مشکوۃ

Mishkat

نکاح کا بیان

نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان

بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ


وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «من وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَلْيُحْسِنِ اسْمَهُ وَأَدَبَهُ فَإِذَا بَلَغَ فَلْيُزَوِّجْهُ فَإِنْ بَلَغَ وَلَمْ يُزَوِّجْهُ فَأَصَابَ إِثْمًا فَإِنَّمَا إثمه على أَبِيه»

ابوسعید ؓ اور ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کے ہاں بچہ پیدا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھے ، اسے ادب سکھائے اور جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کی شادی کر دے ، اگر وہ بالغ ہو جائے اور وہ (والد) اس کی شادی نہ کرے اور وہ کسی گناہ (زنا وغیرہ) کا ارتکاب کر لے تو اس کا گناہ اس کے والد پر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Status: Zaeef
حکمِ حدیث: ضعیف
Reference
حوالہ حکم
(ضَعِيف)
Conclusion
تخریج
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۸۶۶۶ ، نسخۃ محققۃ : ۸۲۹۹) * سعید بن ایاس الجریری اختلط و لم یعلم سماع شداد بن سعید منہ ، ھل قبل اختلاطہ ام بعد ؟ و باقی السند صحیح ۔