.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دو ایسی جماعتیں آپس میں جنگ نہ کر لیں جن کا دعویٰ ایک ہی ہوگا
Sahih Bukhari
34
(7) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.) : “Whosoever takes up arms against us, is not from us.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ جو ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے
Sahih Bukhari
35
(7) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.) : “Whosoever takes up arms against us, is not from us.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر نہ بن جانا
Sahih Bukhari
36
(20) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.) about Al-Hasan bin Ali, This son of mine is a chief, and Allah may make peace between two groups of Muslims through him.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حسن رضیاللہعنہ کے متعلق فرمانا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور یقیناً اللہ پاک اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا ۔
Sahih Bukhari
37
(4) CHAPTER. The Prophet (p.b.u.h.) used to send commanders and messengers one after another.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عاملوں اور قاصدوں کو یکے بعد دیگر ے بھیجنا
Sahih Bukhari
38
(20) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.): “No person has more Ghaira than Allah.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ” اللہ سے زیادہ غیرتمند اور کوئی نہیں “ ۔
Sahih Bukhari
39
Chapter: The Prophet (SAW) Wore A Ring Of Silver On Which Was Inscribed The Words Muhammad Rasul Allah (Muhammad the Messenger of Allah), And The Caliphs Wore It After He Died
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاندی کی انگوٹھی پہنا کرتے تھے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نقش تھا ،آپ کے بعد وہ انگوٹھی آپ کے خلفاء نے پہنی
Sahih Muslim
40
CHAPTER: A stern warning against lying about the Messenger of Allah (peace be upon him).
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی سخت وعید کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
41
Chapter: What Has Been Mentioned About Praising Allah And Sending Salat Upon The Prophet Before Supplicating
باب: دعا سے پہلے اللہ کی تعریف کرنے اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related From The Messenger of Allah About The Judge
باب: قاضی اور قضاء کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About What The Messenger Of Allah (saws) Left Behind
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ترکہ کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Sword Of The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی تلوار کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Garment The Messenger Of Allah (saws) Like Most To Wear
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پسندیدہ کپڑوں کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Which Meat The Messenger Of Allah (saws) Used To Like Most
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا گوشت زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Which Drink Was The Most Beloved To The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا مشروب زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
50
Chapter: Regarding Refraining From What Was Prohibited By The Messenger of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جس چیز سے روک دیں اس سے رک جاؤ
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

32
Mishkat
3539
وَعَن أَنَسٍ قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَفَعَلُوا فَصَحُّوا فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ ثُمَّ لَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا . وَفِي رِوَايَةٍ: فَسَمَّرُوا أَعْيُنَهُمْ وَفِي رِوَايَةٍ: أَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ فَكَحَّلَهُمْ بِهَا وَطَرَحَهُمْ بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَمَا يُسْقَوْنَ حَتَّى مَاتُوا
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، عکل کے کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہ آئی تو آپ نے انہیں صدقہ کے اونٹوں کے پاس جانے کا حکم فرمایا تاکہ وہاں وہ ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں ، انہوں نے ایسے کیا اور وہ صحت یاب ہو گئے ، اس کے بعد وہ مرتد ہو گئے اور ان کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹ ہانک کر لے گئے آپ ﷺ نے ان کے تعاقب میں آدمی بھیجے تو وہ انہیں پکڑ کر لے آئے ، آپ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں ، پھر ان کا خون بہتا رہا حتی کہ وہ فوت ہو گئے ۔ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ انہوں نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ آپ ﷺ نے سلائیوں کے متعلق حکم فرمایا تو انہیں گرم کیا گیا اور انہیں ان کی آنکھوں میں پھیر کر انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا وہ پانی طلب کرتے رہے مگر انہیں پانی نہ دیا گیا حتی کہ وہ فوت ہو گئے ۔ متفق علیہ ۔
Sahih Bukhari
6802
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ ، فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا ، فَفَعَلُوا ، فَصَحُّوا ، فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا ، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ ، وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ ، ثُمَّ لَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا .
Narrated Anas: Some people from the tribe of `Ukl came to the Prophet and embraced Islam. The climate of Medina did not suit them, so the Prophet ordered them to go to the (herd of milch) camels of charity and to drink, their milk and urine (as a medicine). They did so, and after they had recovered from their ailment (became healthy) they turned renegades (reverted from Islam) and killed the shepherd of the camels and took the camels away. The Prophet sent (some people) in their pursuit and so they were (caught and) brought, and the Prophets ordered that their hands and legs should be cut off and that their eyes should be branded with heated pieces of iron, and that their cut hands and legs should not be cauterized, till they die.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ جرمی نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عکل کے چند لوگ آئے اور اسلام قبول کیا لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی ( ان کے پیٹ پھول گئے ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ صدقہ کے اونٹوں کے ریوڑ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ ملا کر پئیں۔ انہوں نے اس کے مطابق عمل کیا اور تندرست ہو گئے لیکن اس کے بعد وہ مرتد ہو گئے اور ان اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹ ہنکا لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے اور انہیں پکڑ کے لایا گیا پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں ( کیونکہ انہوں نے اسلامی چرواہے کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کیا تھا ) اور ان کے زخموں پر داغ نہیں لگوایا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔
Sahih Bukhari
233
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَدِمَ أُنَاسٌ مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ ، وَأَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا ، فَانْطَلَقُوا ، فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ ، فَجَاءَ الْخَبَرُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ ، فَلَمَّا ارْتَفَعَ النَّهَارُ جِيءَ بِهِمْ ، فَأَمَرَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : فَهَؤُلَاءِ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
Narrated Abu Qilaba: Anas said, Some people of `Ukl or `Uraina tribe came to Medina and its climate did not suit them. So the Prophet ordered them to go to the herd of (Milch) camels and to drink their milk and urine (as a medicine). So they went as directed and after they became healthy, they killed the shepherd of the Prophet and drove away all the camels. The news reached the Prophet early in the morning and he sent (men) in their pursuit and they were captured and brought at noon. He then ordered to cut their hands and feet (and it was done), and their eyes were branded with heated pieces of iron, They were put in 'Al-Harra' and when they asked for water, no water was given to them. Abu Qilaba said, Those people committed theft and murder, became infidels after embracing Islam and fought against Allah and His Apostle .
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے حماد بن زید سے، وہ ایوب سے، وہ ابوقلابہ سے، وہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ عکل یا عرینہ ( قبیلوں ) کے مدینہ میں آئے اور بیمار ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لقاح میں جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہاں اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ چنانچہ وہ لقاح چلے گئے اور جب اچھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر کے وہ جانوروں کو ہانک کر لے گئے۔ علی الصبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( اس واقعہ کی ) خبر آئی۔ تو آپ نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے۔ دن چڑھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ کر لائے گئے۔ آپ کے حکم کے مطابق ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور آنکھوں میں گرم سلاخیں پھیر دی گئیں اور ( مدینہ کی ) پتھریلی زمین میں ڈال دئیے گئے۔ ( پیاس کی شدت سے ) وہ پانی مانگتے تھے مگر انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ ابوقلابہ نے ( ان کے جرم کی سنگینی ظاہر کرتے ہوئے ) کہا کہ ان لوگوں نے چوری کی اور چرواہوں کو قتل کیا اور ( آخر ) ایمان سے پھر گئے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔
Sahih Bukhari
1501
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ اجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَرَخَّصَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ بِالْحَرَّةِ يَعَضُّونَ الْحِجَارَةَ ، تَابَعَهُ أَبُو قِلَابَةَ ، وَحُمَيْدٌ ، وَثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ .
Narrated Anas: Some people from `Uraina tribe came to Medina and its climate did not suit them, so Allah's Apostle (p.b.u.h) allowed them to go to the herd of camels (given as Zakat) and they drank their milk and urine (as medicine) but they killed the shepherd and drove away all the camels. So Allah's Apostle sent (men) in their pursuit to catch them, and they were brought, and he had their hands and feet cut, and their eyes were branded with heated pieces of iron and they were left in the Harra (a stony place at Medina) biting the stones. (See Hadith No. 234, Vol. 1)
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا ‘ اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ عرینہ کے کچھ لوگوں کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی کہ وہ زکوٰۃ کے اونٹوں میں جا کر ان کا دودھ اور پیشاب استعمال کریں ( کیونکہ وہ ایسے مرض میں مبتلا تھے جس کی دوا یہی تھی ) لیکن انہوں نے ( ان اونٹوں کے ) چرواہے کو مار ڈالا اور اونٹوں کو لے کر بھاگ نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے آخر وہ لوگ پکڑ لائے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دئیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروا دیں پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا ( جس کی شدت کی وجہ سے ) وہ پتھر چبانے لگے تھے۔ اس روایت کی متابعت ابوقلابہ ثابت اور حمید نے انس رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے کی ہے۔
Sahih Bukhari
3018
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْغِنَا رِسْلًا ، قَالَ : مَا أَجِدُ لَكُمْ إِلَّا أَنْ تَلْحَقُوا بِالذَّوْدِ فَانْطَلَقُوا ، فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا ، وَأَلْبَانِهَا حَتَّى صَحُّوا وَسَمِنُوا ، وَقَتَلُوا الرَّاعِيَ ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ ، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ ، فَأَتَى الصَّرِيخُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فَمَا تَرَجَّلَ النَّهَارُ حَتَّى أُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، ثُمَّ أَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ ، فَكَحَلَهُمْ بِهَا ، وَطَرَحَهُمْ بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَمَا يُسْقَوْنَ حَتَّى مَاتُوا ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : قَتَلُوا وَسَرَقُوا وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَعَوْا فِي الْأَرْضِ فَسَادًا .
Narrated Anas bin Malik: A group of eight men from the tribe of 'Ukil came to the Prophet and then they found the climate of Medina unsuitable for them. So, they said, O Allah's Apostle! Provide us with some milk. Allah's Apostle said, I recommend that you should join the herd of camels. So they went and drank the urine and the milk of the camels (as a medicine) till they became healthy and fat. Then they killed the shepherd and drove away the camels, and they became unbelievers after whey were Muslims. When the Prophet was informed by a shouter for help, he sent some men in their pursuit, and before the sun rose high, they were brought, and he had their hands and feet cut off. Then he ordered for nails which were heated and passed over their eyes, and whey were left in the Harra (i.e. rocky land in Medina). They asked for water, and nobody provided them with water till they died (Abu Qilaba, a sub-narrator said, They committed murder and theft and fought against Allah and His Apostle, and spread evil in the land. )
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمیوں کی جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( اسلام قبول کرنے کو ) حاضر ہوئی لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی ‘ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے لیے ( اونٹ کے ) دودھ کا انتظام کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے لیے دودھ نہیں دے سکتا ‘ تم ( صدقہ کے ) اونٹوں میں چلے جاؤ۔ ان کا دودھ اور پیشاب پیو ‘ تاکہ تمہاری صحت ٹھیک ہو جائے۔ وہ لوگ وہاں سے چلے گئے اور ان کا دودھ اور پیشاب پی کر تندرست ہو گئے تو چرواہے کو قتل کر دیا ‘ اور اونٹوں کو اپنے ساتھ لے کر بھاگ نکلے اور اسلام لانے کے بعد کفر کیا ‘ ایک شخص نے اس کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش کے لیے سوار دوڑائے ‘ دوپہر سے پہلے ہی وہ پکڑ کر لائے گئے۔ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے۔ پھر آپ کے حکم سے ان کی آنکھوں میں سلائی گرم کر کے پھیر دی گئی اور انہیں حرہ ( مدینہ کی پتھریلی زمین ) میں ڈال دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ سب مر گئے۔ ( ایسا ہی انہوں نے اونٹوں کے چرانے والوں کے ساتھ کیا تھا ‘ جس کا بدلہ انہیں دیا گیا ) ابوقلابہ نے کہا کہ انہوں نے قتل کیا تھا ‘ چوری کی تھی ‘ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کی تھی اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی تھی۔
Sunnan Nisai
306
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍحَدَّثَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أُنَاسًا أَوْ رِجَالًا مِنْ عُكْلٍ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ وَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا . فَلَمَّا صَحُّوا وَكَانُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ، ‏‏‏‏‏‏كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، ‏‏‏‏‏‏فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأُتِيَ بِهِمْ فَسَمَرُوا أَعْيُنَهُمْ وَقَطَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تُرِكُوا فِي الْحَرَّةِ عَلَى حَالِهِمْ حَتَّى مَاتُوا.
It was narrated that Anas bin Malik narrated that some people from 'Ukl came to the Messenger of Allah (ﷺ) and spoke about Islam. They said: 'O Messenger of Allah, we are nomads who follows the herds, not farmers and growers, and the climate of Al-Madinah does not suit us.' So the Messenger of Allah (ﷺ)told them to go out to a flock of female camels and drink their milk and urine. When they recovered - and they were in the vicinity of Al-Harrah - they apostatized after having become Muslim, killed the camel-herder of the Messenger of Allah (ﷺ) and drove the camels away. News of that reached the Messenger of Allah (ﷺ) and he sent people after them. They were brought back, their eyes were smoldered with heated nails, their hands and feet cut off, then they were left in Al-Harrah in that state until they died.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور اپنے اسلام لانے کی بات کی، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہم لوگ مویشی والے ہیں  ( جن کا گزارہ دودھ پر ہوتا ہے )  ہم کھیتی باڑی والے نہیں ہیں، مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں کچھ اونٹ اور ایک چرواہا دے دیا جائے، اور ان سے کہا کہ وہ جا کر مدینہ سے باہر رہیں، اور ان جانوروں کے دودھ اور پیشاب پئیں۱؎ چنانچہ وہ باہر جا کر حرّہ کے ایک گوشے میں رہنے لگے جب اچھے اور صحت یاب ہو گئے، تو اپنے اسلام لے آنے کے بعد کافر ہو گئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا، اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے تعاقب کرنے والوں کو ان کے پیچھے بھیجا  ( چنانچہ وہ پکڑ لیے گئے اور )  آپ کے پاس لائے گئے، تو لوگوں نے ان کی آنکھوں میں آگ کی سلائی پھیر دی ۲؎، اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے، پھر اسی حال میں انہیں  ( مقام ) حرہ میں چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ سب مر گئے۔
Sunnan Nisai
4030
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَنَسٍ:‏‏‏‏ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏ فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا ، ‏‏‏‏‏‏فَفَعَلُوا فَقَتَلُوا رَاعِيَهَا وَاسْتَاقُوهَا، ‏‏‏‏‏‏ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ،‏‏‏‏ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ،‏‏‏‏ وَتَرَكَهُمْ حَتَّى مَاتُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة المائدة آية 33 الْآيَةَ .
It was narrated from Anas that : Some people from 'Ukl came to the Prophet [SAW] but the climate of Al-Madinah did not suit them. The Prophet [SAW] told them to go to the camels that had been given in Sadaqah and drink some of their milk and urine. They did that, then they killed their herdsman and drove off the camels. The Prophet [SAW] sent (men) after them, and they were brought to him. He had their hands and feet cut off, and their eyes gouged out, and he did not have (their wounds) cauterized, and he left them to die. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: The recompense of those who wage war against Allah and His Messenger.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ صدقے و زکاۃ کے اونٹوں میں جا کر ان کا پیشاب اور دودھ پیئیں، انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر چرواہے کو قتل کر دیا اونٹوں کو ہانک لے گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں چند افراد بھیجے، جب پکڑ کر وہ لائے گئے تو آپ نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دئیے، ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں، اور ان کے زخموں کو داغا نہیں بلکہ یوں ہی چھوڑ دیا، یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إنما جزاء الذين يحاربون اللہ ورسوله»  ان لوگوں کا بدلہ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں، الآیۃ ۔
Sunnan Nisai
4037
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ:‏‏‏‏ أَنَّ نَاسًا أَوْ رِجَالًا مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِنَّا أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ،‏‏‏‏ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا،‏‏‏‏ فَيَشْرَبُوا مِنْ لَبَنِهَا،‏‏‏‏ وَأَبْوَالِهَا ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا صَحُّوا وَكَانُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ،‏‏‏‏ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، ‏‏‏‏‏‏ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأُتِيَ بِهِمْ،‏‏‏‏ فَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ عَلَى حَالِهِمْ حَتَّى مَاتُوا .
Anas bin Malik narrated that: Some people or some men from 'Ukl, or 'Uraynah came to the Messenger of Allah [SAW] and said: O Messenger of Allah, we are herdsmen, not tillers, the climate of Al-Madinah did not suit them. So the Messenger of Allah [SAW] ordered that they be allocated some camels and a herdsman, and he told them to go out with them and drink their milk and urine. When they recovered and they were in the vicinity of Al-Harrah, they reverted to disbelief after their Islam, killed the herdsman of the Messenger of Allah [SAW] and drove off the camels. He sent (men) after them and they were brought, and he had their eyes gouged out, and their hands and feet cut off. Then he left them in Al-Harrah in that state until they died.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عکل یا عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: اللہ کے رسول! ہم مویشی والے لوگ ہیں ناکہ کھیت والے۔ انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے کچھ اونٹوں اور ایک چرواہے کا حکم دیا اور ان سے وہاں جانے کے لیے کہا تاکہ وہ ان کے دودھ اور پیشاب پی کر صحت یاب ہو سکیں، جب وہ ٹھیک ہو گئے  ( وہ حرہ کے ایک گوشے میں تھے۔ )  تو اسلام سے پھر کر کافر  ( و مرتد )  ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، آپ نے ان کے پیچھے کچھ لوگوں کو بھیجا، تو وہ گرفتار کر کے لائے گئے، آپ نے ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور پھر انہیں حرہ میں ان کے حال پر چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ سب مر گئے۔
Jam e Tirmazi
72
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ،‏‏‏‏ وَقَتَادَةُ،‏‏‏‏ وَثَابِتٌ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ،‏‏‏‏ فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ وَارْتَدُّوا عَنْ الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَأُتِيَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَأَلْقَاهُمْ بِالْحَرَّةِ. قَالَ أَنَسٌ:‏‏‏‏ فَكُنْتُ أَرَى أَحَدَهُمْ يَكُدُّ الْأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا، ‏‏‏‏‏‏وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ:‏‏‏‏ يَكْدُمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ بِبَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ.
Anas narrated: Some people from Urainah arrived in Al-Madinah, and they were uncomfortable (and ill from the climate). So Allah's Messenger sent them some camels from charity. He told them: Drink from their milk and urine. So they killed the camel driver that Allah's Messenger sent, and they violently drove off the camels, and apostatized from Islam. So the Prophet came to them, he cut off their hands and feet on opposite side, and branded their eyes, and threw them in Al-Harrah. Anas said, So I saw one of them working over the ground with his mouth, until they died.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی، چنانچہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے انہیں زکاۃ کے اونٹوں میں بھیج دیا اور فرمایا: ”تم ان کے دودھ اور پیشاب پیو“ ( وہ وہاں گئے اور کھا پی کر موٹے ہو گئے ) تو ان لوگوں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے چرواہے کو مار ڈالا، اونٹوں کو ہانک لے گئے، اور اسلام سے مرتد ہو گئے، انہیں ( پکڑ کر ) نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں اور گرم تپتی ہوئی زمین میں انہیں پھینک دیا۔ انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا تھا کہ ( وہ پیاس بجھانے کے لیے ) اپنے منہ سے زمین چاٹ رہا تھا یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور کئی سندوں سے انس سے مروی ہے، ۲- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہو اس کے پیشاب میں کوئی حرج نہیں ۱؎۔