مشکوۃ

Mishkat

کھانوں کا بیان

برتنوں اور دیگر چیزوں کو ڈھانپنے وغیرہ کا بیان

بَاب تَغْطِيَة الْأَوَانِي وَغَيرهَا


وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَحُلُّ سِقَاءً وَلَا يَفْتَحُ بَابًا وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا أنْ يعرضَ على إِنائِه عوداً ويذكرَ اسمَ اللَّهَ فَلْيَفْعَلْ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْت بَيتهمْ»

اور مسلم کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ برتن ڈھانپو ، مشکیزوں کے منہ باندھو ، دروازے بند رکھو ، چراغ گل کر دو ، کیونکہ شیطان مشکیزے کا منہ نہیں کھولتا اور نہ بند دروازے کھولتا ہے اور نہ ہی کسی برتن سے ڈھکنا اٹھاتا ہے ، اور اگر تم میں سے کوئی لکڑی کے سوا کوئی چیز نہ پائے تو وہ اسے ہی عرض کے بل اس پر رکھ دے اور اللہ کا نام لے ، وہ ایسے ضرور کرے ، کیونکہ چوہیا گھر کو اہل خانہ سمیت جلا دیتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ مسلم (۹۶ / ۲۰۱۲) ۔ 5246