TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب صفةالجنة وَأَهْلهَا - جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان - قیامت کے احوال اور دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 5 of قیامت کے احوال اور دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 9 · 43 Hadith
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ فِي الْجَنَّةِ لَيَتَّكِئُ فِي الْجَنَّةِ سَبْعِينَ مَسْنَدًا قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ ثُمَّ تَأْتِيهِ امْرَأَةٌ فَتَضْرِبُ عَلَى مَنْكِبِهِ فَيَنْظُرُ وَجْهَهُ فِي خَدِّهَا أَصْفَى مِنَ الْمِرْآةِ وَإِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا تُضِيءُ مَا بينَ المشرقِ والمغربِ فتسلِّمُ عَلَيْهِ فيردُّ السلامَ وَيَسْأَلُهَا: مَنْ أَنْتِ؟ فَتَقُولُ: أَنَا مِنَ الْمَزِيدِ وَإِنَّهُ لَيَكُونُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ ثَوْبًا فَيَنْفُذُهَا بَصَرُهُ حَتَّى يَرَى مُخَّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ وإِنَّ عَلَيْهَا من التيجان أَن أدنىلؤلؤة مِنْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ . رَوَاهُ أَحْمد
ابوسعید ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی جنت میں ، (اپنی خاص) جنت میں کروٹ بدلنے سے پہلے ستر تکیوں پر ٹیک لگائے گا ، پھر ایک عورت اس کے پاس آئے گی ، اور اس کے کندھے کو تھپتھپائے گی ، وہ اس کے رخسار میں اپنا چہرہ دیکھے گا ، وہ (رخسار) آئینے سے زیادہ صاف ہو گا ، اور اس (عورت) پر ادنی موتی مشرق و مغرب کے درمیانی فاصلے کو روشن کر دے ، وہ اس کو سلام کرے گی تو وہ اسے سلام کا جواب دے گا ، اور وہ اس سے پوچھے گا : تو کون ہے ؟ وہ کہے گی : میں ’’مزید‘‘ کے ضمن سے ہوں ، اس پر ستر لباس ہوں گے ، اس کی نظر ان (ستر لباسوں) سے گزر جائے گی حتی کہ ان کے پیچھے اس کی پنڈلی کا گودا دیکھ لے گا ، اور اس پر ایک تاج ہو گا اور اس کے جواہرات میں سے ادنی ہیرا مشرق و مغرب کو روشن کر دے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ احمد (۳ / ۷۵ ح ۱۱۷۳۸) و ابن حبان فی صحیحہ (الاحسان : ۷۳۵۴ / ۷۳۹۷ و سندہ حسن) ۔
5652
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَحَدَّثُ - وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ -: إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ فِي الزَّرْعِ. فَقَالَ لَهُ: أَلَسْتَ فِيمَا شِئْتَ؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنْ أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ فَبَذَرَ فَبَادَرَ الطَّرْفَ نَبَاتُهُ وَاسْتِوَاؤُهُ وَاسْتِحْصَادُهُ فَكَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ. فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: دُونَكَ يَا ابْن آدم فَإِنَّهُ يُشْبِعُكَ شَيْءٌ . فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: وَاللَّهِ لَا تَجِدُهُ إِلَّا قُرَشِيًّا أَوْ أَنْصَارِيًّا فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ وَأَمَّا نَحْنُ فَلَسْنَا بِأَصْحَابِ زَرْعٍ فَضَحِكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ بات کر رہے تھے ، اس وقت آپ کے پاس ایک اعرابی تھا کہ جنت والوں میں سے ایک آدمی نے اپنے رب سے کاشتکاری کے متعلق اجازت طلب کی تو اس نے اس سے فرمایا : کیا تجھے من پسند چیزیں میسر نہیں ؟ اس نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، میسر ہیں ، لیکن میں چاہتا ہوں کہ میں کاشتکاری کروں ، اس نے بیج گرایا تو پل بھر میں وہ اگ آیا ، برابر ہو گیا اور کٹ بھی گیا ، اور وہ (غلے کے ڈھیر) پہاڑوں کی طرح تھے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ابن آدم ! اسے لے لو ، کیونکہ کوئی چیز تیرا پیٹ نہیں بھر سکتی ۔‘‘ اس اعرابی نے عرض کیا ، اللہ کی قسم ! وہ قریشی یا انصاری ہو گا کیونکہ وہ کاشتکار ہیں ، اور رہے ہم ، تو ہم کاشتکار نہیں ، رسول اللہ ﷺ ہنس دیے ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۲۳۴۸) ۔
5653
Sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَنَامُ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: «النَّوْمُ أَخُو الْمَوْتِ وَلَا يَمُوتُ أَهْلُ الجنةِ» . رواهُ البيهقيُّ فِي «شعب الْإِيمَان»
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا ، کیا جنت والے سوئیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نیند ، موت کی بہن ہے اور جنت والے مریں گے نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۴۷۴۵ ، نسخۃ محققۃ : ۴۴۱۶) * سفیان الثوری مدلس و عنعن و لحدیثہ شواھد ضعیفۃ و مرسلۃ فی الصحیحۃ للالبانی (۱۰۸۷) و معناہ صحیح ۔
5654
Zaeef