TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4100 - دنیا سے بے رغبتی کا بیان - Zuhd - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 5 in this chapter
دنیا سے بے رغبتی کا بیان
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ الْقُرَشِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَيْسَ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ،‏‏‏‏ وَلَا فِي إِضَاعَةِ الْمَالِ،‏‏‏‏ وَلَكِنْ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ مِنْكَ بِمَا فِي يَدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أُصِبْتَ بِهَا،‏‏‏‏ أَرْغَبَ مِنْكَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ ،‏‏‏‏ قَال هِشَامٌ:‏‏‏‏ كَانَ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ مِثْلُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْأَحَادِيثِ كَمِثْلِ الْإِبْرِيزِ فِي الذَّهَبِ.
It was narrated from Abu Dharr Al-Ghifari that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Indifference towards this world does not mean forbidding what is permitted, or squandering wealth, rather indifference towards this world means not thinking that what you have in your hand is more reliable than what is in Allah’s Hand, and it means feeling that the reward for a calamity that befalls you is greater than that which the calamity makes you miss out on.’”
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں زہد آدمی کے حلال کو حرام کر لینے، اور مال کو ضائع کرنے میں نہیں ہے، بلکہ دنیا میں زہد ( دنیا سے بے رغبتی ) یہ ہے کہ جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے، اس پر تم کو اس مال سے زیادہ بھروسہ نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور دنیا میں جو مصیبت تم پر آئے تو تم اس پر خوش ہو بہ نسبت اس کے کہ مصیبت نہ آئے، اور آخرت کے لیے اٹھا رکھی جائے ۔ ہشام کہتے ہیں: کہ ابوادریس خولانی کہتے تھے کہ حدیثوں میں یہ حدیث ایسی ہے جیسے سونے میں کندن۔
4100
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 5, Book 37, Hadith 4100 Arabic reference : Book 37, Hadith 4239
(سند میں عمرو بن واقد متروک ہے)
Conclusion
تخریج
«سنن الترمذی/الزہد ۲۹ (۲۳۴۰)،(تحفة الأشراف:۱۱۹۳۵)

Related Chapters

65
1
Chapter: What Has Been Related About Abstinence in The world
باب: دنیا سے بے رغبتی کا بیان
Jam e Tirmazi
2
دنیا اور اس کی زینت و سجاوٹ اور نعمتوں سے بے رغبتی اختیار کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
3
Chapter: [What Had Been Related] About The Lord Blessed And Exalted Is He, Descending To The Earth's Heaven Every Night
باب: اللہ عزوجل کے ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About One Who Fights For Show And For Worldly Matters
باب: ریا و نمود اور دنیا طلبی کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
باب: آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ کی تفسیر کا بیان​
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Insignificance Of The World To Allah, The Mighty And Sublime
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حقارت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: The Hadith: Indeed The World Is Cursed
باب: دنیا کے ملعون اور حقیر ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: The Hadith: The World Is Compared To The Hereafter Is But Like What One Of You Gets When Placing His Water In The Sea
باب: آخرت کے مقابلے میں دنیا سمندر کے ایک قطرے کی مانند ہے
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About 'The World Is A Prison For The Believer And A Paradise For The Disbeliever
باب: دنیا مومن کے لیے قید خانہ (جیل) اور کافر کے لیے جنت (باغ و بہار) ہے
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About 'The Parable Of Th World Is That Of Four People'
باب: دنیا کی مثال چار قسم کے لوگوں کی مانند ہے
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Anxiety Over The World And Love For It
باب: دنیا سے محبت اور اس کے غم و فکر میں رہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About What Suffices A Man From All His Wealth
باب: دنیا میں آدمی کے لیے صرف خادم اور جہاد کے لیے سواری کافی ہے
Jam e Tirmazi
13
Chapter: The Hadith:
باب: زمین جائیداد نہ بناؤ کہ اس سے تمہیں دنیا کی رغبت ہو جائے گی
Jam e Tirmazi
14
Chapter: The Punishment Of The One Who Seeks The People's Pleasure By Allah's Wrath And The Opposite
باب: دنیا کو ناراض کر کے اللہ کی رضا مندی حاصل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
باب: دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے
Jam e Tirmazi
16
Chapter: About One Who Seeks The World With His Knowledge
باب: علم (دین) سے دنیا حاصل کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: Concerning Pardon And Al-Afiyah
باب: دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان
Jam e Tirmazi
18
دین و دنیا کے لیے ضرورت پڑنے والی ہر چیز کے بارے میں واجبی طور پر سوال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
19
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
20
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
Musnad Ahmad
21
جس کو دنیا میں آزمایا نہیں گیا، اس کے غیر مقبول ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
22
دنیا کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
23
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
Musnad Ahmad
24
ان دو بادشاہوں کا قصہ، جو دنیا اور اس کی سجاوٹ سے کنارہ کش ہو گئے
Musnad Ahmad
25
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
Musnad Ahmad
26
آداب، مواعظ، اخلاق کے بارے میں نیز دنیا اور عورتوں سے تنبیہ پر مشتمل خطبۂ نبوی
Musnad Ahmad
27
مال ودولت اور دنیا سے تحذیر کے بارے میں خطبہ
Musnad Ahmad
28
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اللہ کی طرف سے دنیوی مال و دولت عطا کرنے کی پیش کش کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بے رغبتی کا اظہار کیا اور معمولی مال پر قناعت فرمائی
Musnad Ahmad
29
(39) CHAPTER. What is disliked about talking after the Isha prayer.
عشاء کی نماز کے بعد سمر یعنی دنیا کی باتیں کرنا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
30
(21) CHAPTER. The wish of the (martyred) Mujahid to return to the world.
شہید کا دوباوہ دنیا میں واپس آنے کی آرزو کرنا
Sahih Bukhari
31
(36) CHAPTER. “And of them there are some who say: 'Our Lord! Give us in this world that which is good and in the Hereafter that which is good...' ” (V.2:201)
آیت ( ( ومنھم من یقول ربنا اٰتنا فی الدنیا ) ) الخ کی تفسیر
Sahih Bukhari
32
(44) CHAPTER. To seek refuge with Allah from senile old age and from the Fitnah (trial and affliction), of this world and from the Fitnah of the Hell-fire.
ناکارہ عمر ، دنیا کی آزمائش اور دوزخ کی آزمائش سے اللہ کی پناہ مانگنا
Sahih Bukhari
33
(55) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Our Lord! Give us in this world that which is good and in the Hereafter that which is good and save us from this torment of the Fire! (V.2:201)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطاکر ۔ آخر تک
Sahih Bukhari
34
(56) CHAPTER. To seek refuge with Allah from the Fitnah (trial and affliction) of the world.
دنیا کے فتنوں سے پناہ مانگنا
Sahih Bukhari
35
(2) CHAPTER. The example of this world in contrast with the Hereafter.
آخرت کے سامنے دنیا کی کیا حقیقت ہے
Sahih Bukhari
36
(3) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Be in this world as if you were a stranger.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو جیسے تم مسافر ہو یا عارضی طور پر کسی راستہ پر چلنے والے ہو
Sahih Bukhari
37
(7) CHAPTER. The warning regarding worldly pleasures, amusements and competing against each other for the enjoyment thereof.
دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا
Sahih Bukhari
38
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Wealth is (like) green sweet (fruit).” And the Statement of Allah: Beautified for men is the love of things they covet: women, children... (V.3:14)
نبی کریم کا یہ فرمان کہ یہ ( دنیا کا ) مال سرسبز میٹھا ہے ۔
Sahih Bukhari
39
(13) CHAPTER. The rich (who do not spend their wealth on good deeds) are infact the poor (i.e., little rewarded).
جو لوگ دنیا میں زیادہ ( مالدار ) ہیں وہی آخرت میں کم ہوں گے
Sahih Bukhari
40
(17) CHAPTER. How the Prophet and his Companions used to live, and how they gave up their interest in the world.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے گزران کا بیان اور دنیا سے کنارہ کشی کا بیان
Sahih Bukhari
41
(35) CHAPTER. The disappearance of Al-Amanah.
( آخر زمانہ میں ) دنیا سے امانت داری کا اٹھ جانا
Sahih Bukhari
42
(48) CHAPTER. The person who gives the Baia (pledge) to a man just for worldly benefits.
جس نے کسی سے بیعت کی اور مقصد خالص دنیا کمانا ہو اس کی برائی کا بیان
Sahih Bukhari
43
Chapter: It is disliked to be eager to acquire worldly gains
دنیا کی حرص مکروہ ہے
Sahih Muslim
44
دنیا کی زینت اور ای کی وسعت پر فریب نفس میں مبتلا نہ ہو نے کی تلقین
Sahih Muslim
45
Chapter: The best temporary joy of this world is a righteous woman
دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے
Sahih Muslim
46
Chapter: The Prohibition Of Suspicion, Spying, Competition, Artificial Inflation Of Prices, And So On
باب: بدگمانی، تجسس، دنیاوی معاملات میں مقابلہ بازی اور دھوکے سے ایک دوسرے کے لیے قیمتیں بڑھانے وغیرہ کی ممانعت
Sahih Muslim
47
Chapter: Glad Tidings That Whomever Allah Conceals In This World He Will Conceal Him In The Hereafter
جس کی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پردہ پوشی کی اس کے لیے بشارت ہے کہ وہ آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا
Sahih Muslim
48
Chapter: It Is Disliked To Pray For Punishment To Be Brought Forward In This World
دنیا ہی میں جلد سزا مل جانے کی دعا مکروہ ہے
Sahih Muslim
49
Chapter: The Virtue Of The Supplication: O Allah, Give Us Good In This World And Good In The Hereafter, And Save Us From The Torment Of The Fire
اس دعا کی فضیلت: اے اللہ! ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا
Sahih Muslim
50
Chapter: The Virtue Of Constant Dhikr, Thinking Of The Hereafter, And Remembering That Allah Is Always Watching; Permissibility Of Stopping That Sometimes, And Attending To Worldly Matters
ہمیشہ ذکر، امور آخرت کی فکر اور (اپنے اعمال کی) نگرانی میں لگے رہنا اور بعض اوقات ان کو چھوڑ کر دنیا کے کام کاج کرنے کا جواز
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

75
Jam e Tirmazi
2340
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ وَلَا إِضَاعَةِ الْمَالِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ مِمَّا فِي يَدَيِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أَنْتَ أُصِبْتَ بِهَا أَرْغَبَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ اسْمُهُ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
Abu Dharr narrated that the Prophet (s.a.w) said: Abstinence in the world is not by prohibiting (oneself) the lawful nor by neglecting wealth , but abstinence in the world is that you not hold more firmly to what is in your hand than to what is in the hand of Allah, and that you be more hopeful of the rewards that come with an affliction that you may suffer if it remain with you.
ابوذر غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے اور مال کو برباد کر دے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے، اس پر تم کو اس مال سے زیادہ بھروسہ نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور تمہیں مصیبت کے ثواب کی اس قدر رغبت ہو کہ جب تم مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ تو خواہش کرو کہ یہ مصیبت باقی رہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- راوی حدیث عمرو بن واقد منکرالحدیث ہیں۔
Jam e Tirmazi
55
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الثَّعْلَبِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبيِ عُثْمَانَ،‏‏‏‏ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ، ‏‏‏‏‏‏فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُمَرَ قَدْ خُولِفَ زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَوَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فِي هَذَا الْبَابِ كَبِيرُ شَيْءٍ. قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَأَبُو إِدْرِيسَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ شَيْئًا.
Umar bin Al-Khattab narrated that : Allah's Messenger said: 'Whoever performs Wudu, making Wudu well, then says: (Ashhadu an la ilaha illallah, wahdahu la sharika lahu, wa ashhadu anna Muhammadan-abduhu wa rasuluhu, Allahummajalni minat tawwabin, waj'alni minal mutatahhirin) 'I testify that none has the right to be worshipped but Allah Alone, there are no partners for Him. And I testify that Muhammad is His servant and Messenger. O Allah! Make me among the repentant, and make me among those who purify themselves.' Then eight gates of Paradise are opened for him, that may enter by whichever of them wishes.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو کرے اور اچھی طرح کرے پھر یوں کہے: «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں سے بنا دے“ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے وہ جس سے بھی چاہے جنت میں داخل ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں انس اور عقبہ بن عامر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- امام ترمذی نے عمر رضی الله عنہ کی حدیث کے طرق ۱؎ ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے، ۳- اس باب میں زیادہ تر چیزیں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے صحیح ثابت نہیں ہیں ۲؎۔
Jam e Tirmazi
64
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ،‏‏‏‏ أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ بِسُؤْرِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو حَاجِبٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ
A1-Hakim bin Amr AI-Ghifari narrated that: The Prophet forbade that a man should perform Wudu with the leftover (water) from a woman's purifcation. Or, he said: from her drinking.
حکم بن عمرو غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کو منع فرمایا ہے، یا فرمایا: عورت کے جھوٹے سے وضو کرے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور محمد بن بشار اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے ۱؎، اور محمد بن بشار نے اس روایت میں - «أو بسؤرها» والا شک بیان نہیں کیا ۲؎۔
Jam e Tirmazi
338
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ وَلَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ كَآخِرَةِ الرَّحْلِ أَوْ كَوَاسِطَةِ الرَّحْلِ، ‏‏‏‏‏‏قَطَعَ صَلَاتَهُ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ فَقُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ:‏‏‏‏ مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ مِنَ الْأَبْيَضِ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتَنِي كَمَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَالْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ الَّذِي لَا أَشُكُّ فِيهِ أَنَّ الْكَلْبَ الْأَسْوَدَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي نَفْسِي مِنَ الْحِمَارِ وَالْمَرْأَةِ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ لَا يَقْطَعُهَا شَيْءٌ إِلَّا الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ.
Abu Dharr said that : Allah's Messenger said: When a man performs Salat, and there is nothing in front of him like the post of a saddle, or a camel saddle, then his Salat is severed by (passing of) a black dog, a woman, and a donkey. It was said to Abu Dharr: What is the problem with the black dog rather than the red or white one? He said: O my nephew! I asked Allah's Messenger just as you have asked me. He said: 'The black dog is a Shaitan (devil).'
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی نماز پڑھے اور اس کے سامنے کجاوے کی آخری ( لکڑی یا کہا: کجاوے کی بیچ کی لکڑی کی طرح ) کوئی چیز نہ ہو تو: کالے کتے، عورت اور گدھے کے گزرنے سے اس کی نماز باطل ہو جائے گی“ ۱؎ میں نے ابوذر سے کہا: لال، اور سفید کے مقابلے میں کالے کی کیا خصوصیت ہے؟ انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! تم نے مجھ سے ایسے ہی پوچھا ہے جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا: ”کالا کتا شیطان ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، حکم بن عمرو بن غفاری، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ گدھا، عورت اور کالا کتا نماز کو باطل کر دیتا ہے۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں: مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ کالا کتا نماز باطل کر دیتا ہے لیکن گدھے اور عورت کے سلسلے میں مجھے کچھ تذبذب ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: کالے کتے کے سوا کوئی اور چیز نماز باطل نہیں کرتی۔
Jam e Tirmazi
401
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَخُفَافِ بْنِ أَيْمَاءَ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقُنُوتِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمُ الْقُنُوتَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ لَا يُقْنَتُ فِي الْفَجْرِ إِلَّا عِنْدَ نَازِلَةٍ تَنْزِلُ بِالْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا نَزَلَتْ نَازِلَةٌ فَلِلْإِمَامِ أَنْ يَدْعُوَ لِجُيُوشِ الْمُسْلِمِينَ.
Al-Bara bin Azib narrated: The Prophet (S) would perform the Qunut in the Subh and Maghrib prayers.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم فجر اور مغرب میں قنوت پڑھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، انس، ابوہریرہ، ابن عباس، اور خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- فجر میں قنوت پڑھنے کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کی رائے فجر میں قنوت پڑھنے کی ہے، یہی مالک اور شافعی کا قول ہے، ۴- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ فجر میں قنوت نہ پڑھے، الا یہ کہ مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہوئی ہو تو ایسی صورت میں امام کو چاہیئے کہ مسلمانوں کے لشکر کے لیے دعا کرے۔
Jam e Tirmazi
550
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي بُسْرَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرَا فَمَا رَأَيْتُهُ تَرَكَ الرَّكْعَتَيْنِ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَعْرِفْ اسْمَ أَبِي بُسْرَةَ الْغِفَارِيِّ وَرَآهُ حَسَنًا، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِي عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَتَطَوَّعُ فِي السَّفَرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَا بَعْدَهَا وَرُوِيَ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَتَطَوَّعُ فِي السَّفَرِ ثُمَّ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَطَوَّعَ الرَّجُلُ فِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ تَرَ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُصَلَّى قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى مَنْ لَمْ يَتَطَوَّعْ فِي السَّفَرِ قَبُولُ الرُّخْصَةِ وَمَنْ تَطَوَّعَ فَلَهُ فِي ذَلِكَ فَضْلٌ كَثِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ التَّطَوُّعَ فِي السَّفَرِ.
Al-Bara bin Azib said: I accompanied the Messenger of Allah on eighteen journeys, and I did not see him leave the two Rak'ah when the sun waned before Zuhr.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ مہینے رہا۔ لیکن میں نے سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے کی دونوں رکعتیں کبھی بھی آپ کو چھوڑتے نہیں دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو وہ اسے صرف لیث بن سعد ہی کی روایت سے جان سکے اور وہ ابوبسرہ غفاری کا نام نہیں جان سکے اور انہوں نے اسے حسن جانا ۱؎، ۳- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۴- ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نہ نماز سے پہلے نفل پڑھتے تھے اور نہ اس کے بعد ۲؎، ۵- اور ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ سفر میں نفل پڑھتے تھے ۳؎، ۶- پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اہل علم میں اختلاف ہو گیا، بعض صحابہ کرام کی رائے ہوئی کہ آدمی نفل پڑھے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۷- اہل علم کے ایک گروہ کی رائے نہ نماز سے پہلے کوئی نفل پڑھنے کی ہے اور نہ نماز کے بعد۔ سفر میں جو لوگ نفل نہیں پڑھتے ہیں ان کا مقصود رخصت کو قبول کرنا ہے اور جو نفل پڑھے تو اس کی بڑی فضیلت ہے۔ یہی اکثر اہل علم کا قول ہے وہ سفر میں نفل پڑھنے کو پسند کرتے ہیں ۴؎۔
Jam e Tirmazi
1050
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ. عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
Abu Marthan Al-Ghanawi narrated that: The Prophet said: Do not sit on the graves nor perform Salat towards them.
ابومرثد غنوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں پر نہ بیٹھو ۱؎ اور نہ انہیں سامنے کر کے نماز پڑھو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، عمرو بن حزم اور بشیر بن خصاصیہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1051
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَأَبُو عَمَّارٍ، قَالَا:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عن أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا الصَّحِيحُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ ابْنِ الْمُبَارَكِ خَطَأٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْطَأَ فِيهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ فِيهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا هُوَ بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَاثِلَةَ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏وَبُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ سَمِعَ مِنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ.
(Another chain) from Abu Marthad Al-Ghanawi : from the Prophet, similar (to no. 1050), but it does not contain From Abu Idris and this is what is correct.
اس طریق سے بھی ابومرشد غنوی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ البتہ اس سند میں ابوادریس کا واسطہ نہیں ہے اور یہی صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ابن مبارک کی روایت غلط ہے، اس میں ابن مبارک سے غلطی ہوئی ہے انہوں نے اس میں ابوادریس خولانی کا واسطہ بڑھا دیا ہے، صحیح یہ ہے کہ بسر بن عبداللہ نے بغیر واسطے کے براہ راست واثلہ سے روایت کی ہے، اسی طرح کئی اور لوگوں نے عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے روایت کی ہے اور اس میں ابوادریس کے واسطے کا ذکر نہیں ہے۔ اور بسر بن عبداللہ نے واثلہ بن اسقع سے سنا ہے۔
Jam e Tirmazi
1265
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْخُطْبَةِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ:‏‏‏‏ الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
Narrated Abu Umamah: During the year of the Farewell Pilgrimage, I heard the Prophet (ﷺ) saying during the Khutbah: The borrowed is to be returned, and the guarantor is responsible, and the debt is to be repaid. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Samurah, Safwan bin Umayyah, and Anas. [He said:] The Hadith of Abu Umamah is a Hasan Gharib Hadith. It has also been reported through other routes besides this, from Abu Umamah, from the Prophet (ﷺ).
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں فرماتے سنا: ”عاریت لی ہوئی چیز لوٹائی جائے گی، ضامن کو تاوان دینا ہو گا اور قرض واجب الاداء ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور یہ ابوامامہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور بھی طریق سے مروی ہے، ۳- اس باب میں سمرہ، صفوان بن امیہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔