TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2605 - بَابٌ الدَّفْعُ مِنْ عَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ - افعال حج کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 14 in this chapter
بَابٌ الدَّفْعُ مِنْ عَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ
عرفات اور مزدلفہ سے واپسی کا بیان
وَعَن ابنِ عبَّاسٍ أَنَّهُ دَفَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ زَجْرًا شَدِيدًا وَضَرْبًا لِلْإِبِلِ فَأَشَارَ بِسَوْطِهِ إِلَيْهِمْ وَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن وہ نبی ﷺ کے ساتھ واپس آ رہے تھے کہ نبی ﷺ نے اپنے پیچھے اونٹوں کو بہت مارنے اور ڈانٹنے کی آوازیں سنیں تو آپ نے اپنے کوڑے سے ان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا :’’ لوگو ! سکینت اختیار کرو کیونکہ سواریوں کو تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
2605
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ البخاری (۱۶۷۱) ۔

Related Chapters

91
1
(18) CHAPTER. If there are many travellers, Adhan and Iqama should be pronounced, (the same is to be observed) in Arafat and Al-Muzdalifa too.
اگر کئی مسافر ہوں تو نماز کے لیے اذان دیں اور تکبیر بھی کہیں اور عرفات اور مزدلفہ میں بھی ایسا ہی کریں
Sahih Bukhari
2
(93) CHAPTER. To dismount between Arafat and Jam (i.e., Al-Muzdalifa) (because of a necessity).
عرفات اور مزدلفہ کے درمیان اترنا
Sahih Bukhari
3
Chapter: Departing from 'Arafat to Al-Muzdalifah. It is recommended to pray Maghrib and 'Isha together in Al-Muzdalifah on this night
عرفات سے مزدلفہ آنا اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں اکٹھی ادا کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
4
مزدلفہ کی رات میں فجر سے پہلے عرفات آنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
5
ضرورت پڑنے پر عرفات اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
6
باب: عورتوں کے لیے مزدلفہ سے صبح ہونے سے پہلے واپسی کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
7
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day of Arafah While At Arafat
باب: میدان عرفات میں یوم عرفہ کے روزے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Standing At Arafat Supplicating There
باب: عرفات میں ٹھہرنے اور دعا کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About: All of Arafat Is A Place For Standing
باب: پورا عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Departed From Arafat
باب: عرفات سے لوٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Combining Maghrib and Isha At Muzdalifah
باب: مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کر کے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About: Whoever Sees The Imam At Jam Then He Has Attended the Hajj
باب: جس نے امام کو مزدلفہ میں پا لیا، اس نے حج کو پا لیا
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About The Weak Departing Early From Jam During The Night
باب: مزدلفہ سے کمزوروں (عورتوں اور بچوں) کو رات ہی میں بھیج دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About: Departing From Jam'is before The Rising Of the Sun
باب: سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے لوٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
بَاب الْوُقُوف بِعَرَفَة
وقوف عرفات کا بیان
Mishkat
16
ان دونوں کی مشروعیت کے سبب، ان کے لیے غسل اور تجمّل کے مستحب ہونے اور واپسی پر راستہ تبدیل کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
17
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
Musnad Ahmad
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
Musnad Ahmad
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
Musnad Ahmad
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
Musnad Ahmad
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
Musnad Ahmad
24
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
Musnad Ahmad
25
جعرانہ کے مقام پر حنین کی غنیمتوں کی تقسیم، بنو ہوازن کے وفد کی مسلمان ہو کر آمد اور ان کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے قیدیوں اور اموال کی واپسی کی درخواست کا بیان
Musnad Ahmad
26
عمرۂ جعرانہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ کی طرف واپسی کا بیان
Musnad Ahmad
27
قیامِ تبوک کے دوران نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا صحابہ کرام کو فارس اورروم کی فتح کی بشارت دینے کا بیان اور ان خصوصیات کا بیان، جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تبوک میں نوازا اور تبوک سے واپسی پر منافقین کی ریشہ دوانیوں کا بیان
Musnad Ahmad
28
تبوک سے صحابہ کرام کی واپسی کا تذکرہ، یہ واپسی کئی امور پر مشتمل ہے
Musnad Ahmad
29
(14) CHAPTER. Whoever hates to revert to Kufr (atheism or disbelief) as he hates to be thrown in fire, is a part of faith.
جو آدمی کفر کی طرف واپسی کو آگ میں گرنے کے برابر سمجھے ، تو اس کی یہ روش بھی ایمان میں داخل ہے
Sahih Bukhari
30
(59) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayer) when returning from a journey.
سفر سے واپسی پر نماز پڑھنے کے بیان میں
Sahih Bukhari
31
(12) CHAPTER. To say Takbir on the days of Mina and while proceeding to Arafat.
تکبیر منیٰ کے دنوں میں اور جب نویں تاریخ کو عرفات میں جائے
Sahih Bukhari
32
(70) CHAPTER. Whoever did not go near the Kabah and did not perform Tawaf of the Kabah after the first Tawaf performed on entering Makkah to till he proceeded to Arafat and returned.
جو شخص پہلے طواف یعنی طواف قدوم کے بعد پھر کعبہ کے نزدیک نہ جائے اور عرفات میں حج کرنے کے لیے جائے
Sahih Bukhari
33
(86) CHAPTER. The recitation of Talbiya and Takbir while proceeding from Mina to Arafat.
صبح کے وقت منی سے عرفات جاتے ہوئے لبیک اور تکبیر کہنے کا بیان
Sahih Bukhari
34
(88) CHAPTER. Staying on one's riding animal at Arafat.
عرفات میں جانور پر سوار ہو کر وقوف کرنا
Sahih Bukhari
35
(89) CHAPTER. To offer the two Salat together at [the Zuhr (prayer) and the Asr (prayer)] at Arafat.
عرفات میں دو نمازوں ( ظہر اور عصر ) کو ملا کر پڑھنا
Sahih Bukhari
36
(90) CHAPTER. To shorten the Khutba on the Day of Arafa.
میدان عرفات میں خطبہ مختصر دینا
Sahih Bukhari
37
(91) CHAPTER. The staying at Arafat.
میدان عرفات میں ٹھہرنے کا بیان
Sahih Bukhari
38
(92) CHAPTER. One's speed while one is departing from Arafat.
عرفات سے لوٹتے وقت کس چال سے چلے
Sahih Bukhari
39
(94) CHAPTER. The order of the Prophet that people should be calm and patient on proceeding (from Arafat) and the waving of his lash towards them.
عرفات سے لوٹتے وقت رسول اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کو سکون و اطمینان کی ہدایت کرنا اور کوڑے سے اشارہ کرنا
Sahih Bukhari
40
(95) CHAPTER. The offering of two Salat (prayer) together at Al-Muzdalifa.
مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ساتھ ملا کر پڑھنا
Sahih Bukhari
41
(96) CHAPTER. Whoever combined (offered together) the two prayer (Maghrib and Isha prayer) at one time and did not offer any optional prayer.
مغرب اور عشاء مزدلفہ میں ملا کر پڑھنا اور سنت وغیرہ نہ پڑھنا
Sahih Bukhari
42
(98) CHAPTER. Whosoever sent the weak amongst his family (women and children) early (from Al-Muzdalifa to Mina) at night after the moon had set. They stayed at Al-Muzdalifa and invoked Allah there and proceeded from there when the moon had set.
عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات میں آگے منی روانہ کر دینا ، وہ مزدلفہ میں ٹھہریں اور دعا کریں اور چاند ڈوبتے ہی چل دیں
Sahih Bukhari
43
(99) CHAPTER. At what time is the Fajr prayer to be offered at Jam (i.e., Al-Muzdalifa)?
فجر کی نماز مزدلفہ ہی میں پڑھنا
Sahih Bukhari
44
(100) CHAPTER. When to depart from Jam (i.e., Al-Muzdalifa).
مزدلفہ سے کب چلا جائے ؟
Sahih Bukhari
45
(148) CHAPTER. To camp at Dhi-Tuwa before entering Makkah and to camp at Al-Batha which is at Dhul-Hulaifa on returning from Makkah (to Al-Madina).
مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ذی طویٰ میں قیام کرنا اور مکہ سے واپسی میں ذی الحلیفہ کے کنکریلے میدان میں قیام کرنا
Sahih Bukhari
46
(12) CHAPTER. What should one say on returning from Hajj, Umra and Ghazwa?
حج ، عمرہ یا جہاد سے واپسی پر کیا دعا پڑھی جائے
Sahih Bukhari
47
(20) CHAPTER. A Muhrim died at Arafat and the prophet did not order anybody to finish the remaining ceremonies of Hajj on his behalf.
اگر محرم عرفات میں مر جائے
Sahih Bukhari
48
(11) CHAPTER. If the oppressed person forgives the oppressor, he has no right to back out ( of his forgiveness).
جب کسی ظلم کو معاف کر دیا تو پھر واپسی کا مطابہ باقی نہیں رہتا
Sahih Bukhari
49
(198) CHAPTER. The performance of Salat (prayer) on returning from a Journey.
سفر سے واپسی پر نفل نماز ( بطور نماز شکرادا کرنا )
Sahih Bukhari
50
(52) CHAPTER. The invocation while going on a journey or returning from a journey.
سفر میں جاتے وقت یا سفر سے واپسی کے وقت دعا کرنا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

15
Sahih Bukhari
1671
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى وَالِبَةَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ دَفَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ زَجْرًا شَدِيدًا وَضَرْبًا وَصَوْتًا لِلْإِبِلِ ، فَأَشَارَ بِسَوْطِهِ إِلَيْهِمْ ، وَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ أَوْضَعُوا أَسْرَعُوا خِلَالَكُمْ مِنَ التَّخَلُّلِ بَيْنَكُمْ ، وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا بَيْنَهُمَا .
Narrated Ibn `Abbas.: I proceeded along with the Prophet on the day of `Arafat (9th Dhul-Hijja). The Prophet heard a great hue and cry and the beating of camels behind him. So he beckoned to the people with his lash, O people! Be quiet. Hastening is not a sign of righteousness.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سوید نے بیان کیا، کہا مجھ سے مطلب کے غلام عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا، انہیں والیہ کوفی کے غلام سعید بن جبیر نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنما نے بیان کیا کہ عرفہ کے دن ( میدان عرفات سے ) وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سخت شور ( اونٹ ہانکنے کا ) اور اونٹوں کی مار دھاڑ کی آواز سنی تو آپ نے ان کی طرف اپنے کوڑے سے اشارہ کیا اور فرمایا کہ لوگو! آہستگی و وقار اپنے اوپر لازم کر لو، ( اونٹوں کو ) تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ( سورۃ البقرہ میں ) «أوضعوا» کے معنی ریشہ دوانیاں کریں، «خلالكم» کا معنی تمہارے بیچ میں، اسی سے ( سورۃ الکہف ) میں آیا ہے «وفجرنا خلالهما‏» یعنی ان کے بیچ میں۔
Mishkat
2610
وَعَن الفضلِ بن عبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا: «عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ» وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةَ» . وَقَالَ: لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ. رَوَاهُ مُسلم
ابن عباس ؓ ، فضل بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے کہ آپ ﷺ نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں سے ، جبکہ وہ واپس آ رہے تھے ، فرمایا :’’ آرام سے آؤ ۔‘‘ جبکہ آپ اپنی اونٹنی کو (تیز چلنے سے) روک رہے تھے ، حتی کہ آپ وادی محسر میں داخل ہو گئے جو کہ منیٰ کے قریب ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’جمرہ کی رمی کرنے کے لیے چھوٹی چھوٹی کنکریاں لے لو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ جمرہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پکارتے رہے ۔ رواہ مسلم ۔
Sahih Bukhari
635
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : مَا شَأْنُكُمْ ؟ ، قَالُوا : اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : فَلَا تَفْعَلُوا ، إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ، فما أدركْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا .
Narrated `Abdullah bin Abi Qatada: My father said, While we were praying with the Prophet he heard the noise of some people. After the prayer he said, 'What is the matter?' They replied 'We were hurrying for the prayer.' He said, 'Do not make haste for the prayer, and whenever you come for the prayer, you should come with calmness, and pray whatever you get (with the people) and complete the rest which you have missed.
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے والد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کے چلنے پھرنے اور بولنے کی آواز سنی۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا قصہ ہے لوگوں نے کہا کہ ہم نماز کے لیے جلدی کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔ بلکہ جب تم نماز کے لیے آؤ تو وقار اور سکون کو ملحوظ رکھو، نماز کا جو حصہ پاؤ اسے پڑھو اور اور جو رہ جائے اسے ( بعد ) میں پورا کر لو۔
Sahih Bukhari
636
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا سَمِعْتُمُ الْإِقَامَةَ فَامْشُوا إِلَى الصَّلَاةِ وَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ وَلَا تُسْرِعُوا ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, When you hear the Iqama, proceed to offer the prayer with calmness and solemnity and do not make haste. And pray whatever you are able to pray and complete whatever you have missed.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی ذئب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام زہری نے سعید بن مسیب سے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سند) اور زہری نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ تکبیر کی آواز سن لو تو نماز کے لیے ( معمولی چال سے ) چل پڑو۔ سکون اور وقار کو ( بہرحال ) پکڑے رکھو اور دوڑ کے مت آؤ۔ پھر نماز کا جو حصہ ملے اسے پڑھ لو، اور جو نہ مل سکے اسے بعد میں پورا کر لو۔
Silsila Sahih
3172
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ وَكَان مِن أَصحَاب رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَهُ رَجُل: كَيْفَ كَانَ أَوَّلُ شَأْنِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: كَانَتْ حَاضِنَتِي مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنٌ لَهَا فِي بَهْمٍ لَنَا، وَلَمْ نَأْخُذْ مَعَنَا زَادًا فَقُلْتُ: يَا أَخِي! اذْهَبْ فَأْتِنَا بِزَادٍ مِّنْ عِنْدِ أُمِّنَا فَانْطَلَقَ أَخِي وَمَكَثْتُ عِنْدَ الْبَهْمِ فَأَقْبَلَ طَيْرَانِ أَبْيَضَانِ كَأَنَّهُمَا نَسْرَانِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَهُوَ هُوَ؟ قَالَ الآخر: نَعَمْ فَأَقْبَلَا يَبْتَدِرَانِي فَأَخَذَانِي فَبَطَحَانِي لِلْقَفَا فَشَقَّا بَطْنِي ثُمَّ اسْتَخْرَجَا قَلْبِي فَشَقَّاهُ فَأَخْرَجَا مِنْهُ عَلَقَتَيْنِ سَوْدَاوَيْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: ائْتِنِي بِمَاءِ ثَلْجٍ فَغَسَلَ بِهِ جَوْفِي ثُمَّ قَالَ: ائْتِنِي بِمَاءِ بَرَدٍ فَغَسَلَ بِهِ قَلْبِي ثُمَّ قَالَ: ائْتِنِي بِالسَّكِينَةِ فَذَرَه فِي قَلْبِي ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: حِصْهُ فَحَاصَهُ وَخَتَمَ عَلَيْهِ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اجْعَلْهُ فِي كِفَّةٍ وَاجْعَلْ أَلْفًا مِّنْ أُمَّتِهِ فِي كِفَّةٍ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فَإِذَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْأَلْفِ فَوْقِي أُشْفِقُ أَنْ يَخِرَّ عَلَيَّ بَعْضُهُمْ فَقَالَ: لَوْ أَنَّ أُمَّتَهُ وُزِنَتْ بِهِ لَمَالَ بِهِمْ ثُمَّ انْطَلَقَا وَتَرَكَانِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : وَفَرِقْتُ فَرَقًا شَدِيدًا ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى أُمِّي فَأَخْبَرْتُهَا بِالَّذِي لَقِيتُ فَأَشْفَقَتْ عَلَيَّ أَنْ يَّكُونَ قَد ألْتبِسَ بِي، فَقَالَتْ: أُعِيذُكَ بِاللهِ فَرَحَلَتْ بَعِيرًا لَهَا فَجَعَلَتْنِي عَلَى الرَّحْلِ وَرَكِبَتْ خَلْفِي حَتَّى بَلَغْنَا إِلَى أُمِّي فَقَالَتْ: أَوَأَدَّيْتُ أَمَانَتِي وَذِمَّتِي؟ وَحَدَّثَتْهَا بِالَّذِي لَقِيتُ فَلَمْ يَرُعْهَا ذَلِكَ وَقَالَتْ: إِنِّي رَأَيْتُ خَرَجَ مِنِّي - يعني- نُورًا أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ.
عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا ابتدائی معاملہ کیا تھا؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری رضاعی والدہ بنی سعد بن بکر سے تھی، میں اور اس کا بیٹا ریوڑ چراتے ہوئے نکلے، ہم نے اپنے ساتھ کھانا نہیں لیا تھا۔ میں نے کہا: بھائی جان! جاؤ،امی جان سے کھانا لے آؤ۔ میرا بھائی چلا گیا اور میں ریوڑ کے پاس ٹھہر گیا دو سفید پرندے اڑتے ہوئے آئے گویا کہ وہ ستارے ہوں، ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: کیا یہی وہ بچہ ہے؟ دوسرے نے کہا: ہاں، وہ دونوں جلدی جلدی میری طرف آئےاور مجھے پکڑ لیا، اور گدی کے بل زمین پر لٹا دیا۔ دونوں نے میرا پیٹ چیر کر میرا دل نکال لیا ،پھر دل کو چیرا اور اس سے دو سیاہ ٹکڑے نکالے ایک نے دوسرے سے کہا: برف کا پانی دو۔ پھر اس نے میرا پیٹ دھویا، پھر کہا: مجھے اولوں کا پانی دو۔ پھر اس سے میرا دل دھویا، پھر کہا: میرے پاس سکینت لاؤ۔پھر اسے میرے دل میں اتارا اور ایک نے دوسرے ساتھی سے کہا۔ اسے سی دو (ٹانکے لگادو)اس نے سی دیا اور نبوت کی مہر لگا دی۔پھر ایک نے دوسرے سے کہا: اسے ایک پڑیے میں رکھو ، اور اس کی امت کے ایک ہزار لوگ دوسرے پلڑے میں رکھو، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں اپنے اوپر ایک ہزار آدمی دیکھنے لگا اور ڈر رہا تھا کہ ان میں سے کوئی میرے اوپر نہ گر جائے ۔اس نے کہا؛ اگر اس کی تمام امت کا وزن اس سے کیا جائے تب بھی یہ ان پر بھاری رہے گا۔ پھر وہ دونوں چلے گئے اور مجھے چھوڑ دیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں بری طرح ڈر گیا، پھر اپنی ماں کے پاس آیا۔ اور جو میرے ساتھ ہوا تھا انہیں بتایا۔ انہیں ڈر ہوا کہ کہیں میری عقل میں کچھ خلل نہ آگیا ہو۔ کہنے لگیں: میں تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتی ہوں۔ پھر اپنے اونٹ پر کجاوہ کسا اور مجھے کجاوے پر بٹھا کر میرے پیچھے سوار ہو گئیں حتی کہ ہم امی جان کے پاس آگئے ۔کہنے لگیں:کیا میں نے اپنی امانت اور اپنا ذمہ ادا کردیا ہے ، اور انہیں میرے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بیان کیا۔ وہ اس بات سے خوفزدہ نہیں ہوئیں اور کہنے لگیں: (حمل کے دوران) میں نے ایک نور (روشنی) دیکھا جو میرے اندر سے نکل رہا تھا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔
Jam e Tirmazi
886
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَبِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَزَادَ فِيهِ بِشْرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ فِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ لَعَلِّي:‏‏‏‏ لَا أَرَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Jabir narrated: The Prophet hurried through Wadi Muhassir. Bishr (one of the narrators) added: He departed from Jam calmly and he ordered them (the people) to be calm. And Abu Nu'aim (one of the narrators) added: And he ordered them to do the stoning with what was similar to pebbles for Al-Khadhf' And he said: Perhaps I will not see you after this year.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی محسر میں تیز چال چلے۔ ( بشر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ) آپ مزدلفہ سے لوٹے، آپ پرسکون یعنی عام رفتار سے چل رہے تھے، لوگوں کو بھی آپ نے سکون و اطمینان سے چلنے کا حکم دیا۔ ( اور ابونعیم کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ) آپ نے انہیں ایسی کنکریوں سے رمی کرنے کا حکم دیا جو دو انگلیوں میں پکڑی جا سکیں، اور فرمایا: ”شاید میں اس سال کے بعد تمہیں نہ دیکھ سکوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Mishkat
2611
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَقَالَ: «لَعَلِّي لَا أَرَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا» . لَمْ أَجِدْ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الصَّحِيحَيْنِ إِلَّا فِي جَامِعِ التِّرْمِذِيِّ مَعَ تقديمٍ وَتَأْخِير
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ مزدلفہ سے واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ پر سکینت و اطمینان تھا ، اور آپ نے صحابہ کو بھی آرام سے چلنے کا حکم فرمایا ، جبکہ وادی محسر میں آپ تیز چلے اور انہیں حکم فرمایا کہ انگلی پر رکھ کر ماری جانے والی کنکری کے برابر کنکریاں مارو ، اور فرمایا :’’ شاید اس سال کے بعد میں تمہیں نہ دیکھ سکوں ۔‘‘ میں نے یہ حدیث تقدیم و تاخیر کے ساتھ جامع ترمذی کے علاوہ صحیحین میں نہیں پائی ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Sahih Bukhari
638
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي وَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ، تَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ .
Narrated `Abdullah bin Abi Qatada: My father said, Allah's Apostle said, 'If the Iqama is pronounced, then do not stand for the prayer till you see me (in front of you) and do it calmly.'
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوقتادہ حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کی تکبیر ہو تو جب تک مجھے دیکھ نہ لو کھڑے نہ ہو اور آہستگی کو لازم رکھو۔ شیبان کے ساتھ اس حدیث کو یحییٰ سے علی بن مبارک نے بھی روایت کیا ہے۔
Sahih Muslim
3089
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا «عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ» وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ، حَتَّى دَخَلَ مُحَسِّرًا - وَهُوَ مِنْ مِنًى - قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ» وَقَالَ: «لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي، حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ»
Ibn 'Abbas narrated from al-Fadl b. Abbas (Allah be pleased with them) who sat behind Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he (the Holy Prophet) said to the people on the evening of 'Arafa and on the morning to the gathering of people (at Muzdalifa) as they were pushing on to proceed slowly. And he himself drove his she-camel with restraint until he entered Muhassir (it is a place in Mina), and further told them to take up pebbles which were to be thrown at Jamra. And Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) continued pronouncing Talbiya till he stoned the Jamra.
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلا م ابو معبد نے ( عبد اللہ ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( ساتھ اونٹنی پر ) پیچھے سوار تھے آپ نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں کے چلنے کے وقت انھیں تلقین کی : سکون سے ( چلو ) "" اور آپ اپنی اونٹنی کو ( تیز چلنے سے ) روکے ہو ئے تھے حتیٰ کہ آپ وادی محسر میں دا خل ہوئے ۔ ۔ ۔ وہ منیٰ ہی کا حصہ ہے ۔ ۔ ۔ آپ نے فرما یا : "" تم ( دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر ) ماری جا نے والی کنکریاں ضرور لے لو جن سے جمرہ عقبہ کورمی کی جا ئے گی ۔ "" ( فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکا رتے رہے ۔