مشکوۃ

Mishkat

کھانوں کا بیان

مشروبات کا بیان

بَاب الْأَشْرِبَة

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ. وَإِذَا سُقِيَ لَبَنًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْء يجزى مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ إِلَّا اللَّبَنُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ یوں دعا کرے :’’ اے اللہ ! اس میں برکت عطا فرما ، اور ہمیں اس سے بہتر کھلا ۔‘‘ اور جب دودھ پیئے تو یوں دعا کرے :’’ اے اللہ اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے زیادہ عطا فرما ۔‘‘ کیونکہ دودھ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جو کھانے سے کفایت کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْتَعْذَبُ لَهُ الْمَاءُ مِنَ السُّقْيَا. قِيلَ: هِيَ عَيْنٌ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ کے لیے سقیا سے آبِ شیریں لایا جاتا تھا ، مشہور ہے کہ وہ مدینہ سے دو روز کی مسافت پر ایک چشمہ ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أَوْ إِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جهنمَ» . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں ، یا کسی ایسے برتن میں ، جس میں اس (سونے یا چاندی) میں سے کچھ ہو تو وہ شخص اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ ہی انڈیلتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الدارقطنی ۔