TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 7277 - (2) CHAPTER. Following the Sunna (legal ways) of the Prophet (p.b.u.h.) . - The book of holding fast to the qur’an and the sunna. - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 14 in this chapter
(2) CHAPTER. Following the Sunna (legal ways) of the Prophet (p.b.u.h.) .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، سَمِعْتُ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيَّ يَقُولُ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا ، وَإِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَآتٍ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ .
Narrated `Abdullah: The best talk (speech) is Allah's Book 'Qur'an), and the best way is the way of Muhammad, and the worst matters are the heresies (those new things which are introduced into the religion); and whatever you have been promised will surely come to pass, and you cannot escape (it).
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عمرو بن مرہ نے خبر دی، کہا میں نے مرۃ الہمدانی سے سنا، بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سب سے اچھی بات کتاب اللہ اور سب سے اچھا طریقہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور سب سے بری نئی بات ( بدعت ) پیدا کرنا ہے ( دین میں ) اور بلاشبہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ آ کر رہے گی اور تم پروردگار سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے۔
7277
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

2,260
1
(4) CHAPTER. To follow the actions of the Prophet (p.b.u.h.) .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاموں کی پیروی کرنا
Sahih Bukhari
2
(45) CHAPTER. Offering Salat (prayer) in front of the people with the sole intention of teaching them the Salat of the Prophet and his Sunna (legal ways etc.).
کوئی شخص صرف یہ بتلانے کے لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیوں کر پڑھا کرتے تھے اور آپ کا طریقہ کیا تھا نماز پڑھائے تو کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
3
(2) CHAPTER. Invocation of the Prophet : O Allah! Send (drought-famine) years on them (pagans of Makkah) like the (drought-famine) years of (Prophet) Yusuf (Joseph).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کے کافروں پر بددعا کرناکہ الٰہی ان کے سال ایسے کر دے جیسے یوسف علیہ السلام کے سال ( قحط ) کے گزرے ہیں
Sahih Bukhari
4
(5) CHAPTER. The Prophet's exhorting (the people) to Tahajjud and Nawafil without making them compulsory.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کی نماز اور نوافل پڑھنے کے لیے ترغیب دلانا لیکن واجب نہ کرنا
Sahih Bukhari
5
(36) CHAPTER. The sorrow of the Prophet for Sa'd bin Khaula.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر افسوس کرنا
Sahih Bukhari
6
(116) CHAPTER. To slaughter (sacrifices) at the Manhar (slaughtering place) of the Prophet at Mina.
منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں نحر کیا وہاں نحر کرنا
Sahih Bukhari
7
(8) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h): “Booty has been made legal for you Muslims”.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تمہارے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے
Sahih Bukhari
8
(3) CHAPTER. The Prophet estabilished the bone of brotherhood (fraternity) between the Ansar and the Muhajirun (i.e., emigrants).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار اور مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا
Sahih Bukhari
9
(9) CHAPTER. The invocation of the Prophet : “O Allah! Improve and make right the state of the Ansar and the Muhajirun (i.e., the emigrants).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کرنا کہ ( اے اللہ ! ) انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما
Sahih Bukhari
10
(39) CHAPTER. The oath taken by the Mushrikun against the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشرکین کا عہد و پیمان کرنا
Sahih Bukhari
11
(44) CHAPTER. The marriage of the Prophet with Aishah, and Aishah,s arrival at Al-Madina, and the Prophet,s consummation of that marriage.
حضرت عائشہ رضیاللہعنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کرنا اور آپ کامدینہ میں تشریف لانا اور حضرت عائشہ رضیاللہعنہا کی رخصتی کا بیان
Sahih Bukhari
12
(45) CHAPTER. The emigration of the Prophet and hiscompanions to Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
Sahih Bukhari
13
(7) CHAPTER. Invoking evil of the Prophet on the disbelievers of Quraish, (Shaiba, Utba, Al-Walid and Abu jahl, etc.) and (the mention of) their death.
کفار قریش ، شیبہ ، عتبہ ، ولید اور ابوجہل بنہشام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بددعا کرنا اور ان کی ہلاکت کا بیان
Sahih Bukhari
14
(41) CHAPTER. The dealing of the Prophet with the people of Khaibar.
خیبر والوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ طے کرنا
Sahih Bukhari
15
(53) CHAPTER. The stay of the Prophet in Makkah during the period of the Conquest (of Makkah).
فتح مکہ کے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں قیام کرنا
Sahih Bukhari
16
(88) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet during his fatal illness.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کااسامہ بنزید رضیاللہعنہ کو مرضالموت میں ایک مہم پر روانہ کرنا
Sahih Bukhari
17
(16) CHAPTER. The intercession of the Prophet for Barira's husband.
بریرہ رضیاللہعنہا کے شوہر کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفارش کرنا ۔
Sahih Bukhari
18
(17) CHAPTER.The saying of Prophet : “So slaughter by mentioning the Name of Allah.”
اس بارے میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جانور کو اللہ ہی کے نام پر ذبح کرنا چاہیئے ۔
Sahih Bukhari
19
(3) CHAPTER. The Prophet seeking of Allah's forgiveness by daytime and at night.
دن اور رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار کرنا ۔
Sahih Bukhari
20
(29) CHAPTER. The invocation of the Prophet , “O Allah! (Let me join) the Highest Companions. (See Quran V.4:69)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرضالموت میں دعا کرنا کہ یا اللہ ! مجھ کو آخرت میں رفیق اعلیٰ ( ملائکہ اور انبیاء ) کے ساتھ ملا دے ۔
Sahih Bukhari
21
(60) CHAPTER. The statement of the Prophet : “O Allah! Forgive my past and future sins.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں دعا کرنا کہ ” اے اللہ ! میرے اگلے اور پچھلے سب گناہ بخش دے ۔ “
Sahih Bukhari
22
(14) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.), “Certainly you (Muslims!) will follow the ways of those who were before you (i.e., Jews and Christians).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ اے مسلمانو ! تم اگلے لوگوں کی چال پر چلو گے
Sahih Bukhari
23
(27) CHAPTER. Something forbidden, by the Prophet (p.b.u.h.) is legally prohibited unless there is a proof that (later on) it was (made) legal. Similarly, his orders render things obigatory, as he said (to his Companions) when they finished their Ihram, Sleep with your wives.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے لوگوں کو منع کریں تو وہ حرام ہو گا مگر یہ کہ اس کی اباحت دلائل سے معلوم ہو جائے ۔
Sahih Bukhari
24
(50) CHAPTER. What the Prophet (p.b.u.h.) mentioned and narrated of his Lord's Sayings.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے روایت کرنا
Sahih Bukhari
25
سلام کے بعد امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنااور صحابہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے برکت حاصل کرنا
Musnad Ahmad
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
Musnad Ahmad
27
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
Musnad Ahmad
28
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
Musnad Ahmad
29
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
Musnad Ahmad
30
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
Musnad Ahmad
31
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
Musnad Ahmad
32
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
Musnad Ahmad
33
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
Musnad Ahmad
34
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
Musnad Ahmad
35
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غزوۂ بدر کے متعلق اہتمام، اللہ تعالیٰ سے طلبِ نصرت، اور آپ کا بنفس نفیس میدانِ جنگ میں اترنا اور مجاہدین کا آپ کے پیچھے ہو کر زخمی ہونے سے بچنے کی کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی نصرت فرمانے کا بیان
Musnad Ahmad
36
غزوۂ احد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کے دانتوں کی شہادت، چہرہ انور کا زخمی ہونا، اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی حفاظت کرنا اور آپ کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں پر اللہ کی شدید ناراضی کا بیان
Musnad Ahmad
37
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا
Musnad Ahmad
38
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
Musnad Ahmad
39
باب اول: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس طرف اشارہ کرنا
Musnad Ahmad
40
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
Musnad Ahmad
41
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
Musnad Ahmad
42
باب سوم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
Musnad Ahmad
43
حکومت عباسیہ کا آغاز اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس سے مطلع کرنا
Musnad Ahmad
44
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
Musnad Ahmad
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
Musnad Ahmad
46
(11) CHAPTER. The Prophet used to take care of the people in preaching by selecting a suitable time so that they might not run away (never made them averse or bored them with religious talk and knowledge all the time).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے نصیحت فرمانے اور تعلیم دینے کے بیان میں تاکہ انہیں ناگوار نہ ہو
Sahih Bukhari
47
(13) CHAPTER. If Allah wants to do good to a person, He makes him comprehend (the religion). [The understanding of the Quran and As-Sunna (legal ways) of the Prophet (Muhammad )].
اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے
Sahih Bukhari
48
(17) CHAPTER. The statement of the Prophet : “O Allah! Bestow on him (Ibn Abbas) the knowledge of the Book (the Quran).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ” اللہ اسے قرآن کا علم عطا فرمائیو ! “
Sahih Bukhari
49
(56) CHAPTER. The saying of the Prophet , “The earth has been made for me a Masjid (place for praying) and a thing to purify (to perform Tayammum).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میرے لیے ساری زمین پر نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے ( یعنی تیمم کرنے ) کی اجازت ہے
Sahih Bukhari
50
(122) CHAPTER. The order of the Prophet to a person who did not perform his bowing perfectly that he should repeat his Salat (prayer).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دینا جس نے رکوع پوری طرح نہیں کیا تھا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

13
Mishkat
141
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حمدوثنا اور صلوۃ و سلام کے بعد ، سب سے بہترین کلام ، اللہ کی کتاب ہے ، اور بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے ، بدترین امور وہ ہیں جو نئے جاری کیے جائیں ، اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم و النسائی (۳/ ۱۸۹ ، ۱۸۸ ح ۱۵۷۹) ۔
Sahih Muslim
2005
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ وَيَقُولُ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى وَيَقُولُ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ
Jabir b. Abdullah said: When Allah's Messenger (may peace he upon him) delivered the sermon, his eyes became red, his voice rose, and his anger increased so that he was like one giving a warning against the enemy and saying: The enemy has made a morning attack on you and in the evening too. He would also say: The Last Hour and I have been sent like these two. And he would join his forefinger and middle finger; and would further say: The best of the speech is embodied in the Book of Allah, and the best of the guidance is the guidance given by Muhammad. And the most evil affairs are their innovations; and every innovation is error. He would further say:, I am more dear to a Muslim even than his self; and he who left behind property that is for his family; and he who dies under debt or leaves children (in helplessness), the responsibility (of paying his debt and bringing up his children) lies on me.
عبد الوہاب بن عبد المجید ( ثقفی ) نے جعفر ( صادق ) بن محمد ( باقر ) سے روایت کی انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جا تیں ، آواز بلند ہو جا تی اور جلال کی کیفیت طاری ہو جا تی تھی حتیٰ کہ ایسا لگتا جیسے آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں فر ما رہے ہیں کہ وہ ( لشکر ) صبح یا شام ( تک ) تمھیں آلے گا اور فر ما تے " میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں " اور آپ اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر دکھا تے اور فر ما تے ۔ " ( حمدو صلاۃ ) کے بعد بلا شبہ بہترین حدیث ( کلام ) اللہ کی کتاب ہے اور زندگی کا بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ زندگی ہے اور ( دین میں ) بد ترین کا وہ ہیں جو خود نکا لے گئے ہوں اور ہر نیا نکا لا ہوا کا م گمراہی ہے پھر فر ما تے : " میں ہر مو من کے ساتھ خود اس کی نسبت زیادہ محبت اور شفقت رکھنے والا ہوں جو کو ئی ( مومن اپنے بعد ) مال چھوڑ گیا تو وہ اس کے اہل و عیال ( وارثوں ) کا ہے اور جو مومن قرض یا بے سہارا اہل و عیال چھوڑ گیا تو ( اس قرض کو ) میری طرف لو ٹا یا جا ئے ( اور اس کے کنبے کی پرورش ) میرے ذمے ہے ۔
Sunnan Nisai
1579
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ،‏‏‏‏ ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا،‏‏‏‏ وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ ،‏‏‏‏ ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ أَوْ عَلَيَّ،‏‏‏‏ وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ .
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: In his Khutbah the Messenger of Allah (ﷺ) used to praise Allah as He deserves to be praised, then he would say: 'Whomsoever Allah (SWT) guides, none can lead him astray, and whomsoever Allah sends astray, none can guide. The truest of word is the Book of Allah and best of guidance is the guidance of Muhammad. The worst of things are those that are newly invented; every newly-invented thing is an innovation and every innovation is going astray, and every going astray is in the Fire.' Then he said: 'The Hour and I have been sent like these two.' Whenever he mentioned the Hour, his cheeks would turn red, and he would raise his voice and become angry, as if he were warning of an approaching army and saying: 'An army is coming to attack you in the morning, or in the evening!' (Then he said): 'Whoever leaves behind wealth, it is for his family, and whoever leaves behind a debt or dependents, then these are my responsibility, and I am the most entitled to take care of the believers.'
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے جو اس کی شایان شان ہوتی، پھر آپ فرماتے:  جسے اللہ راہ دکھائے تو کوئی اسے گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے گمراہ کر دے تو اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، اور بدترین کام نئے کام ہیں، اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ، پھر آپ فرماتے:  میں اور قیامت دونوں اس قدر نزدیک ہیں جیسے یہ دونوں انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہیں ، اور جب آپ قیامت کا ذکر کرتے تو آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو جاتے، اور آواز بلند ہو جاتی، اور آپ کا غصہ بڑھ جاتا جیسے آپ کسی لشکر کو ڈرا رہے ہوں، اور کہہ رہے ہوں:  ( ہوشیار رہو! دشمن )  تم پر صبح میں حملہ کرنے والا ہے، یا شام میں، پھر آپ فرماتے:  جو  ( مرنے کے بعد )  مال چھوڑے تو وہ اس کے گھر والوں کا ہے، اور جو قرض چھوڑے یا بال بچے چھوڑ کر مرے تو وہ میری طرف یا میرے ذمہ ہیں، اور میں مومنوں کا ولی ہوں ۱؎۔
Jam e Tirmazi
17
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَقَالَ:‏‏‏‏ الْتَمِسْ لِي ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ،‏‏‏‏ وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهَا رِكْسٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَكَذَا رَوَى قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مَعْمَرٌ،‏‏‏‏ وَعَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا فِيهِ اضْطِرَابٌ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ:‏‏‏‏ هَلْ تَذْكُرُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ شَيْئًا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ أَيُّ الرِّوَايَاتِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي إِسْحَاق أَصَحُّ ؟ فَلَمْ يَقْضِ فِيهِ بِشَيْءٍ،‏‏‏‏ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا ؟ فَلَمْ يَقْضِ فِيهِ بِشَيْءٍ وَكَأَنَّهُ رَأَى حَدِيثَ زُهَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَشْبَهَ وَوَضَعَهُ فِي كِتَابِ الْجَامِعِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَأَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا عِنْدِي حَدِيثُ إِسْرَائِيلَ،‏‏‏‏ وَقَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ إِسْرَائِيلَ أَثْبَتُ وَأَحْفَظُ لِحَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق مِنْ هَؤُلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ سَمِعْت أَبَا مُوسَى مُحَمَّدَ بْنَ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا فَاتَنِي الَّذِي فَاتَنِي مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق إِلَّا لِمَا اتَّكَلْتُ بِهِ عَلَى إِسْرَائِيلَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَزُهَيْرٌ فِي أَبِي إِسْحَاق لَيْسَ بِذَاكَ لِأَنَّ سَمَاعَهُ مِنْهُ بِآخِرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيَّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا سَمِعْتَ الْحَدِيثَ عَنْ زَائِدَةَ وَزُهَيْرٍ فلا تبالي أن لا تسمعه من غيرهما إلا حديث أبي إسحاق، ‏‏‏‏‏‏وأبو إسحاق اسمه:‏‏‏‏ عمرو بن عبد الله السبيعي الهمداني،‏‏‏‏ وأبو عبيدة بن عبد الله بن مسعود لم يسمع من أبيه ولا يعرف اسمه
Abdullah said: Allah's Messenger went out to relieve himself. So he said: 'Bring me tree stones.' He said, So I came with two stones and a piece of dung. So he took the two stones, and left the dung. He said: 'It is Riks (a degenerative or filthy thing).
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا: ”میرے لیے تین پتھر ڈھونڈ لاؤ“، میں دو پتھر اور ایک گوبر کا ٹکڑا لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے دونوں پتھروں کو لے لیا اور گوبر کے ٹکڑے کو پھینک دیا اور فرمایا: ”یہ ناپاک ہے“ ۱؎۔ ( ابواسحاق سبیعی ثقہ اور مدلس راوی ہیں، بڑھاپے میں حافظہ میں اختلاط ہو گیا تھا اس لیے جن رواۃ نے ان سے اختلاط سے پہلے سنا ان کی روایت مقبول ہے، اور جن لوگوں نے اختلاط کے بعد سنا ان کی روایت ضعیف، یہ حدیث ابواسحاق سے ان کے تلامذہ نے مختلف انداز سے روایت کی ہے ) ۔ امام ترمذی نے یہاں: ابن مسعود کی اس حدیث کو بسند «اسرائیل عن ابی اسحاق عن ابی عبیدہ عن ابن مسعود» روایت کرنے کے بعد اسرائیل کی متابعت ۲؎ میں قیس بن الربیع کی روایت کا ذکر کیا ہے، پھر بسند «معمر و عمار بن رزیق عن ابی اسحاق عن علقمہ عن ابن مسعود» کی روایت ذکر کی ہے، پھر بسند «زکریا بن ابی زائدہ و زہیر عن ابی اسحاق عن عبدالرحمٰن بن یزید عن اسود بن یزید عن عبداللہ بن مسعود» روایت ذکر کی اور فرمایا کہ اس حدیث میں اضطراب ہے، نیز اسرائیل کی روایت کو صحیح ترین قرار دیا، یہ بھی واضح کیا کہ ابو عبیدۃ کا سماع اپنے والد ابن مسعود سے نہیں ہے پھر واضح کیا کہ زہیر نے اس حدیث کو بسند «ابواسحاق عن عبدالرحمٰن بن الاسود عن أبیہ عن عبداللہ بن مسعود» روایت کیا ہے، تو ان محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی صحیح میں اس کو جگہ دے کر اپنی ترجیح کا ذکر کر دیا ہے، جب کہ ترمذی کا استدلال یہ ہے کہ «اسرائیل و قیس عن أبی اسحاق» زیادہ صحیح روایت اس لیے ہے کہ اسرائیل ابواسحاق کی حدیث کے زیادہ حافظ و متقن ہیں، قیس نے بھی اسرائیل کی متابعت کی ہے، اور واضح رہے کہ زہیر نے ابواسحاق سے آخر میں اختلاط کے بعد سنا ہے، اس لیے ان کی روایت اسرائیل کی روایت کے مقابلے میں قوی نہیں ہے ۳؎۔
Jam e Tirmazi
435
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيَّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيمَا بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ عِشْرِينَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَضَعَّفَهُ جِدًّا.
Abu Hurairah narrated that: Allah's Messenger (S) said: Whoever prays six Rak'ah after Al-Maghrib, and he does not speak about anything between them, then they will be counted for him as twelve years of worship.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی، تو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھیں اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «زيد بن حباب عن عمر بن أبي خثعم» کی سند سے جانتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم منکرالحدیث ہیں۔ اور انہوں نے انہیں سخت ضعیف کہا ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
45
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ، ‏‏‏‏‏‏احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَا صَوْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، ‏‏‏‏‏‏كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ:‏‏‏‏ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقْرِنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْأُمُورِ كِتَابُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَخَيْرُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ ضَيَاعًا فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ .
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: When the Messenger of Allah (ﷺ) delivered a sermon, his eyes would turn red, he would raise his voice and he would speak with intensity, as if he were warning of an (enemy) army, saying, 'They will surely attack you in the morning, or they will surely attack you in the evening!' He would say: 'I and the Hour have been sent like these two,' and he would hold his index and middle finger. Then he would say: 'The best of guidance is the guidance of Muhammad. The most evil matters are those that are newly-invented, and every innovation (Bid'ah) is a going astray.' And he used to say: 'Whoever dies and leaves behind some wealth, it is for his family, and whoever leaves behind a debt or dependent children, then they are both my responsibility.'
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو آپ کی آنکھیں سرخ، آواز بلند اور غصہ سخت ہو جاتا، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ( حملہ آور ) لشکر سے ڈرانے والے اس شخص کی طرح ہیں جو کہہ رہا ہے کہ لشکر تمہارے اوپر صبح کو حملہ کرنے والا ہے، شام کو حملہ کرنے والا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: میں اور قیامت دونوں اس طرح قریب بھیجے گئے ہیں ، اور ( سمجھانے کے لیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شہادت والی اور بیچ والی انگلی ملاتے پھر فرماتے: حمد و صلاۃ کے بعد! جان لو کہ سارے امور میں سے بہتر اللہ کی کتاب ( قرآن ) ہے، اور راستوں میں سے سب سے بہتر محمد کا راستہ ( سنت ) ہے، اور سب سے بری چیز دین میں نئی چیزیں ( بدعات ) ہیں ۱؎، اور ہر بدعت ( نئی چیز ) گمراہی ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جو مرنے والا مال و اسباب چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو قرض یا اہل و عیال چھوڑے تو قرض کی ادائیگی، اور بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہے ۔
Sunnan Ibn e Maja
46
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ الْمَدَنِيُّ أَبُو عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا هُمَا اثْنَتَانِ:‏‏‏‏ الْكَلَامُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْهَدْيُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَحْسَنُ الْكَلَامِ كَلَامُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدِثَاتِ الْأُمُورِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ شَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا لَا يَطُولَنَّ عَلَيْكُمُ الْأَمَدُ فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا إِنَّ مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا الْبَعِيدُ مَا لَيْسَ بِآتٍ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا إِنَّمَا الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا إِنَّ قِتَالَ الْمُؤْمِنِ كُفْرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الْكَذِبَ لَا يَصْلُحُ بِالْجِدِّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا بِالْهَزْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَعِدُ الرَّجُلُ صَبِيَّهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لَا يَفِي لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ يُقَالُ لِلصَّادِقِ:‏‏‏‏ صَدَقَ وَبَرَّ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ لِلْكَاذِبِ:‏‏‏‏ كَذَبَ وَفَجَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَإِنَّ الْعَبْدَ يَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا .
It was narrated from Abdullah bin Mas'ud that: the Messenger of Allah (ﷺ) said: Verily there are two things - words and guidance. The best words are the words of Allah, and the best guidance in the guidance of Muhammad. Beware of newly-invented matters, for every newly-invented matter is an innovation (Bid'ah) and every innovation is a going-stray. Do not let the desire for a long life causes your hearts to grow hard. That which is bound to happen is close to you, and the only thing that is far away is that which is not going to happen. The one who is doomed to Hell is doomed from his mother's womb, and the one who is destined for Paradise is the one who learns from the lessons of others. Killing a believer constitutes disbelief (Kufr) and verbally abusing him is immorality (Fusuq). It is not permissible for a Muslim to forsake his brother for more than three days. Beware of lying, for lying is never good, whether it is done seriously or in jest. A man should not make a promise to a child that he will not keep. Lying leads to immorality and immorality leads to Hell. Truthfulness leads to righteousness and righteousness leads to Paradise. It will be said of the truthful person: 'He spoke the truth and was righteous', and it will be said of the liar, 'He told lies and was immoral.' For a person continues to tell lies until he is recorded with Allah as a liar.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس دو ہی چیزیں ہیں، ایک کلام اور دوسری چیز طریقہ، تو سب سے بہتر کلام اللہ کا کلام ( قرآن مجید ) ہے، اور سب سے بہتر طریقہ ( سنت ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، سنو! تم اپنے آپ کو دین میں نئی چیزوں سے بچانا، اس لیے کہ دین میں سب سے بری چیز «محدثات» ( نئی چیزیں ) ہیں، اور ہر «محدث» ( نئی چیز ) بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ سنو! کہیں شیطان تمہارے دلوں میں زیادہ زندہ رہنے اور جینے کا وسوسہ نہ ڈال دے، اور تمہارے دل سخت ہو جائیں ۱؎۔ خبردار! آنے والی چیز قریب ہے ۲؎، دور تو وہ چیز ہے جو آنے والی نہیں۔ خبردار! بدبخت تو وہی ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بدبخت لکھ دیا گیا، اور نیک بخت وہ ہے جو دوسروں کو دیکھ کر نصیحت حاصل کرے۔ آگاہ رہو! مومن سے جنگ و جدال اور لڑائی جھگڑا کرنا کفر ہے، اور اسے گالی دینا فسق ( نافرمانی ) ہے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے ۳؎۔ سنو! تم اپنے آپ کو جھوٹ سے بچانا، اس لیے کہ جھوٹ سنجیدگی یا ہنسی مذاق ( مزاح ) میں کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے ۴؎، کوئی شخص اپنے بچے سے ایسا وعدہ نہ کرے جسے پورا نہ کرے ۵؎، جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے، اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے، اور سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، چنانچہ سچے آدمی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے سچ کہا اور نیک و کار ہوا، اور جھوٹے آدمی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے جھوٹ کہا اور گناہ گار ہوا۔ سنو! بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کذاب ( جھوٹا ) لکھ دیا جاتا ہے ۔
Jam e Tirmazi
3159
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيَّ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا سورة مريم آية 71 فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ يَصْدُرُونَ مِنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَوَّلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ كَالرِّيحِ ثُمَّ كَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ كَالرَّاكِبِ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ كَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ كَمَشْيِهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ السُّدِّيِّ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَرْفَعْهُ.
Narrated As-Suddi: I asked Murrah Al-Hamdani about the saying of Allah, Mighty and Sublime is He: There is not one of you but will pass over it (19:71). So he narrated to me that 'Abdullah bin Mas'ud narrated to him saying: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: The people will pass over the Fire, then they avert it based upon their deeds. The first of them (would pass over it) like a flash of lightening, then like the wind, then like a fleeing horse, then like a rider fleeing on a mount, then like a man fleeing, then like one walking.
سدی کہتے ہیں کہ میں نے مرہ ہمدانی سے آیت «وإن منكم إلا واردها» ”یہ امر یقینی ہے کہ تم میں سے ہر ایک اس پر عبور کرے گا“ ( مریم: ۷۱ ) ، کا مطلب پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے ان لوگوں سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ جہنم میں جائیں گے، پھر اس سے اپنے اعمال کے سہارے نکلیں گے، پہلا گروہ ( جن کے اعمال بہت اچھے ہوں گے ) بجلی چمکنے کی سی تیزی سے نکل آئے گا۔ پھر ہوا کی رفتار سے، پھر گھوڑے کے تیز دوڑنے کی رفتار سے، پھر سواری لیے ہوئے اونٹ کی رفتار سے، پھر دوڑتے شخص کی، پھر پیدل چلنے کی رفتار سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو شعبہ نے سدی سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔
Sahih Bukhari
3433
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ .
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari: The Prophet said, The superiority of `Aisha to other ladies is like the superiority of Tharid (i.e. meat and bread dish) to other meals. Many men reached the level of perfection, but no woman reached such a level except Mary, the daughter of `Imran and Asia, the wife of Pharaoh.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، انہوں نے کہا ہم کہ میں نے مرہ ہمدانی سے سنا۔ وہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی۔ مردوں میں سے تو بہت سے کامل ہو گزرے ہیں لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا اور کوئی کامل پیدا نہیں ہوئی۔“