TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2098 - اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب میں جانے کی قسم کھانے کا بیان - The chapters on expiation - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 3 in this chapter
اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب میں جانے کی قسم کھانے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا فَهُوَ كَمَا قَالَ .
It was narrated that Thabit bin Ad-Dahhak said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever takes an oath to follow a religion other than Islam, telling a deliberate lie, he will be as he said.'
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام کے سوا کسی اور دین میں چلے جانے کی جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھائی، تو وہ ویسے ہی ہو گا جیسا اس نے کہا ۱؎۔
2098
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 3, Book 11, Hadith 2098 Arabic reference : Book 11, Hadith 2176
Conclusion
تخریج
صحیح البخاری/الجنائز۸۳ (۱۳۶۳)، الأدب ۴۴ (۶۰۴۷)،۷۳ (۶۱۰۵)، الأیمان ۷ (۶۶۵۲)، صحیح مسلم/الإیمان ۴۷ (۱۱۰)، سنن ابی داود/الأیمان ۹ (۳۲۵۷)، سنن الترمذی/الأیمان ۱۵ (۱۵۴۳)، سنن النسائی/الأیمان ۶ (۳۸۰۱)،۳۱ (۳۸۲۲)،(تحفة الأشراف:۲۰۶۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۳،۳۴)
Explanation
شرح و تفصیل
مثلاً یوں کہا: اگر میں فلاں کام کروں تو یہودی ہوں، یا نصرانی ہوں، یا اسلام سے یا نبی سے بری ہوں۔ اور اس کی طرح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کافر ہو جائے گا، اور اسلام سے نکل جائے گا، ظاہر حدیث کا یہی مطلب ہے، واضح رہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اتنی سختی سے یہ بات اس لیے فرمائی کہ لوگ ایسا کہنے سے بچیں، ورنہ اگر اس کا عقیدہ اسلام کا ہے تو کافر نہ ہو گا۔

Related Chapters

484
1
CHAPTER: What Has Been Reported About Swearing That One Has Nothing To Do With Islam Or That One Belongs To Another Religion.
باب: اسلام سے براءت اور اسلام کے سوا کسی اور مذہب میں چلے جانے کی قسم کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
2
اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی قسم اٹھانے والے اور اس شخص کا بیان جس نے کہا کہ وہ اسلام سے بری ہے
Musnad Ahmad
3
باب: اسلام کے سوا کسی دوسری ملت اور مذہب کی قسم کھانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Swear By A Religion Other Than Islam
باب: اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کے قسم کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
6
(7) CHAPTER. Whoever swears by a religion other than Islam.
اس شخص کے بارے میں جس نے اسلام کے سوا اور کسی مذہب پر قسم کھائی
Sahih Bukhari
7
اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
8
Chapter: What Has Been Related About Whoever Takes An Oath And Then Sees That Something Else Is Better Than It
باب: کسی کام پر قسم کھانے کے بعد اس سے بہتر کام جان جائے تو اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
9
(23) CHAPTER. The defendant has to take an oath wherever it becomes legally compulsory, and it is not imperative to take him from his place to another place (i.e., a sacred place like a mosque) for this purpose.
مدعیٰ علیہ پر جہاں قسم کھانے کا حکم دیا جائے وہیں قسم کھا لے یہ ضروری نہیں کہ کسی دوسری جگہ پر جا کر قسم کھائے
Sahih Bukhari
10
(21) CHAPTER. The Prophet never criticized any food (that was offered to him).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی قسم کے کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالا ہے ۔
Sahih Bukhari
11
(30) CHAPTER. If somebody dies without fulfiling a vow (may somebody else fulfil it on his behalf)?
جب کسی نے جاہلیت میں ( اسلام لانے سے پہلے ) کسی شخص سے بات نہ کرنے کی نذر مانی ہو یا قسم کھائی ہو پھر اسلام لایا ہو ؟
Sahih Bukhari
12
CHAPTER: One Who Swears Not To Eat Food.
باب: کسی چیز کے نہ کھانے کی قسم کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
13
باب: میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کر لے تو نابالغ بیٹے کو کسی ایک کے ساتھ ہو جانے کا اختیار دیا جائے گا۔
Sunnan Nisai
14
باب: اسلام سے برأت اور لاتعلقی کی قسم کھانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
باب: کسی بات کی قسم کھانے کے بعد آدمی اس سے بہتر چیز دیکھے تو کیا کرے؟
Sunnan Nisai
16
Chapter: What Has Been Related About One Who Makes A False Oath About His Merchandise
باب: سودے پر جھوٹی قسم کھانے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About The Apostate
باب: مرتد (اسلام سے پھر جانے والے) کی سزا کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About It being Disliked To Swear By Other Than Allah
باب: غیر اللہ کی قسم کھانے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
20
ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے ، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
Musnad Ahmad
21
بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے جواز کا بیان اور نبی کریم aکے علاوہ کے لیے نماز کے اجر کا آدھا ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
22
امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
Musnad Ahmad
23
اقامت کے بعد فرضی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
24
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
25
تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
26
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
Musnad Ahmad
27
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
Musnad Ahmad
28
جو قصداً اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے اور جو شخص اپنی ہی اولاد سے انکار کرے اس کی سزا کا بیان
Musnad Ahmad
29
سر یہ عبداللہ بن جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ عہدِ اسلام میں بنائے جانے والے اولین امیرِ لشکرہیں
Musnad Ahmad
30
حنین کے قیدیوں کو لائے جانے اور ان کی قبولِ اسلام کی بیعت کا بیان اور اس صحابی کا واقعہ جس نے نذر مانی تھی کہ اگر وہ آدمی ہمارے پاس لا یا گیا جو آج سارا دن ہم پر زور دار حملے کرتا رہا تو میں اس کی گردن اڑاؤں گا
Musnad Ahmad
31
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
32
(22) CHAPTER. Whoever kept a special dress for menses besides other dresses for the clean period.
اس بارے میں کہ جس نے ( اپنی عورت کے لیے ) حیض کے لیے پاکی میں پہنے جانے والے کپڑوں کے علاوہ کپڑے بنائے
Sahih Bukhari
33
(5) CHAPTER. The performance of Umra on the night of Hasba (the night of departure from Mina) after finishing Hajj and on other nights.
محصب کی رات عمرہ کرنا یا اس کے علاوہ کسی دن بھی عمرہ کرنے کا بیان
Sahih Bukhari
34
(16) CHAPTER. Whoever made a vow in the Pre-lslamic Period of Ignorance to perform Itikaf and then embraced Islam.
اگر کسی نے جاہلیت میں اعتکاف کی نذر مانی پھر وہ اسلام لایا
Sahih Bukhari
35
(2) CHAPTER. If a Muslim deputizes a non-Muslim warrior in the country infidelity in a Muslim state, the contract is valid.
اگر کوئی مسلمان دار الحرب یا دار الاسلام میں کسی حربی کافر کو اپنا وکیل بنائے تو جائز ہے
Sahih Bukhari
36
(24) CHAPTER. If (some people have to take an oath) and each of them wants to take it first.
جب چند آدمی ہوں اور ہر ایک قسم کھانے میں جلدی کرے تو پہلے کس سے قسم لی جائے
Sahih Bukhari
37
(47) CHAPTER. The taking of two kinds of fruit or two kinds of food at a time.
ایک وقت میں دو طرح کے ( پھل ) یا دو قسم کے کھانے جمع کر کے کھانا ۔
Sahih Bukhari
38
(57) CHAPTER. A man is invited to a meal, whereupon he says, “May this (person) come with me too?”
کسی شخص کی کھانے کی دعوت ہو ۔
Sahih Bukhari
39
(15) CHAPTER. If someone does something against his oath due to forgetfulness.
اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں
Sahih Bukhari
40
(18) CHAPTER. To swear (to do or not to do) something which is not in one‘s power (to do or not); and to swear to do an act of disobedience or to take an oath in a state of anger.
ملک حاصل ہونے سے پہلے یا گناہ کی بات کے لئے یا غصہ کی حالت میں قسم کھانے کا کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
41
(21) CHAPTER. The sin of the freed slave who denies his master who has freed him.
جب کوئی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لائے ( تو وہ اس کا وارث ہوتا ہے یا نہیں )
Sahih Bukhari
42
(1b) CHAPTER. Whoever preferred to be beaten, killed and humiliated rather than to revert to Kufr (i.e., disbelief).
جس نے کفر پر مار کھانے ، قتل کئے جانے اور ذلت کو اختیار کیا
Sahih Bukhari
43
Chapter: The one who eats, drinks, or has intercourse by mistake does not break his fast
بھول جانےوالے کے کھانے ‘پینے اور مجامعت کرنے سے روزہ ختم نہیں ہوتا
Sahih Muslim
44
Chapter: The prohibition of swearing by something other than Allah
غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت
Sahih Muslim
45
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
Sahih Muslim
46
Chapter: It is recommended to lick one's fingers and wipe the bowl, and to eat a piece of food that is dropped after removing any dirt on it. It is disliked to wipe one's hand before licking it, because of the possibility that the blessing of the food may be in that remaining part. The Sunnah is to eat with three fingers
انگلیاں اور کھانے کا برتن چاٹنے اور نیچے گرجانے والے لقمے کو جو ناپسند چیز لگی ہے،اسے صاف کرکے کھالینے کااستحباب اور اس کو چاٹنے سے پہلے ،کہ برکت اسی میں ہوسکتی ہے،ہاتھ پونچھنا مکروہ ہے اور سنت تین انگلیوں سے کھانا ہے
Sahih Muslim
47
Chapter: It is permissible to take someone else to the house of one who you are certain will approve of that and will not mind. It is recommended to gather to eat
اگر میزبان کی رضا مندی پر اعتماد ہو اس بات کا پورا یقین ہو تو کسی اور کو اپنے ساتھ اس (بلانے والے)کے گھر لے جاناجائز ہے ،اور کھانے پر اکھٹا ہونامستحب ہے
Sahih Muslim
48
Chapter: The Permissibility Of Branding Animals Anywhere But On The Face, And This Is Recommended In The Case Of Animals Given As Zakat Ot Jizyah
انسان کے علاوہ حیوانوں کو منہ کے علاوہ جس کے کسی اور حصے پر نشانی ثبت کرنے کا جواز زکاۃ اور جزیے میں ملنے والے جانوروں کو نشانی لگا نا (تا کہ وہ گم نہ ہو جائیں)مستحب ہے
Sahih Muslim
49
CHAPTER: Wudu’ From Eating Camel Meat.
باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ( ٹوٹ جانے ) کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: Sending Salat Upon Other Than The Prophet (saws).
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے پر درود بھیجنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,012
Sahih Muslim
304
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ، كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا، فَهْوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ، عَذَّبَهُ اللهُ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ» هَذَا حَدِيثُ سُفْيَانَ، وَأَمَّا شُعْبَةُ فَحَدِيثُهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ، كَاذِبًا، فَهْوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ ذَبَحَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ، ذُبِحَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
It is narrated on the authority of Thabit b. Dahhak that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: He who took deliberately a false oath on a religion other than Islam would become that which he had professed. And he who killed himself with anything Allah would torment him with that in the Fire of Hell.
شعبہ نے ایوب سے ، انہوں نے ابو قلابہ سے اور انہوں نے حضرت ثابت بن ضحاک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، نیز سفیان ثوری نے بھی خالدحذاء سے ، انہوں نے ابو قلابہ سے ارو انہوں نے حضرت ثابت بن ضحاک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے جان بوجھ کر اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ اپنے قول کے مطابق ( اسی مذہب سے ) ہو گا اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کیا ، اللہ اس کو جہنم کی آگ میں اسی چیز سے عذاب دے گا ۔ ‘ ‘ یہ سفیان کی بیان کردہ حدیث ہے ۔ اور شعبہ کی روایت یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائی ( اس روایت میں ’’جان بوجھ کر ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ) تو وہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے کہا ہے اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے ذبح کر ڈالا ، اسے قیامت کے دن اسی چیز سے ذبح کیا جائے گا ۔ ‘ ‘
Sunnan Ibn e Maja
2603
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ‏‏‏‏‏‏ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ حَدًّا، ‏‏‏‏‏‏فَعُجِّلَتْ لَهُ عُقُوبَتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَهُوَ كَفَّارَتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِلَّا فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ .
It was narrated from Ubadah bin Samit that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever among you undergoes a Hadd, his punishment has been brought forward, and it is an expiation for him otherwise his case rests with Allah.”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے اگر کوئی ایسا کام کرے جس سے حد لازم آئے، اور اسے اس کی سزا مل جائے، تو یہی اس کا کفارہ ہے، ورنہ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ۔
Jam e Tirmazi
124
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورُ الْمُسْلِمِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيُمِسَّهُ بَشَرَتَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ . وقَالَ مَحْمُودٌ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَيُّوبُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَلَمْ يُسَمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الْجُنُبَ وَالْحَائِضَ إِذَا لَمْ يَجِدَا الْمَاءَ تَيَمَّمَا وَصَلَّيَا، ‏‏‏‏‏‏وَيُرْوَى عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى التَّيَمُّمَ لِلْجُنُبِ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُرْوَى عَنْهُ أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَتَيَمَّمُ إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ،‏‏‏‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاقُ.
Abu Dharr narrated that : AlIah's Messenger said: Pure clean earth is a purifier for the Muslim; even if he did not find water for ten years. Then if he finds water, then let him use it (for purification) on his skin. For, that is better.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کو پاک کرنے والی ہے گرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے، پھر جب وہ پانی پا لے تو اسے اپنی کھال ( یعنی جسم ) پر بہائے، یہی اس کے لیے بہتر ہے“۔ محمود ( محمود بن غیلان ) نے اپنی روایت میں یوں کہا ہے: پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر فقہاء کا قول یہی ہے کہ جنبی یا حائضہ جب پانی نہ پائیں تو تیمم کر کے نماز پڑھیں، ۴- ابن مسعود رضی الله عنہ جنبی کے لیے تیمم درست نہیں سمجھتے تھے اگرچہ وہ پانی نہ پائے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا اور یہ کہا تھا کہ وہ جب پانی نہیں پائے گا، تیمم کرے گا، یہی سفیان ثوری، مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
193
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ،‏‏‏‏ وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاقُ.
Anas bin Malik narrated: Bilal was ordered to make the phrases of the Adhan even, and the phrases of the Iqamah odd.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی الله عنہ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان دہری اور اقامت اکہری کہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بعض اہل علم کا یہی قول ہے، اور مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
205
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَنَا:‏‏‏‏ إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ اخْتَارُوا الْأَذَانَ فِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ تُجْزِئُ الْإِقَامَةُ إِنَّمَا الْأَذَانُ عَلَى مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَجْمَعَ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاقُ.
Malik bin Al-Huwairih said: A cousin of mine and I arrived as guests of Allah's Messenger. He said to us: 'When you travel then call the Adhan and Iqamah and let the eldest of you lead the prayer.'
مالک بن حویرث رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے چچا زاد بھائی دونوں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ہم سے فرمایا: جب تم دونوں سفر میں ہو تو اذان دو اور اقامت کہو۔ اور امامت وہ کرے جو تم دونوں میں بڑا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ان لوگوں نے سفر میں اذان کو پسند کیا ہے، اور بعض کہتے ہیں: اقامت کافی ہے، اذان تو اس کے لیے ہے جس کا ارادہ لوگوں کو اکٹھا کرنا ہو۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
287
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيِّ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَكَانَ إِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِسْحَاق وَبَعْضُ أَصْحَابِنَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكٌ يُكْنَى أَبَا سُلَيْمَانَ.
Malik bin Al-Huwairith Al-Laithi narrated that he saw : Allah's Messenger performing Salat. When he was in an odd number of his Salat, he would not get up until he had sat completely.
ابواسحاق مالک بن حویرث لیثی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا، آپ کی نماز اس طرح سے تھی کہ جب آپ طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک کہ آپ اچھی طرح بیٹھ نہ جاتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مالک بن حویرث کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی اسحاق بن راہویہ اور ہمارے بعض اصحاب بھی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
395
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ وَهُوَ عَمُّ أَبِي قِلَابَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ،‏‏‏‏ وَأَبُو الْمُهَلَّبِ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ أَيْضًا:‏‏‏‏ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ،‏‏‏‏ وَهُشَيْمٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ بِطُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي التَّشَهُّدِ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ يَتَشَهَّدُ فِيهِمَا وَيُسَلِّمُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ لَيْسَ فِيهِمَا تَشَهُّدٌ وَتَسْلِيمٌ وَإِذَا سَجَدَهُمَا قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ إِذَا سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ.
Abu Al-Muhallab narrated from Imran bin Husain that : the Prophet (S) led them in Salat he forgot (something) so he performed two prostrations, then the Tashah-hud, then the Salam.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی آپ سے سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عبد الوھاب ثقفی، ھشیم اور ان کے علاوہ کئی اور لوگوں نے بطریق: «خالد الحذاء عن أبي قلابة» یہ حدیث ذرا لمبے سیاق کے ساتھ روایت کی ہے، اور وہ یہی عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر میں صرف تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی اٹھا جسے «خرباق» کہا جاتا تھا ( اور اس نے پوچھا: کیا نماز میں کمی کر دی گئی ہے، یا آپ بھول گئے ہیں ) ۳- سجدہ سہو کے تشہد کے سلسلہ میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے گا اور سلام پھیرے گا۔ اور بعض کہتے کہ سجدہ سہو میں تشہد اور سلام نہیں ہے اور جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے ( اختلاف تو سلام کے بعد میں ہے ) ۔
Jam e Tirmazi
1139
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ السُّنَّةُ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَفَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ بَعْضُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً بِكْرًا عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمَا بَعْدُ بِالْعَدْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ:‏‏‏‏ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا لَيْلَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
Abu Qilabah narrated from Anas bin Malik, : He (Abu Qilabah) said: If I wish, I could say: 'The Messenger of Allah said' but he said: The Sunnah when a man married a virgin after he already has a wife, is that he stays with her seven (nights). And when he married a matron when he already has a wife, he stays with her three (nights).
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر میں چاہوں تو کہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن انہوں نے صرف اتنا کہا: ”سنت ۱؎ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات رات ٹھہرے، اور جب غیر کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین رات ٹھہرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے محمد بن اسحاق نے مرفوع کیا ہے، انہوں نے بسند «ایوب عن ابی قلابہ عن انس» روایت کی ہے اور بعض نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- اس باب میں ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۴- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی اور کنواری سے شادی کرے، تو اس کے پاس سات رات ٹھہرے، پھر اس کے بعد ان کے درمیان باری تقسیم کرے، اور پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے جب کسی غیر کنواری ( بیوہ یا مطلقہ ) سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات ٹھہرے۔ مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۵- تابعین میں سے بعض اہل علم نے کہا کہ جب کوئی اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو وہ اس کے پاس تین رات ٹھہرے اور جب غیر کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں دو رات ٹھہرے۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1240
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ أَرْبَى بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبِيعُوا الْبُرَّ بِالتَّمْرِ كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبِيعُوا الشَّعِيرَ بِالتَّمْرِ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ بِيعُوا الْبُرُّ بِالشَّعِيرِ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ خَالِدٌ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ:‏‏‏‏ بِيعُوا الْبُرَّ بِالشَّعِيرِ كَيْفَ شِئْتُمْ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَرَوْنَ أَنْ يُبَاعَ الْبُرُّ بِالْبُرِّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا اخْتَلَفَ الْأَصْنَافُ فَلَا بَأْسَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يُبَاعَ مُتَفَاضِلًا إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ وَالْحُجَّةُ فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بِيعُوا الشَّعِيرَ بِالْبُرِّ كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ تُبَاعَ الْحِنْطَةُ بِالشَّعِيرِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
Narrated 'Ubadah bin As-Samit: That the Prophet (ﷺ) said: Gold for gold, kind for kind; silver for silver, kind for kind; dried-dates for dried-dates, kind for kind; wheat for wheat, kind for kind; salt for salt, kind for kind; and barley for barley, kind for kind. Whoever increases or seeks an increase, then he dealt with Riba. Sell gold for silver as you wish, hand to hand; and sell wheat for dried-dates as you wish, hand to hand; and sell barley for dried-dates as you wish, hand to hand. [He said:] There are narrations on this topic from Abu Sa'eed, Abu Hurairah, Bilal, And Anas. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of 'Ubadah bin As-Samit is Hasan Sahih. Some of them reported this Hadith from Khalid, with this chain, and he said: Sell wheat for barley as you wish, hand to hand. Some of them reported this Hadith from Khalid, from Abu Qilabah, from Ash'ath, from 'Ubadah from the Prophet (ﷺ). In that Hadith, they added that Khalid said: Abu Qilabah said: Sell wheat for barley as you wish, hand to hand. This Hadith is acted upon according to the people of knowledge, they do not think that one may sell wheat for wheat except when it is the same kind for the same kind, and (the same for) barely in exchange for barley, kind for kind. When the items are themselves different, then there is no harm in one being more than the other if it is hand to hand. This is saying of most of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ) and others. It is the view of Sufyan Ath-Thawri, Ash-Shafi'i, Ahmad, and Ishaq. Ash-Shafi'i said: And the proof for that is the saying of the Prophet (ﷺ): 'Sell barley for wheat as you wish, hand to hand.' [Abu 'Eisa said:] Some of the people of knowledge considered it disliked that wheat be sold for barely unless it was kind for kind. This is the view of Malik bin Anas, but the first view is more correct.
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو سونے سے، چاندی کو چاندی سے، کھجور کو کھجور سے، گیہوں کو گیہوں سے، نمک کو نمک سے اور جو کو جو سے برابر برابر بیچو، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا معاملہ کیا۔ سونے کو چاندی سے نقداً نقد، جیسے چاہو بیچو، گیہوں کو کھجور سے نقداً نقد جیسے چاہو بیچو، اور جو کو کھجور سے نقداً نقد جیسے چاہو بیچو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کو خالد سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ گیہوں کو جو سے نقدا نقد جیسے چاہو بیچو، ۳- بعض لوگوں نے اس حدیث کو خالد سے اور خالد نے ابوقلابہ سے اور ابوقلابہ نے ابوالاشعث سے اور ابوالاشعث نے عبادہ سے اور عبادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے: خالد کہتے ہیں: ابوقلابہ نے کہا: گیہوں کو جو سے جیسے سے چاہو بیچو۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی، ۴- اس باب میں ابوسعید، ابوہریرہ، بلال اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۵- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ لوگ گیہوں کو گیہوں سے اور جو کو جو سے صرف برابر برابر ہی بیچنے کو جائز سمجھتے ہیں اور جب اجناس مختلف ہو جائیں تو کمی، بیشی کے ساتھ بیچنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ بیع نقداً نقد ہو۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا یہی قول ہے۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: اس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ جو کو گیہوں سے نقدا نقد جیسے چاہو بیچو، ۶- اہل علم کی ایک جماعت نے جو سے بھی گیہوں کے بیچنے کو مکروہ سمجھا ہے، الا یہ کہ وزن میں مساوی ہوں، پہلا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔