TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3261 - کھانے کے وقت وضو کرنے کا بیان۔ - Chapters on food - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
کھانے کے وقت وضو کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا صَاعِدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْجَزَرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الْمَكِّيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَّهُ خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ، ‏‏‏‏‏‏فَأُتِيَ بِطَعَامٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا آتِيكَ بِوَضُوءٍ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أُرِيدُ الصَّلَاةَ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) went out to toilet, then food was brought. A man said: “O Messenger of Allah, are you not going to perform ablution?” He said: ‘Am I going to pray?’
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے تو کھانا لایا گیا، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے وضو کا پانی نہ لاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نماز ادا کرنا چاہتا ہوں ؟ ۱؎۔
3261
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 29, Hadith 3261 Arabic reference : Book 29, Hadith 3385
(سند میں صاعد بن عبید مقبول ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
Conclusion
تخریج
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۴۲۲۹، ومصباح الزجاجة:۱۱۲۰)

Related Chapters

1,183
1
(60)Chapter: [What Has Been Related About] Wudu From Camel Meat
باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Mentioned About The Permission For The Sexually Impure (Junub) Person To Eat And Sleep When He Performs Wudu
باب: جنبی وضو کر لے تو اس کو کھانے اور سونے کی اجازت ہے
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Wudu' Before Meals And Afterwards
باب: کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: About Not Performing Wudu Before Eating
باب: کھانے سے پہلے وضو نہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
لکڑی سے مسواک کرنے کی کیفیت اور کلی کرتے وقت وضو کرنے والے آدمی کا اپنی انگلی سے مسواک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
7
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
8
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
9
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
10
عید الفطر کے موقع پر نکلنے سے پہلے کھانے کا مستحب ہونا، نہ کہ عید الاضحی میں اور ان دونوں میں نماز کے وقت پر کلام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
11
سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
12
جماع کے وقت اللہ تعالی کا نام لینے اور پردہ کرنا اور دوبارہ جماع کرنے کے لیے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
(47) CHAPTER. The taking of two kinds of fruit or two kinds of food at a time.
ایک وقت میں دو طرح کے ( پھل ) یا دو قسم کے کھانے جمع کر کے کھانا ۔
Sahih Bukhari
14
(49) CHAPTER. Invoking Allah while performing ablution.
وضو کے وقت کی دعا کا بیان
Sahih Bukhari
15
Chapter: It is permissible for one who is junub to sleep, but it is recommended for him to perform wudu’, and wash his private parts if he wants to eat, drink, sleep, or have intercourse
حالت جنابت میں سونے کا جواز اور (اگر انسان کا) کچھ کھانے پینے ، سونے یا مجامعت کا ارادہ ہو تواعضائے مخصوصہ دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
16
CHAPTER: Saying ’Bismillah’ While Starting Wudu’.
باب: وضو کرتے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
17
CHAPTER: Wudu’ From Eating Camel Meat.
باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ( ٹوٹ جانے ) کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
18
CHAPTER: Not Performing Wudu’ FRom [Food Which Had Been Cooked] Over Fire.
باب: آگ کی پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
19
CHAPTER: Strictness In This Regard.
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو کرنے کا حکم ۔
Sunnan Abu Dawood
20
CHAPTER: Those Who Said That The Sexually Impure Should Perform Wudu’.
باب: جنبی کھانے اور سونے سے پہلے وضو کر لے ۔
Sunnan Abu Dawood
21
CHAPTER: The Time Of Sahur.
باب: سحری کھانے کے وقت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
22
CHAPTER: Washing the hands when wanting to eat.
باب: کھانے کے وقت دونوں ہاتھ دھونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
23
CHAPTER: Regarding combining two types of food.
باب: ایک وقت میں دو قسم کے کھانے جمع کرنا ۔
Sunnan Abu Dawood
24
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
25
کھانے کے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
26
وضو کے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
27
آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
28
جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو اس کے وضو کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
29
باب: خرید و فروخت کے وقت دل سے قسم نہ کھانے والے کو صدقہ کرنے کا حکم۔
Sunnan Nisai
30
(1)Chapter: What Has Been Related That Salat Is Not Accepted Without Purification
باب: وضو (طہارت) کے بغیر نماز مقبول نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
(3)Chapter: What Has been Related That The Key To Salat Is Purification
باب: وضو نماز کی کنجی ہے
Jam e Tirmazi
32
(4)Chapter: What Is Said When entering The Toilet
باب: بیت الخلاء (پاخانہ) میں داخل ہونے کے وقت کی دعا​
Jam e Tirmazi
33
5)Chapter: What Is Said When Exiting The Toilet
باب: بیت الخلاء (پاخانہ) سے نکلتے وقت کی دعا​
Jam e Tirmazi
34
6)Chapter: Regarding The Prohibition Of Facing The Qiblah When Defecating And Urinating.
باب: پیشاب یا پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
35
(10)Chapter: [What Has Been Related] About Being Screened While Relieving Oneself
باب: قضائے حاجت کے وقت پردہ کرنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
36
(20)Chapter: [What Has Been Related] About The Tasmiyah When Performing Wudu
باب: وضو کے شروع میں بسم اللہ کہنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
37
(21)Chapter: What Has Been Related About Al-Madmadah And AI-Istinshaq
باب: وضو اور غسل میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
(29)Chapter: What Has Been Related That The Ears Are Part Of The Head
باب: وضو میں دونوں کانوں کے سر میں داخل ہونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
39
(31)Chapter: What Has Been Related About: Protect The Heels From The Fire.
باب: وضو میں ایڑیاں دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
40
(32)Chapter: What Has Been Related About Wudu' One Time (For Each Limb)
باب: اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
41
(33)Chapter: What Has Been Reported About Wudu Two Times (For Each Limb)
باب: اعضائے وضو کے دو دو بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
42
(34)Chapter: What Has Been Related About Wudu Three times (For Each Limb)
باب: اعضائے وضو تین تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
43
(35)Chapter: What Has Been Related About Wudu One Time, Two Times And Three Times
باب: اعضائے وضو کو ایک ایک بار، دو دو بار اور تین تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
44
(36)Chapter: [What Has Been Related] About One Who performs Some Of Wudu, Two Times Each, And Some Of It Three
باب: وضو میں بعض اعضاء دو بار دھونے اور بعض تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
45
(37)Chapter: [What Has Been Related] About The Wudu Of he Prophet: How Was It Performed?
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا؟​
Jam e Tirmazi
46
(38)Chapter: [What Has Been Related] About An-Nadh After Wudu
باب: وضو کے بعد (شرمگاہ پر) پانی چھڑکنے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
(39)Chapter: [What Has Been Related] About Performing Wudu Perfectly And Completely (Isbagh AI-Wudu)
باب: کامل طور سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
40)Chapter: [What Has Been Related] About Using a Towel after Wudu
باب: وضو کے بعد رومال سے بدن پونچھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
(41)Chapter: [About] What Is Said After Wudu
باب: وضو کے بعد کیا دعا پڑھی جائے؟
Jam e Tirmazi
50
(42)Chapter: On Wudu With A Mudd
باب: ایک مد پانی سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

738
Jam e Tirmazi
1460
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ الْحَسَنِ،‏‏‏‏ عَنْ جُنْدُبٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبَةٌ بِالسَّيْفِ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا،‏‏‏‏ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ،‏‏‏‏ وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ،‏‏‏‏ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ،‏‏‏‏ وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ،‏‏‏‏ قَالَ وَكِيعٌ:‏‏‏‏ هُوَ ثِقَةٌ،‏‏‏‏ وَيُرْوَى عَنْ الْحَسَنِ أَيْضًا،‏‏‏‏ وَالصَّحِيحُ عَنْ جُنْدَبٍ مَوْقُوفٌ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وقَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ إِنَّمَا يُقْتَلُ السَّاحِرُ إِذَا كَانَ يَعْمَلُ فِي سِحْرِهِ مَا يَبْلُغُ بِهِ الْكُفْرَ،‏‏‏‏ فَإِذَا عَمِلَ عَمَلًا دُونَ الْكُفْرِ،‏‏‏‏ فَلَمْ نَرَ عَلَيْهِ قَتْلًا.
Narrated Jundab: That he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: The punishment of the Sahir is a strike of the sword.
جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جادوگر کی سزا تلوار سے گردن مارنا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن سے بھی مروی ہے، اور صحیح یہ ہے کہ جندب سے موقوفاً مروی ہے۔ ۲- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ۳- اسماعیل بن مسلم مکی اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، اور اسماعیل بن مسلم جن کی نسبت عبدی اور بصریٰ ہے وکیع نے انہیں ثقہ کہا ہے۔ ۴- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم صحابہ اور کچھ دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، مالک بن انس کا یہی قول ہے، ۵- شافعی کہتے ہیں: جب جادوگر کا جادو حد کفر تک پہنچے تو اسے قتل کیا جائے گا اور جب اس کا جادو حد کفر تک نہ پہنچے تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا قتل نہیں ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
2581
حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الْجَزَرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ أُتِيَ عِنْدَ مَالِهِ فَقُوتِلَ فَقَاتَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ .
It was narrated from Ibn `Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “If a man's property is targeted, and he is fought and fights back and is killed, he is a martyr.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے اس کا مال چھینا جائے اور لڑا جائے پھر وہ بھی لڑے اور قتل ہو جائے، تو وہ شہید ہے ۔
Sunnan Ibn e Maja
2896
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَاوَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا يُوجِبُ الْحَجَّ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا الْحَاجُّ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الشَّعِثُ التَّفِلُ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَامَ آخَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ومَا الْحَجُّ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْعَجُّ وَالثَّجُّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ وَكِيعٌ:‏‏‏‏ يَعْنِي بِالْعَجِّ الْعَجِيجَ:‏‏‏‏ بِالتَّلْبِيَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّجُّ:‏‏‏‏ نَحْرُ الْبُدْنِ.
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “A man stood up and said to the Prophet (ﷺ): ‘O Messenger of Allah! What makes Hajj obligatory?’ He said: ‘Provision and a mount.’ He said: ‘O Messenger of Allah, what is the (real) Hajj?’ He said: ‘The one with dishevelled hair and no perfume.’ Another (man) stood up and said: ‘O Messenger of Allah, what is the (real) Hajj?’ He said: ‘Raising one’s voice and slaughtering the sacrificial animal.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی چیز حج کو واجب کر دیتی ہے،؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: زاد سفر اور سواری ( کا انتظام ) اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! حاجی کیسا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پراگندہ سر اور خوشبو سے عاری ایک دوسرا شخص اٹھا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عج» اور «ثج» ۔ وکیع کہتے ہیں کہ «عج» کا مطلب ہے لبیک پکارنا، اور «ثج» کا مطلب ہے خون بہانا یعنی قربانی کرنا۔
Jam e Tirmazi
16
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:‏‏‏‏ قِيلَ لِسَلْمَانَ:‏‏‏‏ قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ سَلْمَانُ:‏‏‏‏ أَجَلْ،‏‏‏‏ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ أَوْ أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَخَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ سَلْمَانَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ:‏‏‏‏ رَأَوْا أَنَّ الِاسْتِنْجَاءَ بِالْحِجَارَةِ يُجْزِئُ وَإِنْ لَمْ يَسْتَنْجِ بِالْمَاءِ إِذَا أَنْقَى أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ،‏‏‏‏ وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ،‏‏‏‏ وَابْنُ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاقُ
Abdur-Rahman bin Yazld said, : They said to Salman, 'Your Prophet taught you about everything, even defecating?' So Salman said, 'Yes. He prohibited us from facing the Qiblah when defecating and urinating, performing Istinja with the right hand, using less than three stones for Istinja, and using dung or bones for Istinja
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی الله عنہ سے بطور طنز یہ بات کہی گئی کہ تمہارے نبی نے تمہیں ساری چیزیں سکھائی ہیں حتیٰ کہ پیشاب پاخانہ کرنا بھی، تو سلمان فارسی رضی الله عنہ نے بطور فخر کہا: ہاں، ایسا ہی ہے ہمارے نبی نے ہمیں پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے، اور تین پتھر سے کم سے استنجاء کرنے، اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ، خزیمہ بن ثابت جابر اور خلاد بن السائب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- سلمان رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے، ۳- صحابہ و تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ پتھر سے استنجاء کر لینا کافی ہے جب وہ پاخانہ اور پیشاب کے اثر کو زائل و پاک کر دے اگرچہ پانی سے استنجاء نہ کیا گیا ہو، یہی قول ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے۔
Jam e Tirmazi
32
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق 1.
Abdullah bin Zaid narrated that: Allah's Messenger wiped over his head with his hands, going over the front with them and the rear. He began with the front of his head until they went to the nape of his neck. Then he brought them back again to the place where he began. Then he washed his feet.
عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے سر کا مسح کیا تو انہیں آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لائے، یعنی اپنے سر کے اگلے حصہ سے شروع کیا پھر انہیں گدی تک لے گئے پھر انہیں واپس لوٹایا یہاں تک کہ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر آپ نے دونوں پیر دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں معاویہ، مقدام بن معدیکرب اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اس باب میں عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کی حدیث سب سے صحیح اور عمدہ ہے اور اسی کے قائل شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔
Jam e Tirmazi
44
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّبَيِّعِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْروٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَلِيٍّ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْوُضُوءَ يُجْزِئُ مَرَّةً مَرَّةً، ‏‏‏‏‏‏وَمَرَّتَيْنِ أَفْضَلُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَفْضَلُهُ ثَلَاثٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ بَعْدَهُ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ لَا آمَنُ إِذَا زَادَ فِي الْوُضُوءِ عَلَى الثَّلَاثِ أَنْ يَأْثَمَ،‏‏‏‏ وقَالَ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ لَا يَزِيدُ عَلَى الثَّلَاثِ إِلَّا رَجُلٌ مُبْتَلًى.
Ali narrated that: The Prophet performed Wudu three times (for each limb).
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عثمان، عائشہ، ربیع، ابن عمر، ابوامامہ، ابورافع، عبداللہ بن عمرو، معاویہ، ابوہریرہ، جابر، عبداللہ بن زید اور ابی بن کعب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- علی رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے کیونکہ یہ علی رضی الله عنہ سے اور بھی سندوں سے مروی ہے، ۳- اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونا کافی ہے، دو دو بار افضل ہے اور اس سے بھی زیادہ افضل تین تین بار دھونا ہے، اس سے آگے کی گنجائش نہیں، ابن مبارک کہتے ہیں: جب کوئی اعضائے وضو کو تین بار سے زیادہ دھوئے تو مجھے اس کے گناہ میں پڑنے کا خطرہ ہے، امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: تین سے زائد بار اعضائے وضو کو وہی دھوئے گا جو ( دیوانگی اور وسوسہ ) میں مبتلا ہو گا ۱؎۔
Jam e Tirmazi
81
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ تَوَضَّئُوا مِنْهَا ،‏‏‏‏ وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا تَتَوَضَّئُوا مِنْهَا . قال:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ذِي الْغُرَّةِ الْجُهَنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ فَأَخْطَأَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ فِيهِ:‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ وَالصَّحِيحُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ صَحَّ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثَانِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدِيثُ الْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا الْوُضُوءَ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.
Al-Bara bin Azib narrated: Allah's Messenger was asked about performing Wudu for camel meat. He said: Perform Wudu for it. He Was asked about Wudu after eating goat meat. So he said: Do not perform Wudu for it.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے اونٹ کے گوشت کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو کرو اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اس سے وضو نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر بن سمرہ اور اسید بن حضیر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- یہی قول احمد، عبداللہ اور اسحاق بن راہویہ کا ہے، ۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس باب میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے دو حدیثیں صحیح ہیں: ایک براء بن عازب کی ( جسے مولف نے ذکر کیا اور اس کے طرق پر بحث کی ہے ) اور دوسری جابر بن سمرہ کی، ۴- یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم سے مروی ہے کہ ان لوگوں کی رائے ہے کہ اونٹ کے گوشت سے وضو نہیں ہے اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
116
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ:‏‏‏‏ ضَافَ عَائِشَةَ ضَيْفٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ صَفْرَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَنَامَ فِيهَا فَاحْتَلَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَحْيَا أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَبِهَا أَثَرُ الِاحْتِلَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ لِمَ أَفْسَدَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَفْرُكَهُ بِأَصَابِعِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصَابِعِي . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلِ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا فِي الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ:‏‏‏‏ يُجْزِئُهُ الْفَرْكُ وَإِنْ لَمْ يُغْسَلْ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلَ رِوَايَةِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى أَبُو مَعْشَرٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ الْأَعْمَشِ أَصَحُّ.
Hammam bin AI-Harith narrated: Aishah had a guest to whom she lent a yellow wrap for him to sleep in. He had a wet dream, and was too embarrassed to send it to her while the traces of the wet dream were present on it. So he submerged it (washing it) in water, then he sent it to her. Aishah said, Why did he ruin our garment? It would have been sufficient for him to scrape it off with his fingers. Sometimes I would scrape it off of the garment of Allah's Messenger with my fingers.
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے یہاں ایک مہمان آیا تو انہوں نے اسے ( اوڑھنے کے لیے ) اسے ایک زرد چادر دینے کا حکم دیا۔ وہ اس میں سویا تو اسے احتلام ہو گیا، ایسے ہی بھیجنے میں کہ اس میں احتلام کا اثر ہے اسے شرم محسوس ہوئی، چنانچہ اس نے اسے پانی سے دھو کر بھیجا، تو عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا؟ اسے اپنی انگلیوں سے کھرچ دیتا، بس اتنا کافی تھا، بسا اوقات میں اپنی انگلیوں سے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے کپڑے سے اسے کھرچ دیتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ کپڑے پر منی ۱؎ لگ جائے تو اسے کھرچ دینا کافی ہے، گرچہ دھویا نہ جائے۔
Jam e Tirmazi
117
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا غَسَلَتْ مَنِيًّا مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَحَدِيثُ عَائِشَةَ أَنَّهَا غَسَلَتْ مَنِيًّا مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏لَيْسَ بِمُخَالِفٍ لِحَدِيثِ الْفَرْكِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ وَإِنْ كَانَ الْفَرْكُ يُجْزِئُ فَقَدْ يُسْتَحَبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ لَا يُرَى عَلَى ثَوْبِهِ أَثَرُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ الْمَنِيُّ بِمَنْزِلَةِ الْمُخَاطِ فَأَمِطْهُ عَنْكَ وَلَوْ بِإِذْخِرَةٍ.
Sulaiman bin Yasar narrated from Aishah, that : she washed Mani from the garment of Allah's Messenger.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے کپڑے سے منی دھوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- اور عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث ”کہ انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے کپڑے سے منی دھوئی“ ان کی کھرچنے والی حدیث کے معارض نہیں ہے ۱؎۔ اس لیے کہ کھرچنا کافی ہے، لیکن مرد کے لیے یہی پسند کیا جاتا ہے کہ اس کے کپڑے پر اس کا کوئی اثر دکھائی نہ دے۔ ( کیونکہ مرد کو آدمیوں کی مجلسوں میں بیٹھنا ہوتا ہے ) ابن عباس کہتے ہیں: منی رینٹ ناک کے گاڑھے پانی کی طرح ہے، لہٰذا تم اسے اپنے سے صاف کر لو چاہے اذخر ( گھاس ) ہی سے ہو۔