TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4847 - بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ - آداب کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 36 of 66 in this chapter
بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا بِاللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» . وَفِي أُخْرَى لَهُ «وَلَا الْفَاحِشِ الْبَذِيءِ» . وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن نہ تو طعن کرنے والا ہوتا ہے اور نہ لعنت کرنے والا ، نہ وہ فحش گو ہوتا ہے اور نہ زبان دراز ۔‘‘ ترمذی ، بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور بیہقی کی دوسری روایت میں ہے ’’ نہ وہ فحش گوئی کرنے والا ہوتا ہے اور نہ زبان درازی کرنے والا ۔‘‘ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
4847
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
حسن ، رواہ الترمذی (۱۹۷۷) و البیھقی فی شعب الایمان (۵۱۵۰ ، ۵۱۴۹) ۔

Related Chapters

87
1
Chapter: What Has Been Related About Protecting The Tongue
باب: زبان کی حفاظت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: The Prohibition Of Talking Too Much Without The Remembrance Of Allah
باب: زبان کی حفاظت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
3
(23) CHAPTER. To protect one's tongue (from illegal talk, e.g., laying, abusing or backbiting, etc.).
زبان کی ( غلط باتوں سے ) حفاظت کرنا
Sahih Bukhari
4
زبان کی حفاظت
Sahih Muslim
5
Chapter: What Has Been Related About The Severity Of Back Biting For The Fasting Person
باب: روزہ دار کے غیبت کرنے کی شناعت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About: Whoever Is Killed Over His Wealth, Then He Is A Martyr
باب: اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا آدمی شہید ہے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Garrisons
باب: سرحد کی حفاظت کرنے والے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Backbiting
باب: غیبت چغلی کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Beating And Abusing The Servant
باب: خادم کو مارنا پیٹنا اور اسے گالی دینا اور برا بھلا کہنا منع ہے
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Al-Fuhsh(Obscenity) [And At-Tafahhush(Uttering Obscenities)]
باب: بےحیائی اور بد زبانی کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Vilification
باب: گالی گلوچ کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Verbally Abusing The Muslim Is Disobedience, And Fighting Him Is Disbelief
باب: گالی گلوچ کی مذمت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What has been Related About Changing The Evil With the hand, or with the tongue, or with the heart
باب: ہاتھ، زبان یا دل سے منکر (بری باتوں) کو روکنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Cursing The Wind
باب: ہوا کو گالی دینا منع ہے
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related [About] The Muslims Is The One From (The Harm Of) Whose Tongue And Hand (other) Muslims Are Safe
باب: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ (کے شر) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related That Verbally Abusing A Muslim Is Disobedience
باب: مومن کو گالی دینا فسق ہے
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Learning Syrian
باب: سریانی زبان سیکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
باب: ستر (شرمگاہ) کی حفاظت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: About The Supplication Of The Guest
باب: مہمان میزبان کے لیے کیا دعا کرے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
20
بَاب حرم مَكَّة حرسها الله تَعَالَى
حرمت مکہ ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
Mishkat
21
بَابُ حَرَمِ الْمَدِينَةِ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى
حرمتِ مدینہ کا بیان ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
Mishkat
22
عربی کے علاوہ کوئی اور زبان سیکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
23
روزے دار کو لغو، فحش کلامی اور غیبت سے متنبّہ کرنے اور ان امور کا روزے کے ثواب کو ضائع کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
24
نفس کی حفاظت کرنے اوراسے ہلاکت سے بچانے کے واجب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
25
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
26
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
27
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
Musnad Ahmad
28
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
Musnad Ahmad
29
غزوۂ احد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کے دانتوں کی شہادت، چہرہ انور کا زخمی ہونا، اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی حفاظت کرنا اور آپ کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں پر اللہ کی شدید ناراضی کا بیان
Musnad Ahmad
30
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
Musnad Ahmad
31
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ محبت، آپ کے بارے میں ان کی غیرت اور سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ کی حیات ِ مبارکہ میں جو جو عمل کیا کرتی تھیں، بعد میں بھی ان کی حفاظت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
32
(4) CHAPTER. A Muslim is the one who avoids harming Muslims with his tongue and hands.
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان بچے رہیں ( کوئی تکلیف نہ پائیں )
Sahih Bukhari
33
(3) CHAPTER. To guard one another during the Salat-ul-Khauf (fear prayer).
خوف کی نماز میں نمازی ایک دوسرے کی حفاظت کرتے ہیں
Sahih Bukhari
34
(15) CHAPTER. One should not retum greetings during the Salat (prayer).
نماز میں سلام کا جواب ( زبان سے ) نہ دے
Sahih Bukhari
35
(85) CHAPTER. The praising of a deceased by the people.
لوگوں کی زبان پر میت کی تعریف ہو تو بہتر ہے
Sahih Bukhari
36
(88) CHAPTER. Punishment in the grave because of back-biting and soiling one's clothes with urine.
غیبت اور پیشاب کی آلودگی سے قبر کا عذاب ہونا
Sahih Bukhari
37
(9) CHAPTER. Should one say, “I am observing Saum (fast)” on being abused?
کوئی روزہ دار کو اگر گالی دے تو اسے یہ کہنا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں ؟
Sahih Bukhari
38
(17) CHAPTER. (The sin of) the person who, when quarrelling, behaves impudently (i.e., by using bad words or false accusation).
اس شخص کا بیان کہ جب اس نے جھگڑا کیا تو بدزبانی پر اتر آیا
Sahih Bukhari
39
(6) CHAPTER. What is said about manumission and divorce by mistake or forgetfulness. Manumission of slave should be for Allah's sake only.
اگر بھول چوک کر کسی کی زبان سے عتاق ( آزادی ) یا طلاق یا اور کوئی ایسی ہی چیز نکل جائے
Sahih Bukhari
40
(20) CHAPTER. When someone gives something (as a gift) to another person and the receiver takes it into his possession without saying, I have accepted it.
اگر کوئی ہبہ کرے اور موہوب لہ اس پر قبضہ کر لے لیکن زبان سے قبول نہ کرے
Sahih Bukhari
41
(188) CHAPTER. Speaking Persian and speaking (Arabic) with an unfamiliar accent.
فارسی یا اور کسی بھی عجمی زبان میں بولنا
Sahih Bukhari
42
(7) CHAPTER. If anyone says Amin [during the Salat (prayer) at the end of the recitation of Surat Al-Fatiha], and the angels in heaven say the same, and the sayings of two coincide, all his past sins will be forgiven .
اس حدیث کے بیان میں کہ جب ایک تمہارا ( جہری نماز میں سورۃ الفاتحہ کے ختم پر باآواز بلند ) آمین کہتا ہے تو فرشتے بھی آسمان پر ( زور سے ) آمین کہتے ہیں اور اس طرح دونوں کی زبان سے ایک ساتھ ( با آواز بلند ) آمین نکلتی ہے تو بندے کے گزرے ہوئے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
43
(3) CHAPTER. The Quran was revealed in the language of Quraish.
قرآن کا قریش کی زبان میں نازل ہونا ۔
Sahih Bukhari
44
(85) CHAPTER. The last statement, the Prophet spoke.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ جو زبان مبارک سے نکلا
Sahih Bukhari
45
(22) CHAPTER. The recitation of the Quran by heart.
زبانی قرآنمجید کی تلاوت کرنا
Sahih Bukhari
46
(10) CHAPTER. A woman should take care of the wealth of her husband, and also of what he gives her for expenditures.
عورت کا اپنے شوہر کے مال کی اور جو وہ خرچ کے لیے دے اس کی حفاظت کرنا ۔
Sahih Bukhari
47
(6) CHAPTER. Whoever keeps a (pet) dog neither for hunting, nor for guarding livestock.
اس کے بیان میں جس نے ایسا کتا پالا جو نہ شکار کے لیے ہو اور نہ مویشی کی حفاظت کے لیے ۔
Sahih Bukhari
48
(4) CHAPTER. A man should not abuse his parents.
کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی گلوچ نہ دے
Sahih Bukhari
49
(38) CHAPTER. The Prophet was neither a Fahish (one who speaks bad words) nor a Mutafahhish (one who speaks obscene evil words to make people laugh).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سختگو اور بدزبان نہ تھے
Sahih Bukhari
50
(44) CHAPTER. What is forbidden as regards calling bad names and cursing.
گالی دینے اور لعنت کرنے کی ممانعت
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

73
Mishkat
192
وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ وَكَذَا التِّرْمِذِيُّ عَنْهُ إِلَّا أَنَّهُ ذَكَرَ أخصر مِنْهُ
امام احمد ، اور بیہقی نے شعب الایمان میں نواس بن سمعان ؓ سے اور اسی طرح امام ترمذی نے انہی سے روایت کیا ہے ، البتہ انہوں نے اس سے مختصر روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد (۴/ ۱۸۲ ، ۱۸۳ ح۱۷۷۸۴) و البیھقی فی شعب الایمان (۷۲۱۶) و الترمذی (۲۸۵۹) ۔
Mishkat
2136
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَنْ شَغَلَهُ الْقُرْآنُ عَنْ ذِكْرِي وَمَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِي السَّائِلِينَ. وَفَضْلُ كَلَامِ اللَّهِ عَلَى سَائِرِ الْكَلَامِ كَفَضْلِ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رب تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : قرآن نے جس شخص کو میرے ذکر اور مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا ہو میں اسے اس سے بہتر عطا کرتا ہوں جو سوال کرنے والوں کو دیا جاتا ہے ، اور اللہ کے کلام کو دیگر کلاموں پر ایسے ہی برتری حاصل ہے جیسے اللہ کو اپنی مخلوق پر برتری حاصل ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ، بیہقی فی شعب الایمان ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Mishkat
2288
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَه هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ الْغَفَّارُ الْقَهَّارُ الْوَهَّابُ الرَّزَّاقُ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الْخَافِضُ الرَّافِعُ الْمُعِزُّ الْمُذِلُّ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ الْحَكَمُ الْعَدْلُ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ الْحَلِيمُ الْعَظِيمُ الْغَفُورُ الشَّكورُ العَلِيُّ الكَبِيرُ الحَفيظُ المُقِيتُ الْحَسِيبُ الْجَلِيلُ الْكَرِيمُ الرَّقِيبُ الْمُجِيبُ الْوَاسِعُ الْحَكِيمُ الْوَدُودُ الْمَجِيدُ الْبَاعِثُ الشَّهِيدُ الْحَقُّ الْوَكِيلُ الْقَوِيُّ الْمَتِينُ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ الْمُحْصِي الْمُبْدِئُ الْمُعِيدُ الْمُحْيِي المُميتُ الحَيُّ القَيُّومُ الواجِدُ الماجِدُ الواحِدُ الأحَدُ الصَّمَدُ الْقَادِرُ الْمُقْتَدِرُ الْمُقَدِّمُ الْمُؤَخِّرُ الْأَوَّلُ الْآخِرُ الظَّاهِرُ الْبَاطِنُ الْوَالِي الْمُتَعَالِي الْبَرُّ التَّوَّابُ الْمُنْتَقِمُ العَفُوُّ الرَّؤوفُ مَالِكُ الْمُلْكِ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ الْمُقْسِطُ الْجَامِعُ الْغَنِيُّ الْمُغْنِي الْمَانِعُ الضَّارُّ النَّافِعُ النُّورُ الْهَادِي الْبَدِيعُ الْبَاقِي الْوَارِثُ الرَّشِيدُ الصَّبُورُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والبيهقيُّ فِي الدَّعواتِ الْكَبِير. وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ایک کم سو نام ہیں ، جو انہیں یاد کر لے وہ جنت میں داخل ہو گا : وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ بہت مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، وہ بادشاہ ہے ، وہ پاک ومنزّہ ، سلامتی دینے والا ، امن دینے والا ، نگہبان ، غالب ، جبار و متکبر ، پیدا کرنے والا ، عدم سے وجود میں لانے والا ، تصویر کشی کرنے والا ، بخشنے والا ، تمام مخلوق پر غالب ، عطا کرنے والا ، رزق دینے والا ، فیصلہ کرنے والا ، جاننے والا ، تنگی دور کرنے والا ، فراخی کرنے والا ، اوپر کرنے والا ، عزت دینے والا ، ذلت دینے والا ، دیکھنے والا ، حکم دینے والا ، عدل کرنے والا ، باریک بین ، خبر رکھنے والا ، عظمت والا ، بخشنے والا ، قدر دان ، بلند ، بڑا ، حفاظت کرنے والا ، نگرانی کرنے والا ، کفایت کرنے والا ، ، شان و بزرگی والا ، سخی داتا ، حفاظت کرنے والا ، دعائیں قبول کرنے والا ، کشائش والا ، حکمت والا ، محبت رکھنے والا ، شان و شوکت والا ، مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنے والا ، حاضر ، ثابت ، کارساز ، قوی ، طاقت والا ، مددگار ، قابل ستائش ، احاطہ کرنے والا ، پہلی بار پیدا کرنے والا ، دوبارہ پیدا کرنے والا ، مارنے والا ، زندگی بخشنے والا ، قائم رہنے اور قائم رکھنے والا ، پالنے والا ، بزرگی والا ، یکتا ، تنہا ، بے نیاز ، قادر و مقتدر ، آگے کرنے والا ، پیچھے کرنے والا ، اول ، آخر ، ظاہر ، باطن ، تمام اشیاء کا مالک ، بلند تر ، احسان کرنے والا ، توبہ قبول کرنے والا ، انتقام لینے والا ، درگزر کرنے والا ، شفقت کرنے والا ، شہنشاہ ، عظمت و اکرام والا ، روز قیامت جمع کرنے والا ، غنی بے نیاز کرنے والا ، روکنے والا ، نقصان پہنچانے والا ، نفع دینے والا ، مجسّم نور ، راہ دکھانے والا ، بے مثال ، پیدا کرنے والا ، باقی رکھنے والا ، وارث ، راہنمائی کرنے والا ، بہت برداشت کرنے والا ۔‘‘ ترمذی ، بیہقی فی الداعات الکبیر ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۰۷) و البیھقی فی الدعوات الکبیر (۲ / ۳۰ ، ۳۱ ح ۲۶۲) ۔
Mishkat
2503
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ» . قَالُوا: وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ؟ قَالَ: «يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی مومن کی شان نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : وہ اپنے آپ کو کیسے ذلیل کرتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایسے مصائب کو (دعا یا اعمال کے ذریعے) دعوت دیتا ہے ۔ جن کی وہ طاقت نہیں رکھتا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و البیھقی ۔
Mishkat
3360
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ لَكِنْ عِنْدَهُ «فَلْيُمْسِكْ» بدل «فارفعوا أَيْدِيكُم»
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے اور وہ اللہ کا واسطہ دے تو تم اپنا ہاتھ اٹھا لو (نہ مارو) ۔‘‘ ترمذی ، بیہقی فی شعیب الایمان ، لیکن اس میں ’’ اپنا ہاتھ اٹھا لو ‘‘ کے بجائے ’’ روک لو ‘‘ کے الفاظ ہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Mishkat
4977
وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدَهُ مِنْ نُحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا عِنْدِي حَدِيث مُرْسل
ایوب بن موسیٰ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ والدین اپنی اولاد کو جو بہترین عطیہ دیتا ہے وہ ان کی اچھی تربیت ہے ۔‘‘ ترمذی ، بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : میرے نزدیک یہ حدیث مرسل ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Mishkat
4993
وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ؟» . قَالَ: فَسَكَتُوا فَقَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. فَقَالَ رَجُلٌ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا بِخَيْرِنَا مِنْ شَرِّنَا. فَقَالَ: «خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن صَحِيح
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چند ایسے لوگوں کے پاس ، کھڑے ہوئے جو بیٹھے ہوئے تھے تو فرمایا :’’ کیا میں تمہیں تمہارے برے اور اچھے لوگوں کے متعلق نہ بتاؤں ؟‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، وہ خاموش رہے ، آپ ﷺ نے تین مرتبہ ایسے فرمایا ، تو ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیوں نہیں ، آپ ہمارے برے میں سے بہتر کے متعلق ہمیں ضرور بتائیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جس سے خیر کی توقع کی جائے اور اس کے شر سے امن ہو جبکہ تم میں سے برا وہ ہے جس سے خیر کی توقع نہ کی جائے اور اس کے شر سے امن نہ ہو ۔‘‘ ترمذی ، بیہقی فی شعب الایمان ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Mishkat
5019
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. وَقَالَ النَّوَوِيُّ: إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ، لہذا تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ، اور امام نووی ؒ نے فرمایا : اس کی اسناد صحیح ہیں ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Mishkat
5115
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَخَيَّلَ وَاخْتَالَ وَنَسِيَ الْكَبِيرَ الْمُتَعَالِ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَجَبَّرَ وَاعْتَدَى وَنَسِيَ الْجَبَّارَ الْأَعْلَى بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ سَهَى وَلَهَى وَنَسِيَ الْمَقَابِرَ وَالْبِلَى بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ عَتَى وَطَغَى وَنَسِيَ الْمُبْتَدَأَ وَالْمُنْتَهَى بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدُّنْيَا بِالدِّينِ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدِّينَ بِالشُّبَهَاتِ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ طَمَعٌ يَقُودُهُ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ هَوًى يُضِلُّهُ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ رَغَبٌ يُذِلُّهُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» . وَقَالَا: لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ أَيْضًا: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
اسماء بنت عمیس ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ برا ہے وہ بندہ جس نے تکبر کیا اور اس بڑی بلند ذات (اللہ تعالیٰ) کو بھول گیا ، برا ہے وہ بندہ جس نے ظلم و زیادتی کی اور وہ غالب و اعلیٰ ذات کو بھول گیا ، برا ہے وہ بندہ جو بھول گیا ، کھیل کود میں مشغول رہا اور وہ قبروں اور اپنے بوسیدہ ہونے کو بھول گیا ، برا ہے وہ بندہ جس نے تکبر کیا اور سرکشی کی اور وہ (اپنے) آغاز و انجام کو بھول گیا ، برا ہے وہ بندہ جو دین کے بدلے دنیا طلب کرتا ہے ، برا ہے وہ بندہ جو شبہات کے ذریعے دین کو خراب کرتا ہے ، بدترین وہ بندہ ہے جسے طمع و حرص کھینچ لے جاتی ہے ، برا ہے وہ بندہ کہ خواہش اسے گمراہ کر دیتی ہے ، برا ہے وہ بندہ جسے دنیا کی رغبت ذلیل کر دیتی ہے ۔‘‘ ترمذی ، بیہقی فی شعب الایمان ، دونوں نے فرمایا : اس کی سند قوی نہیں ، اور امام ترمذی نے یہ بھی فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔