It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: A City-dweller should not sell for a Bedouin.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے ۱؎۔
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Prophet (ﷺ) said: A city-dweller should not sell for a Bedouin. Leave people to (engage in trade) and Allah will grant them provision through one another.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو، ( خود بیچیں ) اللہ تعالیٰ بعض کو بعض سے روزی دیتا ہے ۔
Ibn Tawus narrated from his father that Ibn 'Abbas said: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade a city-dweller to sell for a Bedouin. (Sahih)I (Tawus) said to Ibn 'Abbas: What is meant by the words: 'A city-dweller selling for a Bedouin?' He said: He should not be a broker for him.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا مال بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «حاضر لباد» کا کیا مفہوم ہے؟ تو انہوں نے کہا: بستی والا باہر والے کا دلال نہ بنے