TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2822 - بَاب الرِّبَا - خرید و فروخت کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 16 of 27 in this chapter
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حیوان کے بدلے حیوان کی ادھار بیع سے منع فرمایا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
2822
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
صحیح ، رواہ الترمذی (۱۲۳۷ وقال : حسن صحیح) و ابوداؤد (۳۳۵۶) و النسائی (۷ / ۲۹۲ ح ۴۶۲۴) و ابن ماجہ (۲۲۷۰) و الدارمی (۲ / ۲۵۴ ح ۲۵۶۷) ۔

Related Chapters

63
1
Chapter: What Has Been Related About Performing Raml From The (Black) Stone To The (Black) Stone
باب: حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Touching The (Black) Stone And The Yemeni Corner And Not The Other Corner
باب: بیت اللہ کے دوسرے کونوں کو چھوڑ کر صرف حجر اسود اور رکن یمانی کے استلام کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Kissing The (Black) Stone
باب: حجر اسود کو بوسہ لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Black Stone, Its Corner, And The Maqam
باب: حجر اسود، رکن یمانی، اور مقام ابراہیم کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Touching The Two Corners
باب: حجر اسود اور رکن یمانی کے استلام کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Black Stone
باب: حجر اسود کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Consuming Riba
باب: سود خوری کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About One Who Makes A False Oath About His Merchandise
باب: سودے پر جھوٹی قسم کھانے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
طواف، رکن یمانی،حجراسود اور مقامِ ابراہیم کی فضیلت
Musnad Ahmad
10
حجراسود اور رکن یمانی کا استلام کرنے اور دوسرے دو کونوں کا استلام نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
11
حجراسود کا استلام کرنے،اس کو بوسہ دینے اوراس وقت کی دعا کا بیان، نیز ہجوم والا بندہ کیا کرے، اس چیز کا بیان
Musnad Ahmad
12
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
Musnad Ahmad
13
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
Musnad Ahmad
14
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
15
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
16
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
17
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
Musnad Ahmad
18
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
19
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
Musnad Ahmad
20
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
Musnad Ahmad
21
سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تاریخِ وفات اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ اور سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے شادی کرنا
Musnad Ahmad
22
دوسری زوجۂ رسول ام المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
Musnad Ahmad
23
سیدنا عمرو بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
24
سیدنا مقداد بن اسود کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
25
(73) CHAPTER. The order of banning the trade of alcoholic drinks was issued in the mosque.
مسجد میں شراب کی سوداگری کی حرمت کا اعلان کرنا
Sahih Bukhari
26
(50) CHAPTER. What is said regarding the Black Stone.
حجراسود کا بیان
Sahih Bukhari
27
(56) CHAPTER. The touching (and kissing) of the Black Stone on reaching Makkah during the first round of Tawaf of the Kabah, and doing Ramal in the first three rounds (of Tawaf).
جب کوئی مکہ میں آئے تو پہلے حجراسود کو چومے طواف شروع کرتے وقت اور تین پھیروں میں رمل کرے
Sahih Bukhari
28
(58) CHAPTER. Touching the Corner (Black Stone) with a bent-headed stick.
حجراسود کو چھڑی سے چھونا اور چومنا
Sahih Bukhari
29
(60) CHAPTER. To kiss the Black Stone.
حجراسود کو بوسہ دینا
Sahih Bukhari
30
(61) CHAPTER. Whoever pointed towards the Corner (Black Stone) on coming in front of it (while performing Tawaf).
حجراسود کے سامنے پہنچ کر اس کی طرف اشارہ کرنا ( جب چومنا نہ ہو سکے )
Sahih Bukhari
31
(62) CHAPTER. To say Takbir (Allah is the Most Great) on coming in front of the Corner (having the Black Stone).
حجراسود کے سامنے آ کر تکبیر کہنا
Sahih Bukhari
32
(11) CHAPTER. “And when they see some merchandise or some amusement [beating of Tambur (drum) etc.], they disperse headlong to it...”(V.62:11)
۔ ( سورۃ الجمعہ میں ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جب سوداگری یا تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں “
Sahih Bukhari
33
(24) CHAPTER. (The sin of) one who eats Riba (usury), its witness and its writer.
سود کھانے والا اور اس پر گواہ ہونے والا اور سودی معاملات کا لکھنے والا ، ان سب کی سزا کا بیان
Sahih Bukhari
34
(25) CHAPTER. (The sin of) the Riba-giver.
سود کھلانے والے کا گناہ
Sahih Bukhari
35
(26) CHAPTER: “Allah will destroy Riba (usury) and will give increase for Sadaqat (deeds of charity, alms). And Allah likes not the disbelievers, sinners!” (V.2:276)
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو دو چند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا ہر منکر گنہگار کو
Sahih Bukhari
36
(40) CHAPTER. The trade of cloth, the wearing of which is considered undesireable both for men and women.
ان چیزوں کی سوداگری جن کا پہننا مردوں اور عورتوں کے لیے مکروہ ہے
Sahih Bukhari
37
(72) CHAPTER. The story of Al- Aswad Al-Ansi.
اسودعنسی کا قصہ
Sahih Bukhari
38
Chapter: It is recommended to kiss the black stone during circumambulation (Tawaf)
دوران طواف حجرا سود کو بوسہ دینا مستحب ہے
Sahih Muslim
39
Chapter: It is permissible to circumambulate the Ka'bah on a camel and the like, And for one who is riding to touch the (black) stone with a crooked staff and the like.
اونٹ یا کسی اور سواری پر طواف کرنا اور سوار شخص کے لیے مڑے ہوئے سرے والی چھڑی وغیرہ (کسی بھی چیز )سے حجرا سود کا استلام کرنا جائز ہے
Sahih Muslim
40
مسلمان )بھائی کی بیع پر بیع کرنا ‘اس کے سودے پر سودا بازی کرنا ‘بھاؤ چڑھانے کے لیے قیمت لگانا اور جانور کے تھنوں میں دودھ روکنا حرام ہے
Sahih Muslim
41
مجلس (ایک جگہ موجود گی )ختم ہونے سے پہلے بیچنے یا خریدنے والے کو سودا واپس کرنے کا اختیار ہے
Sahih Muslim
42
Chapter: Riba (Usury, Interest)
سود کا بیان
Sahih Muslim
43
Chapter: Cursing the one who consumes Riba and the one who pays it
سود کھنے اور کھلانے والے پرلعنت
Sahih Muslim
44
CHAPTER: On Kissing The Black Stone.
باب: حجر اسود کو چومنا ۔
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: Regarding The One Who Consumes Riba And The One Who Pays It.
باب: سود کھانے اور کھلانے والے پر وارد وعید کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: Regarding The Abolition Of Riba.
باب: سود معاف کر دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
47
نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا لگائے اور نہ اس کے دام پر دام لگائے
Sunnan Ibn e Maja
48
سود صرف ادھار میں ہے کے قائلین کی دلیل
Sunnan Ibn e Maja
49
حرمت سود میں وارد وعید کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
50
حجر اسود کے استلام (چومنے یا چھونے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

164
Jam e Tirmazi
1237
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا قَالَ:‏‏‏‏ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فِي بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فِي بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق
Narrated Samurah: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited bartering animals on credit. He said: There are narration on this topic from Ibn 'Abbas, Jabir, Ibn 'Umar. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Samurah is Hasan Sahih Hadith. It is correct that Al-Hasan heard from Samurah, this is what 'Ali bin Al-Madini and others said. Regarding (the prohibition of) bartering animals on credit, this is acted upon according to most of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ) and others. This is the view of Sufyan Ath-Thawri and the people of Al-Kufah, and it is the view of Ahmad. Some of the people of knowledge, among the Companions of the Prophet (ﷺ) and others, permitted bartering animals for animals on credit. This is the view of Ash-Shafi'i and Ishaq.
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو جانور سے ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حسن کا سماع سمرہ سے صحیح ہے۔ علی بن مدینی وغیرہ نے ایسا ہی کہا ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس، جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا جانور کو جانور سے ادھار بیچنے کے مسئلہ میں اسی حدیث پر عمل ہے۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ احمد بھی اسی کے قائل ہیں، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے جانور کے جانور سے ادھار بیچنے کی اجازت دی ہے۔ اور یہی شافعی، اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Mishkat
804
وَعَن رِفَاعَة بن رَافع قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» . فَقَالَ: عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُصَلِّي؟ قَالَ: «إِذَا تَوَجَّهَتْ إِلَى الْقِبْلَةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَقْرَأَ فَإِذَا رَكَعَتْ فَاجْعَلْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَمَكِّنْ رُكُوعَكَ وَامْدُدْ ظَهْرَكَ فَإِذَا رَفَعْتَ فَأَقِمْ صُلْبَكَ وَارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلَى مَفَاصِلِهَا فَإِذَا سَجَدْتَ فَمَكِّنِ السُّجُودَ فَإِذَا رَفَعْتَ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى ثُمَّ اصْنَعْ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسَجْدَةٍ حَتَّى تَطْمَئِنَّ. هَذَا لَفَظُ» الْمَصَابِيحِ . وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدُ مَعَ تَغْيِيرٍ يَسِيرٍ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ مَعْنَاهُ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ قَالَ: «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَتَوَضَّأْ كَمَا أَمَرَكَ اللَّهُ بِهِ ثُمَّ تَشَهَّدْ فَأَقِمْ فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ وَإِلَّا فَاحْمَدِ اللَّهَ وَكَبِّرْهُ وَهَلله ثمَّ اركع»
رفاعہ بن رافع بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی آیا ، اس نے مسجد میں نماز پڑھی ، پھر بنی ﷺ کو سلام کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ نماز دوبارہ پڑھو ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے سکھا دیں کہ میں کیسے نماز پڑھوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم قبلہ رخ ہو جاؤ تو اللہ اکبر کہو ، پھر سورۂ فاتحہ اور جو چاہو سورت پڑھو ، جب (رکوع سے) اٹھو تو کمر سیدھی کرو اور سر اٹھاؤ حتیٰ کہ ہڈیاں اپنے جوڑوں میں واپس آ جائیں ، جب سجدہ کرو تو خوب اچھی طرح سجدہ کرو ، جب (سجدہ سے) اٹھو تو بائیں ران پر بیٹھو ، پھر ہر رکوع و سجود میں ایسے ہی کرو حتیٰ کہ اطمینان ہو جائے ۔‘‘ یہ مصابیح کے الفاظ ہیں ، امام ابوداؤد نے کچھ تبدیلی کے ساتھ اسے روایت کیا ہے ، امام ترمذی اور امام نسائی نے اسی معنی میں روایت کیا ہے ، اور ترمذی کی روایت میں ہے : فرمایا :’’ جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اللہ کی تعلیم و حکم کے مطابق وضو کرو پھر کلمہ شہادت پڑھو ، (بعض نے کہا : اذان دو) پھر اقامت کہو ، اگر تمہیں قرآن یاد ہو تو قرآن پڑھو ، ورنہ الحمد للہ ، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ پڑھو اور پھر رکوع کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔
Mishkat
1120
وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: كَانَ مَالِكُ بن الْحُوَيْرِث يَأْتِينَا إِلَى مُصَلَّانَا يَتَحَدَّثُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا قَالَ أَبُو عَطِيَّةَ: فَقُلْنَا لَهُ: تَقَدَّمَ فَصْلُهُ. قَالَ لَنَا قَدِّمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ زار قوما فَلَا يؤمهم وليؤمهم رجل مِنْهُم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهُ اقْتَصَرَ عَلَى لَفْظِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم
ابوعطیہ عقیلی بیان کرتے ہیں ، مالک بن حویرث ؓ ہماری نماز کی جگہ پر ہمارے پاس تشریف لایا کرتے اور باتیں کیا کرتے تھے ، ایک روز نماز کا وقت ہو گیا ، ابوعطیہ نے کہا ، ہم نے ان سے درخواست کی کہ وہ آگے بڑھیں اور نماز پڑھائیں ، انہوں نے ہمیں فرمایا : اپنے کسی آدمی کو آگے کرو وہ تمہیں نماز پڑھائے گا :’’ میں عنقریب تمہیں بتاؤں گا کہ میں تمہیں نماز کیوں نہیں پڑھاتا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص کسی قوم کے پاس جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرائے بلکہ انہی میں سے کوئی شخص ان کی امامت کرائے ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، البتہ انہوں نے نبی ﷺ کے الفاظ تک اکتفا کیا ہے ۔ حسن ۔
Mishkat
1152
عَن يزِيد بن الْأسود قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَانْحَرَفَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي آخِرِ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ قَالَ: «عَلَيَّ بِهِمَا» فَجِيءَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟» . فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا. قَالَ: «فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
یزید بن اسود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کے ساتھ حج کیا ، میں نے نماز فجر آپ کے ساتھ مسجد خیف میں ادا کی ، جب آپ نماز پڑھ چکے اور پیچھے مڑے تو وہاں آخر پر دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہیں میرے پاس لاؤ ۔‘‘ انہیں لایا گیا تو وہ گھبراہٹ سے کانپ رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم اپنے گھروںمیں نماز پڑھ چکے تھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایسے نہ کیا کرو ، جب تم اپنے گھروں میں نماز پڑھ چکو اور پھر تمہیں مسجد میں جماعت مل جائے تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیا کرو ، کیونکہ وہ تمہارے لیے نفل ہو گی ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Mishkat
1210
وَعَن يَعْلَى بْنِ مُمَلَّكٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهِ؟ فَقَالَتْ: وَمَا لَكُمْ وَصَلَاتُهُ؟ كَانَ يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى حَتَّى يُصْبِحَ ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا) رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ
یعلی بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ ام سلمہ ؓ سے نبی ﷺ کی قراءت اور نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : تم ان کی نماز کے متعلق پوچھ کر کیا کرو گے ؟ آپ ﷺ نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر آپ نے جتنی دیر نماز پڑھی ہوتی ، اتنی دیر سو جاتے تھے ، پھر جس قدر سوئے اسی قدر نماز پڑھتے ، پھر جتنی دیر نماز پڑھی ہوتی اسی قدر سو جاتے تھے حتیٰ کہ صبح ہو جاتی ، پھر انہوں نے آپ ﷺ کی قراءت کے متعلق بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ کی قراءت کا ایک ایک حرف واضح ہوتا تھا ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔
Mishkat
1978
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ يَعْنِي هِلَالَ رَمَضَانَ فَقَالَ: «أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «يَا بِلَالُ أَذِّنْ فِي النَّاسِ أَن يَصُومُوا غَدا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے کہا : میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بلال ! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Mishkat
2290
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَرَجُلٌ يُصَلِّي فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ أَسْأَلُكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا ، اس نے کہا : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر قسم کی حمد تیرے ہی لئے ہے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں (بندوں پر) رحم کرنے والا ، نعمتیں عطا کرنے والا ، زمین و آسمان کو عدم سے وجود بخشنے والا ، اے عزت و اکرام والے ! اے زندہ اور قائم رکھنے والے ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ۔ (یہ سن کر) نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس (بندے) نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ساتھ دعا کی ہے کہ جب اس کے ساتھ اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے ، اور جب اس کے ساتھ اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی (۳۵۴۴) و ابوداؤد (۱۴۹۵) و النسائی (۳ / ۵۲ ح ۱۳۰۱) و ابن ماجہ (۳۸۵۸) ۔
Mishkat
3236
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَتْ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَلَمْ يَعْدِلْ بَيْنَهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ سَاقِطٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس آدمی کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے مابین عدل نہ کرے تو وہ روز قیامت اس حال میں ہو گا کہ اس کا ایک پہلو (نصف دھڑ) مفلوج ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Mishkat
3499
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ
ابن عباس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دیت بارہ ہزار (درہم) مقرر فرمائی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔