TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2831 - بَاب الرِّبَا - خرید و فروخت کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 25 of 27 in this chapter
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَي إِلَيْهِ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى الدَّابَّةِ فَلَا يَرْكَبْهُ وَلَا يَقْبَلْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کسی کو قرض دے ، پھر وہ (مقروض) شخص اس کو کوئی تحفہ دے یا اسے سواری پر بٹھائے تو وہ اس پر سوار ہو نہ اس تحفہ کو قبول کرے ۔ البتہ اگر ان کے درمیان یہ کام (تحائف کا تبادلہ وغیرہ) پہلے سے ہی جاری ہو تو جائز ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
2831
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
(ضَعِيفٌ)
Conclusion
تخریج
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۲۴۳۲) و البیھقی فی شعب الایمان (۵۵۳۲) * عتبۃ : لیس شامیًا و روایۃ اسماعیل بن عیاش عن غیر الشامیین ضعیفۃ ۔

Related Chapters

63
1
Chapter: What Has Been Related About Performing Raml From The (Black) Stone To The (Black) Stone
باب: حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Touching The (Black) Stone And The Yemeni Corner And Not The Other Corner
باب: بیت اللہ کے دوسرے کونوں کو چھوڑ کر صرف حجر اسود اور رکن یمانی کے استلام کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Kissing The (Black) Stone
باب: حجر اسود کو بوسہ لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Black Stone, Its Corner, And The Maqam
باب: حجر اسود، رکن یمانی، اور مقام ابراہیم کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Touching The Two Corners
باب: حجر اسود اور رکن یمانی کے استلام کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Black Stone
باب: حجر اسود کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Consuming Riba
باب: سود خوری کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About One Who Makes A False Oath About His Merchandise
باب: سودے پر جھوٹی قسم کھانے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
طواف، رکن یمانی،حجراسود اور مقامِ ابراہیم کی فضیلت
Musnad Ahmad
10
حجراسود اور رکن یمانی کا استلام کرنے اور دوسرے دو کونوں کا استلام نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
11
حجراسود کا استلام کرنے،اس کو بوسہ دینے اوراس وقت کی دعا کا بیان، نیز ہجوم والا بندہ کیا کرے، اس چیز کا بیان
Musnad Ahmad
12
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
Musnad Ahmad
13
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
Musnad Ahmad
14
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
15
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
16
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
17
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
Musnad Ahmad
18
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
19
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
Musnad Ahmad
20
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
Musnad Ahmad
21
سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تاریخِ وفات اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ اور سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے شادی کرنا
Musnad Ahmad
22
دوسری زوجۂ رسول ام المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
Musnad Ahmad
23
سیدنا عمرو بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
24
سیدنا مقداد بن اسود کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
25
(73) CHAPTER. The order of banning the trade of alcoholic drinks was issued in the mosque.
مسجد میں شراب کی سوداگری کی حرمت کا اعلان کرنا
Sahih Bukhari
26
(50) CHAPTER. What is said regarding the Black Stone.
حجراسود کا بیان
Sahih Bukhari
27
(56) CHAPTER. The touching (and kissing) of the Black Stone on reaching Makkah during the first round of Tawaf of the Kabah, and doing Ramal in the first three rounds (of Tawaf).
جب کوئی مکہ میں آئے تو پہلے حجراسود کو چومے طواف شروع کرتے وقت اور تین پھیروں میں رمل کرے
Sahih Bukhari
28
(58) CHAPTER. Touching the Corner (Black Stone) with a bent-headed stick.
حجراسود کو چھڑی سے چھونا اور چومنا
Sahih Bukhari
29
(60) CHAPTER. To kiss the Black Stone.
حجراسود کو بوسہ دینا
Sahih Bukhari
30
(61) CHAPTER. Whoever pointed towards the Corner (Black Stone) on coming in front of it (while performing Tawaf).
حجراسود کے سامنے پہنچ کر اس کی طرف اشارہ کرنا ( جب چومنا نہ ہو سکے )
Sahih Bukhari
31
(62) CHAPTER. To say Takbir (Allah is the Most Great) on coming in front of the Corner (having the Black Stone).
حجراسود کے سامنے آ کر تکبیر کہنا
Sahih Bukhari
32
(11) CHAPTER. “And when they see some merchandise or some amusement [beating of Tambur (drum) etc.], they disperse headlong to it...”(V.62:11)
۔ ( سورۃ الجمعہ میں ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جب سوداگری یا تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں “
Sahih Bukhari
33
(24) CHAPTER. (The sin of) one who eats Riba (usury), its witness and its writer.
سود کھانے والا اور اس پر گواہ ہونے والا اور سودی معاملات کا لکھنے والا ، ان سب کی سزا کا بیان
Sahih Bukhari
34
(25) CHAPTER. (The sin of) the Riba-giver.
سود کھلانے والے کا گناہ
Sahih Bukhari
35
(26) CHAPTER: “Allah will destroy Riba (usury) and will give increase for Sadaqat (deeds of charity, alms). And Allah likes not the disbelievers, sinners!” (V.2:276)
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو دو چند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا ہر منکر گنہگار کو
Sahih Bukhari
36
(40) CHAPTER. The trade of cloth, the wearing of which is considered undesireable both for men and women.
ان چیزوں کی سوداگری جن کا پہننا مردوں اور عورتوں کے لیے مکروہ ہے
Sahih Bukhari
37
(72) CHAPTER. The story of Al- Aswad Al-Ansi.
اسودعنسی کا قصہ
Sahih Bukhari
38
Chapter: It is recommended to kiss the black stone during circumambulation (Tawaf)
دوران طواف حجرا سود کو بوسہ دینا مستحب ہے
Sahih Muslim
39
Chapter: It is permissible to circumambulate the Ka'bah on a camel and the like, And for one who is riding to touch the (black) stone with a crooked staff and the like.
اونٹ یا کسی اور سواری پر طواف کرنا اور سوار شخص کے لیے مڑے ہوئے سرے والی چھڑی وغیرہ (کسی بھی چیز )سے حجرا سود کا استلام کرنا جائز ہے
Sahih Muslim
40
مسلمان )بھائی کی بیع پر بیع کرنا ‘اس کے سودے پر سودا بازی کرنا ‘بھاؤ چڑھانے کے لیے قیمت لگانا اور جانور کے تھنوں میں دودھ روکنا حرام ہے
Sahih Muslim
41
مجلس (ایک جگہ موجود گی )ختم ہونے سے پہلے بیچنے یا خریدنے والے کو سودا واپس کرنے کا اختیار ہے
Sahih Muslim
42
Chapter: Riba (Usury, Interest)
سود کا بیان
Sahih Muslim
43
Chapter: Cursing the one who consumes Riba and the one who pays it
سود کھنے اور کھلانے والے پرلعنت
Sahih Muslim
44
CHAPTER: On Kissing The Black Stone.
باب: حجر اسود کو چومنا ۔
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: Regarding The One Who Consumes Riba And The One Who Pays It.
باب: سود کھانے اور کھلانے والے پر وارد وعید کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: Regarding The Abolition Of Riba.
باب: سود معاف کر دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
47
نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا لگائے اور نہ اس کے دام پر دام لگائے
Sunnan Ibn e Maja
48
سود صرف ادھار میں ہے کے قائلین کی دلیل
Sunnan Ibn e Maja
49
حرمت سود میں وارد وعید کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
50
حجر اسود کے استلام (چومنے یا چھونے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

280
Mishkat
3360
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ لَكِنْ عِنْدَهُ «فَلْيُمْسِكْ» بدل «فارفعوا أَيْدِيكُم»
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے اور وہ اللہ کا واسطہ دے تو تم اپنا ہاتھ اٹھا لو (نہ مارو) ۔‘‘ ترمذی ، بیہقی فی شعیب الایمان ، لیکن اس میں ’’ اپنا ہاتھ اٹھا لو ‘‘ کے بجائے ’’ روک لو ‘‘ کے الفاظ ہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Mishkat
5019
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. وَقَالَ النَّوَوِيُّ: إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ، لہذا تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ، اور امام نووی ؒ نے فرمایا : اس کی اسناد صحیح ہیں ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Mishkat
192
وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ وَكَذَا التِّرْمِذِيُّ عَنْهُ إِلَّا أَنَّهُ ذَكَرَ أخصر مِنْهُ
امام احمد ، اور بیہقی نے شعب الایمان میں نواس بن سمعان ؓ سے اور اسی طرح امام ترمذی نے انہی سے روایت کیا ہے ، البتہ انہوں نے اس سے مختصر روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد (۴/ ۱۸۲ ، ۱۸۳ ح۱۷۷۸۴) و البیھقی فی شعب الایمان (۷۲۱۶) و الترمذی (۲۸۵۹) ۔
Mishkat
578
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ ذَكَرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَقَالَ: «مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا وَبُرْهَانًا وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمن لم يحافظ عَلَيْهَا لم يكن لَهُ نور وَلَا برهَان وَلَا نجاة وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ قَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے ایک روز نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :’’ جس نے نماز کی حفاظت و پابندی کی تو وہ اس شخص کے لیے روز قیامت نور ، دلیل اور نجات ہو گی ، اور جس نے اس کی حفاظت و پابندی نہ کی تو روز قیامت اس کے لیے نور ، دلیل اور نجات نہیں ہو گی اور وہ قارون ، فرعون ، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الدارمی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Mishkat
742
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ جَاءَ مَسْجِدي هَذَا لم يَأْته إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ أَوْ يُعَلِّمُهُ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص میری اس مسجد میں محض کوئی خیرو بھلائی سیکھنے یا سکھانے کی غرض سے آئے تو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مقام و مرتبہ پر ہے ، اور جو شخص اس کے علاوہ کسی اور غرض سے آئے تو وہ اس آدمی کی طرح ہے جو کسی کے مال پر نظر رکھتا ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Mishkat
1237
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رجل إِلَى النَّبِي صلى فَقَالَ: إِن فلَانا يُصَلِّي بِاللَّيْلِ فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ فَقَالَ: إِنَّهُ سَيَنْهَاهُ مَا تَقُولُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : فلاں شخص رات کو تہجد پڑھتا ہے اور جب صبح ہوتی ہے چوری کرتا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک وہ عنقریب تمہاری بتائی ہوئی بات (نماز) اسے روک دے گی ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Mishkat
1587
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعُودُ مَرِيضًا إِلَّا بَعْدَ ثَلَاثٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ تین دن کے بعد عیادت کے لیے جایا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
Mishkat
1595
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ مَرِيضًا مَاتَ شَهِيدًا أَوْ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَغُدِيَ وَرِيحَ عَلَيْهِ بِرِزْقِهِ مِنَ الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص بیماری کی حالت میں فوت ہوتا ہے تو وہ شہادت کی موت مرتا ہے ، اسے قبر کے فتنے سے بچا لیا جاتا ہے ، صبح و شام اسے جنت سے رزق پہنچا دیا جاتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Mishkat
1836
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَبَنًا فَأَعْجَبَهُ فَسَأَلَ الَّذِي سَقَاهُ: مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ وَهُمْ يَسْقُونَ فَحَلَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِي فَهُوَ هَذَا: فَأدْخل عمر يَده فاستقاءه. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے دودھ پیا تو وہ انہیں پسند آیا ، انہوں نے اس دودھ پلانے والے شخص سے پوچھا : یہ دودھ کہاں سے (حاصل کیا) ہے ؟ اس نے بتایا کہ وہ فلاں گھاٹ پر گیا تھا ، وہاں صدقہ کے کچھ اونٹ تھے اور وہ (چرواہے) انہیں پانی پلا رہے تھے ، انہوں نے ان کا دودھ دھویا تو میں نے اسے اپنے برتن میں ڈال لیا ، یہ وہ ہے ۔ عمر ؓ نے اپنا ہاتھ (حلق میں) ڈالا اور قے کر دی ۔ ضعیف ۔