Abdur Rahman bin Yazid Al-Ansari and Mujamma bin Yazid Al-Ansari said: that a man among them who was called Khidam arranged a marriage for his daughter, and she did not like the marriage arranged by her father. She went to the Messenger of Allah and told him about that, and he annulled the marriage arranged by her father. Then she married Abu Lubabah bin Abdul-Mundhir.
عبدالرحمٰن بن یزید انصاری اور مجمع بن یزید انصاری رضی اللہ عنہما خبر دیتے ہیں کہ خذام نامی ایک شخص نے اپنی بیٹی ( خنساء ) کا نکاح کر دیا، اس نے اپنے باپ کا کیا ہوا نکاح ناپسند کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے اس کے والد کا کیا ہوا نکاح فسخ کر دیا، پھر اس نے ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ سے شادی کی۔ یحییٰ بن سعید نے ذکر کیا کہ وہ ثیبہ ( غیر کنواری ) تھی۔
It was narrated from Ibn Buraidah that: his father said: “A girl came to the Prophet and said: 'My father married me to his brother's son so that he might raise his status thereby.' The Prophet gave her the choice, and she said: 'I approve of what my father did, but I wanted women to know that their fathers have no right to do that.' ”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نوجوان عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی عرض کیا: میرے والد نے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے کر دیا ہے، تاکہ میری وجہ سے اس کی ذلت ختم ہو جائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو اختیار دے دیا، تو اس نے کہا: میرے والد نے جو کیا میں نے اسے مان لیا، لیکن میرا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان کے باپوں کو ان پر ( جبراً نکاح کر دینے کا ) اختیار نہیں پہنچتا۔
It was narrated from Ibn Abbas that: a virgin girl came to the Prophet and told him that her father arranged a marriage that she did not like, and the Prophet gave her the choice.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے عرض کیا: اس کے والد نے اس کا نکاح کر دیا حالانکہ وہ راضی نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا۔