مشکوۃ

Mishkat

جہاد کا بیان

آلاتِ جہاد تیار کرنے کا بیان

بَاب إعداد آلَة الْجِهَاد

وَعَنْ أَبِي وَهَبٍ الْجُشَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْتَبِطُوا الْخَيْلَ وامسحُوا بنواصيها وأعجازِها أَو قَالَ: كفالِها وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

ابووہب جشمی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ گھوڑے باندھو (انہیں رکھو اور پالو) اور ان کی پیشانیوں اور پشتوں پر ہاتھ پھیرو اور ان کی گردنوں میں پٹے ڈالو ۔ لیکن تانت نہ ڈالو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا مَأْمُورًا مَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ إِلَّا بِثَلَاثٍ: أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَأَنْ لَا نَنْزِيَ حمارا على فرس. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ اللہ کے بندے تھے آپ کو احکامات نافذ کرنے پر مامور کیا گیا تھا ، آپ نے تین چیزوں کے علاوہ دیگر لوگوں سے الگ کوئی خصوصیت ہمیں عنایت نہیں فرمائی ، آپ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم اچھی طرح مکمل وضو کریں ، ہم صدقہ نہ کھائیں اور ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر جفتی کے لیے نہ چڑھائیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی ۔

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُهْدِيَتْ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم بغلةٌ فركِبَهَا فَقَالَ عَلِيٌّ: لَوْ حَمَلْنَا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ فَكَانَتْ لَنَا مِثْلُ هَذِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يعلمُونَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کو ایک خچر بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس پر سواری فرمائی ، علی ؓ نے عرض کیا : اگر ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر چڑھائیں تو ہمارے ہاں بھی اسی کے مثل (خچر) ہوں گے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو جانتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَنْ هُودِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ عَن جدِّهِ مِزيدةَ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى سَيْفِهِ ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

ہود بن عبداللہ بن سعد اپنے دادا مزیدہ سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے روز (مکہ میں) داخل ہوئے تو آپ ﷺ کی تلوار پر سونا اور چاندی تھی ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ رَايَةُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَاءَ وَلِوَاؤُهُ أبيضَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کا بڑا جھنڈا سیاہ رنگ کا تھا اور چھوٹا پرچم سفید رنگ کا تھا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ: بَعَثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ إِلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ يَسْأَلُهُ عَنْ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً مِنْ نَمِرَةٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

موسیٰ بن عبیدہ ، محمد بن قاسم کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : محمد بن قاسم نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے پرچم کے متعلق پوچھنے کے لیے براء بن عازب ؓ کے پاس بھیجا تو انہوں نے فرمایا :’’ وہ سیاہی دھاری دار تھا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَنْ جَابِرٌ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ کا پرچم سفید رنگ کا تھا ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

عَن أنسٍ قَالَ: لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ النِّسَاءِ من الْخَيل. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کو بیویوں کے بعد گھوڑوں سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں تھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ النسائی ۔

وَعَن عَليّ قَالَ: كَانَتْ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْسٌ عَرَبِيَّةٌ فَرَأَى رَجُلًا بِيَدِهِ قَوْسٌ فَارِسِيَّةٌ قَالَ: «مَا هَذِهِ؟ أَلْقِهَا وَعَلَيْكُمْ بِهَذِهِ وَأَشْبَاهِهَا وَرِمَاحِ الْقَنَا فَإِنَّهَا يُؤَيِّدُ اللَّهُ لَكُمْ بِهَا فِي الدِّينِ وَيُمَكِّنُ لَكُمْ فِي البلادِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں عربی کمان تھی ، آپ ﷺ نے ایک آدمی دیکھا اس کے ہاتھ میں فارسی کمان تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کیا ہے ؟ اسے پھینک دو ، اور تم پر یہ اور اس کی مثل لازم ہیں ، اور کامل نیزے تم پر لازم ہیں ، کیونکہ اللہ ان کے ذریعے تمہیں دین میں مدد عطا فرمائے گا اور تمہیں شہروں میں اقتدار عطا کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔