علم اور اس کی فضیلت کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation
Chapter 0 of علم اور اس کی فضیلت کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
عبداللہ عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری طرف سے پہنچا دو خواہ ایک آیت ہی ہو ، بنی اسرائیل کے واقعات بیان کرو اس میں کوئی حرج نہیں ، اور جو شخص عمداً مجھ پر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔‘‘ رواہ البخاری (۳۴۶۱) ۔
سمرہ بن جندب اور مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مجھ سے حدیث بیان کرے ، وہ جانتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ بھی جھوٹوں (حدیث وضع کرنے والوں) میں سے ایک ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کے متعلق سمجھ بوجھ عطا فرما دیتا ہے ، میں تو صرف (علم) تقسیم کرنے والا ہوں جبکہ (فہم) اللہ عطا کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۱) و مسلم ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۱) و مسلم (۹۸ / ۱۰۳۷) ۔ 2389
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انسان بھی سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ایک کان ہیں ، ان میں سے جو دور جاہلیت میں اچھے تھے ، وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں بشرطیکہ وہ (دین میں) سمجھ بوجھ پیدا کریں ۔‘‘ رواہ مسلم و البخاری (۳۴۹۳ ، ۳۴۹۶) ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو قسم کے لوگوں پر رشک کرنا جائز ہے ، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال عطا کیا ، اور پھر اس کو راہ حق میں اسے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائی ، اور ایک وہ آدمی جسے اللہ نے حکمت عطا کی اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اسے (دوسروں کو) سکھاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۳) و مسلم ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۳) و مسلم (۲۶۸ / ۸۱۶) ۔ 1896
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو تین کاموں ، صدقہ جاریہ ، وہ علم جس سے استفادہ کیا جائے اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے ، کے سوا اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے کسی مومن سے دنیا کی کوئی تکلیف دور کی ، تو اللہ اس سے قیامت کے دن کی کوئی تکلیف دور فرما دے گا ، جس شخص نے کسی تنگ دست پر آسانی کی تو اللہ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا ، جس نے کسی مسلمان کی عیب پوشی کی تو اللہ اس کی دنیا و آخرت میں عیب پوشی فرمائے گا ، اللہ بندے کی مدد فرماتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے ، اور جس شخص نے طلب علم کے لیے کوئی سفر کیا تو اللہ اس وجہ سے اس کے لیے راہ جنت آسان فرما دیتا ہے ، اور جب کچھ لوگ اللہ کے کسی گھر میں اکٹھے ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں پڑھتے پڑھاتے ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے ، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے ، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ اپنے پاس فرشتوں میں ان کا تذکرہ فرماتا ہے ، اور جس کے عمل نے اسے پیچھے کر دیا تو اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت سب سے پہلے شہید کا فیصلہ سنایا جائے گا ، اسے پیش کیا جائے گا ، تو اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد کرائے گا اور وہ ان کا اعتراف کرے گا ، پھر اللہ فرمائے گا : تو نے ان کے بدلے میں (شکر کے طور پر) کیا کیا ؟ وہ عرض کرے گا : میں نے تیری خاطر جہاد کیا حتیٰ کہ مجھے شہید کر دیا گیا ، اللہ فرمائے گا : تو نے جھوٹ کہا ، کیونکہ تو نے داد شجاعت حاصل کرنے کے لیے جہاد کیا تھا ، پس وہ کہہ دیا گیا ۔ پھر اس کے متعلق حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ دوسرا شخص جس نے علم حاصل کیا ، اور اسے دوسروں کو سکھایا ، اور قرآن کریم کی تلاوت کی ، اسے بھی پیش کیا جائے گا ، تو اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد کرائے گا ، وہ ان کا اعتراف کرے گا اللہ پوچھے گا کہ تو نے ان کے بدلے میں کیا کیا ؟ وہ عرض کرے گا : میں نے علم سیکھا اور اسے دوسروں کو سکھایا ، اور میں تیری رضا کی خاطر قرآن کی تلاوت کرتا رہا ، اللہ فرمائے گا : تو نے جھوٹ کہا ، البتہ تو نے علم اس لیے حاصل کیا تھا کہ تمہیں عالم کہا جائے اور قرآن پڑھا تاکہ تمہیں قاری کہا جائے ، وہ کہہ دیا گیا ، پھر اس کے متعلق حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا ، اور تیسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال و زر کی جملہ اقسام سے خوب نوازا ہو گا ، اسے پیش کیا جائے گا ، تو اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد کرائے گا ، وہ انہیں پہچان لے گا ، تو اللہ پوچھے گا : تو نے ان کے بدلے میں کیا کیا ؟ وہ عرض کرے گا : میں نے ان تمام مواقع پر جہاں خرچ کرنا تجھے پسند تھا ، خرچ کیا ، اللہ فرمائے گا : تو نے جھوٹ کہا ، تو نے تو اس لیے خرچ کیا کہ تجھے بڑا سخی کہا جائے ، پس وہ کہہ دیا گیا ، پھر اس کے متعلق حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ علم کو بندوں کے سینوں سے نہیں نکالے گا بلکہ وہ علماء کی روحیں قبض کر کے علم کو اٹھا لے گا ، حتیٰ کہ جب وہ کسی عالم کو باقی نہیں رکھے گا تو لوگ جہلا کو رئیس بنا لیں گے ، جب ان سے مسئلہ دریافت کیا جائے گا تو وہ علم کے بغیر فتویٰ دیں گے ، وہ خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو گمراہ کریں گے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۰۰) و مسلم ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۰۰) و مسلم (۱۳ / ۲۶۷۳) ۔ 6796
شقیق ؒ بیان کرتے ہیں ، عبداللہ بن مسعود ؓ ہر جمعرات لوگوں کو وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے ، کسی آدمی نے ان سے کہا : ابوعبدالرحمن ! میں چاہتا ہوں کہ آپ ہر روز ہمیں وعظ و نصیحت کیا کریں ، انہوں نے فرمایا : سن لو ! ہر روز وعظ و نصیحت کرنے سے مجھے یہی امر مانع ہے کہ میں تمہیں اکتاہٹ میں ڈالنا ناپسند کرتا ہوں ، میں وعظ و نصیحت کے ذریعے تمہارا ویسے ہی خیال رکھتا ہوں جیسے رسول اللہ ﷺ اس اندیشے کے پیش نظر کے ہم اکتا نہ جائیں ، ہمارا خیال رکھا کرتے تھے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۸) و مسلم ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۸) و مسلم (۸۲ / ۲۸۲۱) ۔ 7129
انس ؓ بیان کرتے ہیں ۔ جب نبی ﷺ کوئی گفتگو فرماتے تو آپ ایک جملے کوتین مرتبہ دہراتے حتیٰ کہ اسے سمجھ اور یاد کر لیا جائے ، اور جب آپ کسی قوم کے پاس تشریف لاتے اور انہیں سلام کرنے کا ارادہ فرماتے تو تین مرتبہ سلام کرتے ۔‘‘ رواہ البخاری (۹۵) ۔
ابومسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی ، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : میری سواری ہلاک ہو گئی ہے ، آپ مجھے سواری عنایت فرما دیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے پاس تو کوئی سواری نہیں ۔‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اسے ایسے آدمی کے متعلق بتاتا ہوں جو اسے سواری دے دے گا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ خیرو بھلائی کی طرف راہنمائی کرنے والے کو ، اس بھلائی کو سرانجام دینے والے کی مثل اجرو ثواب ملے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جریر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم دن کے پہلے پہر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک قوم آپ کے پاس آئی ان کے بدن ننگے تھے ، انہوں نے اونی دھاری دار یا عام چادریں پہن رکھی تھیں اور وہ تلواریں حمائل کیے ہوئے تھے ۔ ان میں سے ایک زیادہ تر ، بلکہ سب کے سب مضر قبیلہ کے تھے ، جب رسول اللہ ﷺ نے ان پر فاقہ کے آثار دیکھے تو غم کی وجہ سے آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا ، آپ گھر تشریف لے گئے پھر باہر آئے ۔ آپ نے بلال ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی ، آپ ﷺ نے نماز پڑھائی ، پھر خطبہ ارشاد فرمایا :’’ لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ جس نے تمہیں نفس واحد سے پیدا فرمایا ، اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں کی نسل سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں ، اور اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابت داری (کے تعلقات منقطع کرنے) سے ڈرو ، یقین جانو کہ اللہ تم پر نگران ہے ۔‘‘ اور سورۃ الحشر کی آیت تلاوت فرمائی :’’ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو ، اور چاہیے کہ ہر متنفس دیکھ لے کہ وہ کل کے لیے کیا کچھ آگے بھیجتا ہے ، اور تم اللہ سے ڈرو ، بے شک اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے ۔‘‘ پس کسی نے دینار صدقہ کیا ، کسی نے درہم ، کسی نے کپڑا ، کسی نے گندم کا صاع اور کسی نے ایک صاع کھجوریں صدقہ کیں ، حتیٰ کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ خواہ کھجور کا ٹکڑا صدقہ کرو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : انصار میں سے ایک آدمی ایک تھیلی اٹھائے ہوئے آیا قریب تھا کہ اس کا ہاتھ اسے اٹھانے سے عاجز آ جاتا ، بلکہ عاجز ہی آ گیا ، پھر لوگ مسلسل آنے لگے ، حتیٰ کہ میں نے اناج اور کپڑوں کے دو ڈھیر دیکھے ، حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کہ چہرہ مبارک کو سونے کی طرح دمکتا ہوا دیکھا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ شروع کیا تو اسے اس کا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا ثواب ملتا ہے ، اور ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جاتی ، اور جس شخص نے اسلام میں کوئی برا طریقہ شروع کیا تو اس کو اس کا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ ملتا ہے اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو ناجائز قتل کیا جاتا ہے تو اس کے قتل کا کچھ حصہ آدم ؑ کے پہلے بیٹے پر ہوتا ہے ، کیونکہ اس نے قتل کا طریقہ ایجاد کیا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۳۳۵) و مسلم ۔ حدیث معاویۃ ، یأتی (۶۲۷۶) ۔
ہم حدیث معاویہ ؓ ((لا یزال من امتی )) باب ثواب ھذا الامۃ میں ذکر کریں گے ، ان شاء اللہ تعالیٰ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۳۳۵) و مسلم (۲۷ / ۱۶۷۷) 0 حدیث معاویۃ ، یاتی (۶۲۷۶) ۔ 4379
کثیر بن قیس بیان کرتے ہیں ، میں ابودرداء ؓ کے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا : ابودرداء ! میں رسول اللہ ﷺ کے شہر سے ایک حدیث کی خاطر تمہارے پاس آیا ہوں ، مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اسے رسول اللہ ﷺ سے (براہ راست) بیان کرتے ہیں ۔ میں کسی اور کام کے لیے نہیں آیا ، انہوں نے بیان کیا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص طلب علم کے لیے سفر کرتا ہے تو اللہ اسے جنت کی راہ پر گامزن کر دیتا ہے ، فرشتے طالب علم کی رضامندی کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں ، زمین و آسمان کی ہر چیز اور پانی کی گہرائی میں مچھلیاں طالب علم کے لیے مغفرت طلب کرتی ہیں ، بے شک عالم کی عابد پر اس طرح فضیلت ہے جس طرح چودھویں رات کے چاند کو باقی ستاروں پر برتری ہے ، بے شک علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں ۔ اور انبیاء علیہم السلام درہم و دینار نہیں چھوڑ کر جاتے بلکہ وہ تو صرف علم چھوڑ کر جاتے ہیں ، پس جس نے اسے حاصل کر لیا اس نے وافر حصہ حاصل کر لیا ۔‘‘ امام ترمذی نے راوی کا نام قیس بن کثیر ذکر کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ احمد (۵/ ۱۹۶ ح ۲۲۰۵۸) و الترمذی (۲۶۸۲) و ابوداؤد (۳۶۴۱) و ابن ماجہ (۲۲۳) و الدارمی (۱/ ۹۹ ح ۳۴۹) و ابن حبان (۸۰) ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ احمد (۵ / ۱۹۶ ح ۲۲۰۵۸) و الترمذی (۲۶۸۲ وقال : ولیس اسنادہ عندی بمتصل( و ابوداؤد (۳۶۴۱) و ابن ماجہ (۲۲۳) و الدارمی (۱ / ۹۹ ح ۳۴۹) [و ابن حبان ، الموارد : ۸۰] * داود بن جمیل و کثیر بن قیس ضعیفان و للحدیث شواھد ضعیفۃ و حدیث مسلم (السابق : ۲۰۴) یغنی عنہ ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا ، ان میں سے ایک عابد اور دوسرا عالم ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عالم کی عابد پر اس طرح فضیلت ہے جس طرح میری فضیلت تمہارے ادنی آدمی پر ہے ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ ، اس کے فرشتے ، زمین و آسمان کی مخلوق حتیٰ کہ چیونٹی اپنے بل میں اور مچھلیاں ، لوگوں کو خیر و بھلائی کی تعلیم دینے والے کے لیے دعائے خیر کرتی ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی (۲۶۸۵) ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۲۶۸۵ وقال : غریب) ولہ شواھد وھوبھا حسن ۔
دارمی نے مکحول سے مرسل روایت بیان کی ہے ۔ اور انہوں نے ’’ دو آدمیوں ‘‘ کا ذکر نہیں کیا اور انہوں (مکحول) نے کہا : عالم کی عابد پر اس طرح فضیلت ہے جس طرح میری فضیلت تمہارے ادنی آدمی پر ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی !’’ اس کے بندوں میں سے صرف علماء ہی اللہ سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ اور پھر مکمل حدیث بیان کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱/ ۸۸ ح ۲۹۵) ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱ / ۸۸ ح ۲۹۵) * السند مرسل ولہ شواھد دون قولہ :’’ ثم تلا ھذا الآیۃ : (و انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء)‘‘ فھو ضعیف و الباقی حسن ، انظر الحدیث السابق (۲۱۳) فائدۃ : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لطالب العلم : مرحبا بطالب العلم ! ان طالب العلم لتحف بہ الملائکۃ و تظلہ باجنحتھا بعضًا حتی یبلغوا السماء الدنیا من حبھم لما طلب ، (الجرح و التعدیل ۲ / ۱۳ ، و سندہ حسن) ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک لوگ تمہارے تابع ہیں ، کیونکہ لوگ دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لیے زمین کے اطراف و اکناف سے تمہارے پاس آئیں گے ، پس جب وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کے ساتھ خیر و بھلائی کے ساتھ پیش آنا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۶۵۰) و ابن ماجہ (۲۴۹) ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، جدًا (بل موضوع) ، رواہ الترمذی (۲۶۵۰ و اشار الی ضعفہ من اجل ابی ھارون العبدی) [و رواہ ابن ماجہ : ۲۴۹] * ابو ھارون عمارۃ بن جوین ضعیف جدًا ، متھم بالکذب ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دانائی کی بات ، دانا شخص کی گم شدہ چیز ہے ، پس وہ اسے جہاں پائے تو وہاں وہی اس کا زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور ابراہیم بن فضل راوی حدیث کے معاملے میں ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی (۲۶۸۷) و ابن ماجہ (۴۱۶۹) ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی (۲۶۸۷) و ابن ماجہ (۴۱۶۹) * ابراھیم بن الفضل المخزومی : متروک ، فائدۃ : وقال عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ : خذ الحکمۃ ممن سمعتھا فان الرجل ینطق بالحکمۃ ولیس من اھلھا فتکون کالرمیۃ خرجت من غیر رام (رواہ الخائطی فی مساوی الاخلاق : ۳۹۰ و سندہ حسن ، باب ماجاء فی سوء الجوار من الکاھۃ و الذم) ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک فقیہ ، شیطان پر ، ہزار عبادت گزاروں سے زیادہ سخت ہوتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی (۲۶۸۱) و ابن ماجہ (۲۲۲) ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی (۲۶۸۱ وقال : غریب) و ابن ماجہ (۲۲۲) * روح بن جناح ضعفہ الجمھور و اتھمہ ابن حبان وغیرہ و الجرح فیہ مقدم ۔