TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4530 - طب اور جھاڑ پھونک کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 17 of 62 in this chapter
وَعَن عوفِ بن مَالك الْأَشْجَعِيّ قَالَ: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: «اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لم يكن فِيهِ شرك» . رَوَاهُ مُسلم
عوف بن مالک اشجعی ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم دورِ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ، ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے دم مجھے سناؤ ، ایسا دم جس میں شرک نہ ہو ، اس میں کوئی حرج نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
4530
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ مسلم (۶۴ / ۲۲۰۰) ۔ 5732

Related Chapters

0
No related chapter found.
No related chapter matched that.

Related Hadith

438
Sahih Muslim
5732
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ فَقَالَ اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ
Auf b. Malik Ashja'i reported We practised incantation in the pre-Islamic days and we said: Allah's Messenger. what is your opinion about it? He said: Let me know your incantation and said: There is no harm in the incantation which does not smack of polytheism.
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : ہم زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اپنے دم کے کلمات میرے سامنے پیش کرو دم میں کو ئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو ۔ "
Silsila Sahih
2758
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ! كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ.
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم زمانۂ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ،ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے اپنے دم سناؤ، دم میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو
Sunnan Abu Dawood
3886
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَال:‏‏‏‏ كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ تَكُنْ شِرْكًا .
Awf bin Malik said: In the pre-Islamic period we used to apply spells and we asked: Messenger of Allah! how do you look upon it ? He replied: Submit your spells to me. There is no harm in spells so long as they involve no polytheism.
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم جاہلیت میں جھاڑ پھونک کرتے تھے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اسے کیسا سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا منتر میرے اوپر پیش کرو جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ شرک نہ ہو ۔
Sahih Muslim
2403
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ قَالَ سَلَمَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ أَمَّا هُوَ فَحَبِيبٌ إِلَيَّ وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً فَقَالَ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ وَكُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ فَقُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا وَقُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ قَالَ عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيعُوا وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُ أَحَدِهِمْ فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ
Malik al-Ashja'i reported: We, nine, eight or seven men, were in the company of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he said: Why don't you pledge allegiance to the Messenger of Allah? -while we had recently pledged allegiance. So we said: Messenger of Allah, we have already pledged allegiance to you. He again said: Why don't you pledge allegiance to the Messenger of Allah? And we said: Messenger of Allah, we have already pledged allegiance to you. He again said: Why don't you pledge allegiance to the Messenger of Allah? We stretched our hands and said: Messenger of Allah. we have already pledged allegiance to you. Now tell (on what things) should we pledge allegiance to you. He said I (You must pledge allegiance) that you would worship Allah only and would not associate with Him anything, (and observe) five prayers, and obey- (and he said onething in an undertone) -that you would not beg people of anything. (And as a consequence of that) I saw that some of these people did not ask anyone to pick up the whip for them if it fell down.
ابو مسلم خولانی سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : مجھ سے ایک پیارے امانت دار ( شخص ) نے حدیث بیان کی وہ ایساہے کہ مجھے پیارا بھی ہے اور وہ ایسا ہے کہ میرے نزدیک امانت دار بھی ہے ۔ یعنی حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ ۔ ۔ انھوں نے کہا : ہم نو ، آٹھ یا سات آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( حاضر ) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کروگے؟ " اور ہم نے ابھی نئی نئی بیعت کی تھی ۔ تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم آپ سے بیعت کرچکے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے؟ " ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم آپ سے بیعت کرچکے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : " تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے؟ " تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دیئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم ( ایک بار ) آپ سے بیعت کرچکے ہیں ، اب کس بات پر آپ سے بیعت کریں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کروگےاور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور پانچ نمازوں پر ، اور اس بات پر کہ اطاعت کرو گے ۔ اور ایک جملہ آہستہ سے فرمایا ۔ اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے ۔ " اس کے بعد میں نے ان میں سے بعض افراد کو دیکھا کہ ان میں سے کسی کا کوڑا کرجاتا تو کسی سے نہ کہتا کہ اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دے دے ۔
Sunnan Nisai
461
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَرَدَّدَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدَّمْنَا أَيْدِيَنَا فَبَايَعْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ بَايَعْنَاكَ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلَامَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً أَنْ لَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا .
Awf bin Malik Al-Ashja'i said: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'Will you not pledge to the Messenger of Allah (ﷺ)?' And he repeated it three times. So we stretched forth our hands to give our pledge. We said: 'O Messenger of Allah, we are willing to give you our pledge, but on what?' He said: 'That you will worship Allah and not associate anything with him, and (offer) the five daily prayers.' And he said, very quietly: 'And you will not ask the people for anything.'
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے؟  آپ نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا، تو ہم سب نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور آپ سے بیعت کی، پھر ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ سے بیعت تو کر لی، لیکن یہ بیعت کس چیز پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  یہ بیعت اس بات پر ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں ادا کرو گے ، اور آپ نے ایک اور بات آہستہ سے کہی کہ  لوگوں سے کچھ مانگو گے نہیں ۔
Jam e Tirmazi
289
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدْنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَنْ نَقُولَ:‏‏‏‏ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، ‏‏‏‏‏‏السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، ‏‏‏‏‏‏السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ أَصَحُّ حَدِيثٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّشَهُّدِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا فِي التَّشَهُّدِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عَلَيْكَ بِتَشَهُّدِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
Abdullah bin Mas'ud narrated: Allah's Messenger taught us, that when we sit for every two Rak'ah we should say: (At-Tahyyatulillah, was-salawatu wattayybaat. As-salamu alaika ayyuhannabiyyu wa rahmatullahi wa barakatuhu, as-salamu alaina wa ala ibadillahis-salihin. Ashhadu an la ilaha illallah wa ashadu anna Muhammadan abduhu wa Rasuluh.) 'All greetings, prayers, and pure words are Allah. Peace be upon you O Prophet, and Allah's mercy and His blessings. Peace be upon us and all of the righteous worshippers of Allah. I testify that nne has the right to be worshipped but Allah, and I testify that Muhammad is Allah's servant and Messenger.'
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ جب ہم دو رکعتوں کے بعد بیٹھیں تو یہ دعا پڑھیں: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث ان سے کئی سندوں سے مروی ہے، اور یہ سب سے زیادہ صحیح حدیث ہے جو تشہد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں، ۲- اس باب میں ابن عمر، جابر، ابوموسیٰ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- ہم سے احمد بن محمد بن موسیٰ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، اور وہ معمر سے اور وہ خصیف سے روایت کرتے ہیں، خصیف کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں تشہد کے سلسلے میں اختلاف ہو گیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”تم پر ابن مسعود کا تشہد لازم ہے“۔
Jam e Tirmazi
402
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَبِي:‏‏‏‏ يَا أَبَةِ إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَعُمَرَ،‏‏‏‏ وَعُثْمَانَ،‏‏‏‏ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ هَا هُنَا بِالْكُوفَةِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَكَانُوا يَقْنُتُونَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ سفيان الثوري:‏‏‏‏ إِنْ قَنَتَ فِي الْفَجْرِ فَحَسَنٌ وَإِنْ لَمْ يَقْنُتْ فَحَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَارَ أَنْ لَا يَقْنُتَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرَ ابْنُ الْمُبَارَكِ الْقُنُوتَ فِي الْفَجْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَأَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ سَعْدُ بْنُ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ،‏‏‏‏
Abu Malik Al-Ashjai narrated: I said to my father: 'O my father! You offered Salat behind Allah's Messenger (S), Abu Bakr, Umar, Uthman, and Ali bin Abi Talib here in Al-Kufah for about five years. Did they say the Qunut?' He said: 'It is a newly invented matter my son.'
ابو مالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ ( طارق بن اشیم رضی الله عنہ ) سے عرض کیا: ابا جان! آپ نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور علی رضی الله عنہ کے پیچھے بھی یہاں کوفہ میں تقریباً پانچ برس تک پڑھی ہے، کیا یہ لوگ ( برابر ) قنوت ( قنوت نازلہ ) پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! یہ بدعت ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اگر فجر میں قنوت پڑھے تو بھی اچھا ہے اور اگر نہ پڑھے تو بھی اچھا ہے، ویسے انہوں نے پسند اسی بات کو کیا ہے کہ نہ پڑھے اور ابن مبارک فجر میں قنوت پڑھنے کو درست نہیں سمجھتے۔
Jam e Tirmazi
403
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ.
There is another narration from Abu Malik: There exists another narration from Abu Malik with similar meaning but with different chain.
ابوعوانہ نے ابو مالک اشجعی سے اسی سند سے اسی مفہوم کی اسی طرح کی حدیث روایت کی۔
Jam e Tirmazi
753
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةُ وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاوِيَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى حَدِيثِ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَا يَرَوْنَ صِيَامَ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَاجِبًا إِلَّا مَنْ رَغِبَ فِي صِيَامِهِ لِمَا ذُكِرَ فِيهِ مِنَ الْفَضْلِ.
Aishah narrated: Ashura was a day that the Quraish used to fast during Jahiliyyah, and the Messenger of Allah used to fast it. But when (the fast of) Ramadan became obligatory, the Ramadan was the required and Ashura was left. So whoever wanted to, he fasted it, and whoever wanted to, he left it.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ عاشوراء ایک ایسا دن تھا کہ جس میں قریش زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے، جب آپ مدینہ آئے تو اس دن آپ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا، لیکن جب رمضان کے روزے فرض کئے گئے تو صرف رمضان ہی کے روزے فرض رہے اور آپ نے عاشوراء کا روزہ ترک کر دیا، تو جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے ۱؎، ۲- اس باب میں ابن مسعود، قیس بن سعد، جابر بن سمرہ، ابن عمر اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث پر ہے، اور یہ حدیث صحیح ہے، یہ لوگ یوم عاشوراء کے روزے کو واجب نہیں سمجھتے، الا یہ کہ جو اس کی اس فضیلت کی وجہ سے جو ذکر کی گئی اس کی رغبت رکھے۔