TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1612 - میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونا اور کھانا تیار کرنا منع ہے - Chapters regarding funerals - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونا اور کھانا تیار کرنا منع ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَرَى الِاجْتِمَاعَ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ وَصَنْعَةَ الطَّعَامِ مِنَ النِّيَاحَةِ .
It was narrated that Jarir bin ‘Abdullah Al-Bajali said: “We used to think that gathering with the family of the deceased and preparing food was a form of wailing.”
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونے اور ان کے لیے ان کے گھر کھانا تیار کرنے کو نوحہ سمجھتے تھے۔
1612
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 6, Hadith 1612 Arabic reference : Book 6, Hadith 1680
Conclusion
تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۳۲۳۰، ومصباح الزجاجة:۵۸۶)، مسند احمد (۲/۲۰۴)

Related Chapters

536
1
Chapter: What Has Been Related About Preparing Food For The Family OF The Deceased
باب: میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
Sahih Bukhari
3
CHAPTER: Preparing Food For The Family Of The Deceased.
باب: اہل میت کے لیے کھانا تیار کرنا ۔
Sunnan Abu Dawood
4
میت کے گھر والوں کے یہاں کھانا بھیجنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
5
قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
Musnad Ahmad
6
اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
Musnad Ahmad
7
اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
Musnad Ahmad
8
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
9
غزوۂ احد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کے دانتوں کی شہادت، چہرہ انور کا زخمی ہونا، اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی حفاظت کرنا اور آپ کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں پر اللہ کی شدید ناراضی کا بیان
Musnad Ahmad
10
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
Musnad Ahmad
11
(25) CHAPTER. To shroud one with (the price of) all of one's property.
کفن کی تیاری میت کے سارے مال میں سے کرنا چاہیے
Sahih Bukhari
12
(38) CHAPTER. The superiority of one who prepares a Ghazi (fighter for Jihad) or looks after his dependents in his absence.
جو شخص غازی کا سامان تیار کر دے یا اس کے پیچھے اس کے گھر والوں کی خبرگیری کرے ‘ اس کی فضیلت
Sahih Bukhari
13
(70) CHAPTER. Whoeever gave a bigger Walima (wedding banquet) on marrying some wives than on marrying the other wives of his.
کسی بیوی کے ولیمہ میں کھانا زیادہ تیار کرنا کسی کے ولیمہ میں کم ، جائز درست ہے ۔
Sahih Bukhari
14
(83) CHAPTER. To treat one's family in a polite and kind manner.
اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرنا ۔
Sahih Bukhari
15
(86) CHAPTER. To prepare the meals and to trouble oneself for the guest.
مہمان کے لئے پرتکلف کھانا تیار کرنا
Sahih Bukhari
16
Chapter: The deceased is tormented because of his family's crying for him
میت کے گھر والوں کے رونے پراسے عذاب دیا جاتا ہے
Sahih Muslim
17
Chapter: Pilgrims staying in Makkah, and Inheriting its houses
حج کرنے والے کا مکہ میں قیام کرنا اور اس (مکہ)کے گھرو ں کا وراثت میں منتقل ہونا
Sahih Muslim
18
Chapter: The prohibition of a manumitted slave taking anyone as a Mawla except the one who manumitted him
آزاد کیے جانے والیے کی طرف سے اپنے موالی (آزاد کرنے والوں )کےسواکسی اور کی طرف نسبت اختیار کرنا حرام ہے
Sahih Muslim
19
Chapter: It is recommended to take the stones out of dates, and it is recommended for the guest to pray for the host and to ask a righteous guest to supplicate, and he should respond to that request
کھجور کھا تے وقت گٹھلیاں علیحدہ رکھنا مہمان کا کھانا کھلا نے والوں کے لیے دعا کرنا نیک مہمان سے دعا کی درخواست کرنا اور اس (مہمان) کی طرف سے اس درخواست کو قبول کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
20
باب: کیا اچانک مر جانے والے کی طرف سے اس کے گھر والوں کا صدقہ کرنا مستحب ہے؟
Sunnan Nisai
21
Chapter: What Has Been Related About The Oath Along With A Witness
باب: ایک گواہ کے ساتھ مدعی قسم کھانا دعویٰ کو ثابت کرنا ہے
Jam e Tirmazi
22
بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ
رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے مناقب کا بیان
Mishkat
23
نماز خوف کی ساتویں صورت ایک گروہ کا پہلی رکعت میں قیام سے لے کر پہلے سجدے تک امام کے ساتھ شریک ہونا اور دوسرے گروہ کا اُسی رکعت کے دوسرے سجدے میں شریک ہونا، پھر ’’دوسری رکعت‘‘ میں سب کا امام کے ساتھ شرکت کرنا
Musnad Ahmad
24
کافر کی میت کے لیے کھڑے ہونا
Musnad Ahmad
25
معیشت میں میانہ روی اختیار کرنا
Musnad Ahmad
26
اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے ثواب اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں تیار کیے گئے اجر ِ عظیم اور ہمیشہ کی نعمت کا بیان
Musnad Ahmad
27
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
Musnad Ahmad
28
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
Musnad Ahmad
29
ہجرت کے راستے میں سعد رہنما کی بات کا بیان، بنو اسلم کے دو چوروں کا مسلمان ہونا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قباء میں بنو عمرو بن عوف کے پاس اترنا
Musnad Ahmad
30
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آپ کی بعض ازواج کا حیلہ کرنے کا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کی ایذائوں کو برداشت کرنے، ان سے درگزر کرنے اور گھر کے اندر انکساری کا رویہ اختیار کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
31
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
Musnad Ahmad
32
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
Musnad Ahmad
33
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
Musnad Ahmad
34
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
Musnad Ahmad
35
حشر والوں کے لیے شفاعت عظمیٰ کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ خاص ہونا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سب سے پہلا سفارشی ہونا
Musnad Ahmad
36
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
Musnad Ahmad
37
(25) CHAPTER. The Prophet urged the people (mission) of Abdul Qais to memorize the faith and the (religious) knowledge (as he explained to them) and to inform (convey) to their people whom they have left behind (at home).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ عبدالقیس کے وفد کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ ایمان لائیں اور علم کی باتیں یاد رکھیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی خبر کر دیں
Sahih Bukhari
38
(31) CHAPTER. A man teaching (religion to) his woman-slave and his family.
اس بارے میں کہ مرد کا اپنی باندی اور گھر والوں کو تعلیم دینا ( ضروری ہے )
Sahih Bukhari
39
(42) CHAPTER. (What should one do) if the meal has been served and Iqama has been pronounced for As-Salat (the prayer).
جب کھانا حاضر ہو اور نماز کی تکبیر ہو جائے تو کیا کرنا چاہئے ؟
Sahih Bukhari
40
(82) CHAPTER. The necessity of saying the Takbir, i.e., Allahu Akbar (Allah is the Most Great) and the commencement of As-Salat (the prayer).
تکبیر کا واجب ہونا اور نماز کا شروع کرنا
Sahih Bukhari
41
(3) CHAPTER. The Prophet used to wake his family up for the Witr prayer.
وتر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر والوں کو جگانا
Sahih Bukhari
42
(5) CHAPTER. Turning out the sinners and the quarrel some people of the houses after the impropriety of their behaviour gets evident.
جب حال معلوم ہو جائے تو مجرموں اور جھگڑے والوں کو گھر سے نکال دینا
Sahih Bukhari
43
(4) CHAPTER. A partner sharing a meal should not eat two dates at a time unless he gets the permission of his partner.
دو دو کھجوریں ملا کر کھانا کسی شریک کو جائز نہیں جب تک دوسرے ساتھ والوں سے اجازت نہ لے
Sahih Bukhari
44
(57) CHAPTER. Idmar (the preparation) of horses for racing.
گھوڑ دوڑ کے لیے گھوڑوں کو تیار کرنا
Sahih Bukhari
45
(48) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Quran, O Muhammad (p.b.u.h)) the story of Maryam (Mary), when she withdrew in seclusion from her family...” (V.19:16)
سورۃ مریم میں اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ( اس ) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ۔
Sahih Bukhari
46
(4) CHAPTER. The descent of the Yemenites from Ismail (Ishmael). Among such Yemenites are the tribes of Aslam bin Afsa bin Haritha bin Amir from Khuzaa.
یمن والوں کا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں ہونا قبیلہ خزاعہ کی شاخ بنو اسلم بن افصی بن حارثہ بن عمرو بن عامر اہل یمن میں سے ہیں ۔
Sahih Bukhari
47
(41) CHAPTER. The dealing of the Prophet with the people of Khaibar.
خیبر والوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ طے کرنا
Sahih Bukhari
48
(17) CHAPTER. Equality in wealth (is not essential for the marriage). And the marriage of a poor man with a well-to-do lady.
کفائت میں مالدار ی کا لحاظ ہونا اور غریب مرد کا مالدار عورت سے نکاح کرنا ۔
Sahih Bukhari
49
(22) CHAPTER. What are the regulations concerning the property and family of a lost person?
جو شخص گم ہو جائے اس کے گھر والوں اور جائیداد میں کیا عمل ہو گا ۔
Sahih Bukhari
50
(34) CHAPTER. The separation (divorce) between those who are involved in a case of Lian.
لعان کرنے والوں میں جدائی کرنا ۔
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

2,901
Sahih Muslim
3206
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ تُصَفِّقُ، وَتَقُولُ: «كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَمَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ، مِمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ، حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ»
Masruq reported: I heard 'A'isha (Allah be pleased with her) clapping her hands behind the curtain and saying: I used to weave garlands for the sacrificial animals of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) with my own hands, and then he (the Holy Prophet) sent them (to Mecca), and he did not avoid doing anything which a Muhritn avoids until his animal was sacrificed.
اسما عیل بن ابی خالد نے ہمیں خبردی انھوں نے شعبی سے اور انھوں نے مسروق سے روایت کی ، انھوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ پردے کی اوٹ سے ہاتھ پر ہا تھ مار رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں میں اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر با نیوں کے ہار بٹا کرتی تھی ، پھر آپ انھیں ( مکہ ) بھیجتے اور ہدی کو ذبح کرنے ( کے وقت ) تک آپ ان میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ فر ما تے جس سے احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے
Sahih Muslim
4328
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ: «وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ» إِلَّا فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فَإِنَّهُمَا ذَكَرَا هَذَا الْحَرْفَ فِي الْحَدِيثِ، وَقَالَا: لَا نَدْرِي أَهُوَ شَيْءٌ فِي الْحَدِيثِ، أَوْ قَالَهُ نَافِعٌ مِنْ قِبَلِهِ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ أَحَدٍ مِنْهُمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ
This hadith has been narrated through another chain of transmitters with a slight variation of words.
لیث بن سعد ، یحییٰ بن سعید ، ایوب ، اسماعیل بن امیہ ، ابن ابی ذئب اور اسامہ بن زید سب نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی ، ایوب اور یحییٰ بن سعید کی حدیث کے سوا ان میں سے کسی کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں : " اور اگر اس کے پال مال نہیں تو وہ جتنا آزاد ہو چکا تھا اتنا ہی آزاد رہے گا ۔ " اور انہی دونوں نے یہ جملہ کہا اور ان دونوں ( ایوب اور یحییٰ ) نے یہ بھی کہا : ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یہ حدیث کا حصہ ہے یا نافع نے اپنی طرف سے کہا ہے ۔ اور لیث بن سعد کی حدیث کے سوا ان میں سے کسی کی روایت میں سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ( میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےسنا ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔
Sunnan Ibn e Maja
256
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُعَاذٍ الْبَصْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُعَاذٍ الْبَصْرِيّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحُزْنِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جُبُّ الْحُزْنِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ تَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّمُ كُلَّ يَوْمٍ أَرْبَعَ مِائَةِ مَرَّةٍ ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ يَدْخُلُهُ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أُعِدَّ لِلْقُرَّاءِ الْمُرَائِينَ بِأَعْمَالِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الْقُرَّاءِ إِلَى اللَّهِ الَّذِينَ يَزُورُونَ الْأُمَرَاءَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْمُحَارِبِيُّ:‏‏‏‏ الْجَوَرَةَ.
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'Seek refuge with Allah from the pit of grief.' They said: 'O Messenger of Allah, what is the pit of grief?' He said: 'A valley in Hell from which Hell itself seeks refuge four hundred times each day.' It was said: 'O Messenger of Allah, who will enter it?' He said: 'It has been prepared for reciters of the Qur'an who want to show off their deeds. The most hateful of reciters of the Qur'an to Allah are those who visit the rulers.' (Da'if) Other chains of narrators.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جب الحزن» سے اللہ کی پناہ مانگو ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! «جب الحزن» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم ہر روز چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس میں کون لوگ داخل ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ان قراء کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اپنے اعمال میں ریاکاری کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین قاری وہ ہیں جو مالداروں کا چکر کاٹتے ہیں ۔ محاربی کہتے ہیں: امراء سے مراد ظالم حکمران ہیں۔
Sunnan Ibn e Maja
3233
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ أَكْلُ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ حَرَامٌ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said: “Eating any predatory animal that has fangs is unlawful.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر کچلی ( نوک دار دانت ) والے درندے کا کھانا حرام ہے ۔
Sunnan Ibn e Maja
3525
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ هِشَامٍ الْبَغْدَادِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏‏‏‏ عَنْ مَنْصُورٍ،‏‏‏‏ عَنْ مِنْهَالٍ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ،‏‏‏‏ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ أَبُونَا إِبْرَاهِيمُ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيل وَإِسْحَاق أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ إِسْمَاعِيل وَيَعْقُوبَ،‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ.
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Prophet (ﷺ) used to seek refuge for Hasan and Husain and say: A’udhu bi kalimatil-lahil- tammati, min kulli shaitanin wa hammah, wa min kulli ‘aynin lammah (I seek refuge for you both in the Perfect Words of Allah, from every devil and every poisonous reptile, and from every evil eye).’ And he would say: ‘Thus Ibrahim used to seek refuge with Allah for Isma’il and Ishaq,’ or he said: ‘for Isma’il and Ya’qub.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین ( رضی اللہ عنہما ) پر دم فرماتے تو کہتے: «أعوذ بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے ( سانپ، بچھو وغیرہ ) اور ہر نظر بد والی آ نکھ سے ، اور فرماتے: ہمارے والد ابراہیم علیہ السلام بھی اسی کے ذریعہ اسماعیل و اسحاق علیہما السلام پر دم فرماتے تھے یا کہا: اسماعیل اور یعقوب علیہما السلام پر ۔ یہ حدیث وکیع کی ہے۔
Jam e Tirmazi
2
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ، ‏‏‏‏‏‏أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ‏‏‏‏‏‏خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ أَوْ نَحْوَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ حَدِيثُ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُهَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَبُو صَالِحٍ وَالِدُ سُهَيْلٍ هُوَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْمُهُ ذَكْوَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو هُرَيْرَةَ اخْتُلِفَ فِي اسْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ عَبْدُ شَمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَالَ:‏‏‏‏ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل وَهُوَ الْأَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ،‏‏‏‏ وَثَوْبَانَ،‏‏‏‏ وَالصُّنَابِحِيِّ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ،‏‏‏‏ وَسَلْمَانَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ وَالصُّنَابِحِيُّ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ لَيْسَ لَهُ سَمَاعٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏رَحَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الطَّرِيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَالصُّنَابِحُ بْنُ الْأَعْسَرِ الْأَحْمَسِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ الصُّنَابِحِيُّ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا حَدِيثُهُ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ فَلَا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: When a Muslim, or believer, performs Wudu', washing his face, every evil that he looked at with his eyes leaves with the water - or with the last drop of water, or an expression similar to that - and when he washes his hands, every evil he did with his hands leaves with the water - or with the last drop of water - until he becomes free of sin.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں ۱؎، جو اس کی آنکھوں نے کیے تھے یا اسی طرح کی کوئی اور بات فرمائی، پھر جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں جو اس کے ہاتھوں سے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک و صاف ہو کر نکلتا ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۳؎، ۲- اس باب میں عثمان بن عفان، ثوبان، صنابحی، عمرو بن عبسہ، سلمان اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صنابحی جنہوں نے ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ان کا سماع رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے نہیں ہے، ان کا نام عبدالرحمٰن بن عسیلہ، اور کنیت ابوعبداللہ ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس سفر کیا، راستے ہی میں تھے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کی ہیں۔ اور صنابح بن اعسرا حمسی صحابی رسول ہیں، ان کو صنابحی بھی کہا جاتا ہے، انہی کی حدیث ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں تمہارے ذریعہ سے دوسری امتوں میں اپنی اکثریت پر فخر کروں گا تو میرے بعد تم ہرگز ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا“۔
Jam e Tirmazi
3
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ،‏‏‏‏ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ:‏‏‏‏ هُوَ صَدُوقٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ وَالْحُمَيْدِيُّ يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ
Ali narrated that : the Prophet, said: The key to Salat is the purification, its Tahrlm is the Takblr, and its Tahlil is the Taslim.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کنجی وضو ہے، اور اس کا تحریمہ صرف «اللہ اکبر» کہنا ہے ۱؎ اور نماز میں جو چیزیں حرام تھیں وہ «السلام علیکم ورحمة اللہ» کہنے ہی سے حلال ہوتی ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے، ۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل صدوق ہیں ۳؎، بعض اہل علم نے ان کے حافظہ کے تعلق سے ان پر کلام کیا ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ احمد بن حنبل، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ اور حمیدی: عبداللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے حجت پکڑتے تھے، اور وہ مقارب الحدیث ۴؎ ہیں، ۳- اس باب میں جابر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
30
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَمَّارٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَأُمِّ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ أَبِي أَوْفَى،‏‏‏‏ وَأَبِي أَيُّوبَ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ وسَمِعْت إِسْحَاق بْنَ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ:‏‏‏‏ لَمْ يَسْمَعْ عَبْدُ الْكَرِيمِ مِنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ حَدِيثَ التَّخْلِيلِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ محمد بْنُ إِسْمَاعِيل:‏‏‏‏ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي وَائِلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُثْمَانَ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ وقَالَ بِهَذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ بَعْدَهُمْ رَأَوْا تَخْلِيلَ اللِّحْيَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ إِنْ سَهَا عَنْ تَخْلِيلِ اللِّحْيَةِ فَهُوَ جَائِزٌ،‏‏‏‏ وقَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ إِنْ تَرَكَهُ نَاسِيًا أَوْ مُتَأَوِّلًا أَجْزَأَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ تَرَكَهُ عَامِدًا أَعَادَ.
(In another narration) Ammar narrated : the same from the Prophet.
اس سند سے بھی عمار بن یاسر سے اوپر ہی کی حدیث کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عثمان، عائشہ، ام سلمہ، انس، ابن ابی اوفی اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے زیادہ صحیح حدیث عامر بن شقیق کی ہے، جسے انہوں نے ابووائل سے اور ابووائل نے عثمان رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ، ۳- صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں، ان لوگوں کی رائے ہے کہ داڑھی کا خلال ( مسنون ) ہے اور اسی کے قائل شافعی بھی ہیں، احمد کہتے ہیں کہ اگر کوئی داڑھی کا خلال کرنا بھول جائے تو وضو جائز ہو گا، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی بھول کر چھوڑ دے یا خلال والی حدیث کی تاویل کر رہا ہو تو اسے کافی ہو جائے گا اور اگر قصداً جان بوجھ کر چھوڑے تو وہ اسے ( وضو کو ) لوٹائے۔
Jam e Tirmazi
56
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ،‏‏‏‏ وَعَليُّ بْنُ حُجْرٍ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنْ سَفِينَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ . قال:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سَفِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو رَيْحَانَةَ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَطَرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ الْوُضُوءَ بِالْمُدِّ وَالْغُسْلَ بِالصَّاعِ،‏‏‏‏ وقَالَ الشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ لَيْسَ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى التَّوَقِّي أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَكْثَرُ مِنْهُ وَلَا أَقَلُّ مِنْهُ وَهُوَ قَدْرُ مَا يَكْفِي.
Safinah narrated: The Prophet would perform Wudu with a Mudd, and he would perform Ghusl with a Sa.
سفینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع پانی سے غسل فرماتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفینہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، جابر اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کی رائے یہی ہے کہ ایک مد پانی سے وضو کیا جائے اور ایک صاع پانی سے غسل، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کا مقصود تحدید نہیں ہے کہ اس سے زیادہ یا کم جائز نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ مقدار ایسی ہے جو کافی ہوتی ہے ۲؎۔