Ali bin Abi Talib said: “I would not pay the blood money (Diyah) for those on whom I carried out the legal punishment, except for the wine-drinker. The Messenger of Allah did not institute anything in that case, rather it is something that we would do.”
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس پر میں حد جاری کروں ( اگر وہ مر جائے ) تو میں اس کی دیت ادا نہیں کروں گا، سوائے شرابی کے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد نہیں مقرر فرمائی، بلکہ یہ تو ہماری اپنی مقرر کی ہوئی حد ہے۔
It was narrated that Anas bin Malik said: “The Messenger of Allah (ﷺ) used to beat (offenders) for drinking wine with sandals and date-palm stalks.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شراب کے جرم میں جوتوں اور چھڑیوں سے مارنے کی سزا دیتے تھے۔
Hudain bin Mundhir said: “When Walid bin `Uqbah was brought to `Uthman, they had testified against him. He said to 'Ali: 'You are close to your uncle's son, so carry out the legal punishment on him.' So 'Ali whipped him. He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) gave forty lashes, and Abu Bakr gave forty lashes, and 'Umar gave eighty all are Sunnah.'”
حضین بن منذر رقاشی کہتے ہیں کہ جب ولید بن عقبہ کو عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور لوگوں نے ان کے خلاف گواہی دی، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اٹھئیے اور اپنے چچا زاد بھائی پر حد جاری کیجئے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے ان کو کوڑے مارے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگائے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگائے، اور ان میں سے ہر ایک سنت ہے ۱؎۔