TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4686 - بَاب المصافحة والمعانقة - آداب کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 10 of 18 in this chapter
بَاب المصافحة والمعانقة
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّى جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَالْتَزَمَهُ وقبَّلَ مابين عَيْنَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» مُرْسَلًا وَفِي بَعْضِ نُسَخِ «الْمَصَابِيحِ» وَفِي «شرح السّنة» عَن البياضي مُتَّصِلا
شعبی ؒ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جعفر بن ابی طالب ؓ کا استقبال کیا تو انہیں گلے لگایا اور ان کی آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) بوسہ دیا ۔ ابوداؤد ، بیہقی فی شعب الایمان مرسلا ۔ جبکہ مصابیح کے بعض نسخوں میں اور شرح السنہ میں البیاضی کی سند سے متصل ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
4686
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
(ضَعِيف)
Conclusion
تخریج
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۵۲۲۰) و البیھقی فی شعب الایمان (۸۹۶۸ ، والسنن الکبری ۷ / ۱۰۱) * السند مرسل و رواہ البیھقی بسند ضعیف عن الشعبی عن عبداللہ بن جعفر بہ مسندًا و للحدیث طرق ضعیفۃ کلھا ۔ 0 و ذکرہ البغوی فی مصابیح السنۃ (۳۶۳۰) و شرح السنۃ (۱۲ / ۲۹۲ بعد ح ۳۳۲۷) بدون سند ولم اجدہ مسندًا ولہ شواھد ضعیفۃ عند ابی القاسم البغوی فی معجم الصحابۃ (۲۷۷) و الطبرانی فی الکبیر (۲ / ۱۰۸ ح ۱۴۷۰) وغیرھما ۔

Related Chapters

14
1
مصافحہ، معانقہ، ہاتھ پر بوسہ دینے اور آنے والے کے لیے کھڑا ہونے کا بیان مصافحہ اور معانقہ کا بیان
Musnad Ahmad
2
(89)Chapter: What Has Been Related About Shaking Hands With The Junub Person
باب: جنبی سے مصافحہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Hand Shaking
باب: مصافحہ کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Hugging And Kissing
باب: معانقہ (گلے ملنے) اور بوسہ کا بیان
Jam e Tirmazi
5
اس چیز کا بیان کہ حاجی واپس آتے وقت کیا کہے گا یا کیا کرے گا، اسی طرح اس پر سلام کہنے، اس کے ساتھ مصافحہ کرنے اور اس سے دعا کا مطالبہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
6
مصافحہ کا آغاز کرنے والے پہلے شخص کا اور مردوں کا عورتوں سے مصافحہ کرنے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
7
(27) CHAPTER. Shaking hands.
مصافحہ کا بیان
Sahih Bukhari
8
(28) CHAPTER. The shaking of hands with both the hands.
دونوں ہاتھ پکڑنا اور حماد بنزید نے ابنمبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا
Sahih Bukhari
9
(29) CHAPTER. Al-Muanaqa (to embrace each other by putting arms round the neck on meeting). And the saying of one man to another: How are you this morning?
معانقہ یعنی گلے ملنے کے بیان میں اور ایک آدمی کا دوسرے سے پوچھنا کیوں آج صبح آپ کا مزاج کیساہے
Sahih Bukhari
10
CHAPTER: The Sexually Impure Person Shaking Hands.
باب: جنبی مصافحہ کرے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
11
CHAPTER: Regarding shaking hands.
باب: مصافحہ کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
12
CHAPTER: Regarding embracing.
باب: معانقہ ( گلے ملنے ) کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
13
جنبی سے مصافحہ کے حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
14
Chapter: Shaking hands
مصافحہ (یعنی ہاتھ ملانے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

116
Mishkat
5080
وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْجَوَّاظُ وَلَا الْجَعْظَرِيُّ» قَالَ: وَالْجَوَّاظُ: الْغَلِيظُ الْفَظُّ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي «سُنَنِهِ» . وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ وَصَاحِبُ» جَامِعِ الْأُصُولِ «فِيهِ عَنْ حَارِثَةَ. وَكَذَا فِي» شَرْحِ السُّنَّةِ عَنْهُ وَلَفْظُهُ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْجَوَّاظُ الْجَعْظَرِيُّ» . يُقَالُ: الْجَعْظَرِيُّ: الْفَظُّ الْغَلِيظُ وَفِي نُسَخِ «الْمَصَابِيحِ» عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ وَهْبٍ وَلَفْظُهُ قَالَ: وَالْجَوَّاظُ: الَّذِي جَمَعَ وَمَنَعَ. وَالْجَعْظَرِيُّ: الغليظ الْفظ
حارثہ بن وہب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بداخلاق اور سخت دل انسان جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ ابوداؤد ، بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور جامع الاصول والے نے بھی اسے روایت کیا ہے ، اور اس میں حارثہ سے مروی ہے ، اور اسی طرح انہی سے شرح السنہ میں بھی مروی ہے ، اور اس کے الفاظ یہ ہیں ، فرمایا :’’ جواظ و جعظری ‘‘ جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ جعظری کا یہ معنی کہا جاتا ہے :’’ سخت خو اور سخت گو ۔‘‘ اور مسابیح کے نسخوں میں عکرمہ بن وہب سے مروی ہے ، اور اس کے الفاظ ہیں :’’ جواظ ‘‘ کا معنی ہے : مال جمع کرنے والا بخیل ، اور ’’ جعظری ‘‘ کا معنی ہے :’’ سخت خو اور سخت گو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان و فی شرح السنہ و ذکر فی المصابیح السنہ ۔
Mishkat
192
وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ وَكَذَا التِّرْمِذِيُّ عَنْهُ إِلَّا أَنَّهُ ذَكَرَ أخصر مِنْهُ
امام احمد ، اور بیہقی نے شعب الایمان میں نواس بن سمعان ؓ سے اور اسی طرح امام ترمذی نے انہی سے روایت کیا ہے ، البتہ انہوں نے اس سے مختصر روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد (۴/ ۱۸۲ ، ۱۸۳ ح۱۷۷۸۴) و البیھقی فی شعب الایمان (۷۲۱۶) و الترمذی (۲۸۵۹) ۔
Mishkat
578
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ ذَكَرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَقَالَ: «مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا وَبُرْهَانًا وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمن لم يحافظ عَلَيْهَا لم يكن لَهُ نور وَلَا برهَان وَلَا نجاة وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ قَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے ایک روز نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :’’ جس نے نماز کی حفاظت و پابندی کی تو وہ اس شخص کے لیے روز قیامت نور ، دلیل اور نجات ہو گی ، اور جس نے اس کی حفاظت و پابندی نہ کی تو روز قیامت اس کے لیے نور ، دلیل اور نجات نہیں ہو گی اور وہ قارون ، فرعون ، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الدارمی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Mishkat
742
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ جَاءَ مَسْجِدي هَذَا لم يَأْته إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ أَوْ يُعَلِّمُهُ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص میری اس مسجد میں محض کوئی خیرو بھلائی سیکھنے یا سکھانے کی غرض سے آئے تو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مقام و مرتبہ پر ہے ، اور جو شخص اس کے علاوہ کسی اور غرض سے آئے تو وہ اس آدمی کی طرح ہے جو کسی کے مال پر نظر رکھتا ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Mishkat
1237
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رجل إِلَى النَّبِي صلى فَقَالَ: إِن فلَانا يُصَلِّي بِاللَّيْلِ فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ فَقَالَ: إِنَّهُ سَيَنْهَاهُ مَا تَقُولُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : فلاں شخص رات کو تہجد پڑھتا ہے اور جب صبح ہوتی ہے چوری کرتا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک وہ عنقریب تمہاری بتائی ہوئی بات (نماز) اسے روک دے گی ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Mishkat
1587
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعُودُ مَرِيضًا إِلَّا بَعْدَ ثَلَاثٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ تین دن کے بعد عیادت کے لیے جایا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
Mishkat
1595
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ مَرِيضًا مَاتَ شَهِيدًا أَوْ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَغُدِيَ وَرِيحَ عَلَيْهِ بِرِزْقِهِ مِنَ الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص بیماری کی حالت میں فوت ہوتا ہے تو وہ شہادت کی موت مرتا ہے ، اسے قبر کے فتنے سے بچا لیا جاتا ہے ، صبح و شام اسے جنت سے رزق پہنچا دیا جاتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Mishkat
1836
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَبَنًا فَأَعْجَبَهُ فَسَأَلَ الَّذِي سَقَاهُ: مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ وَهُمْ يَسْقُونَ فَحَلَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِي فَهُوَ هَذَا: فَأدْخل عمر يَده فاستقاءه. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے دودھ پیا تو وہ انہیں پسند آیا ، انہوں نے اس دودھ پلانے والے شخص سے پوچھا : یہ دودھ کہاں سے (حاصل کیا) ہے ؟ اس نے بتایا کہ وہ فلاں گھاٹ پر گیا تھا ، وہاں صدقہ کے کچھ اونٹ تھے اور وہ (چرواہے) انہیں پانی پلا رہے تھے ، انہوں نے ان کا دودھ دھویا تو میں نے اسے اپنے برتن میں ڈال لیا ، یہ وہ ہے ۔ عمر ؓ نے اپنا ہاتھ (حلق میں) ڈالا اور قے کر دی ۔ ضعیف ۔
Mishkat
2136
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَنْ شَغَلَهُ الْقُرْآنُ عَنْ ذِكْرِي وَمَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِي السَّائِلِينَ. وَفَضْلُ كَلَامِ اللَّهِ عَلَى سَائِرِ الْكَلَامِ كَفَضْلِ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رب تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : قرآن نے جس شخص کو میرے ذکر اور مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا ہو میں اسے اس سے بہتر عطا کرتا ہوں جو سوال کرنے والوں کو دیا جاتا ہے ، اور اللہ کے کلام کو دیگر کلاموں پر ایسے ہی برتری حاصل ہے جیسے اللہ کو اپنی مخلوق پر برتری حاصل ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ، بیہقی فی شعب الایمان ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔