TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4292 - امت محمدیہ کی صفات - Zuhd - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 11 of 11 in this chapter
امت محمدیہ کی صفات
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ مَرْحُومَةٌ عَذَابُهَا بِأَيْدِيهَا،‏‏‏‏ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دُفِعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ،‏‏‏‏ فَيُقَالُ:‏‏‏‏ هَذَا فِدَاؤُكَ مِنَ النَّارِ .
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “This nation has been granted mercy (in the Hereafter) and its torment (in this world) is at the hands of one another. When the Day of Resurrection comes, each Muslim man will be given a man from among the idolaters and it will be said: ‘This is your ransom from the Fire.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ امت امت مرحومہ ہے ( یعنی اس پر رحمت نازل کی گئی ہے ) ، اس کا عذاب اسی کے ہاتھوں میں ہے، جب قیامت کا دن ہو گا تو ہر مسلمان کے حوالے ایک مشرک کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ تیرا فدیہ ہے جہنم سے ۔
4292
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 5, Book 37, Hadith 4292 Arabic reference : Book 37, Hadith 4433
(سند میں جبارہ و کثیر ضعیف ہیں لیکن صحیح مسلم میں ابو موسیٰ اشعری کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
Conclusion
تخریج
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۴۴۹، ومصباح الزجاجة:۱۵۳۷)

Related Chapters

277
1
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
Musnad Ahmad
2
Chapter: What Has Been Mentioned Of The Mark Of This Nation From The Traces Of Prostrations And Purification On The Day Of Resurrection
باب: قیامت کے دن امت محمدیہ کی پہچان سجدے اور وضو کے نشانات ہوں گے
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What has been Related About 'You Shall Follow The Ways of Those Who Were Before You'
باب: امت محمدیہ گزری امتوں کے نقش قدم پر چلے گی
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About 'The Lifespan Of (The Individuals) In This Ummah Is Between Sixty And Seventy [Years]
باب: امت محمدیہ کی اوسط عمر ساٹھ سے ستر برس کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About The Curtailment Of Hope
باب: امت محمدیہ کا فتنہ مال ہے
Jam e Tirmazi
6
باب: امت محمدیہ کے اہل کبائر کی شفاعت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Splitting That Will Occur In This Ummah
باب: امت محمدیہ کی فرقہ بندی کا بیان
Jam e Tirmazi
8
اس چیز کا بیان کہ توحید پرستوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اس میں امت ِ محمدیہ کے لیے خوشخبری ہے
Musnad Ahmad
9
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
Musnad Ahmad
10
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
Musnad Ahmad
11
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
12
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
Musnad Ahmad
13
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
Musnad Ahmad
14
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
Musnad Ahmad
15
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
Musnad Ahmad
16
امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
17
Chapter: Tribulations that will appear
(امت محمدیہ میں) ہونے والے فتنوں کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
18
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers While [A Resident]
باب: حضر (اقامت کی حالت) میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Saying The Phrases Of The lqamah Once
باب: اقامت اکہری کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Saying The Phrases Of The Iqamah Two Times Each
باب: اقامت دہری کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Whoever Calls The Adhan, He Is To Call The Iqamah
باب: جو اذان دے وہی اقامت کہے
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related That The Imam Has be Greatest Right To The Iqamah
باب: امام کا اقامت (تکبیر) کا حق زیادہ ہے
Jam e Tirmazi
23
Chapter: Supplication Made Between Adhan and Iqamah Is Not Rejected
باب: اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی
Jam e Tirmazi
24
Chapter: [What Has Been Related About] Who Is Most Deserving Of Being The Imam
باب: امامت کا زیادہ حقدار کون ہے؟
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About: When One Of You Leads The People In Prayer, Then Let Him Be Brief.
باب: جب تم میں سے کوئی امامت کرے تو نماز ہلکی پڑھائے
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related [About] 'Whoever Visits A People, He Does Not Lead Them In Salat'
باب: جو کسی قوم کی زیارت کرے تو وہ ان کی امامت نہ کرے
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related [About] Whoever Leads People (In Salat) While They Dislike Him
باب: جو کسی قوم کی امامت کرے، اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About 'The First Thing The Slave (Of Allah) Will Be Reckoned For On The Day Of Judgement Is The Salat'
باب: قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے محاسبہ کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: [What Has Been Related] About The Salat For The Two Eid Is Without An Adhan Nor An Iqamah
باب: عیدین کی نماز بغیر اذان و اقامت کے ہے
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The One Who Prays The Obligatory Prayer, Then Leads The People In Prayer After That
باب: فرض نماز پڑھنے کے بعد لوگوں کی امامت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About: For Each Person Who Betrays A Treaty There Is A Banner Erected On The Day Of Judgement
باب: بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Curse And Insulting One's Honor
باب: لعنت ملامت اور طعن و تشنیع کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What has been Related About The Three Things That The Prophet (s.a.w) Requested For His Ummah
باب: امت کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تین دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What The Prophet(s.a.w) Informed His Companions Would Occur Until The Day Of Resurrection
باب: قیامت تک واقع ہونے والی چیزوں کے بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیش گوئی
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What has been Related About The Signs Of The Hour
باب: علامات قیامت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Signs Of The Occurrence Of The Transformation And The Collapse Of The Earth
باب: زمین دھنسنے اور صورت تبدیل ہونے کی علامت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Prophet's(s.a.w) Saying: The Hour And I Have Been Dispatched Like These Two Meaning The Index And Middle Fingers
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: میری بعثت اور قیامت کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
38
Chapter: The Hour Will Not Be Established until A Fire Comes From The Direction Of The Hijaz
باب: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ حجاز کی طرف سے آگ نکلے
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About 'The Hour Shall Not Be Established Until The Liars Appear'
باب: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ کذاب (جھوٹے) نکلیں
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Al-Khilafah Are FromQuraish Until The Hour Is Established'
باب: قیامت تک خلفاء قریش سے ہوں گے
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Constriction Of Time And The Curtailment Of Hope
باب: قرب قیامت زمانہ سمٹ جائے گا اور آرزوئیں کم ہو جائیں گی
Jam e Tirmazi
42
باب: قیامت کے دن حساب اور بدلے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
باب: قیامت کے دن حساب اور قصاص کا بیان
Jam e Tirmazi
44
باب: قیامت کے دن کی پیشی کا بیان
Jam e Tirmazi
45
باب: قیامت کے دن پیشی اور حساب سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
46
باب: قیامت کے دن حساب اور پیشی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
47
باب: قیامت کے دن انسانی اعمال پر گواہیوں کا بیان
Jam e Tirmazi
48
باب: قیامت کے دن کی شفاعت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
باب: قیامت کے دن شفاعت پر ایک اور حدیث
Jam e Tirmazi
50
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل اور آپ کے خصائص و امتیازات
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

52
Sahih Muslim
279
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ أَنَّ خَالِدًا الْأَثْبَجَ ابْنَ أَخِي صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، حَدَّثَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيَّ بَعَثَ إِلَى عَسْعَسِ بْنِ سَلَامَةَ زَمَنَ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: اجْمَعْ لِي نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِكَ حَتَّى أُحَدِّثَهُمْ، فَبَعَثَ رَسُولًا إِلَيْهِمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَ جُنْدَبٌ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ أَصْفَرُ، فَقَالَ: تَحَدَّثُوا بِمَا كُنْتُمْ تَحَدَّثُونَ بِهِ حَتَّى دَارَ الْحَدِيثُ، فَلَمَّا دَارَ الْحَدِيثُ إِلَيْهِ حَسَرَ الْبُرْنُسَ عَنْ رَأْسِهِ، فَقَالَ: إِنِّي أَتَيْتُكُمْ وَلَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ عَنْ نَبِيِّكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِنَّهُمُ الْتَقَوْا فَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِذَا شَاءَ أَنْ يَقْصِدَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ، وَإِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ، قَالَ: وَكُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَلَمَّا رَفَعَ عَلَيْهِ السَّيْفَ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَتَلَهُ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ، حَتَّى أَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ كَيْفَ صَنَعَ، فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «لِمَ قَتَلْتَهُ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِينَ، وَقَتَلَ فُلَانًا وَفُلَانًا، وَسَمَّى لَهُ نَفَرًا، وَإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى السَّيْفَ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقَتَلْتَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: «وَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟» قَالَ: فَجَعَلَ لَا يَزِيدُهُ عَلَى أَنْ يَقُولَ: «كَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
It is narrated by Safwan b. Muhriz that Jundab b. 'Abdullah al-Bajali during the stormy days of Ibn Zubair sent a message to 'As'as b. Salama: Gather some men of your family so that I should talk to them. He ('As'as) sent a messenger to them (to the members of his family). When they had assembled, Jundab came there with a yellow hooded cloak on him, He said: Talk what you were busy in talking. The talk went on by turns, till there came his (Jundab's) turn. He took off the hooded cloak from his head and said: I have come to you with no other intention but to narrate to you a hadith of your Apostle: Verily the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent a squad of the Muslims to a tribe of the polytheists. Both the armies confronted one another. There was a man among the army of polytheists who (was so dashing that), whenever he intended to kill a man from among the Muslims, he killed him. Amongst the Muslims too was a man looking forward to (an opportunity of) his (the polytheist's) unmindfulness. He (the narrator) said: We talked that he was Usama b, Zaid. When he raised his sword, he (the soldier of the polytheists) uttered: There is no god but Allah, but he (Usama b. Zaid) killed him. When the messenger of the glad tidings came to the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) he asked him (about the events of the battle) and he informed him about the man (Usama) and what he had done He (the Prophet of Allah) called for him and asked him why he had killed him. He (Usama) said: Messenger of Allah, he struck the Muslims and killed such and such of them. And he even named some of them. (He continued): I attacked him and when he saw the sword he said: There is no god but Allah. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Did you kill him? He (Usama) replied in the affirmative. He (the Holy Prophet) remarked: What would you do with: There is no god but Allah, when he would come (before you) on the Day of Judgment? He (Usama) said: Messenger of Allah, beg pardon for me (from your Lord). He (the Holy Prophet) said: What would you do with: There is no god but Allah when he would come (before you) on the Day of Judgment? He (the Holy Prophet) added nothing to it but kept saying: What would you do with: There is no god but Allah, when he would come (before you) on the Day of Judgment?
صفوان بن محرز نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فتنے کے زمانے میں جندب بن عبد اللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے عسعس بن سلامہ کو پیغام بھیجا اور کہا : میرے لیے اپنے ساتھیوں میں ایک نفری ( نفرتیں سے دس تک کی جماعت ) جمع کرو تاکہ میں ان سے بات کروں : چنانچہ عسعس نے اپنے ان ساتھیوں کی جانب ایک قاصد بھیجا جب و ہ جمع ہو گئے تو جندب ایک زرد رنگ کی لمبی ٹوپی پہنے ہوئےآئے اور کہا : جو باتیں تم کر رہے تھے ، وہ کرتے رہو ۔ یہاں تک کہ بات چیت کا دور چل پڑا ۔ جب بات ان تک پہنچی ( ان کے بولنے کی باری آئی ) تو انہوں نے اپنے سر سےلمبی ٹو‎پی اتار دی اور کہا : میں تمہارے پاس آیاتھا اور میرا ارادہ یہ نہ تھا کہ تمہیں تمہارے نبی سے کوئی حدیث سناؤں ( لیکن اب یہ ضروری ہو گیا ہے ) رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکین کی ایک قوم کی طرف بھیجا اور ان کے آمنا سامنا ہوا ۔ مشرکوں کا ایک آدمی تھا ، وہ جب مسلمانوں کے کسی آدمی پر حملہ کرنا چاہتا تو اس پر حملہ کرتا اور اسے قتل کر دیتا ۔ اور مسلمانوں کا ایک آدمی تھا جو اس ( مشرک ) کی بے دھیانی کا متلاشی تھا ، ( جندب بن عبد اللہ نے ) کہا : ہم ایک دوسرےسے کہتے تھے کہ وہ اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ہیں ۔ جب ان کی تلوار مارنے کی باری آئی تو اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا ۔ لیکن انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔ فتح کی خوش خبری دینے والا نبی ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ نے اس سے ( حالات کے متعلق ) پوچھا ، اس نے آپ کو حالات بتائے حتی کہ اس آدمی ( حضرت اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کی خبر بھی دے دی کہ انہوں کیا کیا ۔ آپ نے انہیں بلا کر پوچھا اور فرمایا : ’’ تم نے اسے کیوں قتل کیا ؟ ‘ ‘ ا نہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس نے مسلمانوں کو بہت ایذا پہنچائی تھی اور فلاں فلاں کو قتل کیا تھا ، انہوں نے کچھ لوگوں کے نام گنوائے ، ( پھر کہا : ) میں اس پر حملہ کیا ، اس نے جب تلوار دیکھی تو لا إله إلا الله کہہ دیا ۔ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟ ‘ ‘ ( اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کہا ، جی ہاں ! فرمایا : ’’قیامت کے دن جب لا إله إلا الله ( تمہارے سامنے ) آئے گا تو اس کا کیا کرو گے ؟ ‘ ‘ ( اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرے لیے بخشش طلب کیجیے ۔ آپ نے فرمایا : ’’قیامت کےدن ( تمہارے سامنے کلمہ ) لا إله إلاالله آئے گا تو اس کا کیا کرو گے ؟ ‘ ‘ ( جندب بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : رسول اللہ ﷺ ان سے مزید کوئی بات نہیں کر رہے تھے ، یہی کہہ رہے تھے : ’’قیامت کے دن لا إله إلا الله ( تمہارے سامنے ) آئے گا تو اس کیا کرو گے ؟ ‘ ‘
Jam e Tirmazi
1617
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَغُلُّوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَغْدِرُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُمَثِّلُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏أَيَّتُهَا أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ وَادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَالتَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُوا كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ مَا يَجْرِي عَلَى الْأَعْرَابِ، ‏‏‏‏‏‏لَيْسَ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْءِ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ أَبَوْا، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَلَيْهِمْ وَقَاتِلْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا حَاصَرْتَ حِصْنًا فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَمَ أَصْحَابِكَ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّكُمْ إِنْ تَخْفِرُوا ذِمَّتَكُمْ وَذِمَمَ أَصْحَابِكُمْ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تُنْزِلُوهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لَا أَوْ نَحْوَ هَذَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏
Narrated Sulaiman bin Buraidah: From his father who said: When the Messenger of Allah (sawS) sent a commander of an army, he would exhort him concerning himself to have Taqwa of Allah, and he would exhort him to be good to those who are with him among the Muslims. He would say: 'Fight in the Name of Allah, in the cause of Allah. Fight those who disbelieve in Allah, and do not steal from the spoils of war or be treacherous, nor mutilate, and do not kill a child. When you meet your enemy among the idolaters, then call them to one of the three options or choices, whichever of them they respond to then accept it from them, and refrain from them. Call them to Islam, and to relocate from their land to the land of Emigrants. Inform them that if they do that, then they will have similar to what those who emigrated have, and from them will be required similar to what is required from those who have emigrated. And if they refuse to relocate, then inform them that they will be like the Bedouins among the Muslim, and they will be treated the same as Bedouins are treated. There is no war spoils or Fay' for them, unless they fight along with the Muslims. If they refuse then seek aid from Allah against them and fight them. And if you lay siege to a fortress and they want you to grant them covenant from Allah and a covenant of His Prophet, then do not grant them the covenant of Allah nor the covenant of His Prophet. Rather grant them your own covenant and the covenant of your companions, it will be better than breaking Allah's covenant and the covenant of His Messenger. And if you lay siege to the people of a fortress and they want you to lift the siege for negotiating upon the judgement of Allah, then do not stop, but rather make them surrender to your judgement, for you do not know if you will come upon the judgement of Allah regarding them or not.' Or similar to that. [Abu 'Eisa said:] There is something on this topic from An-Nu'man bin Muqarrin, and the Hadith of Buraidah is a Hasan Sahih Hadith
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر پر امیر مقرر کرتے تو اسے خاص اپنے نفس کے بارے میں سے اللہ سے ڈرنے اور جو مسلمان ان کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتے تھے، اس کے بعد آپ فرماتے: اللہ کے نام سے اور اس کے راستے میں جہاد کرو، ان لوگوں سے جو اللہ کا انکار کرنے والے ہیں، مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، عہد نہ توڑو، مثلہ نہ کرو، بچوں کو قتل نہ کرو اور جب تم اپنے مشرک دشمنوں کے سامنے جاؤ تو ان کو تین میں سے کسی ایک بات کی دعوت دو ان میں سے جسے وہ مان لیں قبول کر لو اور ان کے ساتھ لڑائی سے باز رہو: ان کو اسلام لانے اور اپنے وطن سے مہاجرین کے وطن کی طرف ہجرت کرنے کی دعوت دو، اور ان کو بتا دو کہ اگر انہوں نے ایسا کر لیا تو ان کے لیے وہی حقوق ہیں جو مہاجرین کے لیے ہیں اور ان کے اوپر وہی ذمہ داریاں ہیں جو مہاجرین پر ہیں، اور اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو ان کو بتا دو کہ وہ بدوی مسلمانوں کی طرح ہوں گے، ان کے اوپر وہی احکام جاری ہوں گے جو بدوی مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں: مال غنیمت اور فئی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں، پھر اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کریں تو ان پر فتح یاب ہونے کے لیے اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے جہاد شروع کر دو، جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ اور اس کے نبی کی پناہ دو تو تم ان کو اللہ اور اس کے نبی کی پناہ نہ دو، بلکہ تم اپنی اور اپنے ساتھیوں کی پناہ دو، ( اس کے خلاف نہ کرنا ) اس لیے کہ اگر تم اپنا اور اپنے ساتھیوں کا عہد توڑتے ہو تو یہ زیادہ بہتر ہے اس سے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑو، اور جب تم کسی قلعے والے کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کے فیصلہ پر اتارو تو ان کو اللہ کے فیصلہ پر مت اتارو بلکہ اپنے فیصلہ پر اتارو، اس لیے کہ تم نہیں جانتے کہ ان کے سلسلے میں اللہ کے فیصلہ پر پہنچ سکو گے یا نہیں“، آپ نے اسی طرح کچھ اور بھی فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں نعمان بن مقرن رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Jam e Tirmazi
3421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا إِنَّهُ لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏آمَنْتُ بِكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَكَعَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرَضِينَ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا سَجَدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ فَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَكُونُ آخِرَ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالسَّلَامِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Ali bin Abi Talib narrated that whenever the Messenger of Allah would stand for Salat, he would say: “I have directed my face towards the One who created the Heavens and the earth, as a Hanif, and I am not of the idolaters. Indeed, my Salat, my sacrifice, my living, and my dying is for Allah, the Lord of all that exists, there is no partner for Him, and with this have I been ordered, and I am among the Muslims. O Allah, You are the King, there is none worthy of worship except You. You are My Lord, and I am Your slave, I have wronged myself, and I admit to my sin, so forgive me all my sins, verily, there is none who forgives sins but You. And guide me to the best of the manners, none guides to the best of them except You, and turn the evil of them away from me, [verily,] none can turn the evil of them away from me except You. I have believed in You. Blessed are You and Exalted are You, I seek Your forgiveness and I repent to you (Wajjahtu wajhiya lilladhī faṭaras-samāwāti wal-arḍa ḥanīfan wa mā ana min al-mushrikīn, inna ṣalātī wa nusukī wa maḥyāya wa mamātī lillāhi rabbil-`ālamīn, lā sharīka lahū wa bidhālika umirtu wa ana min al-muslimīn. Allāhumma antal-maliku lā ilāha illā ant, anta rabbī, wa ana `abduka ẓalamtu nafsī wa`taraftu bidhanbī faghfirlī dhunūbī jamī`an, innahū lā yaghfir adh-dhunūba illā ant. Wahdinī li-aḥsanil-akhlāqi lā yahdī li-aḥsanihā illā ant. Waṣrif `annī sayyi’ahā [innahū] lā yaṣrifu `annī sayyi’aha illā ant. Āmantu bika tabārakta wa ta`ālaita astaghfiruka wa atūbu ilaik).” And when he would bow in Ruku`, he would say: “O Allah, to You I have bowed, and in You I believe, and to You have I submitted. My hearing, my sight, my brain, my bones and my sinew are humbled to you (Allāhumma laka raka`tu wa bika āmantu wa laka aslamtu. Khasha`a laka sam`ī wa baṣarī wa mukhkhī wa `iẓāmī, wa `aṣabī)” Then when he would raise his head, he would say: “O Allah, our Lord, to You is praise the fill of the Heavens and the earths and the fill of whatever You will of things. (Allāhumma rabbanā lakal-ḥamdu mil’as-samāwāti wal-arḍīna wa mā bainahumā, wa mil’a mā shi’ta min shay’in ba`d).” Then, when he prostrated, he would say: “O Allah, to You have I prostrated, and in You have I believed, and to You have I submitted, my face has prostrated to the One Who created it and fashioned it, and gave it its hearing and its sight. So Blessed is Allah, the Best of creators (Allāhumma laka sajadtu wa bika āmantu wa laka aslamtu, sajada wajhi lilladhī khalaqahū fa ṣuwwarahū wa shaqqa sam`ahū wa baṣarahū fatabārak Allāhu ahsanul-khāliqīn).” Then the last of what he would say between At-Tashah-hud and As-Salam would be: “O Allah, forgive me what I have done before and after, and what I have hidden and what I have done openly, and what You know more of it than I, You are the One who sends forth and the One who delays, there is none worthy of worship except You. (Allāhummaghfirlī mā qaddamtu wa mā akhkhartu wa mā asrartu wa mā a`lantu wa mā anta a`lamu bihī minnī antal-Muqaddimu wa antal-Mu’akhkhiru, lā ilāha illā ant).”
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں کھڑے ہوتے تو پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها إنه لا يصرف عني سيئها إلا أنت آمنت بك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك»،‏‏‏‏ پھر جب آپ رکوع کرتے تو پڑھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت خشع لك سمعي وبصري ومخي وعظامي وعصبي» پھر آپ جب سر اٹھاتے تو کہتے: «اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات والأرضين وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء بعد»،‏‏‏‏ پھر جب آپ سجدہ فرماتے تو کہتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت سجد وجهي للذي خلقه فصوره وشق سمعه وبصره فتبارك الله أحسن الخالقين» پھر آپ سب سے آخر میں تشہد اور سلام کے درمیان جو دعا پڑھتے تھے، وہ دعا یہ تھی: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3422
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَيُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَمِّي، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ يُوسُفُ أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَعْرَجُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، ‏‏‏‏‏‏لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَكَعَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَعِظَامِي وَعَصَبِي ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَفَعَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا سَجَدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ فَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Ali bin Abi Talib narrated that whenever the Messenger of Allah would stand for Salat, he would say: “I have directed my face towards the One who has created the heavens and the earth, as a Hanif, and I am not of the idolaters. Indeed, my Salat, my sacrifice, my living, my dying, is for Allah, the Lord of all that exists, without partner, and with this have I been ordered and I am of the Muslims. O Allah, You are the King, there is none worthy of worship except You. You are My Lord, and I am Your slave, I have wronged myself and I admit to my sin, so forgive me all my sins, verily, there is none who forgives sins but You, and guide me to the best of manners, none guides to the best of them except You, and turn away from me the evil of them, none can turn away from me the evil of them except You. Here I am in obedience to You, and in aiding Your cause, and the good, all of it is in Your Hands, and the evil is not attributed to You, I am reliant upon You and ever-turning towards You, Blessed are You and Exalted are You. I seek Your forgiveness and I repent to you (Wajjahtu wajhiya lilladhī faṭaras-samāwāti wal-arḍa ḥanīfan wa mā ana min al-mushrikīn, inna ṣalātī wa nusukī wa maḥyāya wa mamātī lillāhi rabbil-`ālamīn, lā sharīka lahū wa bidhālika umirtu wa ana min al-muslimīn. Allāhumma antal-maliku lā ilāha illā ant, anta rabbī, wa ana `abduka ẓalamtu nafsī wa`taraftu bidhanbī faghfirlī dhunūbī jamī`an, innahū lā yaghfir adh-dhunūba illā ant. Wahdinī li-aḥsanil-akhlāqi lā yahdī li-aḥsanihā illā ant. Waṣrif `annī sayyi’ahā lā yaṣrifu `annī sayyi’aha illā ant. Labaika wa sa`daika wal-khairu kulluhū fī yadaika, wash-sharru laisa ilaik, tabārakta wa ta`ālaita astaghfiruka wa atūbu ilaik).” And when he would bow in Ruku he would say: “O Allah, to You have I bowed, and in You have I believed, and to You have I submitted. My hearing, my sight, my bones, and my sinew are humbled to you (Allāhumma laka raka`tu wa bika āmantu wa laka aslamtu. Khasha`a laka sam`ī wa baṣarī wa `iẓāmī, wa `aṣabī).” And when he would rise he would say: “O Allah, our Lord, to You is praise filling the heaven and filling the earth, and filling what is between them, and filling whatever You have wished of things afterward (Allāhumma rabbanā lakal-ḥamdu mil’as-samāwāti wa mil’al-arḍ wa mil’a mā bainahumā, wa mil’a mā shi’ta min shay’in ba`d).” Then, when he prostrated, he would say: “O Allah, to You have I prostrated, and in You have I believed, and to You have I submitted (in Islam), my face has prostrated to the One Who created it, and fashioned it, and gave it its hearing and sight, [so] Blessed is Allah, the Best of Creators (Allāhumma laka sajadtu wa bika āmantu wa laka aslamtu, sajada wajhi lilladhī khalaqahū fa ṣuwwarahū wa shaqqa sam`ahū wa baṣarahū fatabārak Allāhu ahsanul-khāliqīn).” Then the last of what he would say between At-Tashahud and At-Taslim was: “O Allah, forgive me what I have done, before and after, and what I have hidden, and what I have done openly, and what I have transgressed the limit in, and what You know about more than me, You are the One Who sends forth and the One Who delays, there is none worthy of worship except You (Allāhummaghfirlī mā qaddamtu wa mā akhkhartu wa mā asrartu wa mā a`lantu wa mā asraftu wa mā anta a`lamu bihī minnī antal-Muqaddimu wa antal-Mu’akhkhiru, lā ilāha illā ant).”
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ( تکبیر تحریمہ کے بعد ) کہتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك»،‏‏‏‏ پھر جب آپ رکوع کرتے تو پڑھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت خشع لك سمعي وبصري وعظامي وعصبي»،‏‏‏‏ پھر جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو آپ کہتے: «اللهم ربنا لك الحمد ملء السماء وملء الأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء»،‏‏‏‏ پھر جب سجدہ میں جاتے تو کہتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت سجد وجهي للذي خلقه فصوره وشق سمعه وبصره فتبارك الله أحسن الخالقين»،‏‏‏‏ پھر آپ سب سے آخر میں تشہد اور سلام کے درمیان پڑھتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3423
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:‏‏‏‏ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَصْنَعُ ذَلِكَ أَيْضًا إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَصْنَعُهَا إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَامَ مِنْ سَجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ فَكَبَّرَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بَعْدَ التَّكْبِيرِ:‏‏‏‏ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، ‏‏‏‏‏‏لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏سُبْحَانَكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ‏‏‏‏‏‏ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا مَنْجَا وَلَا مَلْجَأَ إِلَّا إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقْرَأُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَكَعَ كَانَ كَلَامُهُ فِي رُكُوعِهِ أَنْ يَقُولَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُتْبِعُهَا اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا سَجَدَ قَالَ فِي سُجُودِهِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ الشَّافِعِيِّ وَبَعْضُ أَصْحَابِنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ لَا يَرَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ يَقُولُ:‏‏‏‏ هَذَا فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَلَا يَقُولُهُ فِي الْمَكْتُوبَةِ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْت أَبَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي التِّرْمِذِيَّ، ‏‏‏‏‏‏مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل بْنِ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ الْهَاشِمِيَّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا عِنْدَنَا مِثْلُ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ.
Ali bin Abi Talib narrated that : when the Messenger of Allah would stand for the obligatory prayer, he would raise his hands to the level of his shoulder, and he would do this [also] when he finished his recitation and intended to bow, and he would do it when he raised his head from Ruku`, and he would not raise his hands in any of his prayers while he was seated. When he would rise from the two prostrations, he would likewise raise his hands, and say the Takbir, and when he opened his Salat after the Takbir, he would say: “I have directed my face towards the One who has created the heavens and the earth, as a Hanif, and I am not of the idolaters. Indeed, my Salat, my sacrifice, my living, my dying, is for Allah, the Lord of all that exists, without partner, and with this have I been ordered and I am of the Muslims. O Allah, You are the King, there is none worthy of worship except You. Glorified are You, You are My Lord, and I am Your slave, I have wronged myself and I admit to my sin, so forgive me all my sins, verily, there is none who forgives sins but You, and guide me to the best of manners, none guides to the best of them except You, and turn away from me the evil of them, none turns away from me the evil of them except You, I am here in Your obedience and aiding Your cause, and I am reliant upon You and ever-turning towards You, [and] there is no refuge from You nor hiding place from You except (going) to You, I seek Your forgiveness, and I repent to you (Wajjahtu wajhiya lilladhī faṭaras-samāwāti wal-arḍa ḥanīfan wa mā ana min al-mushrikīn, inna ṣalātī wa nusukī wa maḥyāya wa mamātī lillāhi rabbil-`ālamīn, lā sharīka lahū wa bidhālika umirtu wa ana min al-muslimīn. Allāhumma antal-maliku lā ilāha illā ant, subḥānaka anta rabbī, wa ana `abduka ẓalamtu nafsī wa`taraftu bidhanbī faghfirlī dhunūbī jamī`an, innahū lā yaghfir adh-dhunūba illā ant. Wahdinī li-aḥsanil-akhlāqi lā yahdī li-aḥsanihā illā ant. Waṣrif `annī sayyi’ahā lā yaṣrifu `annī sayyi’aha illā ant. Labaika wa sa`daika, wa ana bika wa ilaika, [wa] lā manjā minka wa lā malja’a illā ilaik, astaghfiruka wa atūbu ilaik).” Then he would recite, then when he would bow, his speech in his Ruku`, would be to say: “O Allah, to You have I bowed, and in You have I believed, and to You have I submitted (in Islam), and You are my Lord. My hearing, my sight, my brain and my bones are humbled to Allah, the Lord of the Worlds all that exists (Allāhumma laka raka`tu wa bika āmantu wa laka aslamtu wa anta rabb ī. Khasha`a sam`ī wa baṣarī wa mukhkhī wa `aẓmī lillāhi, rabbil-`ālamīn).” Then, when he raised his head from Ruku he would say: “Allah hears the one who praises him (Sami`a Allāhu liman ḥamidah).” Then he would follow it with: “O Allah, our Lord, to You is praise filling the heavens and the earth and filling whatever You wish of things afterward (Allāhumma rabbanā wa lakal-ḥamdu mil’as-samāwāti wal-arḍi, wa mil’a mā shi’ta min shay’in ba`d.).” Then, when prostrated he would say in his prostration: “O Allah, to You have I prostrated, and in You have I believed, and to You have I submitted (in Islam), and You are my Lord, my face has prostrated to the One that created it, and granted its hearing and sight, Blessed is Allah, the Best of Creators (Allāhumma laka sajadtu wa bika āmantu wa laka aslamtu wa anta rabbī, sajada wajhi lilladhī khalaqahū wa shaqqa sam`ahū wa baṣarahū, tabārak Allāhu ahsanul-khāliqīn).” When he was finished with his Salat, we would say: “O Allah, forgive me what I have done, before and after, and what I have hidden, and what I have done openly, and You are my Deity, there is none worthy of worship except You (Allāhummaghfirlī mā qaddamtu wa mā akhkhartu wa mā asrartu wa mā a`lantu, wa anta ilāhī lā ilāha illā ant).”
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے برابر اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) ، اور ایسا اس وقت بھی کرتے تھے جب اپنی قرأت پوری کر لیتے تھے اور رکوع کا ارادہ کرتے تھے، اور ایسا ہی کرتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے ۱؎، بیٹھے ہونے کی حالت میں اپنی نماز کے کسی حصے میں بھی رفع یدین نہ کرتے تھے، پھر جب دونوں سجدے کر کے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اسی طرح، پھر تکبیر ( اللہ اکبر ) کہتے اور نماز شروع کرتے وقت تکبیر ( تحریمہ ) کے بعد پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت سبحانك أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك أنا بك وإليك ولا منجا ولا ملجأ إلا إليك أستغفرك وأتوب إليك» ( یہ دعا پڑھنے کے بعد ) پھر قرأت کرتے، رکوع میں جاتے، رکوع میں آپ یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وأنت ربي خشع سمعي وبصري ومخي وعظمي لله رب العالمين» پھر جب آپ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو کہتے: «سمع الله لمن حمده»،‏‏‏‏ «سمع الله لمن حمده» کہنے کے فوراً بعد آپ پڑھتے: «اللهم ربنا ولك الحمد ملء السموات والأرض وملء ما شئت من شيء» اس کے بعد جب سجدہ کرتے تو سجدوں میں پڑھتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت وأنت ربي سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره تبارك الله أحسن الخالقين» ۔ اور جب نماز سے سلام پھیرنے چلتے تو ( سلام پھیرنے سے پہلے ) پڑھتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسی پر عمل ہے امام شافعی اور ہمارے بعض اصحاب کا، ۳- امام احمد بن حنبل ایسا خیال نہیں رکھتے، ۴- اہل کوفہ اور ان کے علاوہ کے بعض علماء کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نفلی نمازوں میں پڑھتے تھے نہ کہ فرض نمازوں میں ۲؎ ۳- میں نے ابواسماعیل ترمذی محمد بن اسماعیل بن یوسف کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے سلیمان بن داود ہاشمی کو کہتے ہوئے سنا، انہوں نے ذکر کیا اسی حدیث کا پھر کہا: یہ حدیث میرے نزدیک ایسے ہی مستند اور قوی ہے، جیسے زہری کی وہ حدیث قوی و مستند ہوتی ہے جسے وہ سالم بن عبداللہ سے اور سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔
Sahih Bukhari
2731
حدثني عبد الله بن محمد، ‏‏‏‏‏‏حدثنا عبد الرزاق، ‏‏‏‏‏‏اخبرنا معمر، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اخبرني الزهري، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اخبرني عروة بن الزبير، ‏‏‏‏‏‏عن المسور بن مخرمة، ‏‏‏‏‏‏ومروان يصدق كل واحد منهما حديث صاحبه، ‏‏‏‏‏‏قالا:‏‏‏‏ خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم زمن الحديبية حتى إذا كانوا ببعض الطريق، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ إن خالد بن الوليد بالغميم في خيل لقريش طليعة، ‏‏‏‏‏‏فخذوا ذات اليمين، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما شعر بهم خالد حتى إذا هم بقترة الجيش، ‏‏‏‏‏‏فانطلق يركض نذيرا لقريش، ‏‏‏‏‏‏وسار النبي صلى الله عليه وسلم حتى إذا كان بالثنية التي يهبط عليهم منها بركت به راحلته، ‏‏‏‏‏‏فقال الناس:‏‏‏‏ حل، ‏‏‏‏‏‏حل، ‏‏‏‏‏‏فالحت، ‏‏‏‏‏‏فقالوا:‏‏‏‏ خلات القصواء، ‏‏‏‏‏‏خلات القصواء، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ما خلات القصواء وما ذاك لها بخلق، ‏‏‏‏‏‏ولكن حبسها حابس الفيل، ‏‏‏‏‏‏ثم قال:‏‏‏‏ والذي نفسي بيده لا يسالوني خطة يعظمون فيها حرمات الله إلا اعطيتهم إياها، ‏‏‏‏‏‏ثم زجرها فوثبت، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فعدل عنهم حتى نزل باقصى الحديبية على ثمد قليل الماء يتبرضه الناس تبرضا فلم يلبثه الناس حتى نزحوه، ‏‏‏‏‏‏وشكي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم العطش، ‏‏‏‏‏‏فانتزع سهما من كنانته، ‏‏‏‏‏‏ثم امرهم ان يجعلوه فيه، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما زال يجيش لهم بالري حتى صدروا عنه، ‏‏‏‏‏‏فبينما هم كذلك إذ جاء بديل بن ورقاء الخزاعي في نفر من قومه من خزاعة، ‏‏‏‏‏‏وكانوا عيبة نصح رسول الله صلى الله عليه وسلم من اهل تهامة، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ إني تركت كعب بن لؤي، ‏‏‏‏‏‏وعامر بن لؤي نزلوا اعداد مياه الحديبية ومعهم العوذ المطافيل وهم مقاتلوك وصادوك عن البيت، ‏‏‏‏‏‏فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ إنا لم نجئ لقتال احد ولكنا جئنا معتمرين، ‏‏‏‏‏‏وإن قريشا قد نهكتهم الحرب واضرت بهم، ‏‏‏‏‏‏فإن شاءوا ماددتهم مدة، ‏‏‏‏‏‏ويخلوا بيني وبين الناس فإن اظهر، ‏‏‏‏‏‏فإن شاءوا ان يدخلوا فيما دخل فيه الناس فعلوا وإلا فقد جموا، ‏‏‏‏‏‏وإن هم ابوا، ‏‏‏‏‏‏فوالذي نفسي بيده لاقاتلنهم على امري هذا حتى تنفرد سالفتي ولينفذن الله امره، ‏‏‏‏‏‏فقال بديل:‏‏‏‏ سابلغهم ما تقول، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فانطلق حتى اتى قريشا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ إنا قد جئناكم من هذا الرجل، ‏‏‏‏‏‏وسمعناه يقول قولا، ‏‏‏‏‏‏فإن شئتم ان نعرضه عليكم فعلنا، ‏‏‏‏‏‏فقال سفهاؤهم:‏‏‏‏ لا حاجة لنا ان تخبرنا عنه بشيء، ‏‏‏‏‏‏وقال ذوو الراي منهم:‏‏‏‏ هات ما سمعته يقول، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سمعته يقول كذا وكذا، ‏‏‏‏‏‏فحدثهم بما قال النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فقام عروة بن مسعود، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اي قوم، ‏‏‏‏‏‏الستم بالوالد؟ قالوا:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اولست بالولد؟ قالوا:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فهل تتهموني؟ قالوا:‏‏‏‏ لا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ الستم تعلمون اني استنفرت اهل عكاظ، ‏‏‏‏‏‏فلما بلحوا علي جئتكم باهلي وولدي، ‏‏‏‏‏‏ومن اطاعني؟ قالوا:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فإن هذا قد عرض لكم خطة رشد، ‏‏‏‏‏‏اقبلوها ودعوني آتيه، ‏‏‏‏‏‏قالوا:‏‏‏‏ ائته، ‏‏‏‏‏‏فاتاه، ‏‏‏‏‏‏فجعل يكلم النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ نحوا من قوله لبديل، ‏‏‏‏‏‏فقال عروة:‏‏‏‏ عند ذلك اي محمد، ‏‏‏‏‏‏ارايت إن استاصلت امر قومك، ‏‏‏‏‏‏هل سمعت باحد من العرب اجتاح اهله قبلك وإن تكن الاخرى، ‏‏‏‏‏‏فإني والله لارى وجوها وإني لارى اوشابا من الناس خليقا ان يفروا ويدعوك، ‏‏‏‏‏‏فقال له ابو بكر الصديق:‏‏‏‏ امصص بظر اللات، ‏‏‏‏‏‏انحن نفر عنه وندعه، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ من ذا؟ قالوا:‏‏‏‏ ابو بكر، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اما والذي نفسي بيده لولا يد كانت لك عندي لم اجزك بها لاجبتك، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ وجعل يكلم النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فكلما تكلم اخذ بلحيته والمغيرة بن شعبة قائم على راس النبي صلى الله عليه وسلم ومعه السيف وعليه المغفر، ‏‏‏‏‏‏فكلما اهوى عروة بيده إلى لحية النبي صلى الله عليه وسلم ضرب يده بنعل السيف، ‏‏‏‏‏‏وقال له:‏‏‏‏ اخر يدك عن لحية رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فرفع عروة راسه، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ من هذا؟ قالوا:‏‏‏‏ المغيرة بن شعبة، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اي غدر، ‏‏‏‏‏‏الست اسعى في غدرتك، ‏‏‏‏‏‏وكان المغيرة صحب قوما في الجاهلية، ‏‏‏‏‏‏فقتلهم واخذ اموالهم، ‏‏‏‏‏‏ثم جاء فاسلم، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ اما الإسلام فاقبل، ‏‏‏‏‏‏واما المال فلست منه في شيء، ‏‏‏‏‏‏ثم إن عروة جعل يرمق اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم بعينيه، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فوالله ما تنخم رسول الله صلى الله عليه وسلم نخامة إلا وقعت في كف رجل منهم فدلك بها وجهه وجلده، ‏‏‏‏‏‏وإذا امرهم ابتدروا امره، ‏‏‏‏‏‏وإذا توضا كادوا يقتتلون على وضوئه، ‏‏‏‏‏‏وإذا تكلم خفضوا اصواتهم عنده، ‏‏‏‏‏‏وما يحدون إليه النظر تعظيما له، ‏‏‏‏‏‏فرجع عروة إلى اصحابه، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اي قوم، ‏‏‏‏‏‏والله لقد وفدت على الملوك ووفدت على قيصر، ‏‏‏‏‏‏وكسرى، ‏‏‏‏‏‏والنجاشي، ‏‏‏‏‏‏والله إن رايت ملكا قط يعظمه اصحابه ما يعظم اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم محمدا، ‏‏‏‏‏‏والله إن تنخم نخامة إلا وقعت في كف رجل منهم فدلك بها وجهه وجلده، ‏‏‏‏‏‏وإذا امرهم ابتدروا امره، ‏‏‏‏‏‏وإذا توضا كادوا يقتتلون على وضوئه، ‏‏‏‏‏‏وإذا تكلم خفضوا اصواتهم عنده، ‏‏‏‏‏‏وما يحدون إليه النظر تعظيما له، ‏‏‏‏‏‏وإنه قد عرض عليكم خطة رشد فاقبلوها، ‏‏‏‏‏‏فقال رجل من بني كنانة:‏‏‏‏ دعوني آتيه، ‏‏‏‏‏‏فقالوا:‏‏‏‏ ائته، ‏‏‏‏‏‏فلما اشرف على النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه، ‏‏‏‏‏‏قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ هذا فلان، ‏‏‏‏‏‏وهو من قوم يعظمون البدن، ‏‏‏‏‏‏فابعثوها له، ‏‏‏‏‏‏فبعثت له واستقبله الناس يلبون، ‏‏‏‏‏‏فلما راى ذلك، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سبحان الله، ‏‏‏‏‏‏ما ينبغي لهؤلاء ان يصدوا عن البيت، ‏‏‏‏‏‏فلما رجع إلى اصحابه، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ رايت البدن قد قلدت واشعرت، ‏‏‏‏‏‏فما ارى ان يصدوا عن البيت فقام رجل منهم يقال له مكرز بن حفص، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ دعوني آتيه، ‏‏‏‏‏‏فقالوا:‏‏‏‏ ائته، ‏‏‏‏‏‏فلما اشرف عليهم، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ هذا مكرز، ‏‏‏‏‏‏وهو رجل فاجر، ‏‏‏‏‏‏فجعل يكلم النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فبينما هو يكلمه إذ جاء سهيل بن عمرو . قال معمر:‏‏‏‏ فاخبرني ايوب، ‏‏‏‏‏‏عن عكرمة، ‏‏‏‏‏‏انه لما جاء سهيل بن عمرو، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ لقد سهل لكم من امركم. قال معمر:‏‏‏‏ قال الزهري في حديثه:‏‏‏‏ فجاء سهيل بن عمرو، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ هات اكتب بيننا وبينكم كتابا، ‏‏‏‏‏‏فدعا النبي صلى الله عليه وسلم الكاتب، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏قال سهيل:‏‏‏‏ اما الرحمن، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما ادري ما هو، ‏‏‏‏‏‏ولكن اكتب باسمك اللهم كما كنت تكتب، ‏‏‏‏‏‏فقال المسلمون:‏‏‏‏ والله لا نكتبها إلا بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ اكتب باسمك اللهم، ‏‏‏‏‏‏ثم قال:‏‏‏‏ هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله، ‏‏‏‏‏‏فقال سهيل:‏‏‏‏ والله لو كنا نعلم انك رسول الله ما صددناك عن البيت ولا قاتلناك، ‏‏‏‏‏‏ولكن اكتب محمد بن عبد الله، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ والله إني لرسول الله، ‏‏‏‏‏‏وإن كذبتموني اكتب محمد بن عبد الله، ‏‏‏‏‏‏قال الزهري:‏‏‏‏ وذلك لقوله:‏‏‏‏ لا يسالوني خطة يعظمون فيها حرمات الله إلا اعطيتهم إياها، ‏‏‏‏‏‏فقال له النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ على ان تخلوا بيننا وبين البيت فنطوف به، ‏‏‏‏‏‏فقال سهيل:‏‏‏‏ والله لا تتحدث العرب، ‏‏‏‏‏‏انا اخذنا ضغطة، ‏‏‏‏‏‏ولكن ذلك من العام المقبل، ‏‏‏‏‏‏فكتب، ‏‏‏‏‏‏فقال سهيل، ‏‏‏‏‏‏وعلى:‏‏‏‏ انه لا ياتيك منا رجل، ‏‏‏‏‏‏وإن كان على دينك إلا رددته إلينا، ‏‏‏‏‏‏قال المسلمون:‏‏‏‏ سبحان الله، ‏‏‏‏‏‏كيف يرد إلى المشركين وقد جاء مسلما؟ فبينما هم كذلك إذ دخل ابو جندل بن سهيل بن عمرو يرسف في قيوده، ‏‏‏‏‏‏وقد خرج من اسفل مكة حتى رمى بنفسه بين اظهر المسلمين، ‏‏‏‏‏‏فقال سهيل:‏‏‏‏ هذا يا محمد، ‏‏‏‏‏‏اول ما اقاضيك عليه ان ترده إلي، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ إنا لم نقض الكتاب بعد، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فوالله إذا لم اصالحك على شيء ابدا، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ فاجزه لي، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ ما انا بمجيزه لك، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏فافعل، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ ما انا بفاعل، ‏‏‏‏‏‏قال مكرز:‏‏‏‏ بل قد اجزناه لك، ‏‏‏‏‏‏قال ابو جندل:‏‏‏‏ اي معشر المسلمين ارد إلى المشركين، ‏‏‏‏‏‏وقد جئت مسلما، ‏‏‏‏‏‏الا ترون ما قد لقيت وكان قد عذب عذابا شديدا في الله، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فقال عمر بن الخطاب:‏‏‏‏ فاتيت نبي الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فقلت:‏‏‏‏ الست نبي الله حقا؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ السنا على الحق وعدونا على الباطل؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ فلم نعطي الدنية في ديننا إذا قال:‏‏‏‏ إني رسول الله، ‏‏‏‏‏‏ولست اعصيه وهو ناصري، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ اوليس كنت تحدثنا انا سناتي البيت فنطوف به؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏فاخبرتك انا ناتيه العام؟ قال:‏‏‏‏ قلت لا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فإنك آتيه ومطوف به، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فاتيت ابا بكر، ‏‏‏‏‏‏فقلت:‏‏‏‏ يا ابا بكر، ‏‏‏‏‏‏اليس هذا نبي الله حقا؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ السنا على الحق وعدونا على الباطل؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ فلم نعطي الدنية في ديننا، ‏‏‏‏‏‏إذا قال:‏‏‏‏ ايها الرجل إنه لرسول الله صلى الله عليه وسلم وليس يعصي ربه وهو ناصره فاستمسك بغرزه، ‏‏‏‏‏‏فوالله إنه على الحق، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ اليس كان يحدثنا انا سناتي البيت ونطوف به؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏افاخبرك انك تاتيه العام؟ قلت:‏‏‏‏ لا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فإنك آتيه ومطوف به. قال الزهري:‏‏‏‏ قال عمر:‏‏‏‏ فعملت لذلك اعمالا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فلما فرغ من قضية الكتاب، ‏‏‏‏‏‏قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاصحابه:‏‏‏‏ قوموا فانحروا، ‏‏‏‏‏‏ثم احلقوا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فوالله ما قام منهم رجل حتى قال ذلك ثلاث مرات، ‏‏‏‏‏‏فلما لم يقم منهم احد دخل على ام سلمة فذكر لها ما لقي من الناس، ‏‏‏‏‏‏فقالت ام سلمة:‏‏‏‏ يا نبي الله، ‏‏‏‏‏‏اتحب ذلك اخرج، ‏‏‏‏‏‏ثم لا تكلم احدا منهم كلمة حتى تنحر بدنك، ‏‏‏‏‏‏وتدعو حالقك فيحلقك، ‏‏‏‏‏‏فخرج فلم يكلم احدا منهم حتى فعل ذلك نحر بدنه ودعا حالقه فحلقه، ‏‏‏‏‏‏فلما راوا ذلك قاموا فنحروا وجعل بعضهم يحلق بعضا حتى كاد بعضهم يقتل بعضا غما، ‏‏‏‏‏‏ثم جاءه نسوة مؤمنات، ‏‏‏‏‏‏فانزل الله تعالى يايها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن حتى بلغ بعصم الكوافر سورة الممتحنة آية 10، ‏‏‏‏‏‏فطلق عمر يومئذ امراتين كانتا له في الشرك، ‏‏‏‏‏‏فتزوج إحداهما معاوية بن ابي سفيان، ‏‏‏‏‏‏والاخرى صفوان بن امية، ‏‏‏‏‏‏ثم رجع النبي صلى الله عليه وسلم إلى المدينة فجاءه ابو بصير رجل من قريش وهو مسلم، ‏‏‏‏‏‏فارسلوا في طلبه رجلين، ‏‏‏‏‏‏فقالوا:‏‏‏‏ العهد الذي جعلت لنا فدفعه إلى الرجلين، ‏‏‏‏‏‏فخرجا به حتى بلغا ذا الحليفة، ‏‏‏‏‏‏فنزلوا ياكلون من تمر لهم، ‏‏‏‏‏‏فقال ابو بصير لاحد الرجلين:‏‏‏‏ والله إني لارى سيفك هذا يا فلان جيدا فاستله الآخر، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اجل والله إنه لجيد، ‏‏‏‏‏‏لقد جربت به ثم جربت، ‏‏‏‏‏‏فقال ابو بصير:‏‏‏‏ ارني انظر إليه فامكنه منه، ‏‏‏‏‏‏فضربه حتى برد وفر الآخر حتى اتى المدينة فدخل المسجد يعدو، ‏‏‏‏‏‏فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين رآه:‏‏‏‏ لقد راى هذا ذعرا، ‏‏‏‏‏‏فلما انتهى إلى النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قتل والله صاحبي وإني لمقتول، ‏‏‏‏‏‏فجاء ابو بصير، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ يا نبي الله، ‏‏‏‏‏‏قد والله اوفى الله ذمتك، ‏‏‏‏‏‏قد رددتني إليهم، ‏‏‏‏‏‏ثم انجاني الله منهم، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ويل امه مسعر حرب لو كان له احد، ‏‏‏‏‏‏فلما سمع ذلك عرف انه سيرده إليهم، ‏‏‏‏‏‏فخرج حتى اتى سيف البحر، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ وينفلت منهم ابو جندل بن سهيل فلحق بابي بصير، ‏‏‏‏‏‏فجعل لا يخرج من قريش رجل قد اسلم إلا لحق بابي بصير حتى اجتمعت منهم عصابة، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما يسمعون بعير خرجت لقريش إلى الشام إلا اعترضوا لها، ‏‏‏‏‏‏فقتلوهم واخذوا اموالهم، ‏‏‏‏‏‏فارسلت قريش إلى النبي صلى الله عليه وسلم تناشده بالله والرحم لما ارسل، ‏‏‏‏‏‏فمن اتاه فهو آمن فارسل النبي صلى الله عليه وسلم إليهم، ‏‏‏‏‏‏فانزل الله تعالى وهو الذي كف ايديهم عنكم وايديكم عنهم ببطن مكة من بعد ان اظفركم عليهم حتى بلغ الحمية حمية الجاهلية سورة الفتح آية 24 - 26، ‏‏‏‏‏‏وكانت حميتهم انهم لم يقروا انه نبي الله، ‏‏‏‏‏‏ولم يقروا ب بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏وحالوا بينهم وبين البيت. وقال ابو عبد الله:‏‏‏‏ معرة العر الجرب تزيلوا تميزوا، ‏‏‏‏‏‏وحميت القوم منعتهم حماية، ‏‏‏‏‏‏واحميت الحمى جعلته حمى لا يدخل، ‏‏‏‏‏‏واحميت الحديد، ‏‏‏‏‏‏واحميت الرجل إذا اغضبته إحماء.
"Narrated Al-Miswar bin Makhrama and Marwan: (whose narrations attest each other) Allah's Apostle set out at the time of Al-Hudaibiya (treaty), and when they proceeded for a distance, he said, ""Khalid bin Al-Walid leading the cavalry of Quraish constituting the front of the army, is at a place called Al-Ghamim, so take the way on the right."" By Allah, Khalid did not perceive the arrival of the Muslims till the dust arising from the march of the Muslim army reached him, and then he turned back hurriedly to inform Quraish. The Prophet went on advancing till he reached the Thaniya (i.e. a mountainous way) through which one would go to them (i.e. people of Quraish). The she-camel of the Prophet sat down. The people tried their best to cause the she-camel to get up but in vain, so they said, ""Al-Qaswa' (i.e. the she-camel's name) has become stubborn! Al-Qaswa' has become stubborn!"" The Prophet said, ""Al-Qaswa' has not become stubborn, for stubbornness is not her habit, but she was stopped by Him Who stopped the elephant."" Then he said, ""By the Name of Him in Whose Hands my soul is, if they (i.e. the Quraish infidels) ask me anything which will respect the ordinances of Allah, I will grant it to them."" The Prophet then rebuked the she-camel and she got up. The Prophet changed his way till he dismounted at the farthest end of Al-Hudaibiya at a pit (i.e. well) containing a little water which the people used in small amounts, and in a short while the people used up all its water and complained to Allah's Apostle; of thirst. The Prophet took an arrow out of his arrow-case and ordered them to put the arrow in that pit. By Allah, the water started and continued sprouting out till all the people quenched their thirst and returned with satisfaction. While they were still in that state, Budail bin Warqa-al- Khuza`i came with some persons from his tribe Khuza`a and they were the advisers of Allah's Apostle who would keep no secret from him and were from the people of Tihama. Budail said, ""I left Ka`b bin Luai and 'Amir bin Luai residing at the profuse water of Al-Hudaibiya and they had milch camels (or their women and children) with them, and will wage war against you, and will prevent you from visiting the Ka`ba."" Allah's Apostle said, ""We have not come to fight anyone, but to perform the `Umra. No doubt, the war has weakened Quraish and they have suffered great losses, so if they wish, I will conclude a truce with them, during which they should refrain from interfering between me and the people (i.e. the 'Arab infidels other than Quraish), and if I have victory over those infidels, Quraish will have the option to embrace Islam as the other people do, if they wish; they will at least get strong enough to fight. But if they do not accept the truce, by Allah in Whose Hands my life is, I will fight with them defending my Cause till I get killed, but (I am sure) Allah will definitely make His Cause victorious."" Budail said, ""I will inform them of what you have said."" So, he set off till he reached Quraish and said, ""We have come from that man (i.e. Muhammad) whom we heard saying something which we will disclose to you if you should like."" Some of the fools among Quraish shouted that they were not in need of this information, but the wiser among them said, ""Relate what you heard him saying."" Budail said, ""I heard him saying so-and-so,"" relating what the Prophet had told him. `Urwa bin Mas`ud got up and said, ""O people! Aren't you the sons? They said, ""Yes."" He added, ""Am I not the father?"" They said, ""Yes."" He said, ""Do you mistrust me?"" They said, ""No."" He said, ""Don't you know that I invited the people of `Ukaz for your help, and when they refused I brought my relatives and children and those who obeyed me (to help you)?"" They said, ""Yes."" He said, ""Well, this man (i.e. the Prophet) has offered you a reasonable proposal, you'd better accept it and allow me to meet him."" They said, ""You may meet him."" So, he went to the Prophet and started talking to him. The Prophet told him almost the same as he had told Budail. Then `Urwa said, ""O Muhammad! Won't you feel any scruple in extirpating your relations? Have you ever heard of anyone amongst the Arabs extirpating his relatives before you? On the other hand, if the reverse should happen, (nobody will aid you, for) by Allah, I do not see (with you) dignified people, but people from various tribes who would run away leaving you alone."" Hearing that, Abu Bakr abused him and said, ""Do you say we would run and leave the Prophet alone?"" `Urwa said, ""Who is that man?"" They said, ""He is Abu Bakr."" `Urwa said to Abu Bakr, ""By Him in Whose Hands my life is, were it not for the favor which you did to me and which I did not compensate, I would retort on you."" `Urwa kept on talking to the Prophet and seizing the Prophet's beard as he was talking while Al-Mughira bin Shu`ba was standing near the head of the Prophet, holding a sword and wearing a helmet. Whenever `Urwa stretched his hand towards the beard of the Prophet, Al-Mughira would hit his hand with the handle of the sword and say (to `Urwa), ""Remove your hand from the beard of Allah's Apostle."" `Urwa raised his head and asked, ""Who is that?"" The people said, ""He is Al-Mughira bin Shu`ba."" `Urwa said, ""O treacherous! Am I not doing my best to prevent evil consequences of your treachery?"" Before embracing Islam Al-Mughira was in the company of some people. He killed them and took their property and came (to Medina) to embrace Islam. The Prophet said (to him, ""As regards your Islam, I accept it, but as for the property I do not take anything of it. (As it was taken through treason). `Urwa then started looking at the Companions of the Prophet. By Allah, whenever Allah's Apostle spat, the spittle would fall in the hand of one of them (i.e. the Prophet's companions) who would rub it on his face and skin; if he ordered them they would carry his orders immediately; if he performed ablution, they would struggle to take the remaining water; and when they spoke to him, they would lower their voices and would not look at his face constantly out of respect. `Urwa returned to his people and said, ""O people! By Allah, I have been to the kings and to Caesar, Khosrau and An- Najashi, yet I have never seen any of them respected by his courtiers as much as Muhammad is respected by his companions. By Allah, if he spat, the spittle would fall in the hand of one of them (i.e. the Prophet's companions) who would rub it on his face and skin; if he ordered them, they would carry out his order immediately; if he performed ablution, they would struggle to take the remaining water; and when they spoke, they would lower their voices and would not look at his face constantly out of respect."" `Urwa added, ""No doubt, he has presented to you a good reasonable offer, so please accept it."" A man from the tribe of Bani Kinana said, ""Allow me to go to him,"" and they allowed him, and when he approached the Prophet and his companions, Allah's Apostle said, ""He is so-and-so who belongs to the tribe that respects the Budn (i.e. camels of the sacrifice). So, bring the Budn in front of him."" So, the Budn were brought before him and the people received him while they were reciting Talbiya. When he saw that scene, he said, ""Glorified be Allah! It is not fair to prevent these people from visiting the Ka`ba."" When he returned to his people, he said, 'I saw the Budn garlanded (with colored knotted ropes) and marked (with stabs on their backs). I do not think it is advisable to prevent them from visiting the Ka`ba."" Another person called Mikraz bin Hafs got up and sought their permission to go to Muhammad, and they allowed him, too. When he approached the Muslims, the Prophet said, ""Here is Mikraz and he is a vicious man."" Mikraz started talking to the Prophet and as he was talking, Suhail bin `Amr came. When Suhail bin `Amr came, the Prophet said, ""Now the matter has become easy."" Suhail said to the Prophet ""Please conclude a peace treaty with us."" So, the Prophet called the clerk and said to him, ""Write: By the Name of Allah, the most Beneficent, the most Merciful."" Suhail said, ""As for 'Beneficent,' by Allah, I do not know what it means. So write: By Your Name O Allah, as you used to write previously."" The Muslims said, ""By Allah, we will not write except: By the Name of Allah, the most Beneficent, the most Merciful."" The Prophet said, ""Write: By Your Name O Allah."" Then he dictated, ""This is the peace treaty which Muhammad, Allah's Apostle has concluded."" Suhail said, ""By Allah, if we knew that you are Allah's Apostle we would not prevent you from visiting the Ka`ba, and would not fight with you. So, write: ""Muhammad bin `Abdullah."" The Prophet said, ""By Allah! I am Apostle of Allah even if you people do not believe me. Write: Muhammad bin `Abdullah."" (Az-Zuhri said, ""The Prophet accepted all those things, as he had already said that he would accept everything they would demand if it respects the ordinance of Allah, (i.e. by letting him and his companions perform `Umra.)"" The Prophet said to Suhail, ""On the condition that you allow us to visit the House (i.e. Ka`ba) so that we may perform Tawaf around it."" Suhail said, ""By Allah, we will not (allow you this year) so as not to give chance to the 'Arabs to say that we have yielded to you, but we will allow you next year."" So, the Prophet got that written. Then Suhail said, ""We also stipulate that you should return to us whoever comes to you from us, even if he embraced your religion."" The Muslims said, ""Glorified be Allah! How will such a person be returned to the pagans after he has become a Muslim? While they were in this state Abu- Jandal bin Suhail bin `Amr came from the valley of Mecca staggering with his fetters and fell down amongst the Muslims. Suhail said, ""O Muhammad! This is the very first term with which we make peace with you, i.e. you shall return Abu Jandal to me."" The Prophet said, ""The peace treaty has not been written yet."" Suhail said, ""I will never allow you to keep him."" The Prophet said, ""Yes, do."" He said, ""I won't do.: Mikraz said, ""We allow you (to keep him)."" Abu Jandal said, ""O Muslims! Will I be returned to the pagans though I have come as a Muslim? Don't you see how much I have suffered?"" (continued...) (continuing... 1): -3.891:... ... Abu Jandal had been tortured severely for the Cause of Allah. `Umar bin Al-Khattab said, ""I went to the Prophet and said, 'Aren't you truly the Apostle of Allah?' The Prophet said, 'Yes, indeed.' I said, 'Isn't our Cause just and the cause of the enemy unjust?' He said, 'Yes.' I said, 'Then why should we be humble in our religion?' He said, 'I am Allah's Apostle and I do not disobey Him, and He will make me victorious.' I said, 'Didn't you tell us that we would go to the Ka`ba and perform Tawaf around it?' He said, 'Yes, but did I tell you that we would visit the Ka`ba this year?' I said, 'No.' He said, 'So you will visit it and perform Tawaf around it?' "" `Umar further said, ""I went to Abu Bakr and said, 'O Abu Bakr! Isn't he truly Allah's Prophet?' He replied, 'Yes.' I said, 'Then why should we be humble in our religion?' He said, 'Indeed, he is Allah's Apostle and he does not disobey his Lord, and He will make him victorious. Adhere to him as, by Allah, he is on the right.' I said, 'Was he not telling us that we would go to the Ka`ba and perform Tawaf around it?' He said, 'Yes, but did he tell you that you would go to the Ka`ba this year?' I said, 'No.' He said, ""You will go to Ka`ba and perform Tawaf around it."" (Az-Zuhri said, "" `Umar said, 'I performed many good deeds as expiation for the improper questions I asked them.' "") When the writing of the peace treaty was concluded, Allah's Apostle said to his companions, ""Get up and' slaughter your sacrifices and get your head shaved."" By Allah none of them got up, and the Prophet repeated his order thrice. When none of them got up, he left them and went to Um Salama and told her of the people's attitudes towards him. Um Salama said, ""O the Prophet of Allah! Do you want your order to be carried out? Go out and don't say a word to anybody till you have slaughtered your sacrifice and call your barber to shave your head."" So, the Prophet went out and did not talk to anyone of them till he did that, i.e. slaughtered the sacrifice and called his barber who shaved his head. Seeing that, the companions of the Prophet got up, slaughtered their sacrifices, and started shaving the heads of one another, and there was so much rush that there was a danger of killing each other. Then some believing women came (to the Prophet ); and Allah revealed the following Divine Verses:-- ""O you who believe, when the believing women come to you as emigrants examine them . . ."" (60.10) `Umar then divorced two wives of his who were infidels. Later on Muawiya bin Abu Sufyan married one of them, and Safwan bin Umaiya married the other. When the Prophet returned to Medina, Abu Basir, a new Muslim convert from Quraish came to him. The Infidels sent in his pursuit two men who said (to the Prophet ), ""Abide by the promise you gave us."" So, the Prophet handed him over to them. They took him out (of the City) till they reached Dhul-Hulaifa where they dismounted to eat some dates they had with them. Abu Basir said to one of them, ""By Allah, O so-and-so, I see you have a fine sword."" The other drew it out (of the scabbard) and said, ""By Allah, it is very fine and I have tried it many times."" Abu Basir said, ""Let me have a look at it."" When the other gave it to him, he hit him with it till he died, and his companion ran away till he came to Medina and entered the Mosque running. When Allah's Apostle saw him he said, ""This man appears to have been frightened."" When he reached the Prophet he said, ""My companion has been murdered and I would have been murdered too."" Abu Basir came and said, ""O Allah's Apostle, by Allah, Allah has made you fulfill your obligations by your returning me to them (i.e. the Infidels), but Allah has saved me from them."" The Prophet said, ""Woe to his mother! what excellent war kindler he would be, should he only have supporters."" When Abu Basir heard that he understood that the Prophet would return him to them again, so he set off till he reached the seashore. Abu Jandal bin Suhail got himself released from them (i.e. infidels) and joined Abu Basir. So, whenever a man from Quraish embraced Islam he would follow Abu Basir till they formed a strong group. By Allah, whenever they heard about a caravan of Quraish heading towards Sham, they stopped it and attacked and killed them (i.e. infidels) and took their properties. The people of Quraish sent a message to the Prophet requesting him for the Sake of Allah and Kith and kin to send for (i.e. Abu Basir and his companions) promising that whoever (amongst them) came to the Prophet would be secure. So the Prophet sent for them (i.e. Abu Basir's companions) and Allah I revealed the following Divine Verses: ""And it is He Who Has withheld their hands from you and your hands From them in the midst of Mecca, After He made you the victorious over them. ... the unbelievers had pride and haughtiness, in their hearts ... the pride and haughtiness of the time of ignorance."" (48.24-26) And their pride and haughtiness was that they did not confess (write in the treaty) that he (i.e. Muhammad) was the Prophet of Allah and refused to write: ""In the Name of Allah, the most Beneficent, the Most Merciful,"" and they (the mushriks) prevented them (the Muslims) from visiting the House (the Ka`bah)."
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو معمر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے زہری نے خبر دی ‘ کہا مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان نے ‘ دونوں کے بیان سے ایک دوسرے کی حدیث کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر ( مکہ ) جا رہے تھے ‘ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے ہی میں تھے ‘ فرمایا خالد بن ولید قریش کے ( دو سو ) سواروں کے ساتھ ہماری نقل و حرکت کا اندازہ لگانے کے لیے مقام غمیم میں مقیم ہے ( یہ قریش کا مقدمۃ الجیش ہے ) اس لیے تم لوگ داہنی طرف سے جاؤ ‘ پس اللہ کی قسم خالد کو ان کے متعلق کچھ بھی علم نہ ہو سکا اور جب انہوں نے اس لشکر کا غبار اٹھتا ہوا دیکھا تو قریش کو جلدی جلدی خبر دینے گئے۔ ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی پر پہنچے جس سے مکہ میں اترتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری بیٹھ گئی۔ صحابہ اونٹنی کو اٹھانے کیلئے حل حل کہنے لگے لیکن وہ اپنی جگہ سے نہ اٹھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ قصواء اڑ گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قصواء اڑی نہیں اور نہ یہ اس کی عادت ہے ‘ اسے تو اس ذات نے روک لیا جس نے ہاتھیوں ( کے لشکر ) کو ( مکہ ) میں داخل ہونے سے روک لیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریش جو بھی ایسا مطالبہ رکھیں گے جس میں اللہ کی محرمات کی بڑائی ہو تو میں اس کا مطالبہ منظور کر لوں گا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو ڈانٹا تو وہ اٹھ گئی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے آگے نکل گئے اور حدیبیہ کے آخری کنارے ثمد ( ایک چشمہ یا گڑھا ) پر جہاں پانی کم تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا۔ لوگ تھوڑا تھوڑا پانی استعمال کرنے لگے، انہوں نے پانی کو ٹھہرنے ہی نہیں دیا، سب کھینچ ڈالا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیاس کی شکایت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر دیا کہ اس گڑھے میں ڈال دیں بخدا تیر گاڑتے ہی پانی انہیں سیراب کرنے کے لیے ابلنے لگا اور وہ لوگ پوری طرح سیراب ہو گئے۔ لوگ اسی حال میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی رضی اللہ عنہ اپنی قوم خزاعہ کے کئی آدمیوں کو لے کر حاضر ہوا۔ یہ لوگ تہامہ کے رہنے والے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محرم راز بڑے خیرخواہ تھے۔ انہوں نے خبر دی کہ میں کعب بن لوئی اور عامر بن لوئی کو پیچھے چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ جنہوں نے حدیبیہ کے پانی کے ذخیروں پر اپنا پڑاؤ ڈال دیا ہے ‘ ان کے ساتھ بکثرت دودھ دینے والی اونٹنیاں اپنے نئے نئے بچوں کے ساتھ ہیں۔ وہ آپ سے لڑیں گے اور آپ کے بیت اللہ پہنچنے میں رکاوٹ بنیں گے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں صرف عمرہ کے ارادے سے آئے ہیں اور واقعہ تو یہ ہے ( مسلسل لڑائیوں ) نے قریش کو بھی کمزور کر دیا ہے اور انہیں بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے ‘ اب اگر وہ چاہیں تو میں ایک مدت ان سے صلح کا معاہدہ کر لوں گا ‘ اس عرصہ میں وہ میرے اور عوام ( کفار مشرکین عرب ) کے درمیان نہ پڑیں پھر اگر میں کامیاب ہو جاؤں اور ( اس کے بعد ) وہ چاہیں تو اس دین ( اسلام ) میں وہ بھی داخل ہو سکتے ہیں ( جس میں اور تمام لوگ داخل ہو چکے ہوں گے ) لیکن اگر مجھے کامیابی نہیں ہوئی تو انہیں بھی آرام مل جائے گا اور اگر انہیں میری پیش کش سے انکار ہے تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب تک میرا سر تن سے جدا نہیں ہو جاتا، میں اس دین کے لیے برابر لڑتا رہوں گا یا پھر اللہ تعالیٰ اسے نافذ ہی فرما دے گا۔ بدیل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قریش تک آپ کی گفتگو میں پہچاؤں گا چنانچہ وہ واپس ہوئے اور قریش کے یہاں پہنچے اور کہا کہ ہم تمہارے پاس اس شخص ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے یہاں سے آ رہے ہیں اور ہم نے اسے ایک بات کہتے سنا ہے ‘ اگر تم چاہو تو تمہارے سامنے اسے بیان کر سکتے ہیں۔ قریش کے بے وقوفوں نے کہا کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں کہ تم اس شخص کی کوئی بات ہمیں سناؤ۔ جو لوگ صائب الرائے تھے ‘ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے جو کچھ تم نے سنا ہے ہم سے بیان کر دو۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اسے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو یہ کہتے سنا ہے اور پھر جو کچھ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ‘ سب بیان کر دیا۔ اس پر عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ( جو اس وقت تک کفار کے ساتھ تھے ) کھڑے ہوئے اور کہا اے قوم کے لوگو! کیا تم مجھ پر باپ کی طرح شفقت نہیں رکھتے۔ سب نے کہا کیوں نہیں ‘ ضرور رکھتے ہیں۔ عروہ نے پھر کہا کیا میں بیٹے کی طرح تمہارا خیرخواہ نہیں ہوں ‘ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ عروہ نے پھر کہا تم لوگ مجھ پر کسی قسم کی تہمت لگا سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے پوچھا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ میں نے عکاظ والوں کو تمہاری مدد کے لیے کہا تھا اور جب انہوں نے انکار کیا تو میں نے اپنے گھرانے ‘ اولاد اور ان تمام لوگوں کو تمہارے پاس لا کر کھڑا کر دیا تھا جنہوں نے میرا کہنا مانا تھا؟ قریش نے کہا کیوں نہیں ( آپ کی باتیں درست ہیں ) اس کے بعد انہوں نے کہا دیکھو اب اس شخص ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تمہارے سامنے ایک اچھی تجویز رکھی ہے ‘ اسے تم قبول کر لو اور مجھے اس کے پاس ( گفتگو ) کے لیے جانے دو ‘ سب نے کہا آپ ضرور جایئے۔ چنانچہ عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو شروع کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی وہی باتیں کہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدیل سے کہہ چکے تھے ‘ عروہ رضی اللہ عنہ نے اس وقت کہا۔ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! بتائیے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو تباہ کر دیا تو کیا اپنے سے پہلے کسی بھی عرب کے متعلق سنا ہے کہ اس نے اپنے خاندان کا نام و نشان مٹا دیا ہو لیکن اگر دوسری بات واقع ہوئی ( یعنی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غالب ہوئے ) تو میں اللہ کی قسم تمہارے ساتھیوں کا منہ دیکھتا ہوں یہ مختلف جنسوں لوگ یہی کریں گے۔ اس وقت یہ سب لوگ بھاگ جائیں گے اور آپ کو تنہا چھوڑ دیں گے۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے «امصص بظر اللات» ۔ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بھاگ جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ دیں گے۔ عروہ نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ عروہ نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تمہارا مجھ پر ایک احسان نہ ہوتا جس کا اب تک میں بدلہ نہیں دے سکا ہوں تو تمہیں ضرور جواب دیتا۔ بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر گفتگو کرنے لگے اور گفتگو کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک پکڑ لیا کرتے تھے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے ‘ تلوار لٹکائے ہوئے اور سر پر خود پہنے۔ عروہ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کی طرف اپنا ہاتھ لے جاتے تو مغیرہ رضی اللہ عنہ تلوار کی نیام کو اس کے ہاتھ پر مارتے اور ان سے کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے اپنا ہاتھ الگ رکھ۔ عروہ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا یہ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ مغیرہ بن شعبہ۔ عروہ نے انہیں مخاطب کر کے کہا اے دغا باز! کیا میں نے تیری دغا بازی کی سزا سے تجھ کو نہیں بچایا؟ اصل میں مغیرہ رضی اللہ عنہ ( اسلام لانے سے پہلے ) جاہلیت میں ایک قوم کے ساتھ رہے تھے پھر ان سب کو قتل کر کے ان کا مال لے لیا تھا۔ اس کے بعد ( مدینہ ) آئے اور اسلام کے حلقہ بگوش ہو گئے ( تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ان کا مال بھی رکھ دیا کہ جو چاہیں اس کے متعلق حکم فرمائیں ) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تیرا اسلام تو میں قبول کرتا ہوں، رہا یہ مال تو میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ کیونکہ وہ دغا بازی سے ہاتھ آیا ہے جسے میں لے نہیں سکتا ‘ پھر عروہ رضی اللہ عنہ گھور گھور کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی نقل و حرکت دیکھتے رہے۔ پھر راوی نے بیان کیا کہ قسم اللہ کی اگر کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلغم بھی تھوکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اپنے ہاتھوں پر اسے لے لیا اور اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا۔ کسی کام کا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کی بجا آوری میں ایک دوسرے پر لوگ سبقت لے جانے کی کوشش کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے لگے تو ایسا معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی پر لڑائی ہو جائے گی ( یعنی ہر شخص اس پانی کو لینے کی کوشش کرتا تھا ) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو کرنے لگے تو سب پر خاموشی چھا جاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا یہ حال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی نظر بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ بھی نہیں سکتے تھے۔ خیر عروہ جب اپنے ساتھیوں سے جا کر ملے تو ان سے کہا اے لوگو! قسم اللہ کی میں بادشاہوں کے دربار میں بھی وفد لے کر گیا ہوں ‘ قیصر و کسریٰ اور نجاشی سب کے دربار میں لیکن اللہ کی قسم میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کے ساتھی اس کی اس درجہ تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے ہیں۔ قسم اللہ کی اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بلغم بھی تھوک دیا تو ان کے اصحاب نے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اگر کوئی حکم دیا تو ہر شخص نے اسے بجا لانے میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر وضو کیا تو ایسا معلوم ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو پر لڑائی ہو جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب گفتگو شروع کی تو ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ ان کے دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر بھر کر بھی نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے تمہارے سامنے ایک بھلی صورت رکھی ہے ‘ تمہیں چاہئے کہ اسے قبول کر لو۔ اس پر بنو کنانہ کا ایک شخص بولا کہ اچھا مجھے بھی ان کے یہاں جانے دو ‘ لوگوں نے کہا تم بھی جا سکتے ہو۔ جب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قریب پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ فلاں شخص ہے ‘ ایک ایسی قوم کا فرد جو بیت اللہ کی قربانی کے جانوروں کی تعظیم کرتے ہیں۔ اس لیے قربانی کے جانور اس کے سامنے کر دو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے قربانی کے جانور اس کے سامنے کر دیئے اور لبیک کہتے ہوئے اس کا استقبال کیا جب اس نے یہ منظر دیکھا تو کہنے لگا کہ سبحان اللہ قطعاً مناسب نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کو کعبہ سے روکا جائے۔ اس کے بعد قریش میں سے ایک دوسرا شخص مکرز بن حفص نامی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے بھی ان کے یہاں جانے دو۔ سب نے کہا کہ تم بھی جا سکتے ہو جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مکرز ہے ایک بدترین شخص ہے۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا۔ ابھی وہ گفتگو کر ہی رہا تھا کہ سہیل بن عمرو آ گیا۔ معمر نے ( سابقہ سند کے ساتھ ) بیان کیا کہ مجھے ایوب نے خبر دی اور انہیں عکرمہ نے کہ جب سہیل بن عمرو آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نیک فالی کے طور پر ) فرمایا تمہارا معاملہ آسان ( سہل ) ہو گیا۔ معمر نے بیان کیا کہ زہری نے اپنی حدیث میں اس طرح بیان کیا تھا کہ جب سہیل بن عمرو آیا تو کہنے لگا کہ ہمارے اور اپنے درمیان ( صلح ) کی ایک تحریر لکھ لو۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب کو بلوایا اور فرمایا کہ لکھو «بسم الله الرحمن الرحيم» سہیل کہنے لگا رحمن کو اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ وہ کیا چیز ہے۔ البتہ تم یوں لکھ سکتے ہو «باسمك اللهم‏.‏» جیسے پہلے لکھا کرتے تھے مسلمانوں نے کہا کہ قسم اللہ کی ہمیں «بسم الله الرحمن الرحيم» کے سوا اور کوئی دوسرا جملہ نہ لکھنا چاہئے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «باسمك اللهم‏.‏» ہی لکھنے دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا یہ محمد رسول اللہ کی طرف سے صلح نامہ کی دستاویز ہے۔ سہیل نے کہا اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ آپ رسول اللہ ہیں تو نہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ سے روکتے اور نہ آپ سے جنگ کرتے۔ آپ تو صرف اتنا لکھئے کہ ”محمد بن عبداللہ“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ گواہ ہے کہ میں اس کا سچا رسول ہوں خواہ تم میری تکذیب ہی کرتے رہو ‘ لکھو جی ”محمد بن عبداللہ“ زہری نے بیان کیا کہ یہ سب کچھ ( نرمی اور رعایت ) صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا نتیجہ تھا ( جو پہلے بدیل رضی اللہ عنہ سے کہہ چکے تھے ) کہ قریش مجھ سے جو بھی ایسا مطالبہ کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی تعظیم مقصود ہو گی تو میں ان کے مطالبے کو ضرور مان لوں گا ‘ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل سے فرمایا لیکن صلح کے لیے پہلی شرط یہ ہو گی کہ تم لوگ ہمیں بیت اللہ کے طواف کرنے کے لیے جانے دو گے۔ سہیل نے کہا قسم اللہ کی ہم ( اس سال ) ایسا نہیں ہونے دیں گے ورنہ عرب کہیں گے ہم مغلوب ہو گئے تھے ( اس لیے ہم نے اجازت دے دی ) آئندہ سال کے لیے اجازت ہے۔ چنانچہ یہ بھی لکھ لیا۔ پھر سہیل نے لکھا کہ یہ شرط بھی ( لکھ لیجئے ) کہ ہماری طرف کا جو شخص بھی آپ کے یہاں جائے گا خواہ وہ آپ کے دین ہی پر کیوں نہ ہو آپ اسے ہمیں واپس کر دیں گے۔ مسلمانوں نے ( یہ شرط سن کر کہا ) سبحان اللہ! ( ایک شخص کو ) مشرکوں کے حوالے کس طرح کیا جا سکتا ہے جو مسلمان ہو کر آیا ہو۔ ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ابوجندل بن سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنی بیڑیوں کو گھسیٹتے ہوئے آ پہنچے ‘ وہ مکہ کے نشیبی علاقے کی طرف سے بھاگے تھے اور اب خود کو مسلمانوں کے سامنے ڈال دیا تھا۔ سہیل نے کہا اے محمد! یہ پہلا شخص ہے جس کے لیے ( صلح نامہ کے مطابق ) میں مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اسے واپس کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی تو ہم نے ( صلح نامہ کی اس دفعہ کو ) صلح نامہ میں لکھا بھی نہیں ہے ( اس لیے جب صلح نامہ طے پا جائے گا اس کے بعد اس کا نفاذ ہونا چاہئے ) سہیل کہنے لگا کہ اللہ کی قسم پھر میں کسی بنیاد پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح نہیں کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا مجھ پر اس ایک کو دے کر احسان کر دو۔ اس نے کہا کہ میں اس سلسلے میں احسان بھی نہیں کر سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ہمیں احسان کر دینا چاہئے لیکن اس نے یہی جواب دیا کہ میں ایسا کبھی نہیں کر سکتا۔ البتہ مکرز نے کہا کہ چلئے ہم اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان کرتے ہیں مگر ( اس کی بات نہیں چلی ) ابوجندل رضی اللہ عنہ نے کہا مسلمانوں! میں مسلمان ہو کر آیا ہوں۔ کیا مجھے مشرکوں کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا؟ کیا میرے ساتھ جو اذیتیں پہنچائی گئیں تھیں۔ راوی نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، کیا یہ واقعہ اور حقیقت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں! میں نے عرض کیا، کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور کیا ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں! میں نے کہا پھر اپنے دین کے معاملے میں کیوں دبیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اس کی حکم عدولی نہیں کر سکتا اور وہی میرا مددگار ہے۔ میں نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ نہیں فرماتے تھے کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے لیکن کیا میں نے تم سے یہ کہا تھا کہ اسی سال ہم بیت اللہ پہنچ جائیں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا نہیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قید کے ساتھ نہیں فرمایا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تم بیت اللہ تک ضرور پہنچو گے اور ایک دن اس کا طواف کرو گے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا اور ان سے بھی یہی پوچھا کہ ابوبکر! کیا یہ حقیقت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں؟ انہوں نے بھی کہا کہ کیوں نہیں۔ میں نے پوچھا کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ اور کیا ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں! میں نے کہا کہ پھر اپنے دین کو کیوں ذلیل کریں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا جناب! بلا شک و شبہ وہ اللہ کے رسول ہیں ‘ اور اپنے رب کی حکم عدولی نہیں کر سکتے اور رب ہی ان کا مددگار ہے پس ان کی رسی مضبوطی سے پکڑ لو ‘ اللہ گواہ ہے کہ وہ حق پر ہیں۔ میں نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ نہیں کہتے تھے کہ عنقریب ہم بیت اللہ پہونچیں گے اور اس کا طواف کریں گے انہوں نے فرمایا کہ یہ بھی صحیح ہے لیکن کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے یہ فرمایا تھا کہ اسی سال آپ بیت اللہ پہنچ جائیں گے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا پھر اس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ آپ ایک نہ ایک دن بیت اللہ پہنچیں گے اور اس کا طواف کریں گے۔ زہری نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بعد میں میں نے اپنی عجلت پسندی کی مکافات کے لیے نیک اعمال کئے۔ پھر جب صلح نامہ سے آپ فارغ ہو چکے تو صحابہ رضوان اللہ علیہم سے فرمایا کہ اب اٹھو اور ( جن جانوروں کو ساتھ لائے ہو ان کی ) قربانی کر لو اور سر بھی منڈوا لو۔ انہوں نے بیان کیا کہ اللہ گواہ ہے صحابہ میں سے ایک شخص بھی نہ اٹھا اور تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔ جب کوئی نہ اٹھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلمہ کے خیمہ میں گئے اور ان سے لوگوں کے طرز عمل کا ذکر کیا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا اے اللہ کے نبی! کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ باہر تشریف لے جائیں اور کسی سے کچھ نہ کہیں بلکہ اپنا قربانی کا جانور ذبح کر لیں اور اپنے حجام کو بلا لیں جو آپ کے بال مونڈ دے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ کسی سے کچھ نہیں کہا اور سب کچھ کیا ‘ اپنے جانور کی قربانی کر لی اور اپنے حجام کو بلوایا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مونڈے۔ جب صحابہ نے دیکھا تو وہ بھی ایک دوسرے کے بال مونڈنے لگے ‘ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ رنج و غم میں ایک دوسرے سے لڑ پڑیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( مکہ سے ) چند مومن عورتیں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا «يا أيها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن‏» اے لوگو! جو ایمان لا چکے ہو جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان لے «بعصم الكوافر‏» تک۔ اس دن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو بیویوں کو طلاق دی جو اب تک مسلمان نہ ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک نے تو معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے نکاح کر لیا تھا اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لائے تو قریش کے ایک فرد ابوبصیر رضی اللہ عنہ ( مکہ سے فرار ہو کر ) حاضر ہوئے۔ وہ مسلمان ہو چکے تھے۔ قریش نے انہیں واپس لینے کے لیے دو آدمیوں کو بھیجا اور انہوں نے آ کر کہا کہ ہمارے ساتھ آپ کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا۔ قریش کے دونوں افراد جب انہیں واپس لے کر لوٹے اور ذوالحلیفہ پہنچے تو کھجور کھانے کے لیے اترے جو ان کے ساتھ تھی۔ ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک سے فرمایا قسم اللہ کی تمہاری تلوار بہت اچھی معلوم ہوتی ہے۔ دوسرے ساتھی نے تلوار نیام سے نکال دی۔ اس شخص نے کہا ہاں اللہ کی قسم نہایت عمدہ تلوار ہے ‘ میں اس کا بارہا تجربہ کر چکا ہوں۔ ابوبصیر رضی اللہ عنہ اس پر بولے کہ ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ اور اس طرح اپنے قبضہ میں کر لیا پھر اس شخص نے تلوار کے مالک کو ایسی ضرب لگائی کہ وہ وہیں ٹھنڈا ہو گیا۔ اس کا دوسرا ساتھی بھاگ کر مدینہ آیا اور مسجد میں دوڑتا ہوا۔ داخل ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے دیکھا تو فرمایا یہ شخص کچھ خوف زدہ معلوم ہوتا ہے۔ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچا تو کہنے لگا اللہ کی قسم میرا ساتھی تو مارا گیا اور میں بھی مارا جاؤں گا ( اگر آپ لوگوں نے ابوبصیر کو نہ روکا ) اتنے میں ابوبصیر بھی آ گئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی! اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذمہ داری پوری کر دی ‘ آپ مجھے ان کے حوالے کر چکے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے نجات دلائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تیری ماں کی خرابی ) اگر اس کا کوئی ایک بھی مددگار ہوتا تو پھر لڑائی کے شعلے بھڑک اٹھتے۔ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ سنے تو سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر کفار کے حوالے کر دیں گے اس لیے وہاں سے نکل گئے اور سمندر کے کنارے پر آ گئے۔ راوی نے بیان کیا کہ اپنے گھر والوں ( مکہ سے ) چھوٹ کر ابوجندل بن سہیل رضی اللہ عنہ بھی ابوبصیر رضی اللہ عنہ سے جا ملے اور اب یہ حال تھا کہ قریش کا جو شخص بھی اسلام لاتا ( بجائے مدینہ آنے کے ) ابوبصیر رضی اللہ عنہ کے یہاں ( ساحل سمندر پر ) چلا جاتا۔ اس طرح سے ایک جماعت بن گئی اور اللہ گواہ ہے یہ لوگ قریش کے جس قافلے کے متعلق بھی سن لیتے کہ وہ شام جا رہا ہے تو اسے راستے ہی میں روک کر لوٹ لیتے اور قافلہ والوں کو قتل کر دیتے۔ اب قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اللہ اور رحم کا واسطہ دے کر درخواست بھیجی کہ آپ کسی کو بھیجیں ( ابوبصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے دوسرے ساتھیوں کے یہاں کہ وہ قریش کی ایذا سے رک جائیں ) اور اس کے بعد جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں جائے گا ( مکہ سے ) اسے امن ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں اپنا آدمی بھیجا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم ببطن مكة من بعد أن أظفركم عليهم‏» ”اور وہ ذات پروردگار جس نے روک دیا تھا تمہارے ہاتھوں کو ان سے اور ان کے ہاتھوں کو تم سے ( یعنی جنگ نہیں ہو سکی تھی ) وادی مکہ میں ( حدیبیہ میں ) بعد میں اس کے کہ تم کو غالب کر دیا تھا ان پر یہاں تک کہ بات جاہلیت کے دور کی بے جا حمایت تک پہنچ گئی تھی ) ۔“ ان کی حمیت ( جاہلیت ) یہ تھی کہ انہوں نے ( معاہدے میں بھی ) آپ کے لیے اللہ کے نبی ہونے کا اقرار نہیں کیا اسی طرح انہوں نے «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں لکھنے دیا اور آپ بیت اللہ جانے سے مانع بنے۔
Sahih Bukhari
2732
حدثني عبد الله بن محمد، ‏‏‏‏‏‏حدثنا عبد الرزاق، ‏‏‏‏‏‏اخبرنا معمر، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اخبرني الزهري، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اخبرني عروة بن الزبير، ‏‏‏‏‏‏عن المسور بن مخرمة، ‏‏‏‏‏‏ومروان يصدق كل واحد منهما حديث صاحبه، ‏‏‏‏‏‏قالا:‏‏‏‏ خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم زمن الحديبية حتى إذا كانوا ببعض الطريق، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ إن خالد بن الوليد بالغميم في خيل لقريش طليعة، ‏‏‏‏‏‏فخذوا ذات اليمين، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما شعر بهم خالد حتى إذا هم بقترة الجيش، ‏‏‏‏‏‏فانطلق يركض نذيرا لقريش، ‏‏‏‏‏‏وسار النبي صلى الله عليه وسلم حتى إذا كان بالثنية التي يهبط عليهم منها بركت به راحلته، ‏‏‏‏‏‏فقال الناس:‏‏‏‏ حل، ‏‏‏‏‏‏حل، ‏‏‏‏‏‏فالحت، ‏‏‏‏‏‏فقالوا:‏‏‏‏ خلات القصواء، ‏‏‏‏‏‏خلات القصواء، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ما خلات القصواء وما ذاك لها بخلق، ‏‏‏‏‏‏ولكن حبسها حابس الفيل، ‏‏‏‏‏‏ثم قال:‏‏‏‏ والذي نفسي بيده لا يسالوني خطة يعظمون فيها حرمات الله إلا اعطيتهم إياها، ‏‏‏‏‏‏ثم زجرها فوثبت، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فعدل عنهم حتى نزل باقصى الحديبية على ثمد قليل الماء يتبرضه الناس تبرضا فلم يلبثه الناس حتى نزحوه، ‏‏‏‏‏‏وشكي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم العطش، ‏‏‏‏‏‏فانتزع سهما من كنانته، ‏‏‏‏‏‏ثم امرهم ان يجعلوه فيه، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما زال يجيش لهم بالري حتى صدروا عنه، ‏‏‏‏‏‏فبينما هم كذلك إذ جاء بديل بن ورقاء الخزاعي في نفر من قومه من خزاعة، ‏‏‏‏‏‏وكانوا عيبة نصح رسول الله صلى الله عليه وسلم من اهل تهامة، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ إني تركت كعب بن لؤي، ‏‏‏‏‏‏وعامر بن لؤي نزلوا اعداد مياه الحديبية ومعهم العوذ المطافيل وهم مقاتلوك وصادوك عن البيت، ‏‏‏‏‏‏فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ إنا لم نجئ لقتال احد ولكنا جئنا معتمرين، ‏‏‏‏‏‏وإن قريشا قد نهكتهم الحرب واضرت بهم، ‏‏‏‏‏‏فإن شاءوا ماددتهم مدة، ‏‏‏‏‏‏ويخلوا بيني وبين الناس فإن اظهر، ‏‏‏‏‏‏فإن شاءوا ان يدخلوا فيما دخل فيه الناس فعلوا وإلا فقد جموا، ‏‏‏‏‏‏وإن هم ابوا، ‏‏‏‏‏‏فوالذي نفسي بيده لاقاتلنهم على امري هذا حتى تنفرد سالفتي ولينفذن الله امره، ‏‏‏‏‏‏فقال بديل:‏‏‏‏ سابلغهم ما تقول، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فانطلق حتى اتى قريشا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ إنا قد جئناكم من هذا الرجل، ‏‏‏‏‏‏وسمعناه يقول قولا، ‏‏‏‏‏‏فإن شئتم ان نعرضه عليكم فعلنا، ‏‏‏‏‏‏فقال سفهاؤهم:‏‏‏‏ لا حاجة لنا ان تخبرنا عنه بشيء، ‏‏‏‏‏‏وقال ذوو الراي منهم:‏‏‏‏ هات ما سمعته يقول، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سمعته يقول كذا وكذا، ‏‏‏‏‏‏فحدثهم بما قال النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فقام عروة بن مسعود، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اي قوم، ‏‏‏‏‏‏الستم بالوالد؟ قالوا:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اولست بالولد؟ قالوا:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فهل تتهموني؟ قالوا:‏‏‏‏ لا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ الستم تعلمون اني استنفرت اهل عكاظ، ‏‏‏‏‏‏فلما بلحوا علي جئتكم باهلي وولدي، ‏‏‏‏‏‏ومن اطاعني؟ قالوا:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فإن هذا قد عرض لكم خطة رشد، ‏‏‏‏‏‏اقبلوها ودعوني آتيه، ‏‏‏‏‏‏قالوا:‏‏‏‏ ائته، ‏‏‏‏‏‏فاتاه، ‏‏‏‏‏‏فجعل يكلم النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ نحوا من قوله لبديل، ‏‏‏‏‏‏فقال عروة:‏‏‏‏ عند ذلك اي محمد، ‏‏‏‏‏‏ارايت إن استاصلت امر قومك، ‏‏‏‏‏‏هل سمعت باحد من العرب اجتاح اهله قبلك وإن تكن الاخرى، ‏‏‏‏‏‏فإني والله لارى وجوها وإني لارى اوشابا من الناس خليقا ان يفروا ويدعوك، ‏‏‏‏‏‏فقال له ابو بكر الصديق:‏‏‏‏ امصص بظر اللات، ‏‏‏‏‏‏انحن نفر عنه وندعه، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ من ذا؟ قالوا:‏‏‏‏ ابو بكر، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اما والذي نفسي بيده لولا يد كانت لك عندي لم اجزك بها لاجبتك، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ وجعل يكلم النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فكلما تكلم اخذ بلحيته والمغيرة بن شعبة قائم على راس النبي صلى الله عليه وسلم ومعه السيف وعليه المغفر، ‏‏‏‏‏‏فكلما اهوى عروة بيده إلى لحية النبي صلى الله عليه وسلم ضرب يده بنعل السيف، ‏‏‏‏‏‏وقال له:‏‏‏‏ اخر يدك عن لحية رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فرفع عروة راسه، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ من هذا؟ قالوا:‏‏‏‏ المغيرة بن شعبة، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اي غدر، ‏‏‏‏‏‏الست اسعى في غدرتك، ‏‏‏‏‏‏وكان المغيرة صحب قوما في الجاهلية، ‏‏‏‏‏‏فقتلهم واخذ اموالهم، ‏‏‏‏‏‏ثم جاء فاسلم، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ اما الإسلام فاقبل، ‏‏‏‏‏‏واما المال فلست منه في شيء، ‏‏‏‏‏‏ثم إن عروة جعل يرمق اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم بعينيه، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فوالله ما تنخم رسول الله صلى الله عليه وسلم نخامة إلا وقعت في كف رجل منهم فدلك بها وجهه وجلده، ‏‏‏‏‏‏وإذا امرهم ابتدروا امره، ‏‏‏‏‏‏وإذا توضا كادوا يقتتلون على وضوئه، ‏‏‏‏‏‏وإذا تكلم خفضوا اصواتهم عنده، ‏‏‏‏‏‏وما يحدون إليه النظر تعظيما له، ‏‏‏‏‏‏فرجع عروة إلى اصحابه، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اي قوم، ‏‏‏‏‏‏والله لقد وفدت على الملوك ووفدت على قيصر، ‏‏‏‏‏‏وكسرى، ‏‏‏‏‏‏والنجاشي، ‏‏‏‏‏‏والله إن رايت ملكا قط يعظمه اصحابه ما يعظم اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم محمدا، ‏‏‏‏‏‏والله إن تنخم نخامة إلا وقعت في كف رجل منهم فدلك بها وجهه وجلده، ‏‏‏‏‏‏وإذا امرهم ابتدروا امره، ‏‏‏‏‏‏وإذا توضا كادوا يقتتلون على وضوئه، ‏‏‏‏‏‏وإذا تكلم خفضوا اصواتهم عنده، ‏‏‏‏‏‏وما يحدون إليه النظر تعظيما له، ‏‏‏‏‏‏وإنه قد عرض عليكم خطة رشد فاقبلوها، ‏‏‏‏‏‏فقال رجل من بني كنانة:‏‏‏‏ دعوني آتيه، ‏‏‏‏‏‏فقالوا:‏‏‏‏ ائته، ‏‏‏‏‏‏فلما اشرف على النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه، ‏‏‏‏‏‏قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ هذا فلان، ‏‏‏‏‏‏وهو من قوم يعظمون البدن، ‏‏‏‏‏‏فابعثوها له، ‏‏‏‏‏‏فبعثت له واستقبله الناس يلبون، ‏‏‏‏‏‏فلما راى ذلك، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سبحان الله، ‏‏‏‏‏‏ما ينبغي لهؤلاء ان يصدوا عن البيت، ‏‏‏‏‏‏فلما رجع إلى اصحابه، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ رايت البدن قد قلدت واشعرت، ‏‏‏‏‏‏فما ارى ان يصدوا عن البيت فقام رجل منهم يقال له مكرز بن حفص، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ دعوني آتيه، ‏‏‏‏‏‏فقالوا:‏‏‏‏ ائته، ‏‏‏‏‏‏فلما اشرف عليهم، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ هذا مكرز، ‏‏‏‏‏‏وهو رجل فاجر، ‏‏‏‏‏‏فجعل يكلم النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فبينما هو يكلمه إذ جاء سهيل بن عمرو . قال معمر:‏‏‏‏ فاخبرني ايوب، ‏‏‏‏‏‏عن عكرمة، ‏‏‏‏‏‏انه لما جاء سهيل بن عمرو، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ لقد سهل لكم من امركم. قال معمر:‏‏‏‏ قال الزهري في حديثه:‏‏‏‏ فجاء سهيل بن عمرو، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ هات اكتب بيننا وبينكم كتابا، ‏‏‏‏‏‏فدعا النبي صلى الله عليه وسلم الكاتب، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏قال سهيل:‏‏‏‏ اما الرحمن، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما ادري ما هو، ‏‏‏‏‏‏ولكن اكتب باسمك اللهم كما كنت تكتب، ‏‏‏‏‏‏فقال المسلمون:‏‏‏‏ والله لا نكتبها إلا بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ اكتب باسمك اللهم، ‏‏‏‏‏‏ثم قال:‏‏‏‏ هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله، ‏‏‏‏‏‏فقال سهيل:‏‏‏‏ والله لو كنا نعلم انك رسول الله ما صددناك عن البيت ولا قاتلناك، ‏‏‏‏‏‏ولكن اكتب محمد بن عبد الله، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ والله إني لرسول الله، ‏‏‏‏‏‏وإن كذبتموني اكتب محمد بن عبد الله، ‏‏‏‏‏‏قال الزهري:‏‏‏‏ وذلك لقوله:‏‏‏‏ لا يسالوني خطة يعظمون فيها حرمات الله إلا اعطيتهم إياها، ‏‏‏‏‏‏فقال له النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ على ان تخلوا بيننا وبين البيت فنطوف به، ‏‏‏‏‏‏فقال سهيل:‏‏‏‏ والله لا تتحدث العرب، ‏‏‏‏‏‏انا اخذنا ضغطة، ‏‏‏‏‏‏ولكن ذلك من العام المقبل، ‏‏‏‏‏‏فكتب، ‏‏‏‏‏‏فقال سهيل، ‏‏‏‏‏‏وعلى:‏‏‏‏ انه لا ياتيك منا رجل، ‏‏‏‏‏‏وإن كان على دينك إلا رددته إلينا، ‏‏‏‏‏‏قال المسلمون:‏‏‏‏ سبحان الله، ‏‏‏‏‏‏كيف يرد إلى المشركين وقد جاء مسلما؟ فبينما هم كذلك إذ دخل ابو جندل بن سهيل بن عمرو يرسف في قيوده، ‏‏‏‏‏‏وقد خرج من اسفل مكة حتى رمى بنفسه بين اظهر المسلمين، ‏‏‏‏‏‏فقال سهيل:‏‏‏‏ هذا يا محمد، ‏‏‏‏‏‏اول ما اقاضيك عليه ان ترده إلي، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ إنا لم نقض الكتاب بعد، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فوالله إذا لم اصالحك على شيء ابدا، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ فاجزه لي، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ ما انا بمجيزه لك، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏فافعل، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ ما انا بفاعل، ‏‏‏‏‏‏قال مكرز:‏‏‏‏ بل قد اجزناه لك، ‏‏‏‏‏‏قال ابو جندل:‏‏‏‏ اي معشر المسلمين ارد إلى المشركين، ‏‏‏‏‏‏وقد جئت مسلما، ‏‏‏‏‏‏الا ترون ما قد لقيت وكان قد عذب عذابا شديدا في الله، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فقال عمر بن الخطاب:‏‏‏‏ فاتيت نبي الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فقلت:‏‏‏‏ الست نبي الله حقا؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ السنا على الحق وعدونا على الباطل؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ فلم نعطي الدنية في ديننا إذا قال:‏‏‏‏ إني رسول الله، ‏‏‏‏‏‏ولست اعصيه وهو ناصري، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ اوليس كنت تحدثنا انا سناتي البيت فنطوف به؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏فاخبرتك انا ناتيه العام؟ قال:‏‏‏‏ قلت لا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فإنك آتيه ومطوف به، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فاتيت ابا بكر، ‏‏‏‏‏‏فقلت:‏‏‏‏ يا ابا بكر، ‏‏‏‏‏‏اليس هذا نبي الله حقا؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ السنا على الحق وعدونا على الباطل؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ فلم نعطي الدنية في ديننا، ‏‏‏‏‏‏إذا قال:‏‏‏‏ ايها الرجل إنه لرسول الله صلى الله عليه وسلم وليس يعصي ربه وهو ناصره فاستمسك بغرزه، ‏‏‏‏‏‏فوالله إنه على الحق، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ اليس كان يحدثنا انا سناتي البيت ونطوف به؟ قال:‏‏‏‏ بلى، ‏‏‏‏‏‏افاخبرك انك تاتيه العام؟ قلت:‏‏‏‏ لا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فإنك آتيه ومطوف به. قال الزهري:‏‏‏‏ قال عمر:‏‏‏‏ فعملت لذلك اعمالا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فلما فرغ من قضية الكتاب، ‏‏‏‏‏‏قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاصحابه:‏‏‏‏ قوموا فانحروا، ‏‏‏‏‏‏ثم احلقوا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فوالله ما قام منهم رجل حتى قال ذلك ثلاث مرات، ‏‏‏‏‏‏فلما لم يقم منهم احد دخل على ام سلمة فذكر لها ما لقي من الناس، ‏‏‏‏‏‏فقالت ام سلمة:‏‏‏‏ يا نبي الله، ‏‏‏‏‏‏اتحب ذلك اخرج، ‏‏‏‏‏‏ثم لا تكلم احدا منهم كلمة حتى تنحر بدنك، ‏‏‏‏‏‏وتدعو حالقك فيحلقك، ‏‏‏‏‏‏فخرج فلم يكلم احدا منهم حتى فعل ذلك نحر بدنه ودعا حالقه فحلقه، ‏‏‏‏‏‏فلما راوا ذلك قاموا فنحروا وجعل بعضهم يحلق بعضا حتى كاد بعضهم يقتل بعضا غما، ‏‏‏‏‏‏ثم جاءه نسوة مؤمنات، ‏‏‏‏‏‏فانزل الله تعالى يايها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن حتى بلغ بعصم الكوافر سورة الممتحنة آية 10، ‏‏‏‏‏‏فطلق عمر يومئذ امراتين كانتا له في الشرك، ‏‏‏‏‏‏فتزوج إحداهما معاوية بن ابي سفيان، ‏‏‏‏‏‏والاخرى صفوان بن امية، ‏‏‏‏‏‏ثم رجع النبي صلى الله عليه وسلم إلى المدينة فجاءه ابو بصير رجل من قريش وهو مسلم، ‏‏‏‏‏‏فارسلوا في طلبه رجلين، ‏‏‏‏‏‏فقالوا:‏‏‏‏ العهد الذي جعلت لنا فدفعه إلى الرجلين، ‏‏‏‏‏‏فخرجا به حتى بلغا ذا الحليفة، ‏‏‏‏‏‏فنزلوا ياكلون من تمر لهم، ‏‏‏‏‏‏فقال ابو بصير لاحد الرجلين:‏‏‏‏ والله إني لارى سيفك هذا يا فلان جيدا فاستله الآخر، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اجل والله إنه لجيد، ‏‏‏‏‏‏لقد جربت به ثم جربت، ‏‏‏‏‏‏فقال ابو بصير:‏‏‏‏ ارني انظر إليه فامكنه منه، ‏‏‏‏‏‏فضربه حتى برد وفر الآخر حتى اتى المدينة فدخل المسجد يعدو، ‏‏‏‏‏‏فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين رآه:‏‏‏‏ لقد راى هذا ذعرا، ‏‏‏‏‏‏فلما انتهى إلى النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قتل والله صاحبي وإني لمقتول، ‏‏‏‏‏‏فجاء ابو بصير، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ يا نبي الله، ‏‏‏‏‏‏قد والله اوفى الله ذمتك، ‏‏‏‏‏‏قد رددتني إليهم، ‏‏‏‏‏‏ثم انجاني الله منهم، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ويل امه مسعر حرب لو كان له احد، ‏‏‏‏‏‏فلما سمع ذلك عرف انه سيرده إليهم، ‏‏‏‏‏‏فخرج حتى اتى سيف البحر، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ وينفلت منهم ابو جندل بن سهيل فلحق بابي بصير، ‏‏‏‏‏‏فجعل لا يخرج من قريش رجل قد اسلم إلا لحق بابي بصير حتى اجتمعت منهم عصابة، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما يسمعون بعير خرجت لقريش إلى الشام إلا اعترضوا لها، ‏‏‏‏‏‏فقتلوهم واخذوا اموالهم، ‏‏‏‏‏‏فارسلت قريش إلى النبي صلى الله عليه وسلم تناشده بالله والرحم لما ارسل، ‏‏‏‏‏‏فمن اتاه فهو آمن فارسل النبي صلى الله عليه وسلم إليهم، ‏‏‏‏‏‏فانزل الله تعالى وهو الذي كف ايديهم عنكم وايديكم عنهم ببطن مكة من بعد ان اظفركم عليهم حتى بلغ الحمية حمية الجاهلية سورة الفتح آية 24 - 26، ‏‏‏‏‏‏وكانت حميتهم انهم لم يقروا انه نبي الله، ‏‏‏‏‏‏ولم يقروا ب بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏وحالوا بينهم وبين البيت. وقال ابو عبد الله:‏‏‏‏ معرة العر الجرب تزيلوا تميزوا، ‏‏‏‏‏‏وحميت القوم منعتهم حماية، ‏‏‏‏‏‏واحميت الحمى جعلته حمى لا يدخل، ‏‏‏‏‏‏واحميت الحديد، ‏‏‏‏‏‏واحميت الرجل إذا اغضبته إحماء.
"Narrated Al-Miswar bin Makhrama and Marwan: (whose narrations attest each other) Allah's Apostle set out at the time of Al-Hudaibiya (treaty), and when they proceeded for a distance, he said, ""Khalid bin Al-Walid leading the cavalry of Quraish constituting the front of the army, is at a place called Al-Ghamim, so take the way on the right."" By Allah, Khalid did not perceive the arrival of the Muslims till the dust arising from the march of the Muslim army reached him, and then he turned back hurriedly to inform Quraish. The Prophet went on advancing till he reached the Thaniya (i.e. a mountainous way) through which one would go to them (i.e. people of Quraish). The she-camel of the Prophet sat down. The people tried their best to cause the she-camel to get up but in vain, so they said, ""Al-Qaswa' (i.e. the she-camel's name) has become stubborn! Al-Qaswa' has become stubborn!"" The Prophet said, ""Al-Qaswa' has not become stubborn, for stubbornness is not her habit, but she was stopped by Him Who stopped the elephant."" Then he said, ""By the Name of Him in Whose Hands my soul is, if they (i.e. the Quraish infidels) ask me anything which will respect the ordinances of Allah, I will grant it to them."" The Prophet then rebuked the she-camel and she got up. The Prophet changed his way till he dismounted at the farthest end of Al-Hudaibiya at a pit (i.e. well) containing a little water which the people used in small amounts, and in a short while the people used up all its water and complained to Allah's Apostle; of thirst. The Prophet took an arrow out of his arrow-case and ordered them to put the arrow in that pit. By Allah, the water started and continued sprouting out till all the people quenched their thirst and returned with satisfaction. While they were still in that state, Budail bin Warqa-al- Khuza`i came with some persons from his tribe Khuza`a and they were the advisers of Allah's Apostle who would keep no secret from him and were from the people of Tihama. Budail said, ""I left Ka`b bin Luai and 'Amir bin Luai residing at the profuse water of Al-Hudaibiya and they had milch camels (or their women and children) with them, and will wage war against you, and will prevent you from visiting the Ka`ba."" Allah's Apostle said, ""We have not come to fight anyone, but to perform the `Umra. No doubt, the war has weakened Quraish and they have suffered great losses, so if they wish, I will conclude a truce with them, during which they should refrain from interfering between me and the people (i.e. the 'Arab infidels other than Quraish), and if I have victory over those infidels, Quraish will have the option to embrace Islam as the other people do, if they wish; they will at least get strong enough to fight. But if they do not accept the truce, by Allah in Whose Hands my life is, I will fight with them defending my Cause till I get killed, but (I am sure) Allah will definitely make His Cause victorious."" Budail said, ""I will inform them of what you have said."" So, he set off till he reached Quraish and said, ""We have come from that man (i.e. Muhammad) whom we heard saying something which we will disclose to you if you should like."" Some of the fools among Quraish shouted that they were not in need of this information, but the wiser among them said, ""Relate what you heard him saying."" Budail said, ""I heard him saying so-and-so,"" relating what the Prophet had told him. `Urwa bin Mas`ud got up and said, ""O people! Aren't you the sons? They said, ""Yes."" He added, ""Am I not the father?"" They said, ""Yes."" He said, ""Do you mistrust me?"" They said, ""No."" He said, ""Don't you know that I invited the people of `Ukaz for your help, and when they refused I brought my relatives and children and those who obeyed me (to help you)?"" They said, ""Yes."" He said, ""Well, this man (i.e. the Prophet) has offered you a reasonable proposal, you'd better accept it and allow me to meet him."" They said, ""You may meet him."" So, he went to the Prophet and started talking to him. The Prophet told him almost the same as he had told Budail. Then `Urwa said, ""O Muhammad! Won't you feel any scruple in extirpating your relations? Have you ever heard of anyone amongst the Arabs extirpating his relatives before you? On the other hand, if the reverse should happen, (nobody will aid you, for) by Allah, I do not see (with you) dignified people, but people from various tribes who would run away leaving you alone."" Hearing that, Abu Bakr abused him and said, ""Do you say we would run and leave the Prophet alone?"" `Urwa said, ""Who is that man?"" They said, ""He is Abu Bakr."" `Urwa said to Abu Bakr, ""By Him in Whose Hands my life is, were it not for the favor which you did to me and which I did not compensate, I would retort on you."" `Urwa kept on talking to the Prophet and seizing the Prophet's beard as he was talking while Al-Mughira bin Shu`ba was standing near the head of the Prophet, holding a sword and wearing a helmet. Whenever `Urwa stretched his hand towards the beard of the Prophet, Al-Mughira would hit his hand with the handle of the sword and say (to `Urwa), ""Remove your hand from the beard of Allah's Apostle."" `Urwa raised his head and asked, ""Who is that?"" The people said, ""He is Al-Mughira bin Shu`ba."" `Urwa said, ""O treacherous! Am I not doing my best to prevent evil consequences of your treachery?"" Before embracing Islam Al-Mughira was in the company of some people. He killed them and took their property and came (to Medina) to embrace Islam. The Prophet said (to him, ""As regards your Islam, I accept it, but as for the property I do not take anything of it. (As it was taken through treason). `Urwa then started looking at the Companions of the Prophet. By Allah, whenever Allah's Apostle spat, the spittle would fall in the hand of one of them (i.e. the Prophet's companions) who would rub it on his face and skin; if he ordered them they would carry his orders immediately; if he performed ablution, they would struggle to take the remaining water; and when they spoke to him, they would lower their voices and would not look at his face constantly out of respect. `Urwa returned to his people and said, ""O people! By Allah, I have been to the kings and to Caesar, Khosrau and An- Najashi, yet I have never seen any of them respected by his courtiers as much as Muhammad is respected by his companions. By Allah, if he spat, the spittle would fall in the hand of one of them (i.e. the Prophet's companions) who would rub it on his face and skin; if he ordered them, they would carry out his order immediately; if he performed ablution, they would struggle to take the remaining water; and when they spoke, they would lower their voices and would not look at his face constantly out of respect."" `Urwa added, ""No doubt, he has presented to you a good reasonable offer, so please accept it."" A man from the tribe of Bani Kinana said, ""Allow me to go to him,"" and they allowed him, and when he approached the Prophet and his companions, Allah's Apostle said, ""He is so-and-so who belongs to the tribe that respects the Budn (i.e. camels of the sacrifice). So, bring the Budn in front of him."" So, the Budn were brought before him and the people received him while they were reciting Talbiya. When he saw that scene, he said, ""Glorified be Allah! It is not fair to prevent these people from visiting the Ka`ba."" When he returned to his people, he said, 'I saw the Budn garlanded (with colored knotted ropes) and marked (with stabs on their backs). I do not think it is advisable to prevent them from visiting the Ka`ba."" Another person called Mikraz bin Hafs got up and sought their permission to go to Muhammad, and they allowed him, too. When he approached the Muslims, the Prophet said, ""Here is Mikraz and he is a vicious man."" Mikraz started talking to the Prophet and as he was talking, Suhail bin `Amr came. When Suhail bin `Amr came, the Prophet said, ""Now the matter has become easy."" Suhail said to the Prophet ""Please conclude a peace treaty with us."" So, the Prophet called the clerk and said to him, ""Write: By the Name of Allah, the most Beneficent, the most Merciful."" Suhail said, ""As for 'Beneficent,' by Allah, I do not know what it means. So write: By Your Name O Allah, as you used to write previously."" The Muslims said, ""By Allah, we will not write except: By the Name of Allah, the most Beneficent, the most Merciful."" The Prophet said, ""Write: By Your Name O Allah."" Then he dictated, ""This is the peace treaty which Muhammad, Allah's Apostle has concluded."" Suhail said, ""By Allah, if we knew that you are Allah's Apostle we would not prevent you from visiting the Ka`ba, and would not fight with you. So, write: ""Muhammad bin `Abdullah."" The Prophet said, ""By Allah! I am Apostle of Allah even if you people do not believe me. Write: Muhammad bin `Abdullah."" (Az-Zuhri said, ""The Prophet accepted all those things, as he had already said that he would accept everything they would demand if it respects the ordinance of Allah, (i.e. by letting him and his companions perform `Umra.)"" The Prophet said to Suhail, ""On the condition that you allow us to visit the House (i.e. Ka`ba) so that we may perform Tawaf around it."" Suhail said, ""By Allah, we will not (allow you this year) so as not to give chance to the 'Arabs to say that we have yielded to you, but we will allow you next year."" So, the Prophet got that written. Then Suhail said, ""We also stipulate that you should return to us whoever comes to you from us, even if he embraced your religion."" The Muslims said, ""Glorified be Allah! How will such a person be returned to the pagans after he has become a Muslim? While they were in this state Abu- Jandal bin Suhail bin `Amr came from the valley of Mecca staggering with his fetters and fell down amongst the Muslims. Suhail said, ""O Muhammad! This is the very first term with which we make peace with you, i.e. you shall return Abu Jandal to me."" The Prophet said, ""The peace treaty has not been written yet."" Suhail said, ""I will never allow you to keep him."" The Prophet said, ""Yes, do."" He said, ""I won't do.: Mikraz said, ""We allow you (to keep him)."" Abu Jandal said, ""O Muslims! Will I be returned to the pagans though I have come as a Muslim? Don't you see how much I have suffered?"" (continued...) (continuing... 1): -3.891:... ... Abu Jandal had been tortured severely for the Cause of Allah. `Umar bin Al-Khattab said, ""I went to the Prophet and said, 'Aren't you truly the Apostle of Allah?' The Prophet said, 'Yes, indeed.' I said, 'Isn't our Cause just and the cause of the enemy unjust?' He said, 'Yes.' I said, 'Then why should we be humble in our religion?' He said, 'I am Allah's Apostle and I do not disobey Him, and He will make me victorious.' I said, 'Didn't you tell us that we would go to the Ka`ba and perform Tawaf around it?' He said, 'Yes, but did I tell you that we would visit the Ka`ba this year?' I said, 'No.' He said, 'So you will visit it and perform Tawaf around it?' "" `Umar further said, ""I went to Abu Bakr and said, 'O Abu Bakr! Isn't he truly Allah's Prophet?' He replied, 'Yes.' I said, 'Then why should we be humble in our religion?' He said, 'Indeed, he is Allah's Apostle and he does not disobey his Lord, and He will make him victorious. Adhere to him as, by Allah, he is on the right.' I said, 'Was he not telling us that we would go to the Ka`ba and perform Tawaf around it?' He said, 'Yes, but did he tell you that you would go to the Ka`ba this year?' I said, 'No.' He said, ""You will go to Ka`ba and perform Tawaf around it."" (Az-Zuhri said, "" `Umar said, 'I performed many good deeds as expiation for the improper questions I asked them.' "") When the writing of the peace treaty was concluded, Allah's Apostle said to his companions, ""Get up and' slaughter your sacrifices and get your head shaved."" By Allah none of them got up, and the Prophet repeated his order thrice. When none of them got up, he left them and went to Um Salama and told her of the people's attitudes towards him. Um Salama said, ""O the Prophet of Allah! Do you want your order to be carried out? Go out and don't say a word to anybody till you have slaughtered your sacrifice and call your barber to shave your head."" So, the Prophet went out and did not talk to anyone of them till he did that, i.e. slaughtered the sacrifice and called his barber who shaved his head. Seeing that, the companions of the Prophet got up, slaughtered their sacrifices, and started shaving the heads of one another, and there was so much rush that there was a danger of killing each other. Then some believing women came (to the Prophet ); and Allah revealed the following Divine Verses:-- ""O you who believe, when the believing women come to you as emigrants examine them . . ."" (60.10) `Umar then divorced two wives of his who were infidels. Later on Muawiya bin Abu Sufyan married one of them, and Safwan bin Umaiya married the other. When the Prophet returned to Medina, Abu Basir, a new Muslim convert from Quraish came to him. The Infidels sent in his pursuit two men who said (to the Prophet ), ""Abide by the promise you gave us."" So, the Prophet handed him over to them. They took him out (of the City) till they reached Dhul-Hulaifa where they dismounted to eat some dates they had with them. Abu Basir said to one of them, ""By Allah, O so-and-so, I see you have a fine sword."" The other drew it out (of the scabbard) and said, ""By Allah, it is very fine and I have tried it many times."" Abu Basir said, ""Let me have a look at it."" When the other gave it to him, he hit him with it till he died, and his companion ran away till he came to Medina and entered the Mosque running. When Allah's Apostle saw him he said, ""This man appears to have been frightened."" When he reached the Prophet he said, ""My companion has been murdered and I would have been murdered too."" Abu Basir came and said, ""O Allah's Apostle, by Allah, Allah has made you fulfill your obligations by your returning me to them (i.e. the Infidels), but Allah has saved me from them."" The Prophet said, ""Woe to his mother! what excellent war kindler he would be, should he only have supporters."" When Abu Basir heard that he understood that the Prophet would return him to them again, so he set off till he reached the seashore. Abu Jandal bin Suhail got himself released from them (i.e. infidels) and joined Abu Basir. So, whenever a man from Quraish embraced Islam he would follow Abu Basir till they formed a strong group. By Allah, whenever they heard about a caravan of Quraish heading towards Sham, they stopped it and attacked and killed them (i.e. infidels) and took their properties. The people of Quraish sent a message to the Prophet requesting him for the Sake of Allah and Kith and kin to send for (i.e. Abu Basir and his companions) promising that whoever (amongst them) came to the Prophet would be secure. So the Prophet sent for them (i.e. Abu Basir's companions) and Allah I revealed the following Divine Verses: ""And it is He Who Has withheld their hands from you and your hands From them in the midst of Mecca, After He made you the victorious over them. ... the unbelievers had pride and haughtiness, in their hearts ... the pride and haughtiness of the time of ignorance."" (48.24-26) And their pride and haughtiness was that they did not confess (write in the treaty) that he (i.e. Muhammad) was the Prophet of Allah and refused to write: ""In the Name of Allah, the most Beneficent, the Most Merciful,"" and they (the mushriks) prevented them (the Muslims) from visiting the House (the Ka`bah)."
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو معمر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے زہری نے خبر دی ‘ کہا مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان نے ‘ دونوں کے بیان سے ایک دوسرے کی حدیث کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر ( مکہ ) جا رہے تھے ‘ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے ہی میں تھے ‘ فرمایا خالد بن ولید قریش کے ( دو سو ) سواروں کے ساتھ ہماری نقل و حرکت کا اندازہ لگانے کے لیے مقام غمیم میں مقیم ہے ( یہ قریش کا مقدمۃ الجیش ہے ) اس لیے تم لوگ داہنی طرف سے جاؤ ‘ پس اللہ کی قسم خالد کو ان کے متعلق کچھ بھی علم نہ ہو سکا اور جب انہوں نے اس لشکر کا غبار اٹھتا ہوا دیکھا تو قریش کو جلدی جلدی خبر دینے گئے۔ ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی پر پہنچے جس سے مکہ میں اترتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری بیٹھ گئی۔ صحابہ اونٹنی کو اٹھانے کیلئے حل حل کہنے لگے لیکن وہ اپنی جگہ سے نہ اٹھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ قصواء اڑ گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قصواء اڑی نہیں اور نہ یہ اس کی عادت ہے ‘ اسے تو اس ذات نے روک لیا جس نے ہاتھیوں ( کے لشکر ) کو ( مکہ ) میں داخل ہونے سے روک لیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریش جو بھی ایسا مطالبہ رکھیں گے جس میں اللہ کی محرمات کی بڑائی ہو تو میں اس کا مطالبہ منظور کر لوں گا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو ڈانٹا تو وہ اٹھ گئی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے آگے نکل گئے اور حدیبیہ کے آخری کنارے ثمد ( ایک چشمہ یا گڑھا ) پر جہاں پانی کم تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا۔ لوگ تھوڑا تھوڑا پانی استعمال کرنے لگے، انہوں نے پانی کو ٹھہرنے ہی نہیں دیا، سب کھینچ ڈالا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیاس کی شکایت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر دیا کہ اس گڑھے میں ڈال دیں بخدا تیر گاڑتے ہی پانی انہیں سیراب کرنے کے لیے ابلنے لگا اور وہ لوگ پوری طرح سیراب ہو گئے۔ لوگ اسی حال میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی رضی اللہ عنہ اپنی قوم خزاعہ کے کئی آدمیوں کو لے کر حاضر ہوا۔ یہ لوگ تہامہ کے رہنے والے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محرم راز بڑے خیرخواہ تھے۔ انہوں نے خبر دی کہ میں کعب بن لوئی اور عامر بن لوئی کو پیچھے چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ جنہوں نے حدیبیہ کے پانی کے ذخیروں پر اپنا پڑاؤ ڈال دیا ہے ‘ ان کے ساتھ بکثرت دودھ دینے والی اونٹنیاں اپنے نئے نئے بچوں کے ساتھ ہیں۔ وہ آپ سے لڑیں گے اور آپ کے بیت اللہ پہنچنے میں رکاوٹ بنیں گے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں صرف عمرہ کے ارادے سے آئے ہیں اور واقعہ تو یہ ہے ( مسلسل لڑائیوں ) نے قریش کو بھی کمزور کر دیا ہے اور انہیں بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے ‘ اب اگر وہ چاہیں تو میں ایک مدت ان سے صلح کا معاہدہ کر لوں گا ‘ اس عرصہ میں وہ میرے اور عوام ( کفار مشرکین عرب ) کے درمیان نہ پڑیں پھر اگر میں کامیاب ہو جاؤں اور ( اس کے بعد ) وہ چاہیں تو اس دین ( اسلام ) میں وہ بھی داخل ہو سکتے ہیں ( جس میں اور تمام لوگ داخل ہو چکے ہوں گے ) لیکن اگر مجھے کامیابی نہیں ہوئی تو انہیں بھی آرام مل جائے گا اور اگر انہیں میری پیش کش سے انکار ہے تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب تک میرا سر تن سے جدا نہیں ہو جاتا، میں اس دین کے لیے برابر لڑتا رہوں گا یا پھر اللہ تعالیٰ اسے نافذ ہی فرما دے گا۔ بدیل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قریش تک آپ کی گفتگو میں پہچاؤں گا چنانچہ وہ واپس ہوئے اور قریش کے یہاں پہنچے اور کہا کہ ہم تمہارے پاس اس شخص ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے یہاں سے آ رہے ہیں اور ہم نے اسے ایک بات کہتے سنا ہے ‘ اگر تم چاہو تو تمہارے سامنے اسے بیان کر سکتے ہیں۔ قریش کے بے وقوفوں نے کہا کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں کہ تم اس شخص کی کوئی بات ہمیں سناؤ۔ جو لوگ صائب الرائے تھے ‘ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے جو کچھ تم نے سنا ہے ہم سے بیان کر دو۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اسے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو یہ کہتے سنا ہے اور پھر جو کچھ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ‘ سب بیان کر دیا۔ اس پر عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ( جو اس وقت تک کفار کے ساتھ تھے ) کھڑے ہوئے اور کہا اے قوم کے لوگو! کیا تم مجھ پر باپ کی طرح شفقت نہیں رکھتے۔ سب نے کہا کیوں نہیں ‘ ضرور رکھتے ہیں۔ عروہ نے پھر کہا کیا میں بیٹے کی طرح تمہارا خیرخواہ نہیں ہوں ‘ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ عروہ نے پھر کہا تم لوگ مجھ پر کسی قسم کی تہمت لگا سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے پوچھا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ میں نے عکاظ والوں کو تمہاری مدد کے لیے کہا تھا اور جب انہوں نے انکار کیا تو میں نے اپنے گھرانے ‘ اولاد اور ان تمام لوگوں کو تمہارے پاس لا کر کھڑا کر دیا تھا جنہوں نے میرا کہنا مانا تھا؟ قریش نے کہا کیوں نہیں ( آپ کی باتیں درست ہیں ) اس کے بعد انہوں نے کہا دیکھو اب اس شخص ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تمہارے سامنے ایک اچھی تجویز رکھی ہے ‘ اسے تم قبول کر لو اور مجھے اس کے پاس ( گفتگو ) کے لیے جانے دو ‘ سب نے کہا آپ ضرور جایئے۔ چنانچہ عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو شروع کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی وہی باتیں کہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدیل سے کہہ چکے تھے ‘ عروہ رضی اللہ عنہ نے اس وقت کہا۔ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! بتائیے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو تباہ کر دیا تو کیا اپنے سے پہلے کسی بھی عرب کے متعلق سنا ہے کہ اس نے اپنے خاندان کا نام و نشان مٹا دیا ہو لیکن اگر دوسری بات واقع ہوئی ( یعنی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غالب ہوئے ) تو میں اللہ کی قسم تمہارے ساتھیوں کا منہ دیکھتا ہوں یہ مختلف جنسوں لوگ یہی کریں گے۔ اس وقت یہ سب لوگ بھاگ جائیں گے اور آپ کو تنہا چھوڑ دیں گے۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے «امصص بظر اللات» ۔ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بھاگ جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ دیں گے۔ عروہ نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ عروہ نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تمہارا مجھ پر ایک احسان نہ ہوتا جس کا اب تک میں بدلہ نہیں دے سکا ہوں تو تمہیں ضرور جواب دیتا۔ بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر گفتگو کرنے لگے اور گفتگو کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک پکڑ لیا کرتے تھے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے ‘ تلوار لٹکائے ہوئے اور سر پر خود پہنے۔ عروہ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کی طرف اپنا ہاتھ لے جاتے تو مغیرہ رضی اللہ عنہ تلوار کی نیام کو اس کے ہاتھ پر مارتے اور ان سے کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے اپنا ہاتھ الگ رکھ۔ عروہ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا یہ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ مغیرہ بن شعبہ۔ عروہ نے انہیں مخاطب کر کے کہا اے دغا باز! کیا میں نے تیری دغا بازی کی سزا سے تجھ کو نہیں بچایا؟ اصل میں مغیرہ رضی اللہ عنہ ( اسلام لانے سے پہلے ) جاہلیت میں ایک قوم کے ساتھ رہے تھے پھر ان سب کو قتل کر کے ان کا مال لے لیا تھا۔ اس کے بعد ( مدینہ ) آئے اور اسلام کے حلقہ بگوش ہو گئے ( تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ان کا مال بھی رکھ دیا کہ جو چاہیں اس کے متعلق حکم فرمائیں ) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تیرا اسلام تو میں قبول کرتا ہوں، رہا یہ مال تو میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ کیونکہ وہ دغا بازی سے ہاتھ آیا ہے جسے میں لے نہیں سکتا ‘ پھر عروہ رضی اللہ عنہ گھور گھور کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی نقل و حرکت دیکھتے رہے۔ پھر راوی نے بیان کیا کہ قسم اللہ کی اگر کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلغم بھی تھوکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اپنے ہاتھوں پر اسے لے لیا اور اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا۔ کسی کام کا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کی بجا آوری میں ایک دوسرے پر لوگ سبقت لے جانے کی کوشش کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے لگے تو ایسا معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی پر لڑائی ہو جائے گی ( یعنی ہر شخص اس پانی کو لینے کی کوشش کرتا تھا ) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو کرنے لگے تو سب پر خاموشی چھا جاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا یہ حال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی نظر بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ بھی نہیں سکتے تھے۔ خیر عروہ جب اپنے ساتھیوں سے جا کر ملے تو ان سے کہا اے لوگو! قسم اللہ کی میں بادشاہوں کے دربار میں بھی وفد لے کر گیا ہوں ‘ قیصر و کسریٰ اور نجاشی سب کے دربار میں لیکن اللہ کی قسم میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کے ساتھی اس کی اس درجہ تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے ہیں۔ قسم اللہ کی اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بلغم بھی تھوک دیا تو ان کے اصحاب نے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اگر کوئی حکم دیا تو ہر شخص نے اسے بجا لانے میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر وضو کیا تو ایسا معلوم ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو پر لڑائی ہو جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب گفتگو شروع کی تو ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ ان کے دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر بھر کر بھی نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے تمہارے سامنے ایک بھلی صورت رکھی ہے ‘ تمہیں چاہئے کہ اسے قبول کر لو۔ اس پر بنو کنانہ کا ایک شخص بولا کہ اچھا مجھے بھی ان کے یہاں جانے دو ‘ لوگوں نے کہا تم بھی جا سکتے ہو۔ جب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قریب پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ فلاں شخص ہے ‘ ایک ایسی قوم کا فرد جو بیت اللہ کی قربانی کے جانوروں کی تعظیم کرتے ہیں۔ اس لیے قربانی کے جانور اس کے سامنے کر دو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے قربانی کے جانور اس کے سامنے کر دیئے اور لبیک کہتے ہوئے اس کا استقبال کیا جب اس نے یہ منظر دیکھا تو کہنے لگا کہ سبحان اللہ قطعاً مناسب نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کو کعبہ سے روکا جائے۔ اس کے بعد قریش میں سے ایک دوسرا شخص مکرز بن حفص نامی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے بھی ان کے یہاں جانے دو۔ سب نے کہا کہ تم بھی جا سکتے ہو جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مکرز ہے ایک بدترین شخص ہے۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا۔ ابھی وہ گفتگو کر ہی رہا تھا کہ سہیل بن عمرو آ گیا۔ معمر نے ( سابقہ سند کے ساتھ ) بیان کیا کہ مجھے ایوب نے خبر دی اور انہیں عکرمہ نے کہ جب سہیل بن عمرو آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نیک فالی کے طور پر ) فرمایا تمہارا معاملہ آسان ( سہل ) ہو گیا۔ معمر نے بیان کیا کہ زہری نے اپنی حدیث میں اس طرح بیان کیا تھا کہ جب سہیل بن عمرو آیا تو کہنے لگا کہ ہمارے اور اپنے درمیان ( صلح ) کی ایک تحریر لکھ لو۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب کو بلوایا اور فرمایا کہ لکھو «بسم الله الرحمن الرحيم» سہیل کہنے لگا رحمن کو اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ وہ کیا چیز ہے۔ البتہ تم یوں لکھ سکتے ہو «باسمك اللهم‏.‏» جیسے پہلے لکھا کرتے تھے مسلمانوں نے کہا کہ قسم اللہ کی ہمیں «بسم الله الرحمن الرحيم» کے سوا اور کوئی دوسرا جملہ نہ لکھنا چاہئے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «باسمك اللهم‏.‏» ہی لکھنے دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا یہ محمد رسول اللہ کی طرف سے صلح نامہ کی دستاویز ہے۔ سہیل نے کہا اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ آپ رسول اللہ ہیں تو نہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ سے روکتے اور نہ آپ سے جنگ کرتے۔ آپ تو صرف اتنا لکھئے کہ ”محمد بن عبداللہ“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ گواہ ہے کہ میں اس کا سچا رسول ہوں خواہ تم میری تکذیب ہی کرتے رہو ‘ لکھو جی ”محمد بن عبداللہ“ زہری نے بیان کیا کہ یہ سب کچھ ( نرمی اور رعایت ) صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا نتیجہ تھا ( جو پہلے بدیل رضی اللہ عنہ سے کہہ چکے تھے ) کہ قریش مجھ سے جو بھی ایسا مطالبہ کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی تعظیم مقصود ہو گی تو میں ان کے مطالبے کو ضرور مان لوں گا ‘ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل سے فرمایا لیکن صلح کے لیے پہلی شرط یہ ہو گی کہ تم لوگ ہمیں بیت اللہ کے طواف کرنے کے لیے جانے دو گے۔ سہیل نے کہا قسم اللہ کی ہم ( اس سال ) ایسا نہیں ہونے دیں گے ورنہ عرب کہیں گے ہم مغلوب ہو گئے تھے ( اس لیے ہم نے اجازت دے دی ) آئندہ سال کے لیے اجازت ہے۔ چنانچہ یہ بھی لکھ لیا۔ پھر سہیل نے لکھا کہ یہ شرط بھی ( لکھ لیجئے ) کہ ہماری طرف کا جو شخص بھی آپ کے یہاں جائے گا خواہ وہ آپ کے دین ہی پر کیوں نہ ہو آپ اسے ہمیں واپس کر دیں گے۔ مسلمانوں نے ( یہ شرط سن کر کہا ) سبحان اللہ! ( ایک شخص کو ) مشرکوں کے حوالے کس طرح کیا جا سکتا ہے جو مسلمان ہو کر آیا ہو۔ ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ابوجندل بن سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنی بیڑیوں کو گھسیٹتے ہوئے آ پہنچے ‘ وہ مکہ کے نشیبی علاقے کی طرف سے بھاگے تھے اور اب خود کو مسلمانوں کے سامنے ڈال دیا تھا۔ سہیل نے کہا اے محمد! یہ پہلا شخص ہے جس کے لیے ( صلح نامہ کے مطابق ) میں مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اسے واپس کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی تو ہم نے ( صلح نامہ کی اس دفعہ کو ) صلح نامہ میں لکھا بھی نہیں ہے ( اس لیے جب صلح نامہ طے پا جائے گا اس کے بعد اس کا نفاذ ہونا چاہئے ) سہیل کہنے لگا کہ اللہ کی قسم پھر میں کسی بنیاد پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح نہیں کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا مجھ پر اس ایک کو دے کر احسان کر دو۔ اس نے کہا کہ میں اس سلسلے میں احسان بھی نہیں کر سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ہمیں احسان کر دینا چاہئے لیکن اس نے یہی جواب دیا کہ میں ایسا کبھی نہیں کر سکتا۔ البتہ مکرز نے کہا کہ چلئے ہم اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان کرتے ہیں مگر ( اس کی بات نہیں چلی ) ابوجندل رضی اللہ عنہ نے کہا مسلمانوں! میں مسلمان ہو کر آیا ہوں۔ کیا مجھے مشرکوں کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا؟ کیا میرے ساتھ جو اذیتیں پہنچائی گئیں تھیں۔ راوی نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، کیا یہ واقعہ اور حقیقت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں! میں نے عرض کیا، کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور کیا ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں! میں نے کہا پھر اپنے دین کے معاملے میں کیوں دبیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اس کی حکم عدولی نہیں کر سکتا اور وہی میرا مددگار ہے۔ میں نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ نہیں فرماتے تھے کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے لیکن کیا میں نے تم سے یہ کہا تھا کہ اسی سال ہم بیت اللہ پہنچ جائیں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا نہیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قید کے ساتھ نہیں فرمایا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تم بیت اللہ تک ضرور پہنچو گے اور ایک دن اس کا طواف کرو گے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا اور ان سے بھی یہی پوچھا کہ ابوبکر! کیا یہ حقیقت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں؟ انہوں نے بھی کہا کہ کیوں نہیں۔ میں نے پوچھا کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ اور کیا ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں! میں نے کہا کہ پھر اپنے دین کو کیوں ذلیل کریں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا جناب! بلا شک و شبہ وہ اللہ کے رسول ہیں ‘ اور اپنے رب کی حکم عدولی نہیں کر سکتے اور رب ہی ان کا مددگار ہے پس ان کی رسی مضبوطی سے پکڑ لو ‘ اللہ گواہ ہے کہ وہ حق پر ہیں۔ میں نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ نہیں کہتے تھے کہ عنقریب ہم بیت اللہ پہونچیں گے اور اس کا طواف کریں گے انہوں نے فرمایا کہ یہ بھی صحیح ہے لیکن کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے یہ فرمایا تھا کہ اسی سال آپ بیت اللہ پہنچ جائیں گے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا پھر اس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ آپ ایک نہ ایک دن بیت اللہ پہنچیں گے اور اس کا طواف کریں گے۔ زہری نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بعد میں میں نے اپنی عجلت پسندی کی مکافات کے لیے نیک اعمال کئے۔ پھر جب صلح نامہ سے آپ فارغ ہو چکے تو صحابہ رضوان اللہ علیہم سے فرمایا کہ اب اٹھو اور ( جن جانوروں کو ساتھ لائے ہو ان کی ) قربانی کر لو اور سر بھی منڈوا لو۔ انہوں نے بیان کیا کہ اللہ گواہ ہے صحابہ میں سے ایک شخص بھی نہ اٹھا اور تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔ جب کوئی نہ اٹھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلمہ کے خیمہ میں گئے اور ان سے لوگوں کے طرز عمل کا ذکر کیا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا اے اللہ کے نبی! کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ باہر تشریف لے جائیں اور کسی سے کچھ نہ کہیں بلکہ اپنا قربانی کا جانور ذبح کر لیں اور اپنے حجام کو بلا لیں جو آپ کے بال مونڈ دے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ کسی سے کچھ نہیں کہا اور سب کچھ کیا ‘ اپنے جانور کی قربانی کر لی اور اپنے حجام کو بلوایا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مونڈے۔ جب صحابہ نے دیکھا تو وہ بھی ایک دوسرے کے بال مونڈنے لگے ‘ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ رنج و غم میں ایک دوسرے سے لڑ پڑیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( مکہ سے ) چند مومن عورتیں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا «يا أيها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن‏» اے لوگو! جو ایمان لا چکے ہو جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان لے «بعصم الكوافر‏» تک۔ اس دن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو بیویوں کو طلاق دی جو اب تک مسلمان نہ ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک نے تو معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے نکاح کر لیا تھا اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لائے تو قریش کے ایک فرد ابوبصیر رضی اللہ عنہ ( مکہ سے فرار ہو کر ) حاضر ہوئے۔ وہ مسلمان ہو چکے تھے۔ قریش نے انہیں واپس لینے کے لیے دو آدمیوں کو بھیجا اور انہوں نے آ کر کہا کہ ہمارے ساتھ آپ کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا۔ قریش کے دونوں افراد جب انہیں واپس لے کر لوٹے اور ذوالحلیفہ پہنچے تو کھجور کھانے کے لیے اترے جو ان کے ساتھ تھی۔ ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک سے فرمایا قسم اللہ کی تمہاری تلوار بہت اچھی معلوم ہوتی ہے۔ دوسرے ساتھی نے تلوار نیام سے نکال دی۔ اس شخص نے کہا ہاں اللہ کی قسم نہایت عمدہ تلوار ہے ‘ میں اس کا بارہا تجربہ کر چکا ہوں۔ ابوبصیر رضی اللہ عنہ اس پر بولے کہ ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ اور اس طرح اپنے قبضہ میں کر لیا پھر اس شخص نے تلوار کے مالک کو ایسی ضرب لگائی کہ وہ وہیں ٹھنڈا ہو گیا۔ اس کا دوسرا ساتھی بھاگ کر مدینہ آیا اور مسجد میں دوڑتا ہوا۔ داخل ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے دیکھا تو فرمایا یہ شخص کچھ خوف زدہ معلوم ہوتا ہے۔ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچا تو کہنے لگا اللہ کی قسم میرا ساتھی تو مارا گیا اور میں بھی مارا جاؤں گا ( اگر آپ لوگوں نے ابوبصیر کو نہ روکا ) اتنے میں ابوبصیر بھی آ گئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی! اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذمہ داری پوری کر دی ‘ آپ مجھے ان کے حوالے کر چکے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے نجات دلائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تیری ماں کی خرابی ) اگر اس کا کوئی ایک بھی مددگار ہوتا تو پھر لڑائی کے شعلے بھڑک اٹھتے۔ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ سنے تو سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر کفار کے حوالے کر دیں گے اس لیے وہاں سے نکل گئے اور سمندر کے کنارے پر آ گئے۔ راوی نے بیان کیا کہ اپنے گھر والوں ( مکہ سے ) چھوٹ کر ابوجندل بن سہیل رضی اللہ عنہ بھی ابوبصیر رضی اللہ عنہ سے جا ملے اور اب یہ حال تھا کہ قریش کا جو شخص بھی اسلام لاتا ( بجائے مدینہ آنے کے ) ابوبصیر رضی اللہ عنہ کے یہاں ( ساحل سمندر پر ) چلا جاتا۔ اس طرح سے ایک جماعت بن گئی اور اللہ گواہ ہے یہ لوگ قریش کے جس قافلے کے متعلق بھی سن لیتے کہ وہ شام جا رہا ہے تو اسے راستے ہی میں روک کر لوٹ لیتے اور قافلہ والوں کو قتل کر دیتے۔ اب قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اللہ اور رحم کا واسطہ دے کر درخواست بھیجی کہ آپ کسی کو بھیجیں ( ابوبصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے دوسرے ساتھیوں کے یہاں کہ وہ قریش کی ایذا سے رک جائیں ) اور اس کے بعد جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں جائے گا ( مکہ سے ) اسے امن ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں اپنا آدمی بھیجا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم ببطن مكة من بعد أن أظفركم عليهم‏» ”اور وہ ذات پروردگار جس نے روک دیا تھا تمہارے ہاتھوں کو ان سے اور ان کے ہاتھوں کو تم سے ( یعنی جنگ نہیں ہو سکی تھی ) وادی مکہ میں ( حدیبیہ میں ) بعد میں اس کے کہ تم کو غالب کر دیا تھا ان پر یہاں تک کہ بات جاہلیت کے دور کی بے جا حمایت تک پہنچ گئی تھی ) ۔“ ان کی حمیت ( جاہلیت ) یہ تھی کہ انہوں نے ( معاہدے میں بھی ) آپ کے لیے اللہ کے نبی ہونے کا اقرار نہیں کیا اسی طرح انہوں نے «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں لکھنے دیا اور آپ بیت اللہ جانے سے مانع بنے۔
Sahih Muslim
4522
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ، أَوْ سَرِيَّةٍ، أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهِ بِتَقْوَى اللهِ، وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ: «اغْزُوا بِاسْمِ اللهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللهِ، اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَمْثُلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَادْعُهُمْ إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ - أَوْ خِلَالٍ - فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَجَابُوكَ، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ فَلَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْهَا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ، يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْءِ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَسَلْهُمُ الْجِزْيَةَ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللهِ، وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ، فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللهِ، وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ، وَلَكِنِ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ، فَإِنَّكُمْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ أَصْحَابِكُمْ أَهْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللهِ، فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللهِ، وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللهِ فِيهِمْ أَمْ لَا»، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ، وَزَادَ إِسْحَاقُ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، قَالَ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ - قَالَ يَحْيَى: يَعْنِي أَنَّ عَلْقَمَةَ يَقُولُهُ لِابْنِ حَيَّانَ - فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
It has been reported from Sulaiman b. Buraida through his father that when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) appointed anyone as leader of an army or detachment he would especially exhort him to fear Allah and to be good to the Muslims who were with him. He would say: Fight in the name of Allah and in the way of Allah. Fight against those who disbelieve in Allah. Make a holy war, do not embezzle the spoils; do not break your pledge; and do not mutilate (the dead) bodies; do not kill the children. When you meet your enemies who are polytheists, invite them to three courses of action. If they respond to any one of these, you also accept it and withhold yourself from doing them any harm. Invite them to (accept) Islam; if they respond to you, accept it from them and desist from fighting against them. Then invite them to migrate from their lands to the land of the Muhajireen and inform them that, if they do so, they shall have all the privileges and obligations of the Muhajireen. If they refuse to migrate, tell them that they will have the status of Bedouin Muslims and will be subjected to the Commands of Allah like other Muslims, but they will not get any share from the spoils of war or Fai' except when they actually fight with the Muslims (against the disbelievers). If they refuse to accept Islam, demand from them the Jizya. If they agree to pay, accept it from them and hold off your hands. If they refuse to pay the tax, seek Allah's help and fight them. When you lay siege to a fort and the besieged appeal to you for protection in the name of Allah and His Prophet, do not accord to them the guarantee of Allah and His Prophet, but accord to them your own guarantee and the guarantee of your companions for it is a lesser sin that the security given by you or your companions be disregarded than that the security granted in the name of Allah and His Prophet be violated. When you besiege a fort and the besieged want you to let them out in accordance with Allah's Command, do not let them come out in accordance with His Command, but do so at your (own) command, for you do not know whether or not you will be able to carry out Allah's behest with regard to them.
نیز عبداللہ بن ہاشم نے کہا ۔ ۔ الفاظ انہی کے ہیں ۔ ۔ مجھے عبدالرحمٰن بن مہدی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے علقمہ بن مرثد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بڑے لشکر یا چھوٹے دستے پر کسی کو امیر مقرر کرتے تو اسے خاص اس کی اپنی ذات کے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی اور ان تمام مسلمانوں کے بارے میں ، جو اس کے ساتھ ہیں ، بھلائی کی تلقین کرتے ، پھر فرماتے : "" اللہ کے نام سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو ، جو اللہ تعالیٰ سے کفر کرتے ہیں ان سے لڑو ، نہ خیانت کرو ، نہ بد عہدی کرو ، نہ مثلہ کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو اور جب مشرکوں میں سے اپنے دشمن سے ٹکراؤ تو انہیں تین باتوں کی طرف بلاؤ ، ان میں سے جسے وہ تسلیم کر لیں ، ( اسی کو ) ان کی طرف سے قبول کر لو اور ان ( پر حملے ) سے رک جاؤ ، انہیں اسلام کی دعوت دو ، اگر وہ مان لیں تو اسے ان ( کی طرف ) سے قبول کر لو اور ( جنگ سے ) رک جاؤ ، پھر انہیں اپنے علاقے سے مہاجرین کے علاقے میں آ جانے کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لیے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اور ان پر وہی ذمہ دریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں ۔ اگر وہ وہاں سے نقل مکانی کرنے پر انکار کریں تو انہیں بتاؤ کہ پھر وہ بادیہ نشیں مسلمانوں کی طرح ہوں گے ، ان پر اللہ کا وہی حکم نافذ ہو گا جو مومنوں پر نافذ ہوتا ہے اور غنیمت اور فے میں سے ان کے لیے کچھ نہ ہو گا مگر اس صورت میں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں ۔ اگر وہ انکار کریں تو ان سے جزیے کا مطالبہ کرو ، اگر وہ تسلیم کر لیں تو ان کی طرف سے قبول کر لو اور رک جاؤ اور اگر وہ انکار کریں تو اللہ سے مدد مانگو اور ان سے لڑو اور جب تم کسی قلعے ( میں رہنے ) والوں کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے چاہیں کہ تم انہیں اللہ اور اس کے نبی کا عہدوپیمان عطا کرو تو انہیں اللہ اور اس کے نبی کا عہدوپیمان نہ دو بلکہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی طرف سے عہد و امان دو ، کیونکہ یہ بات کہ تم لوگ اپنے اور اپنے ساتھیوں کے عہدوپیمان کی خلاف ورزی کر بیٹھو ، اس کی نسبت ہلکی ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عہدوپیمان توڑ دو ۔ اور جب تم قلعہ بند لوگوں کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے چاہیں کہ تم انہیں اللہ کے حکم پر ( قلعے سے ) نیچے اترنے دو تو انہیں اللہ کے حکم پر نیچے نہ اترنے دو بلکہ اپنے حکم پر انہیں نیچے اتارو کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ تم ان کے بارے میں اللہ کے صحیح حکم پر پہنچ پاتے ہو یا نہیں ۔ "" ( ابن ہشام نے کہا : ) عبدالرحمان نے یہی کہا یا اسی طرح کہا ۔ اسحا نے اپنی حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کیا : یحییٰ بن آدم سے روایت ہے کہ ( علقمہ نے ) کہا : میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے بیان کی ۔ ۔ یحییٰ نے کہا : یعنی علقمہ نے ابن حیان سے بیان کی ۔ ۔ تو انہوں نے کہا : مجھے مسلم بن ہیصم نے حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث بیان کی
Sunnan Abu Dawood
760
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ،‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ كَبَّرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ لِي إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَكَعَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَفَعَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا سَجَدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ وَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، ‏‏‏‏‏‏أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ .
Ali bin Abi Talib said: When the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم stood up for prayer, he uttered the takbir (Allah is most great), then said: I have turned my face, breaking with all others, towards Him Who created the heavens and the earth, and I am not a polytheist. My prayer and my devotion, my life and my death belong to Allah, the Lord of the Universe, Who has no partner. That is what I have been commanded, and I am first of Muslims (those who surrender themselves). O Allah, Thou art the King. There is no God but Thee. Thou art my Lord and I am Thy servant. I have wronged myself, but I acknowledge my sin, so forgive me all my sins; Thou Who alone canst forgive sins; and guide me to the best qualities. Thou Who alone canst guide to the best of them; and turn me from evil ones. Thou who alone canst turn from evil qualities. I come to serve and please Thee. All good is in Thy Hands, and evil does not pertain to Thee. I seek refuge in Thee and turn to Thee, Who art blessed and exalted. I ask Thy forgiveness and turn to thee in repentance. When he bowed, he said: O Allah, to Thee I bow, in Thee I trust, and to Thee I submit myself. My hearing, my sight, my brain, my bone and my sinews humble themselves before Thee. When he raised his head, he said: Allah listens to him who praises Him. O our lord, and all praises be to Thee in the whole of the heavens and the earth, and what is between them, and in whatever Thou creates afterwards. When he prostrated himself, he said: O Allah, to Thee I prostrate myself, to Thee I trust, and to Thee I submit myself. My face prostrated itself before Him Who created it, fashioned it, and fashioned it in the best shape, and brought forth its hearing and seeing. Blessed is Allah, the best of creators. When he saluted at the end of the prayer, he said: O Allah, forgive me my former and my latter sins, my open and secret sins, my sins in exceeding the limits, and what Thou knowest better than I. Thou art He Who puts forward and puts back. There is deity but Thee.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللهم أنت الملك لا إله لي إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك‏» میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار اور مسلمان ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں، میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا تابعدار ہوں، اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا میرا کوئی اور معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، مجھے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف ہے، تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت فرما، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کرنے والا کوئی نہیں، مجھے حسن اخلاق کی ہدایت فرما، ان اخلاق حسنہ کی جانب صرف تو ہی رہنمائی کرنے والا ہے، بری عادتوں اور بدخلقی کو مجھ سے دور کر دے، صرف تو ہی ان بری عادتوں کو دور کرنے والا ہے، میں حاضر ہوں، تیرے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تیری طرف برائی کی نسبت نہیں کی جا سکتی، میں تیرا ہوں، اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے، تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑ ھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت خشع لك سمعي وبصري ومخي وعظامي وعصبي» اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا تابعدار ہوا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈی اور میرے پٹھے تیرے لیے جھک گئے ) ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ملء السموات والأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شىء بعد» اللہ نے اس شخص کی سن لی ( قبول کر لیا ) جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے لیے حمد و ثنا ہے آسمانوں اور زمین کے برابر، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کے برابر، اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے اس کے برابر ۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو کہتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت سجد وجهي للذي خلقه وصوره فأحسن صورته وشق سمعه وبصره وتبارك الله أحسن الخالقين» اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا فرماں بردار و تابعدار ہوا، میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کا جس نے اسے پیدا کیا اور پھر اس کی صورت بنائی تو اچھی صورت بنائی، اس کے کان اور آنکھ پھاڑے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے وہ بہترین تخلیق فرمانے والا ہے ۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو کہتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم والمؤخر لا إله إلا أنت» اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گناہوں کی مغفرت فرما، اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے درگزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں ۔