TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 7123 - (26) CHAPTER. Information about Ad-Dajjal. - The book of al-fitan. - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 10 in this chapter
(26) CHAPTER. Information about Ad-Dajjal.
دجال کا بیان
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ .
Narrated Ibn 'Umar (ra) : The Prophet (saws) said (about Ad-Dajjal) that he is one eyed, his right eye is as if a protruding out grape.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب نے کہا ہم سے ایوب سختیانی نے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال داہنی آنکھ سے کانا ہو گا اس کی آنکھ کیا ہے گویا پھولا ہوا انگور۔“
7123
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

46
1
Chapter: What Has Been Related About The Dajjal
باب: دجال کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About The Signs of the Dajjal
باب: دجال کی نشانیوں کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Where The Dajjal Comes From
باب: دجال کہاں سے نکلے گا؟
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Signs of the Coming of The Dajjal
باب: خروج دجال کی نشانیوں کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About The Turmoil Of The Dajjal
باب: دجال کے فتنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Dajjal
باب: دجال کے حلیہ کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About 'The Dajjal Will Not Enter Al-Madinah'
باب: مدینہ میں دجال داخل نہ ہو سکے گا
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About 'Eisa Bin Maryam killing the Dajjal
باب: عیسیٰ بن مریم کا دجال کو قتل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
(9) CHAPTER. Ad-Dajjal will not be able to enter Al-Madina.
دجال مدینہ میں نہیں آ سکے گا
Sahih Bukhari
10
(27) CHAPTER. Ad-Dajjal will not be able to enter Al-Madina.
دجال مدینہ کے اندر نہیں داخل ہو سکے گا
Sahih Bukhari
11
Chapter: Mentioning Al-Masih Son of Mariam and Al-Masih ad-Dajjal
مسیح ابن مریم اور مسیح دجال (جھوٹےمسیح) کا تذکرہ
Sahih Muslim
12
Chapter: Al-Madinah is protected against the plague and the Dajjal entering it
مدینہ منورہ طاعون اور دجال کے داخلے سے محفوظ ہے
Sahih Muslim
13
Chapter: The Conquest Of Constantinople, The Emergence Of The Dajjal And The Descent Of 'Eisa bin Mariam
قسطنطنیہ کی فتح ،دجال کا ظہور اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول
Sahih Muslim
14
Chapter: Fighting The Byzantines, And A Great Deal Of Killing When Ad-Dajjal Emerges
دجال کے ظہور سے پہلے سخت خونریزی کے عالم میں رومیوں (عیسائیوں)کی چڑھائی
Sahih Muslim
15
Chapter: Conquests Of The Muslims Before The Appearance Of Ad-Dajjal
دجال سے پہلے حاصل ہونے والی مسلمانوں کی فتوحات
Sahih Muslim
16
Chapter: Ad-Dajjal
مسیح دجال کابیان
Sahih Muslim
17
Chapter: Description Of Ad-Dajjal; Al-Madinah Is Forbidden To Him; He Will Kill A Believer And Bring Him Back To Life
دجال کا حال مدینہ میں اس کا داخلہ حرام ہونا اور مومن کو قتل کرنا اور اسے زندہ کرنا
Sahih Muslim
18
Chapter: Ad-Dajjal Is Very Insignificant Before Allah
دجال اللہ کے نزدیک انتہائی حقیرہے
Sahih Muslim
19
Chapter: The Emergence Of Ad-Dajjal And His Stay On Earth, And The Descent Of 'Eisa Who Will Kill Him. The Death Of The People Of Goodness And Faith, And The Survival Of The Worst Of People, And Their Idol-Worship. The Trumpet Blast, And The Resurrection Of Those Who Are In Their Graves
دجال نکل کر زمین میں رہے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتر کر اسے قتل کریں گے بھلائی اور ایمان والے لوگ رخصت ہو جا ئیں گے۔بدترین لوگ اور شیطان کی پوجا کرنے والے باقی رہ جائیں گے۔ اور صورپھونکا جائے گا اور جوقبروں میں ہیں انھیں اٹھا دیا جائے گا
Sahih Muslim
20
Chapter: The Rest Of The Ahadith About Ad-Dajjal
دجال کے متعلق بقیہ احادیث
Sahih Muslim
21
CHAPTER: The appearance of the Dajjal.
باب: دجال کے نکلنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
22
Chapter: The tribulation of Dajjal, the emergence of 'Esa bin Maryam and the emergence of Gog and Magog
فتنہ دجال، عیسیٰ بن مریم اور یاجوج و ماجوج کے ظہور کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
23
Chapter: The Hadith Of Tamim Ad-Dari About The Dajjal
باب: جساسہ کا بیان
Jam e Tirmazi
24
بَابُ الْعَلَامَاتِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ وَذِكْرِ الدَّجَّالِ
قبل از قیامت علامتوں اور دجال کے ذکر کا بیان
Mishkat
25
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
Musnad Ahmad
26
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
Musnad Ahmad
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
Musnad Ahmad
28
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
Musnad Ahmad
29
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
Musnad Ahmad
30
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
31
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
32
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
Musnad Ahmad
33
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
34
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
Musnad Ahmad
35
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
36
(9) CHAPTER. The Statement of the Prophet : It is probable that a person who receives a piece of information indirectly may comprehend it better than he who has heard it directly from its source.”
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل میں کہ بسا اوقات وہ شخص جسے ( حدیث ) پہنچائی جائے سننے والے سے زیادہ ( حدیث کو ) یاد رکھ لیتا ہے ۔
Sahih Bukhari
37
(45) CHAPTER. If someone enters a house, should he offer prayers where he likes, or as he is told? And he should not look out to seek information about the place or do spying.
اس بارے میں کہ جب کوئی کسی کے گھر میں داخل ہو تو کیا جس جگہ وہ چاہے وہاں نماز پڑھ لے یا جہاں اسے نماز پڑھنے کے لیے کہا جائے ( وہاں پڑھے ) اور فالتو سوال و جواب نہ کرے ۔
Sahih Bukhari
38
(49) CHAPTER. An-Namima is one of the great sins. [It means to go about with calumnies (the conveyance of disagreeable false information from one person to another to creat hostility between them)].
چغلخوری کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے
Sahih Bukhari
39
(1) CHAPTER. What is said regarding the acceptance of the information given by one truthful person concerning Adhan, Salat (prayer), Saum (fasting), and all other obligations and laws prescribed by Allah.
ایک سچے شخص کی خبر پر اذان نماز روزے فرائض سارے احکام میں عمل ہونا
Sahih Bukhari
40
(2) CHAPTER. The Prophet (p.b.u.h.) sent Az-Zubair alone to get information regarding the enemy.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زبیر رضیاللہعنہ کو اکیلے کافروں کی خبر لانے کے لیے بھیجنا
Sahih Bukhari
41
Chapter: It is recommended to seek refuge with Allah from the punishment of the grave, the punishment of hell, the trials of life and death, the tribulation of the Dajjal and from sin and debt between the tashah-hud and the taslim
تشہد اور سلام کے درمیان عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگنا مستحب ہے
Sahih Muslim
42
CHAPTER: The Antichrist (Dajjal).
باب: ترازو کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: On The Killing Of The Khawarij.
باب: دجال کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: Conveying negative information from a gathering.
باب: لگانے بجھانے کی ممانعت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
45
باب: دجال کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
46
باب: جہنم کے عذاب اور مسیح دجال کے شر و فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

985
Sahih Bukhari
7407
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ ، إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنِهِ ، وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ .
Narrated `Abdullah: Ad-Dajjal was mentioned in the presence of the Prophet. The Prophet said, Allah is not hidden from you; He is not one-eyed, and pointed with his hand towards his eye, adding, While Al-Masih Ad- Dajjal is blind in the right eye and his eye looks like a protruding grape.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دجال کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ کانا نہیں ہے اور آپ نے ہاتھ سے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور دجال مسیح کی دائیں آنکھ کانی ہو گی، جیسے اس کی آنکھ پر انگور کا ایک اٹھا ہوا دانہ ہو۔
Jam e Tirmazi
2241
حَدَّثَنَا مُحَمّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الدَّجَّالِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَإِنَّهُ أَعْوَرُ عَيْنُهُ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَسْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.
Ibn 'Umar narrated that the Prophet(s.a.w) was asked about the Dajjal, so he said: Lo! Indeed your Lord is not blind in one eye, and indeed he is blind in one eye; his right eye is as if it is a floating grape.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”سنو! تمہارا رب کانا نہیں ہے جب کہ دجال کانا ہے، اس کی داہنی آنکھ انگور کی طرح ابھری ہوئی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث عبداللہ بن عمر کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد، حذیفہ، ابوہریرہ، اسماء، جابر بن عبداللہ، ابوبکرہ، عائشہ، انس، ابن عباس اور فلتان بن عاصم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sahih Bukhari
4357
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى ، فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ ، وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ ، وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَضَرَبَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ يَدِهِ فِي صَدْرِي ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ، قَالَ : فَمَا وَقَعْتُ عَنْ فَرَسٍ بَعْدُ ، قَالَ : وَكَانَ ذُو الْخَلَصَةِ بَيْتًا بِالْيَمَنِ لِخَثْعَمَ وَبَجِيلَةَ ، فِيهِ نُصُبٌ تُعْبَدُ ، يُقَالُ لَهُ : الْكَعْبَةُ ، قَالَ : فَأَتَاهَا ، فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ وَكَسَرَهَا ، قَالَ : وَلَمَّا قَدِمَ جَرِيرٌ الْيَمَنَ كَانَ بِهَا رَجُلٌ يَسْتَقْسِمُ بِالْأَزْلَامِ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَا هُنَا ، فَإِنْ قَدَرَ عَلَيْكَ ضَرَبَ عُنُقَكَ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا هُوَ يَضْرِبُ بِهَا إِذْ وَقَفَ عَلَيْهِ جَرِيرٌ ، فَقَالَ : لَتَكْسِرَنَّهَا ، وَلَتَشْهَدَنَّ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَوْ لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَكَ ، قَالَ : فَكَسَرَهَا وَشَهِدَ ، ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ رَجُلًا مِنْ أَحْمَسَ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ بِذَلِكَ ، فَلَمَّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ ، قَالَ : فَبَرَّكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ .
Narrated Qais: Jarir said Allah's Apostle said to me, Won't you relieve me from Dhul-Khalasa? I replied, Yes, (I will relieve you). So I proceeded along with one-hundred and fifty cavalry from Ahmas tribe who were skillful in riding horses. I used not to sit firm over horses, so I informed the Prophet of that, and he stroke my chest with his hand till I saw the marks of his hand over my chest and he said, O Allah! Make him firm and one who guides others and is guided (on the right path).' Since then I have never fallen from a horse. Dhul-l--Khulasa was a house in Yemen belonging to the tribe of Khatham and Bajaila, and in it there were idols which were worshipped, and it was called Al-Ka`ba. Jarir went there, burnt it with fire and dismantled it. When Jarir reached Yemen, there was a man who used to foretell and give good omens by casting arrows of divination. Someone said to him. The messenger of Allah's Apostle is present here and if he should get hold of you, he would chop off your neck. One day while he was using them (i.e. arrows of divination), Jarir stopped there and said to him, Break them (i.e. the arrows) and testify that None has the right to be worshipped except Allah, or else I will chop off your neck. So the man broke those arrows and testified that none has the right to be worshipped except Allah. Then Jarir sent a man called Abu Artata from the tribe of Ahmas to the Prophet to convey the good news (of destroying Dhu-l-Khalasa). So when the messenger reached the Prophet, he said, O Allah's Apostle! By Him Who sent you with the Truth, I did not leave it till it was like a scabby camel. Then the Prophet blessed the horses of Ahmas and their men five times.
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو خبر دی ابواسامہ نے، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے، انہیں قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذوالخلصہ سے مجھے کیوں نہیں بےفکری دلاتے! میں نے عرض کیا میں حکم کی تعمیل کروں گا۔ چنانچہ قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو ساتھ لے کر میں روانہ ہوا۔ یہ سب اچھے سوار تھے، لیکن میں سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا جس کا اثر میں نے اپنے سینہ میں دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ”اے اللہ! اسے اچھا سوار بنا دے اور اسے ہدایت کرنے والا اور خود ہدایت پایا ہوا بنا دے۔“ راوی نے بیان کیا کہ پھر اس کے بعد میں کبھی کسی گھوڑے سے نہیں گرا۔ راوی نے بیان کیا کہ ذوالخلصہ ایک ( بت خانہ ) تھا، یمن میں قبیلہ خثعم اور بجیلہ کا، اس میں بت تھے جن کی پوجا کی جاتی تھی اور اسے کعبہ بھی کہتے تھے۔ بیان کیا کہ پھر جریر وہاں پہنچے اور اسے آگ لگا دی اور منہدم کر دیا۔ بیان کیا کہ جب جریر رضی اللہ عنہ یمن پہنچے تو وہاں ایک شخص تھا جو تیروں سے فال نکالا کرتا تھا۔ اس سے کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی یہاں آ گئے ہیں۔ اگر انہوں نے تمہیں پا لیا تو تمہاری گردن مار دیں گے۔ بیان کیا کہ ابھی وہ فال نکال ہی رہے تھے کہ جریر رضی اللہ عنہ وہاں پہنچ گئے۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ یہ فال کے تیر توڑ کر کلمہ لا الٰہ الا اللہ پڑھ لے ورنہ میں تیری گردن مار دوں گا۔ راوی نے بیان کیا اس شخص نے تیر وغیرہ توڑ ڈالے اور کلمہ ایمان کی گواہی دی۔ اس کے بعد جریر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ احمس کے ایک صحابی ابوارطاط رضی اللہ عنہ نامی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا جب وہ خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے اس وقت تک نہیں چلا جب تک اس بت کدہ کو خارش زدہ اونٹ کی طرح جلا کر سیاہ نہیں کر دیا۔ بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے گھوڑوں اور سواروں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی۔
Sahih Bukhari
7448
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ ، قَالَ : كَانَ ابْنٌ لِبَعْضِ بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهَا ، فَأَرْسَلَ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ ، فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ مَعَهُ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، فَلَمَّا دَخَلْنَا نَاوَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيَّ وَنَفْسُهُ تَقَلْقَلُ فِي صَدْرِهِ حَسِبْتُهُ ، قَالَ : كَأَنَّهَا شَنَّةٌ ، فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : أَتَبْكِي ؟ ، فَقَالَ : إِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ .
Narrated Usama: A son of one of the daughters of the Prophet was dying, so she sent a person to call the Prophet. He sent (her a message), What ever Allah takes is for Him, and whatever He gives is for Him, and everything has a limited fixed term (in this world) so she should be patient and hope for Allah's reward. She then sent for him again, swearing that he should come. Allah's Apostle got up, and so did Mu`adh bin Jabal, Ubai bin Ka`b and 'Ubada bin As-Samit. When he entered (the house), they gave the child to Allah's Apostle while its breath was disturbed in his chest. (The sub-narrator said: I think he said, ...as if it was a water skin. ) Allah's Apostle started weeping whereupon Sa`d bin 'Ubada said, Do you weep? The Prophet said, Allah is merciful only to those of His slaves who are merciful (to others).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم احول نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے اور ان سے اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( زینب رضی اللہ عنہا ) کا لڑکا جاں کنی کے عالم میں تھا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہلایا کہ اللہ ہی کا وہ ہے جو وہ لیتا ہے اور وہ بھی جسے وہ دیتا ہے اور سب کے لیے ایک مدت مقرر ہے، پس صبر کرو اور اسے ثواب کا کام سمجھو۔ لیکن انہوں نے پھر دوبارہ بلا بھیجا اور قسم دلائی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور میں بھی آپ کے ساتھ چلا۔ معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی ساتھ تھے۔ جب ہم صاحبزادی کے گھر میں داخل ہوئے تو لوگوں نے بچے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گود میں دے دیا۔ اس وقت بچہ کا سانس اکھڑ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسا پرانی مشک۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر رو دئیے تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، آپ روتے ہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں میں رحم کرنے والوں پر ہی رحم کھاتا ہے۔
Jam e Tirmazi
294
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ الْيُمْنَى يَدْعُو بِهَا وَيَدُهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطَهَا عَلَيْهِ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ،‏‏‏‏ وَنُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي حُمَيْدٍ،‏‏‏‏ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ يَخْتَارُونَ الْإِشَارَةَ فِي التَّشَهُّدِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَصْحَابِنَا.
Ibn Umar narrated: When the Prophet would sit during the Salat, he would place his right hand on his knee, and raise his finger, the one that is next to the [right] thumb, supplicating with it, and his left hand was spread flat on his left knee.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے ( دائیں ) گھٹنے پر رکھتے اور اپنے داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کے قریب والی انگلی اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے یعنی اشارہ کرتے، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنے ( بائیں ) گھٹنے پر پھیلائے رکھتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن زبیر، نمیر خزاعی، ابوہریرہ، ابوحمید اور وائل بن حجر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابن عمر کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے عبیداللہ بن عمر کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اہل علم کا اسی پر عمل تھا، یہ لوگ تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کو پسند کرتے اور یہی ہمارے اصحاب کا بھی قول ہے۔
Sahih Bukhari
321
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِعَائِشَةَ : أَتَجْزِي إِحْدَانَا صَلَاتَهَا إِذَا طَهُرَتْ ؟ فَقَالَتْ : أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ ، كُنَّا نَحِيضُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَأْمُرُنَا بِهِ أَوْ قَالَتْ فَلَا نَفْعَلُهُ .
Narrated Mu`adha: A woman asked `Aisha, Should I offer the prayers that which I did not offer because of menses `Aisha said, Are you from the Huraura' (a town in Iraq?) We were with the Prophet and used to get our periods but he never ordered us to offer them (the Prayers missed during menses). `Aisha perhaps said, We did not offer them.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا مجھ سے معاذہ بنت عبداللہ نے کہ ایک عورت نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ جس زمانہ میں ہم پاک رہتے ہیں۔ ( حیض سے ) کیا ہمارے لیے اسی زمانہ کی نماز کافی ہے۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا تم حروریہ ہو؟ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حائضہ ہوتی تھیں اور آپ ہمیں نماز کا حکم نہیں دیتے تھے۔ یا عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرمایا کہ ہم نماز نہیں پڑھتی تھیں۔
Sahih Bukhari
452
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ مَرَّ فِي شَيْءٍ مِنْ مَسَاجِدِنَا أَوْ أَسْوَاقِنَا بِنَبْلٍ فَلْيَأْخُذْ عَلَى نِصَالِهَا ، لَا يَعْقِرْ بِكَفِّهِ مُسْلِمًا .
Narrated Abu Burda bin `Abdullah: (on the authority of his father) The Prophet said, Whoever passes through our mosques or markets with arrows should hold them by their heads lest he should injure a Muslim.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے کہ کہا ہم سے ابوبردہ بن عبداللہ نے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری صحابی) سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص ہماری مساجد یا ہمارے بازاروں میں تیر لیے ہوئے چلے تو ان کے پھل تھامے رہے، ایسا نہ ہو کہ اپنے ہاتھوں سے کسی مسلمان کو زخمی کر دے۔
Sahih Bukhari
529
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، عَنْ غَيْلَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ الصَّلَاةُ ، قَالَ : أَلَيْسَ ضَيَّعْتُمْ مَا ضَيَّعْتُمْ فِيهَا ؟ .
Narrated Ghailan: Anas said, I do not find (now-a-days) things as they were (practiced) at the time of the Prophet. Somebody said The prayer (is as it was.) Anas said, Have you not done in the prayer what you have done?
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے غیلان بن جریر کے واسطہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کی کوئی بات اس زمانہ میں نہیں پاتا۔ لوگوں نے کہا، نماز تو ہے۔ فرمایا اس کے اندر بھی تم نے کر رکھا ہے جو کر رکھا ہے۔
Sahih Bukhari
597
حدثنا ابو نعيم ، وموسى بن إسماعيل ، قالا : حدثنا همام ، عن قتادة ، عن انس ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : من نسي صلاة فليصل إذا ذكرها ، لا كفارة لها إلا ذلك ، واقم الصلاة لذكري ، قال موسى : قال همام : سمعته يقول بعد واقم الصلاة للذكرى ، وقال حبان : حدثنا همام ، حدثنا قتادة ، حدثنا انس ، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه .
Narrated Anas: The Prophet said, If anyone forgets a prayer he should pray that prayer when he remembers it. There is no expiation except to pray the same. Then he recited: Establish prayer for My (i.e. Allah's) remembrance. (20.14).
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آ جائے اس کو پڑھ لے۔ اس قضاء کے سوا اور کوئی کفارہ اس کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اور ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ) نماز میرے یاد آنے پر قائم کر۔ موسیٰ نے کہا کہ ہم سے ہمام نے حدیث بیان کی کہ میں نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ یوں پڑھتے تھے نماز پڑھ میری یاد کے لیے۔ حبان بن ہلال نے کہا، ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، پھر ایسی ہی حدیث بیان کی۔