It was narrated from Abu Hurairah that: The Messenger of Allah said: Every Prophet will have a friend in Paradise, and my friend there will be 'Uthman bin 'Affan.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ( ساتھی ) ہے، اور میرے رفیق ( ساتھی ) اس میں عثمان بن عفان ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah that: The Prophet met 'Uthman at the door of the mosque and said: O 'Uthman! Jibril has told me that Allah married you to Umm Kulthum for a dowry like that of Ruqayyah, provided that you treat her as you treated Ruqayyah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان رضی اللہ عنہ سے مسجد کے دروازے پر ملے، اور فرمایا: عثمان! یہ جبرائیل ہیں انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شادی ام کلثوم سے رقیہ کے مہر مثل پر کر دی ہے، اس شرط پر کہ تم ان کو بھی اسی خوبی سے رکھو جس طرح اسے ( رقیہ کو ) رکھتے تھے ۱؎۔
It was narrated that Ka'b bin 'Ujrah said: The Messenger of Allah mentioned a Fitnah (tribulation) that had drawn nigh. Then a man passed by with his head covered. The Messenger of Allah said: 'On that day, this man will be following right guidance.' I leapt up and took hold of 'Uthman's arms, then I turned to face the Messenger of Allah and said: 'This man?' He said: 'This man.'
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا کہ وہ جلد ظاہر ہو گا، اسی درمیان ایک شخص اپنا سر منہ چھپائے ہوئے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص ان دنوں ہدایت پر ہو گا ، کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں تیزی سے اٹھا، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھے پکڑ لیے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب رخ کر کے کہا: کیا یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہی ہیں ( جو ہدایت پر ہوں گے ) ۱؎۔
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah said: O 'Uthman, if Allah places you in authority over this matter (as the caliph) some day and the hypocrites want to rid you of the garment with which Allah has clothed you (i.e., the position of caliph), do not take it off. He said that three times. (One of the narrators) Nu'man said: I said to 'Aishah: 'What kept you from telling the people that?' She said: 'I was made to forget it.'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عثمان! اگر اللہ تعالیٰ کبھی تمہیں اس امر یعنی خلافت کا والی بنائے، اور منافقین تمہاری وہ قمیص اتارنا چاہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہنائی ہے، تو اسے مت اتارنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی۔ نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: پھر آپ نے یہ بات لوگوں کو بتائی کیوں نہیں؟ تو وہ بولیں: میں اسے بھلا دی گئی تھی ۱؎۔
It was narrated that 'Aishah said: When he was ill, the Messenger of Allah said: 'I would like to have some of my Companions with me.' We said: 'O Messenger of Allah! Shall we call Abu Bakr for you?' But he remained silent. We said: 'Shall we call 'Umar for you?' But he remained silent. We said: 'Shall we call 'Uthman for you?' He said: 'Yes.' So 'Uthman came and he spoke to him in private. The Prophet started to speak to him and 'Uthman's expression changed. Qais said: Abu Sahlah, the freed slave of 'Uthman, narrated to me that on the Day of the House, 'Uthman bin 'Affan said: 'The Messenger of Allah told me what would come to pass and now I am coming to that day.' In his narration of the Hadith, 'Ali (one of the narrators) said (that he said): And I am going to bear it with patience. Qais said: They used to think that that was the Day of the House.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: میری خواہش یہ ہے کہ میرے پاس میرے صحابہ میں سے کوئی ہوتا ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابوبکر کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عمر کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عثمان کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، تو وہ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے تنہائی میں باتیں کرنے لگے، اور عثمان رضی اللہ عنہ کا چہرہ بدلتا رہا۔ قیس کہتے ہیں: مجھ سے عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ابوسہلۃ نے بیان کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جس دن ان پر حملہ کیا گیا کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو عہد لیا تھا میں اسی کی طرف جا رہا ہوں۔ علی بن محمد نے اپنی حدیث میں: «وأنا صابر عليه» کہا ہے، یعنی: میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔ قیس بن ابی حازم کہتے ہیں: اس کے بعد سب لوگوں کا خیال تھا کہ اس گفتگو سے یہی دن مراد تھا ۱؎۔