ابووہب جشمی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ گھوڑے باندھو (انہیں رکھو اور پالو) اور ان کی پیشانیوں اور پشتوں پر ہاتھ پھیرو اور ان کی گردنوں میں پٹے ڈالو ۔ لیکن تانت نہ ڈالو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ اللہ کے بندے تھے آپ کو احکامات نافذ کرنے پر مامور کیا گیا تھا ، آپ نے تین چیزوں کے علاوہ دیگر لوگوں سے الگ کوئی خصوصیت ہمیں عنایت نہیں فرمائی ، آپ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم اچھی طرح مکمل وضو کریں ، ہم صدقہ نہ کھائیں اور ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر جفتی کے لیے نہ چڑھائیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کو ایک خچر بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس پر سواری فرمائی ، علی ؓ نے عرض کیا : اگر ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر چڑھائیں تو ہمارے ہاں بھی اسی کے مثل (خچر) ہوں گے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو جانتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی تلوار کی دستی چاندی کی تھی ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔
ہود بن عبداللہ بن سعد اپنے دادا مزیدہ سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے روز (مکہ میں) داخل ہوئے تو آپ ﷺ کی تلوار پر سونا اور چاندی تھی ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
سائب بن یزید ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے روز نبی ﷺ پر اوپر تلے دو زریں تھیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کا بڑا جھنڈا سیاہ رنگ کا تھا اور چھوٹا پرچم سفید رنگ کا تھا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
موسیٰ بن عبیدہ ، محمد بن قاسم کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : محمد بن قاسم نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے پرچم کے متعلق پوچھنے کے لیے براء بن عازب ؓ کے پاس بھیجا تو انہوں نے فرمایا :’’ وہ سیاہی دھاری دار تھا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ کا پرچم سفید رنگ کا تھا ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کو بیویوں کے بعد گھوڑوں سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں تھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ النسائی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں عربی کمان تھی ، آپ ﷺ نے ایک آدمی دیکھا اس کے ہاتھ میں فارسی کمان تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کیا ہے ؟ اسے پھینک دو ، اور تم پر یہ اور اس کی مثل لازم ہیں ، اور کامل نیزے تم پر لازم ہیں ، کیونکہ اللہ ان کے ذریعے تمہیں دین میں مدد عطا فرمائے گا اور تمہیں شہروں میں اقتدار عطا کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔