مشکوۃ

Mishkat

جہاد کا بیان

جہاد میں قتال (کے اجر و ثواب) کا بیان

بَاب الْقِتَال فِي الْجِهَاد

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ تَقَدَّمَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَتَبِعَهُ ابْنُهُ وَأَخُوهُ فَنَادَى: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَانْتُدِبَ لَهُ شبابٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ: لَا حَاجَةَ لَنَا فِيكُمْ إِنَّمَا أَرَدْنَا بَنِي عَمِّنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُمْ يَا حَمْزَةُ قُمْ يَا عَلِيُّ قُمْ يَا عُبَيْدَةُ بْنَ الْحَارِثِ» . فَأَقْبَلَ حَمْزَةُ إِلى عتبةَ وَأَقْبَلْتُ إِلَى شَيْبَةَ وَاخْتَلَفَ بَيْنَ عُبَيْدَةَ وَالْوَلِيدِ ضَرْبَتَانِ فَأَثْخَنَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ ثُمَّ مِلْنَا عَلَى الْوَلِيدِ فَقَتَلْنَاهُ وَاحْتَمَلْنَا عُبَيْدَةَ. رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب بدر کا دن تھا تو عتبہ بن ربیعہ آگے بڑھا ، اس کے پیچھے اس کا بیٹا (ولید بن عتبہ) اور اس کا بھائی (شیبہ بن ربیعہ) بھی آ گیا تو عتبہ نے کہا : مقابلے پر کون آتا ہے ؟ اس کی اس للکار کا انصار کے نوجوانوں نے جواب دیا تو اس نے پوچھا ، تم کون ہو ؟ انہوں نے اسے بتایا تو اس نے کہا : ہمارا تم سے کوئی سروکار نہیں ، ہم تو اپنے چچا زادوں سے لڑنا چاہتے ہیں ، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حمزہ ! اٹھو ، علی ! اٹھو ، عبیدہ بن حارث ! اٹھو ۔‘‘ حمزہ ؓ عتبہ کی طرف متوجہ ہوئے اور میں شیبہ کی طرف ، جبکہ عبیدہ ؓ اور ولید کے درمیان دو دو وار ہوئے اور اِن دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مقابل کو زخمی کیا ، پھر ہم ولید پر پل پڑے اور اسے قتل کر دیا اور ہم نے عبیدہ ؓ کو اٹھا لیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

وَعَن ابنِ عُمر قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً فَأَتَيْنَا الْمَدِينَةَ فَاخْتَفَيْنَا بِهَا وَقُلْنَا: هَلَكْنَا ثُمَّ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُول الله نَحن الفارون. قَالَ: «بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ وَأَنَا فِئَتُكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ نَحْوَهُ وَقَالَ: «لَا بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ» قَالَ: فَدَنَوْنَا فَقَبَّلْنَا يَده فَقَالَ: «أَنا فِئَة من الْمُسْلِمِينَ» وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: كَانَ يَسْتَفْتِحُ وَحَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ «ابْغُونِي فِي ضُعَفَائِكُمْ» فِي بَابِ «فَضْلِ الْفُقَرَاءِ» إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک لشکر میں روانہ کیا ، لوگ میدانِ جنگ سے بھاگ گئے اور ہم نے مدینہ منورہ پہنچ کر پناہ لی ، اور ہم نے کہا : ہم مارے گئے ، پھر ہم نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم تو فرار ہونے والے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ تم دوبارہ حملہ کرنے والے ہو ، اور میں تمہاری جماعت ہوں (کہ فرار کے زمرے میں نہیں ، بلکہ تم جماعت کے پاس آئے ہو) ۔‘‘ ترمذی ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں اسی طرح ہے ، اور فرمایا :’’ بلکہ جانے والے ہو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم قریب ہوئے اور ہم نے آپ ﷺ کے دست مبارک کو بوسہ دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں مسلمانوں کی جماعت ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔ اور ہم امیہ بن عبداللہ سے مروی حدیث ((کان یستفتح)) اور ابودرداء ؓ سے مروی حدیث :’’ مجھے اپنے ضعفاء میں تلاش کرو ۔ باب فضل الفقراء میں ان شاءاللہ تعالیٰ ذکر کریں گے ۔

عَنْ ثَوْبَانَ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصَبَ الْمَنْجَنِيقَ عَلَى أَهْلِ الطائفِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ مُرْسلا

ثوبان بن یزید سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اہل طائف پر منجنیق نصب کی ۔ امام ترمذی ؒ نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔