مشکوۃ

Mishkat

کھانوں کا بیان

ضیافت کا بیان

بَاب الضِّيَافَة


وَعَنْ أَنَسٍ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» فَقَالَ سَعْدٌ: وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَلَمْ يُسْمِعِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا وَلَمْ يُسْمِعْهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا هِيَ بِأُذُنِي: وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنَ الْبَرَكَةِ ثُمَّ دَخَلُوا الْبَيْتَ فَقَرَّبَ لَهُ زَبِيبًا فَأَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»

انس ؓ یا ان کے علاوہ کسی صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سعد بن عبادہ ؓ سے اجازت طلب کی اور فرمایا :’’ السلام علیکم ورحمۃ اللہ ‘‘ سعد ؓ نے عرض کیا : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ، لیکن انہوں نے نبی ﷺ کو آواز نہ سنائی حتی کہ آپ نے تین مرتبہ سلام کیا اور سعد ؓ نے بھی تین مرتبہ سلام کا جواب دیا لیکن آپ کو نہ سنایا ، جب نبی ﷺ واپس تشریف لے گئے تو سعد ؓ ، آپ کے پیچھے گئے اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، آپ نے جتنی بار بھی سلام کیا میں نے اسے سنا اور آپ کو جواب عرض کیا لیکن میں نے آپ کو (اس لیے) نہیں سنایا کہ میں پسند کرتا تھا کہ آپ سے زیادہ سے زیادہ سلامتی اور برکت حاصل کر سکوں ، پھر وہ گھر تشریف لائے تو انہوں نے آپ کی خدمت میں منقی پیش کیا تو نبی ﷺ نے اسے کھایا ، جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ نیکوکار تمہارا کھانا کھاتے رہیں ، فرشتے تم پر رحمتیں بھیجیں اور روزہ دار تمہارے ہاں افطار کرتے رہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
صحیح ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۱۲ / ۲۸۲ ۔ ۲۸۳ ح ۳۳۲۰) [و احمد (۳ / ۱۳۸) و البیھقی (۷ / ۲۸۷) و الطحاوی فی مشکل الآثار (۱ / ۴۹۸ ، ۴۹۹) و صححہ العراقی و ابن الملقن وغیرھما] * ولہ شاھد حسن لذاتہ عند الطحاوی فی مشکل الآثار (۴ / ۲۴۲ ح ۱۵۷۷) و بہ صح الحدیث ۔