TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 603 - عورتوں کے غسل جنابت کا طریقہ - تیمم کے احکام و مسائل - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
عورتوں کے غسل جنابت کا طریقہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تُفِيضِي عَلَيْكِ مِنَ الْمَاءِ فَتَطْهُرِينَ أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ .
It was narrated that Umm Salamah said: I said, O Messenger of Allah! I am a woman with tight braids. Should I undo them when I take a bath to cleanse myself from the state of sexual impurity? He said: Rather it is sufficient for you to pour three handfuls of water over yourself, and you will be purified, or he said: In that case you would have become purified.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں چوٹی کو مضبوطی سے باندھنے والی عورت ہوں، کیا اسے غسل جنابت کے لیے کھولوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں یہی کافی ہے کہ تین چلو پانی لے کر اپنے سر پر بہا لو پھر پورے بدن پر پانی ڈالو، پاک ہو جاؤ گی ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اس وقت تم پاک ہو گئیں ۱؎۔
603
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 1, Hadith 603 Arabic reference : Book 1, Hadith 646
Conclusion
تخریج
صحیح مسلم/الحیض ۱۲ (۳۳۰)، سنن ابی داود/الطہارة ۹۹ (۲۵۱)، سنن الترمذی/الطہارة ۷۷ (۱۰۵)، سنن النسائی/الطہارة ۱۵۰ (۲۴۲)، (تحفة الأشراف: ۱۸۱۷۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/ ۲۸۹، ۳۱۵)، سنن الدارمی/الطہارة ۱۱۵ (۱۱۹۶)
Explanation
شرح و تفصیل
یعنی جب ایسا کیا تو پاک ہو گئی کیونکہ مقصود سارے سر کا بھیگ جانا ہے، اور تین لپوں میں یہ سارا کام پورا ہو جاتا ہے، اگر پورا نہ ہو تو اس سے زیادہ بھی ڈال سکتی ہے، مگر بندھی ہوئی چوٹی کا کھولنا ضروری نہیں، اکثر علماء کے نزدیک رفع تکلیف کا یہ حکم عورتوں کے لئے خاص ہے۔

Related Chapters

470
1
غسل جنابت کا طریقہ
Sunnan Ibn e Maja
2
(76)Chapter: What Has Been Related About Ghusl For Janabah
باب: غسل جنابت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
Musnad Ahmad
4
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
5
غسلِ جنابت کے بعد خشک رہ جانے والی جگہ کو پالینے والے کا بیان
Musnad Ahmad
6
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
Musnad Ahmad
7
(7) CHAPTER. To rinse the mouth and to clean the nose by putting water in it and then blowing it out while taking the bath of Janaba.
اس بیان میں کہ غسل جنابت کرتے وقت کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے
Sahih Bukhari
8
(18) CHAPTER. The removing of water from one's body with one's hands after taking the bath of Janaba.
اس بارے میں کہ غسل جنابت کے بعد ہاتھوں سے پانی جھاڑ لینا ( سنت نبوی ہے )
Sahih Bukhari
9
(28) CHAPTER. When male and female organs come in close contact (bath becomes compulsory).
اس بارے میں کہ جب دونوں ختان ایک دوسرے سے مل جائیں تو غسل جنابت واجب ہے
Sahih Bukhari
10
Chapter: The amount of water with which it is recommended to perform ghusl in the case of janabah; a man and woman washing from a single vessel; one of them washing with the left-over water of the other
غسل جنابت کے لیے پانی کی مستحب مقدار ، مرد و عورت کا ایک برتن سے ایک ( ہی ) حالت میں غسل کرنا اور دونوں میں سےایک کادوسرے کے بچے ہوئے پانی سےنہانا
Sahih Muslim
11
Chapter: Prohibition of women attending funerals
عورتوں کےلیے جنازے کے پیچھے (ساتھ)جانے کی ممانعت میت کو غسل دینا
Sahih Muslim
12
Chapter: How women gave their oath of allegiance
عورتوں کی بیعت کا طریقہ
Sahih Muslim
13
CHAPTER: Water Does Not Become Junub (Impure).
باب: غسل جنابت کا بچا ہوا پانی نجس نہیں ہوتا ۔
Sunnan Abu Dawood
14
CHAPTER: Regarding The Ghusl For Janabah.
باب: غسل جنابت کے طریقے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
15
CHAPTER: Performing Wudu’ After Ghusl.
باب: غسل جنابت کے بعد وضو کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
16
وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
17
غسل جنابت سے زخمی کو موت کا ڈر ہو تو کیا کرے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
18
غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
19
کیا غسل جنابت کے بعد وضو کی ضرورت ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
20
غسل جنابت کے بعد شوہر اپنی جنبی بیوی کے بدن کی گرمی حاصل کر سکتا ہے
Sunnan Ibn e Maja
21
غسل جنابت میں بدن کا کوئی حصہ خشک رہ جائے تو کیا کرے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
22
غسل جنابت کے وقت عورت کا اپنی چوٹیاں نہ کھولنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
23
کئی عورتوں سے جماع کرنے بعد آخر میں غسل کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
24
غسل جنابت میں پہلے وضو کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
25
غسل جنابت کے وضو میں سر کا مسح نہ کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
غسل جنابت میں سر کی پوری جلد تک پانی پہنچانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
27
حیض کے غسل کے طریقہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
28
احرام باندھنے کے وقت نفاس والی عورتوں کے غسل کا بیان۔
Sunnan Nisai
29
ایک ہی غسل میں ساری عورتوں کے پاس جانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
30
(21)Chapter: What Has Been Related About Al-Madmadah And AI-Istinshaq
باب: وضو اور غسل میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
(48)Chapter: [What has Been Related] About Permitting That
باب: عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
(77)Chapter: Should A Woman Undo Her Hair For Ghusl?
باب: کیا عورت غسل کے وقت اپنے بال کھولے؟
Jam e Tirmazi
33
(78)Chapter: What Has Been Related About Under Each Hair Is Sexual Impurity.
باب: ہر بال کے نیچے جنابت ہے
Jam e Tirmazi
34
(79)Chapter: [What Has Been Related] About Wudu' After Ghusl
باب: غسل کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
(80)Chapter: What Has Been Related: When The Two Circumcised Organs Meet, Ghusl Is Required.
باب: مرد اور عورت کی شرمگاہ مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
(81)Chapter: What Has Been Related That 'Water Is For Water'
باب: منی نکلنے پر غسل کے واجب ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
(87)Chapter: [What Has Been Related] About The Person Who Is Junub Sleeping Before performing Ghusl
باب: جنبی غسل کرنے سے پہلے سوئے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
38
(91)Chapter: [What Has Been Related] About The Man Who Seeks The Warmth Of A Woman After Performing Ghusl
باب: غسل کرنے کے بعد مرد عورت سے چمٹ کر گرمی حاصل کرے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
39
(95)Chapter: [What Has Been Related] About AI-Mustahadah That She Can Combine Two Prayers With One Ghusl
باب: مستحاضہ ایک غسل سے دو نمازیں ایک ساتھ جمع کر سکتی ہے
Jam e Tirmazi
40
(96)Chapter: What Has Been Related About Al-Mustahadah That She Is To Perform Ghusl For Every Salat
باب: مستحاضہ عورت ہر نماز کے وقت غسل کرے
Jam e Tirmazi
41
(106)Chapter: What Has Been Related About A Man Going To All Of His Women With One Ghusl
باب: کئی بیویوں سے صحبت کرنے کے بعد آخر میں غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: Something else about that
باب: طریقہ نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About 'All Of The Earth Is A Masjid, Except For The Graveyard And Washroom'
باب: قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے علاوہ پوری زمین سجدہ گاہ ہے
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The 'The Tasbih Is For The Men And Clapping Is For The Women'
باب: نماز میں امام کے سہو پر مردوں کے ”سبحان اللہ“ کہنے اورعورتوں کے دستک دینے کا بیان​
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Description of As-Salat Upon The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا طریقہ
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Performing Ghusl On Friday
باب: جمعہ کے دن کے غسل کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of Ghusl On Friday
باب: جمعہ کے دن غسل کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: About The Women Going Out For The Two Eid
باب: عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: The Manner Of The Recitation For The Eclipse
باب: گرہن کی نماز میں قرأت کا طریقہ
Jam e Tirmazi
50
Chapter: (What Has Been Related) About Women Going Out To The Masjid
باب: عورتوں کے مسجد جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

156
Sahih Muslim
744
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ - عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي فَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ قَالَ: «لَا. إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ».
Umm Salama reported: I said: Messenger of Allah, I am a woman who has closely plaited hair on my head; should I undo it for taking a bath, because of sexual intercourse? He (the Holy Prophet) said: No, it is enough for you to throw three handfuls of water on your head and then pour water over yourself, and you shall be purified.
سفیان بن عیینہ نے ایوب بن موسیٰ سے ، انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبیری سے ، انہوں نے حضرت ام سلمہ ؓ کے مولیٰ عبداللہ بن ابی رافع سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ کس کر سر کے بالوں کی چوٹی بناتی ہوں تو کیا غسل جنابت کے لیے اس کو کھولوں؟آپ نے فرمایا : ’’نہیں ، تمہیں بس اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالو ، پھر اپنے آپ پر پانی بہا لو تم پاک ہو جاؤں گی ۔ ‘ ‘
Jam e Tirmazi
105
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِينَ عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ فَإِذَا أَنْتِ قَدْ تَطَهَّرْتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ فَلَمْ تَنْقُضْ شَعْرَهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُهَا بَعْدَ أَنْ تُفِيضَ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهَا.
Umm Salamah narrated : I said: 'O Messenger of Allah! I am woman with tight braids on my head, should I undo it to perform Ghusl for Janabah? He said: 'No. It is sufficient that you only pour three scoops of water (with hands held together) over your head, then pour water over the rest of your body, to be purified.' Or he said: Then you will be purified.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! میں اپنے سر کی چوٹی مضبوطی سے باندھنے والی عورت ہوں۔ کیا غسل جنابت کے لیے اسے کھولا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”تمہاری سر پر تین لپ پانی ڈال لینا ہی کافی ہے۔ پھر پورے بدن پر پانی بہا دو تو پاک ہو گئی، یا فرمایا: جب تم ایسا کر لے تو پاک ہو گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اہل علم کا اسی پر عمل پر ہے کہ عورت جب جنابت کا غسل کرے، اور اپنے بال نہ کھولے تو یہ اس کے لیے اس کے بعد کہ وہ اپنے سر پر پانی بہا لے کافی ہو جائے گا ۱؎۔
Sahih Muslim
4446
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَلْدِ الْأَمَةِ إِذَا زَنَتْ ثَلَاثًا، ثُمَّ لِيَبِعْهَا فِي الرَّابِعَةِ
This hadith his been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters with a slight variation of words.
ایوب بن موسیٰ ، عبیداللہ بن عمر ، اسامہ بن زید اور محمد بن اسحاق سب نے سعید مقبری سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، البتہ ابن اسحاق نے اپنی حدیث میں کہا : سعید نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کو ، جب وہ تین بار زنا کرے ، کوڑے لگانے کی بات روایت کی ، ( آگے فرمایا ) " پھر چوتھی بار اسے فروخت کر دے
Sahih Muslim
4881
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللهِ؟ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ،
The tradition has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Abu Qatada who said: A man came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) while he was on the pulpit and said: Do you think if I am killed in the way of Allah... (except this difference in its beginning, the rest of the tradition is the same as the previous one).
یحییٰ بن سعید نے سعید بن ابی سعید مقبری سے ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں ۔ ( آگے ) لیث کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ۔ )
Silsila Sahih
2426
) عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي فَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ قَالَ: لَا إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِيَ عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہتی ہیں كہ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول میں ایسی عورت ہوں کہ اپنے سر كے بال سختی سے باندھتی ہوں پھر غسل كے لئے انہیں کھولوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تمہارے لئے یہی كافی ہے كہ تم اپنے سر پر تین چلو بھر كر ڈالو، پھر اپنے اوپر پانی بہالو، تم پاك ہو جاؤ گی
Sunnan Ibn e Maja
227
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ جَاءَ مَسْجِدِي هَذَا، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَأْتِهِ إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ يُعَلِّمُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ .
It was narrated that Abu Hurairah said: I heard the Messenger of Allah say: 'Whoever comes to this mosque of mine, and only comes for a good purpose, such as to learn or to teach, his status is like that of one who fights in Jihad in the cause of Allah. Whoever comes for any other purpose, his status is that of a man who is keeping an eye on other people's property.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میری اس مسجد میں صرف خیر ( علم دین ) سیکھنے یا سکھانے کے لیے آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کے درجہ میں ہے، اور جو اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے آئے تو وہ اس شخص کے درجہ میں ہے جس کی نظر دوسروں کی متاع پر لگی ہوتی ہے ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
287
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ .
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'Were it not that it would be too difficult for my Ummah (nation), I would have commanded them to use the tooth stick at every time of prayer.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
576
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍجَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الرَّجُلُ:‏‏‏‏ إِنْ شَعْرِي كَثِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ .
It was narrated from Abu Sa'eed that: A man asked him about having a bath to cleanse oneself from sexual impurity. He said to pour water three times. The man said: But I have a lot of hair. He said: The Messenger of Allah had more hair than you and he was cleaner.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: تین بار ( سارے جسم پر پانی بہائیں ) تو وہ کہنے لگا: میرے بال زیادہ ہیں، اس پر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے زیادہ بال والے تھے، اور تم سے زیادہ پاک و صاف رہتے تھے۔
Sunnan Ibn e Maja
577
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَا فِي أَرْضٍ بَارِدَةٍ فَكَيْفَ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَمَّا أَنَا فَأَحْثُو عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا .
It was narrated that Jabir said: I said: 'O Messenger of Allah! I live in a cold land, so how should I have a bath to cleanse myself from sexual impurity?' He said: 'As for me, I pour three handfuls of water over my head.'
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سرد علاقہ میں رہتا ہوں، غسل جنابت کیسے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتا ہوں ۔