TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Chapter: Passing Judgment By Casting Lots - قرعہ اندازی کے ذریعہ فیصلہ کرنے کا بیان - The chapters on rulings - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 20 of The chapters on rulings in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 20 of 33 · 4 Hadith
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ سِتَّةُ مَمْلُوكِينَ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ فَجَزَّأَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً .
It was narrated from 'Imran bin Husain that : a man had six slaves, and he did not have any other wealth apart from them, and he set them free when he died. The Messenger of Allah (ﷺ) divided them into groups, set two free and left four as slaves.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص کے چھ غلام تھے، ان غلاموں کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، مرتے وقت اس نے ان سب کو آزاد کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حصے کئے ( دو دو کے تین حصے ) ( اور قرعہ اندازی کر کے ) دو کو ( جن کے نام قرعہ نکلا ) آزاد کر دیا، اور چار کو بدستور غلام رکھا ۱؎۔
Takhreej
صحیح مسلم/الحدود ۵ (۱۶۶۸)، سنن ابی داود/الحدود ۲۵ (۳۹۵۸،۳۹۵۹)، سنن الترمذی/الأحکام ۲۷ (۱۳۶۴)،(تحفة الأشراف:۱۰۸۸۰)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجنائز۶۵ (۱۹۶۰)، مسند احمد (۴/۴۲۰،۴۳۵،۴۳۷،۴۴۰)
Explanation
جب آدمی بیمار ہو تو اس کو چاہئے کہ وارثوں کا خیال رکھے، اور اپنی ساری دولت تقسیم نہ کر دے، اگر ایسا ہی ضروری ہو تو تہائی مال تک اللہ کی راہ میں دے دے، اور دو تہائی دولت وارثوں کے لئے چھوڑ دے، اگر ساری دولت کے صدقہ کی وہ وصیت کرے تو یہ وصیت تہائی مال ہی میں نافذ ہو گی۔ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا، دو غلاموں کو قرعہ ڈال کر آزاد کرایا، اور قرعہ اس واسطے ڈالا کہ وہ جھگڑا نہ کریں، اور وہ وارثوں کی ملکیت میں بدستور غلام رہے، دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے حق میں سخت کلمہ کہا کیونکہ اس نے وارثوں کا خیال نہیں رکھا تھا
2345
Sahih
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خِلَاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَارَءَا فِي بَيْعٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ أَحَبَّا ذَلِكَ أَمْ كَرِهَا .
It was narrated from Abu Hurairah that : two men disputed concerning a transaction, and neither of them had proof. The Messenger of Allah commanded them to draw lots as to which of them should swear an oath, whether they liked it or not.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بیع کے متعلق دو آدمیوں نے جھگڑا کیا، اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈالنے کا حکم دیا خواہ انہیں یہ فیصلہ پسند ہو یا ناپسند۔
Takhreej
سنن ابی داود/الأقضیة ۲۲ (۳۶۱۶)وأنظر حدیث رقم:(۲۳۲۹)،(تحفة الأشراف:۱۴۶۶۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۴۸۹،۵۲۴)
2346
Zaeef
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ .
It was narrated from 'Aishah that : when the Prophet (ﷺ) traveled, he would cast lots among his wives (to decide which one would accompany him).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/الھبة ۱۵ (۲۵۹۳)، المغازي ۳۴ (۴۱۴۱)، النکاح ۹۷ (۵۰۹۲)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۱۳ (۲۴۴۵)، التوبة ۱۰ (۲۴۴۵)، سنن ابی داود/النکاح ۳۹ (۲۱۳۸)،(تحفة الأشراف:۱۶۶۷۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۵۱،۱۹۷،۲۶۹)، سنن الدارمی/النکاح ۲۶ (۲۲۴۵)، الجہاد ۳۱ (۲۴۶۷)،(یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو:۱۹۷۰)
Explanation
یعنی جس کے نام قرعہ نکلتا اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔
2347
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ بِالْيَمَنِ فِي ثَلَاثَةٍ قَدْ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ فَقَالَا:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ فَقَالَا:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ كُلَّمَا سَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالَا:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ .
It was narrated that Zaid bin Arqam said: “A case was brought to 'Ali bin Abu Talib when he was in Yemen, concerning three men who had intercourse with a woman during one period of being free from menses. He asked two of them: “Do you affirm that this child belongs to (the third man)?” And they said: “No.” He asked another two of them: “Do you affirm that this child belongs to (the third man)?” And they said: “No.” Every time he asked two of them whether they affirmed that the child belonged to the third, they would say no. So he cast lots between them, and attributed the child to the one whose name was chosen in this manner, and obliged him to pay two thirds of the Diyah. The Prophet (ﷺ) was told of this, and he smiled so broadly that his back teeth became visible.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے، تو ان کے پاس یہ مقدمہ آیا کہ تین آدمیوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی، تو انہوں نے پہلے دو آدمیوں سے پوچھا: کیا تم دونوں اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ ان دونوں نے کہا: نہیں، پھر دو کو الگ کیا، اور ان سے پوچھا: کیا تم دونوں اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ اس طرح جب وہ دو دو سے پوچھتے کہ تم اس لڑکے کو تیسرے کا کہتے ہو؟ تو وہ انکار کرتے، آخر انہوں نے قرعہ اندازی کی، اور جس کے نام قرعہ نکلا وہ لڑکا اس کو دلایا، اور دو تہائی کی دیت اس پر لازم کر دی، اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ ہنسے، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے ۱؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الطلاق ۳۲ (۲۲۷۰)، سنن النسائی/الطلاق ۵۰ (۳۵۱۸)،(تحفة الأشراف:۳۶۷۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۷۳،۴۷۴)
Explanation
ہنسی کی وجہ یہ تھی کہ یہ فیصلہ عجیب طور کا تھا، اور دو تہائی دیت کی اس سے اس لئے دلوائی کہ دعوی کے مطابق اس لڑکے میں تینوں شریک تھے، اب قرعہ جھگڑا ختم کرنے کے لئے کیا، نہ نسب ثابت کرنے کے لئے، تو اس شخص کو بچہ کا دو تہائی کا بدلہ دوسرے دعویداروں کو دینا پڑا اور یہ علی رضی اللہ عنہ کی اپنی رائے تھی، لیکن ابوداود نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایسی صورت میں یہ حکم فرمایا: وہ بچہ اپنی ماں کے پاس رہے گا، اور کسی سے اس کا نسب ثابت نہ ہو گا، نہ وہ ان دعویداروں میں سے کسی مرد کا وارث ہو گا۔
2348
Zaeef

Chapters

33
01
Chapter: Mention Of Judges
قاضیوں کا بیان
3 Hadith
02
Chapter: Emphatic Prohibition against Injustice and Bribery
ظلم اور رشوت پر وارد وعید کا بیان
3 Hadith
03
Chapter: When The Judge Does His Best (To Reach A Verdict) And Gets It Right
اجتہاد کر کے صحیح فیصلہ تک پہنچنے والے حاکم کے اجر و ثواب کا بیان
2 Hadith
04
Chapter: The judge Should Not Pass A Judgment When He Is Angry
غصہ کی حالت میں حاکم و قاضی فیصلہ نہ کرے
1 Hadith
05
Chapter: The Ruling Of A judge Does Not Make What Is Permissible Forbidden
حاکم کا فیصلہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کرتا
2 Hadith
06
Chapter: One Who Claims Something Does Not Belong To Him And Disputes About It
جس نے دوسرے کے مال پر دعویٰ کر کے اس میں جھگڑا کیا اس پر وارد وعید کا بیان
2 Hadith
07
Chapter: The Burden Of Proof Rests With The Plaintiff And An Oath Is Required From The One The Cla
مدعی اپنے دعوے کے حق میں گواہی پیش کرے اور مدعیٰ علیہ (یعنی جس کے خلاف دعویٰ ہے) اس پر قسم کھائے
2 Hadith
08
Chapter: Who Swears A False Oath In Order To Seize Wealth Unlawfully
جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کر لینے کی شناعت کا بیان
2 Hadith
09
Chapter: Swearing An Oath At The Time Of Usurping People's Rights
حقوق دلانے کی جگہوں پر قسم کھانے کا بیان۔
2 Hadith
10
Chapter: What The People Of The Book Should Be Asked To Swear By
اہل کتاب کو کن الفاظ میں قسم دلائی جائے گی اس کا بیان۔
2 Hadith
11
Chapter: When Two Men Claim Some Goods And Neither Of Them Has Any Proof
ایک چیز کے دو دعوے دار ہوں اور کسی کے پاس گواہ نہ ہوں تو اس کی حکم کا بیان
2 Hadith
12
Chapter: A Person Who Has Something Stolen, And He Finds It In The Possession Of A Man Who Bought
کسی آدمی کے یہاں چوری ہو گئی اور چوری کا مال کسی نے خرید لیا تو اس کا مال کا حقدار کون ہے؟۔
1 Hadith
13
Chapter: Ruling On Property Damaged By Livestock
مویشیوں نے اگر کسی کے کھیت اور باغ کو نقصان پہنچا دیا ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
1 Hadith
14
Chapter: Ruling Concerning One Who Breaks Something
اگر کسی نے کوئی چیز توڑ دی تو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
15
Chapter: A Man Fixing Wood To The Wall Of His Neighbor
پڑوسی کی دیوار پر دھرن (شہتیر) رکھنے کا بیان
3 Hadith
16
Chapter: When There Is A Dispute As To How Wide A Road Or Path Should Be
راستے کی لمبائی چوڑائی کے بارے میں لوگوں میں جھگڑا ہو تو فیصلہ کیسے ہو گا؟
2 Hadith
17
Chapter: One Who Builds Something On His Own Property That Harms His Neighbor
جس نے اپنی جگہ میں کوئی ایسی عمارت بنائی جس سے پڑوسی کو نقصان ہے تو اس کے حکم کا بیان
3 Hadith
18
Chapter: Two Men Who Lay Claim To A Hut
جھونپڑی کے دو دعوے دار ہوں تو فیصلہ کیسے ہو گا؟۔
1 Hadith
19
Chapter: Who Stipulates The Condition Of Khalas
(خرید و فروخت میں) خلاصی کی شرط لگانے کا بیان
1 Hadith
20
Chapter: Passing Judgment By Casting Lots
قرعہ اندازی کے ذریعہ فیصلہ کرنے کا بیان
4 Hadith
21
Chapter: Those Who Detect A Family Likeness
قیافہ شناسوں کا بیان
2 Hadith
22
Chapter: Giving A Child The Choice Between His The Parents
چے کو اختیار دینا کہ ماں باپ میں سے جس کے پاس رہنا چاہے رہے۔
2 Hadith
23
Chapter: Reconciliation
صلح کا بیان
1 Hadith
24
Chapter: Preventing One Who Will Mishandle His Wealth
جو شخص اپنا مال برباد کرتا ہو تو اس پر حجر (پابندی لگانا) درست ہے
2 Hadith
25
Chapter: Bankruptcy Of A Poor Man, And Selling His Assets To Pay Off His Creditors
مفلس آدمی کو دیوالیہ قرار دے کر اس کا مال بیچ کر قرض خواہوں کو ادائیگی کرنا
2 Hadith
26
Chapter: One Who finds His Exact Property With A Man Who Has Become Bankrupt
ایک شخص کا دیوالیہ ہو گیا اور کسی نے اپنا مال اس کے پاس پا لیا تو اس کے حکم کا بیان
4 Hadith
27
Chapter: To Give Testimony When One Has Not been Asked To Do Is Disliked
بغیر طلب کئے خود سے گواہی دینے کی کراہت کا بیان
2 Hadith
28
Chapter: A Man Who Has Testimony To Give, When The Person To Whom It Pertains Is Unaware Of That
گواہ موجود ہے لیکن صاحب معاملہ کو اس کی خبر نہیں ہے تو گواہ کیا کرے؟۔
1 Hadith
29
Chapter: Witnessing Loans
قرض پر گواہ بنانے کا بیان
1 Hadith
30
Chapter: The One Whose Testimony Permitted
جن لوگوں کی گواہی جائز نہیں ہے ان کا بیان۔
2 Hadith
31
Chapter: Passing Judgement On The Basis Of A Witness And An Oath
ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے فیصلہ کرنے کا بیان
4 Hadith
32
Chapter: False Witness
جھوٹی گواہی دینے کا بیان
2 Hadith
33
Chapter: The Testimony Of The People Of The Book Against One Another
اہل کتاب کی ایک دوسرے کے خلاف گواہی کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.