TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 650 - حائضہ عورت سے جماع کا حکم - تیمم کے احکام و مسائل - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
حائضہ عورت سے جماع کا حکم
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مِقْسَمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ الرَّجُلُ إِذَا وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ أَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِنِصْفِ دِينَارٍ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said: If a man had intercourse with his wife while she was menstruating, the Prophet commanded him to give half a Dinar in charity.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص حیض کی حالت میں بیوی سے جماع کر لیتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے آدھا دینار صدقہ کرنے کا حکم دیتے۔
650
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 1, Hadith 650 Arabic reference : Book 1, Hadith 694
(سند میں مقسم ضعیف ہیں، ثابت شدہ حدیث: ۶۴۰، نمبر میں گذری)
Conclusion
تخریج
سنن الترمذی/الطہا رة ۱۰۳ (۱۳۷)، (تحفة الأشراف: ۶۴۹۱)

Related Chapters

1,447
1
(27) CHAPTER. If a woman gets her menses after Tawaf-al-Ifada.
جو عورت ( حج میں ) طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہو ( اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟ )
Sahih Bukhari
2
Chapter: The soundness of Ihram for the woman in Nifas; It is recommended for her to perform Ghusl before entering Ihram, and the same applies to one who is menstruating
نفاس والی عورتیں احرام باندھ سکتی ہیں ‘احرام کے لیے ان کا غسل کرنا مستحب ہے اور حائضہ کا بھی یہی حکم ہے
Sahih Muslim
3
CHAPTER: The Menstruating Woman Hands Over Something From The Masjid.
باب: حائضہ عورت مسجد سے کوئی چیز لے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
4
CHAPTER: Regarding Menstruating Women And Embracing Them
باب: حائضہ عورت سے جماع اور اس سے مباشرت ( بدن سے بدن ملا کر لیٹنے ) کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
5
CHAPTER: Regarding The Penalty For The One Who Approaches His Wife While She Is Menstruating
باب: حائضہ عورت سے جماع کے کفارہ کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
6
CHAPTER: A man who does something less than intercourse with a woman, and repents before he is arrested by the imam..
باب: آدمی عورت سے جماع کے علاوہ سارے کام کر لے پھر گرفتاری سے پہلے توبہ کر لے تو کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
7
حائضہ عورت مسجد سے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھا لے تو اس کے حکم کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
8
حائضہ عورت سے جماع منع ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
9
جو حائضہ عورت سے جماع کرے اس کے کفارے کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
10
حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور اس کے جھوٹے کے حکم کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
11
(102)Chapter: What Has Been Related About Dislike For Engaging In Sexual Intercourse With A Menstruating Woman
باب: حائضہ سے جماع کے جائز نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
(103)Chapter: What Has Been Related About The Atonement For That
باب: حائضہ سے جماع کے کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays And A Man And A Woman Are With Him
باب: آدمی نماز پڑھا رہا ہو اور اس کے ساتھ مرد اور عورتیں دونوں ہوں تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Woman Who Menstruated Makes Up The Fasts But Not The Salat
باب: حائضہ عورت روزہ کی قضاء کرے گی نماز کی نہیں
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Which Rites Are Carried Out By The Menstruating Woman
باب: حائضہ عورت حج کے کون کون سے مناسک ادا کرے؟
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Relates About A Woman Who Is Forced To Commit Adultery
باب: زنا پر مجبور کی گئی عورت کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Have Intercourse With Pregnant Female Prisoners
باب: حاملہ قیدی عورتوں سے جماع کرنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About
باب: جس قوم کی حکمراں عورت ہو گی وہ کامیابی سے ہرگز ہم کنار نہ ہو گی
Jam e Tirmazi
19
جس نے حائضہ بیوی سے جماع کر لیا، اس کے کفارے کا بیان
Musnad Ahmad
20
حائضہ کی گود میں قرآن مجید کی تلاوت کے جواز اور ایسی خاتون کے مسجد میں داخل ہونے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
21
حائضہ عورت کے جسم اور کپڑوں کے پاک ہونے کا بیان، الّا یہ کہ وہ جگہ جہاں خون لگا ہوا ہو
Musnad Ahmad
22
دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
Musnad Ahmad
23
امام اور ایک مقتدی کے ساتھ جماعت کا منعقد ہو جانا، برابر ہے کہ وہ مقتدی مرد ہو یا عورت ہو یا بچہ
Musnad Ahmad
24
نماز کسوف کی طوالت اور اس نماز کے لیے عورتوں کی مسجد میں جماعت کے لیے حاضری کا بیان
Musnad Ahmad
25
طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہو جانے والی خاتون کا حکم
Musnad Ahmad
26
اجنبی عورت پر اچانک پڑ جانے والی نگاہ کی معافی کا اور ایسی نگاہ کے بعد نظر جھکا لینے کے ثواب بیان اور آپ a کا فرمان کہ ’’جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آ جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے (اور جماع کرے)
Musnad Ahmad
27
بیوی کو پیچھے سے استعمال کرنے کی ممانعت اور تجبیب کے جواز کا بیانیعنی پچھلی سمت سے عورت کی قبل میں جماع کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
28
(13) CHAPTER. The going out of women for answering the call of nature.
عورتوں کا قضائے حاجت کے لیے باہر نکلنے کا کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
29
(2) CHAPTER. The washing of the husband's head and the combing of his hair by a menstruating wife.
اس بارے میں کہ حائضہ عورت کا اپنے شوہر کے سر کو دھونا اور اس میں کنگھا کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
30
(5) CHAPTER. Fondling a menstruating wife.
اس بارے میں کہ حائضہ کے ساتھ مباشرت کرنا ( یعنی جماع کے علاوہ اس کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا جائز ہے )
Sahih Bukhari
31
(6) CHAPTER. A menstruating woman should leave observing Saum (fasting).
اس بارے میں کہ حائضہ عورت روزے چھوڑ دے ( بعد میں قضاء کرے )
Sahih Bukhari
32
(18) CHAPTER. How a menstruating woman should assume Ihram for Hajj or Umra.
اس بارے میں کہ حائضہ عورت حج اور عمرہ کا احرام کس طرح باندھے ؟
Sahih Bukhari
33
(20) CHAPTER. There is no Salat (prayer) to be offered by a menstruating woman in lieu of the missed Salat during her menses.
اس بارے میں کہ حائضہ عورت نماز قضاء نہ کرے
Sahih Bukhari
34
(21) CHAPTER. Sleeping with a menstruating woman (one's wife) while she is wearing her clothes (that are worn during menses).
حائضہ عورت کے ساتھ سونا جب کہ وہ حیض کے کپڑوں میں ہو
Sahih Bukhari
35
(23) CHAPTER. The participation of menstruating women in the two Eid festivals and in religious gatherings of Muslims and their isolation from the Musalla (praying place).
عیدین میں اور مسلمانوں کے ساتھ دعا میں حائضہ عورتیں بھی شریک ہوں اور یہ عورتیں نماز کی جگہ سے ایک طرف ہو کر رہیں
Sahih Bukhari
36
CHAPTER. If the clothes of a praying person in prostration touched his wife [would that make his Salat (prayer) invalid]?
جب سجدے میں آدمی کا کپڑا اس کی عورت سے لگ جائے تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
37
(107) CHAPTER. To offer Salat (prayer) facing a bed occupied by a menstruating woman.
ایسے بستر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا جس پر حائضہ عورت ہو
Sahih Bukhari
38
(78) CHAPTER. One woman can form a row.
اس بارے میں کہ عورت اکیلی ایک صف کا حکم رکھتی ہے
Sahih Bukhari
39
(21) CHAPTER. Menstruating women should keep away from the Musalla.
حائضہ عورتیں عیدگاہ سے علیحدہ رہیں
Sahih Bukhari
40
(145) CHAPTER. If a woman gets her menses after Tawaf-al-Ifada (would it be obligatory for her to perform Tawaf-al-Wada?).
اگر طواف افاضہ کے بعد عورت حائضہ ہو جائے ؟
Sahih Bukhari
41
(95) CHAPTER. A woman should not obey her husband if he orders her to do something sinful.
عورت گناہ کے حکم میں اپنے شوہر کا کہنا نہ مانے ۔
Sahih Bukhari
42
(76) CHAPTER. The combing of the hair of the husband by menstruating wife.
حائضہ عورت اپنے خاوند کے سرمیں کنگھی کر سکتی ہے
Sahih Bukhari
43
(2) CHAPTER. The legal regulation concerning AI-Murtad and Al-Murtaddah [male and female who reverts from Islam (apostates)].
مرتد مرد اور مرتد عورت کا حکم ۔
Sahih Bukhari
44
Chapter: Ruling on the braids of a woman who is doing ghusl
غسل کرنے والی عورت کی چوٹیوں کا حکم
Sahih Muslim
45
Chapter: The Command To Women Who Are Praying Behind Men Not To Raise Their Heads From Prostration Before The Men Have Done So
مردوں کے پیچھے نماز پڑھنے والی عورتوں کو حکم (دیا گیا) کہ وہ اس وقت تک سجدے سے اپنا سر نہ اٹھائیں جب تک مرد سر نہ اٹھا لیں
Sahih Muslim
46
Chapter: The prohibition of divorcing a menstruating woman without her consent; If a man breaks this rule, it still counts as a divorce, and he should be ordered to take her back
حائضہ کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دینا حرام ہے اور اگر کسینے (اس حکم کی )مخالفت کی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اسے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے گا
Sahih Muslim
47
CHAPTER: Eating With A Menstruating Woman And Being Around Her.
باب: مرد اور عورت کے درمیان بہنے والے پانی کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
48
CHAPTER: The Menstruating Woman Does Not Make Up The (Missed) Prayers.
باب: حائضہ عورت نماز قضاء نہ کرے ۔
Sunnan Abu Dawood
49
CHAPTER: A Woman Washes Her Garment That She Wears During Her Menses [To Pray In].
باب: عورت حیض میں پہنے ہوئے کپڑوں کو دھلے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: Praying In A Garment In Which He Has Engaged In Intercourse.
باب: جس کپڑے میں جماع کرے ، اس میں نماز پڑھنے کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

351
Jam e Tirmazi
48
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ،‏‏‏‏ وَقُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا،‏‏‏‏ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا،‏‏‏‏ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا،‏‏‏‏ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا،‏‏‏‏ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً،‏‏‏‏ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّبَيِّعِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ
Abu Hayyah narrated: I saw Ali performing Wudu. He washed his hands until he cleaned them, then he rinsed out his mouth three times, sniffed water into his nose and blew it out three times, washed his face three times, and his forearms three times. He wiped his head once, then he washed his feet up to the ankles. Then he stood up, taking what was left over from his purification (water) and drank it while he was standing. Then he said, 'I wanted to show you how Allah's Messenger purified himself.'
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پہنچے دھوئے یہاں تک کہ انہیں خوب صاف کیا، پھر تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی چڑھایا، تین بار اپنا چہرہ دھویا پھر ‌تین ‌دفعہ ‌بازو ‌دھوئے اور ایک بار اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے اور وضو سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے کھڑے پی لیا ۱؎، پھر کہا: میں نے تمہیں دکھانا چاہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا وضو کیسے ہوتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عثمان، عبداللہ بن زید، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، ربیع، عبداللہ بن انیس اور عائشہ رضوان اللہ علیہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
65
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،‏‏‏‏ وَمَالِكٍ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ.
Ibn Abbas narrated: One of the wives of the Prophet performed Ghusl with a bowl. Allah's Messenger wanted to perform Wudu with it, so she said: 'O Messenger of Allah! Indeed I am ]unub.' So he said: 'Indeed, water does not become Junub.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ایک بیوی نے ایک لگن ( ٹب ) سے ( پانی لے کر ) غسل کیا، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس ( بچے ہوئے پانی ) سے وضو کرنا چاہا، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی، آپ نے فرمایا: پانی جنبی نہیں ہوتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہی سفیان ثوری، مالک اور شافعی کا قول ہے۔
Jam e Tirmazi
230
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخَذَ زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ بِيَدِي وَنَحْنُ بِالرَّقَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ بِي عَلَى شَيْخٍ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ زِيَادٌ، حَدَّثَنِي هَذَا الشَّيْخُ، أَنَّ رَجُلًا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ وَالشَّيْخُ يَسْمَعُ، ‏‏‏‏‏‏ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ وَابِصَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ يُعِيدُ إِذَا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ يُجْزِئُهُ إِذَا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ إِلَى حَدِيثِ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ يُعِيدُ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ،‏‏‏‏ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى وَوَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى حَدِيثَ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلَ رِوَايَةِ أَبِي الْأَحْوَصِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي حَدِيثِ حُصَيْنٍ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ هِلَالًا قَدْ أَدْرَكَ وَابِصَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْحَدِيثِ فِي هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ حَدِيثُ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو ابْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَابِصَةَ.
Hilal bin Yasar said: Ziyad bin Abi Al-Ja'd took me by the hand while we were in Ar Raqqah, he made me stand before a Shaikh who was called Wabisah bin Ma'bad, from Bani Asad. Ziyad said: 'This Shaikh narrated to me that a prayed alone behind the row' - and the Shaikh was listening - 'so Allah's Messenger ordered him to repeat the Salat.'
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا، ( ہم لوگ رقہ میں تھے ) پھر انہوں نے مجھے لے جا کر بنی اسد کے وابصہ بن معبد نامی ایک شیخ کے پاس کھڑا کیا اور کہا: مجھ سے اس شیخ نے بیان کیا اور شیخ ان کی بات سن رہے تھے کہ ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صلاۃ دہرانے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وابصہ بن معبد رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی بن شیبان اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے کہ آدمی صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے اور کہا ہے کہ اگر اس نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی ہے تو وہ نماز دہرائے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، ۴- اہل علم میں سے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے کافی ہو گا جب وہ صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے، سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، ۵- اہل کوفہ میں سے کچھ لوگ وابصہ بن معبد کی حدیث کی طرف گئے ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جو صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے، وہ اسے دہرائے۔ انہیں میں سے حماد بن ابی سلیمان، ابن ابی لیلیٰ اور وکیع ہیں، ۶- مولف نے اس حدیث کے طرق کے ذکر کے بعد فرمایا کہ عمرو بن مرہ کی حدیث جسے انہوں نے بطریق «هلال بن يساف، عن عمرو بن راشد، عن وابصة» روایت کی ہے، زیادہ صحیح ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ حصین کی حدیث جسے انہوں نے بطریق «هلال بن يساف، عن زياد بن أبي الجعد عن وابصة» روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔ اور میرے نزدیک یہ عمرو بن مرہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ یہ ہلال بن یساف کے علاوہ طریق سے بھی زیاد بن ابی الجعد کے واسطے سے وابصہ سے مروی ہے۔
Jam e Tirmazi
252
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فَيَأْخُذُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وغُطَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏وابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ هُلْبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَرَوْنَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنْ يَضَعَهُمَا فَوْقَ السُّرَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنْ يَضَعَهُمَا تَحْتَ السُّرَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّ ذَلِكَ وَاسِعٌ عِنْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْمُ هُلْبٍ:‏‏‏‏ يَزِيدُ بْنُ قُنَافَةَ الطَّائِيُّ.
Qabisah bin Hulb narrated from : his father who said: Allah's Messenger lead us in prayer and hold his left hand with his right.
ہلب طائی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت کرتے تو بائیں ہاتھ کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہلب رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں وائل بن حجر، غطیف بن حارث، ابن عباس، ابن مسعود اور سہیل بن سعد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے ۱؎، اور بعض کی رائے ہے کہ انہیں ناف کے اوپر رکھے اور بعض کی رائے ہے کہ ناف کے نیچے رکھے، ان کے نزدیک ان سب کی گنجائش ہے۔
Jam e Tirmazi
253
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وأَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ،‏‏‏‏ وَأَبِي مُوسَى،‏‏‏‏ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،‏‏‏‏ ووَائِلِ بْنِ حُجْرٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَعُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانُ،‏‏‏‏ وَعَلِيٌّ وَغَيْرُهُمْ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ وَعَلَيْهِ عَامَّةُ الْفُقَهَاءِ وَالْعُلَمَاءِ.
Abdullah bin Mas'ud narrated: Allah's Messenger would say the Takbir for every lowering and raising, standing and sitting, and (so did) Abu Bakr and Umar.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے کے وقت اللہ اکبر کہتے ۱؎ اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، انس، ابن عمر، ابو مالک اشعری، ابوموسیٰ، عمران بن حصین، وائل بن حجر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام کا جن میں ابوبکر، عمر، عثمان علی رضی الله عنہم وغیرہ شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین کا عمل اسی پر ہے اور اسی پر اکثر فقہاء و علماء کا عمل بھی ہے۔
Jam e Tirmazi
331
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ سُلَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْأَسَدِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ تَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ قَدْ ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةُ عَلَى الْخُمْرَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَالْخُمْرَةُ هُوَ:‏‏‏‏ حَصِيرٌ قَصِيرٌ.
Ibn Abbas narrated: Allah's Messenger performed Salat on a Khumrah.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «خمرہ» ”چھوٹی چٹائی“ پر نماز پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام حبیبہ، ابن عمر، ام سلیم، عائشہ، میمونہ، ام کلثوم بنت ابی سلمہ بن عبدالاسد ( ام کلثوم بنت ابی سلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے ) اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا یہی خیال ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «خمرہ» پر نماز ثابت ہے، ۴- «خمرہ» چھوٹی چٹائی کو کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
443
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ،‏‏‏‏
Aishah narrated: The Prophet (S) would pray nine Rak'ah in the night.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، زید بن خالد اور فضل بن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
680
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَتَصَدَّقَ مِنْهُ فَيَسْتَغْنِيَ بِهِ عَنِ النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، ‏‏‏‏‏‏وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسْعُودِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَثَوْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَزِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسٍ.
Abu Hurairah narrated that he heard : the Messenger of Allah saying: For one of you to go out early to gather firewood and carry it on his back so that he can give charity from it and be free of need from the people, is better for him than to ask a man who may give that to him or refuse. Indeed the upper hand (giving) is more virtuous than the lower hand (receiving), and begin with (those who are) your dependants.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”تم میں سے کوئی شخص صبح سویرے جائے اور لکڑیوں کا گٹھر اپنی پیٹھ پر رکھ کر لائے اور اس میں سے ( یعنی اس کی قیمت میں سے ) صدقہ کرے اور اس طرح لوگوں سے بے نیاز رہے ( یعنی ان سے نہ مانگے ) اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے مانگے، وہ اسے دے یا نہ دے ۱؎ کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے ۲؎، اور پہلے اسے دو جس کی تم خود کفالت کرتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- وہ بیان کی حدیث سے جسے انہوں نے قیس سے روایت کی ہے غریب جانی جاتی ہے، ۳- اس باب میں حکیم بن حزام، ابو سعید خدری، زبیر بن عوام، عطیہ سعدی، عبداللہ بن مسعود، مسعود بن عمرو، ابن عباس، ثوبان، زیاد بن حارث صدائی، انس، حبشی بن جنادہ، قبیصہ بن مخارق، سمرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
688
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ حَالَتْ دُونَهُ غَيَايَةٌ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
Ibn Abbas narrated that : the Messenger of Allah said: Do not fast before Ramadan. Fast with its sighting, and break fast with its sighting, and if it is obscured from you, then complete thirty days.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے پہلے ۱؎ روزہ نہ رکھو، چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور دیکھ کر ہی بند کرو، اور اگر بادل آڑے آ جائے تو مہینے کے تیس دن پورے کرو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے اور کئی سندوں سے یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔ ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابوبکرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔