TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب صفةالنار وَأَهْلهَا - جہنم اور جہنم والوں کا بیان - قیامت کے احوال اور دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 7 of قیامت کے احوال اور دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 9 · 29 Hadith
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ابْكُوا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِيعُوا فَتَبَاكَوْا فَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ يَبْكُونَ فِي النَّارِ حَتَّى تَسِيلَ دُمُوعُهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ كَأَنَّهَا جَدَاوِلُ حَتَّى تَنْقَطِعَ الدُّمُوعُ فَتَسِيلَ الدِّمَاءُ فَتَقَرَّحَ الْعُيُونُ فَلَوْ أَنَّ سُفُنًا أُزْجِيَتْ فِيهَا لجَرَتْ» . رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»
انس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگو ! (اپنے گناہوں پر ڈرتے ہوئے) رویا کرو ، اگر تم (رونے کی) استطاعت نہ رکھو تو پھر اپنے آپ کو رونے پر آمادہ کرو ، کیونکہ جہنم والے جہنم میں روئیں گے حتی کہ ان کے آنسو ان کے چہروں پر اس طرح رواں ہوں گے جیسے وہ بہتی نالیاں ہیں ، اور پھر روتے روتے ان کے آنسو ختم ہو جائیں گے تو پھر خون بہنا شروع ہو جائے گا ، آنکھیں زخمی ہو جائیں گی (اور اس قدر آنسو اور خون بہے گا کہ) اگر اس میں کشتیاں چھوڑ دی جائیں تو وہ چلنا شروع کر دیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۱۵ / ۲۵۳ ح ۴۴۱۸) * فیہ یزید الرقاشی : ضعیف و عمران بن زید التغلبی : لین و للحدیث لون آخر عند ابن ماجہ (۴۳۲۴) و سندہ ضعیف ۔
5685
Zaeef
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُلْقَى عَلَى أَهْلِ النَّارِ الْجُوعُ فَيَعْدِلُ مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ فَيَسْتَغِيثُونَ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ مِنْ ضَرِيعٍ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ فَيَسْتَغِيثُونَ بِالطَّعَامِ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ ذِي غُصَّةٍ فَيَذْكُرُونَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُجِيزُونَ الْغُصَصَ فِي الدُّنْيَا بِالشَّرَابِ فَيَسْتَغِيثُونَ بِالشَّرَابِ فَيُرْفَعُ إِلَيْهِمُ الْحَمِيمُ بِكَلَالِيبِ الْحَدِيدِ فَإِذَا دَنَتْ مِنْ وُجُوهِهِمْ شَوَتْ وُجُوهَهُمْ فَإِذَا دَخَلَتْ بُطُونَهُمْ قطعتْ مَا فِي بطونِهم فيقولونَ: ادْعوا خَزَنَةَ جهنمَ فيقولونَ: أَلمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ؟ قَالُوا: بَلَى. قَالُوا: فَادْعُوا وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ قَالَ: فيقولونَ: ادْعوا مَالِكًا فيقولونَ: يَا مالكُ ليَقْضِ علَينا ربُّكَ قَالَ: «فيُجيبُهم إِنَّكم ماكِثونَ» . قَالَ الْأَعْمَشُ: نُبِّئْتُ أَنَّ بَيْنَ دُعَائِهِمْ وَإِجَابَةِ مَالِكٍ إِيَّاهُمْ أَلْفَ عَامٍ. قَالَ: فَيَقُولُونَ: ادْعُوا رَبَّكُمْ فَلَا أَحَدَ خَيْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ: فيُجيبُهم: اخْسَؤوا فِيهَا وَلَا تُكلمونِ قَالَ: «فَعِنْدَ ذَلِكَ يَئِسُوا مِنْ كُلِّ خَيْرٍ وَعِنْدَ ذَلِكَ يَأْخُذُونَ فِي الزَّفِيرِ وَالْحَسْرَةِ وَالْوَيْلِ» . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَالنَّاسُ لَا يرفعونَ هَذَا الحديثَ. رَوَاهُ الترمذيُّ
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم والوں پر بھوک ڈال دی جائے گی ، اور وہ (بھوک کی تکلیف) اس عذاب (کی تکلیف) کے برابر ہو گی جس میں وہ مبتلا ہوں گے ، وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی کانٹے دار کھانے کے ذریعے کی جائے گی ، وہ موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا ، وہ کھانے کی فریاد کریں گے تو ان کی اس طرح کے کھانے سے فریاد رسی کی جائے گی جو حلق میں اٹک جانے والا ہو گا ، وہ یاد کریں گے کہ وہ دنیا میں ، حلق میں اٹک جانے والی چیزوں کو گزارنے کے لیے پانی پیا کرتے تھے ، وہ پانی کے لیے فریاد کریں گے تو لوہے کے آنکڑوں کے ذریعے گرم کھولتا ہوا پانی ان کے قریب کیا جائے گا ، جب وہ ان کے چہروں کے قریب ہو گا تو وہ ان کے چہروں کو جلا دے گا ، اور ان کے پیٹ میں داخل ہو گا تو وہ پیٹ میں موجود ہر چیز کو کاٹ ڈالے گا ، وہ کہیں گے : جہنم کے دربانوں کو بلاؤ ، تو وہ جواب دیں گے ، کیا تمہارے رسول معجزات لے کر تمہارے پاس نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے : کیوں نہیں ، آئے تھے ، وہ کہیں گے : (پھر) پکارتے رہو ، اور کافروں کی پکار خسارے میں ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ (کافر) کہیں گے : مالک کو بلاؤ ، وہ کہیں گے ، مالک ! تیرا رب ہمیں موت ہی دے دے ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ انہیں جواب دے گا : بے شک تم ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں ٹھہرنے والے ہو ۔‘‘ اعمش ؒ نے فرمایا : مجھے بتایا گیا کہ ان کی دعا اور مالک کے انہیں جواب دینے میں ہزار سال کا وقفہ ہو گا ۔ فرمایا :’’ وہ کہیں گے ، اپنے رب سے دعا کرو ، تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں ، وہ عرض کریں گے : ہمارے پروردگار ! ہماری شقاوت ہم پر غالب آ گئی اور ہم گمراہ لوگ تھے ، ہمارے پروردگار ! ہمیں یہاں سے نکال دے ، اگر ہم نے دوبارہ وہی کام کیے (جن پر تو ناراض ہوتا ہے) تو ہم ظالم ہوں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ انہیں جواب دے گا : ذلیل ہو کر اسی میں رہو ، اور مجھ سے کلام نہ کرو ۔‘‘ فرمایا :’’ اس وقت وہ ہر قسم کی خیر و بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے ، اور اس وقت وہ چیخ و پکار ، حسرت اور تباہی میں مبتلا ہو جائیں گے ۔‘‘ اور عبداللہ بن عبد الرحمن ؒ (راوی) بیان کرتے ہیں ، لوگ اس حدیث کو مرفوع بیان نہیں کرتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۵۸۶) * الاعمش مدلس و عنعن و قال احمد :’’ الاعمش لم یسمع من شمر بن عطیۃ ‘‘ (المراسیل لابن ابی حاتم ص ۸۲) ۔
5686
Zaeef
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ» فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى لَوْ كَانَ فِي مَقَامِي هَذَا سَمِعَهُ أَهْلُ السُّوقِ وَحَتَّى سَقَطَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَيْهِ عِنْدَ رجلَيْهِ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نےرسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میں نے تمہیں جہنم کی آگ سے آگاہ کر دیا ، میں نے تمہیں جہنم کی آگ سے آگاہ اور خبردار کر دیا ۔‘‘ آپ ﷺ بار بار یہ فرماتے رہے ، حتی کہ اگر آپ میری اس جگہ ہوتے تو بازار والے اسے سن لیتے ، اور حتی کہ آپ (کے کندھے) پر جو چادر تھی وہ آپ کے قدموں پر گر پڑی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی (۲ / ۳۳۰ ح ۲۸۱۵ ، نسخۃ محققۃ : ۲۸۵۴) [و صححہ الحاکم (۱ / ۲۸۷) و وافقہ الذھبی] ۔
5687
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ رَصَاصَةً مِثْلَ هَذِهِ - وَأَشَارَ إِلَى مِثْلِ الْجُمْجُمَةِ - أُرْسِلَتْ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَهِيَ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ لَبَلَغَتِ الْأَرْضَ قَبْلَ اللَّيْلِ وَلَوْ أَنَّهَا أُرْسِلَتْ مِنْ رَأْسِ السِّلْسِلَةِ لَسَارَتْ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ قَبْلَ أنْ تبلع أَصْلهَا أَو قعرها» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر اتنا سیسہ ۔‘‘ آپ ﷺ نے پیالے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :’’ آسمان سے زمین کی طرف چھوڑا جائے اور وہ پانچ سو میل کی مسافت ہے ، تو وہ شام سے پہلے زمین پر پہنچ جائے ، اور اگر اسے زنجیر کے سرے سے چھوڑا جائے تو اسے اس کی اصل (پہلے کڑی) تک یا اس کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے متواتر چالیس سال لگیں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۵۸۸ وقال : حسن صحیح) ۔
5688
Sahih
وَعَن أبي بُردةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ فِي جَهَنَّمَ لَوَادِيًا يُقَالُ لَهُ: هَبْهَبُ يسكنُه كلُّ جبَّارٍ رَوَاهُ الدَّارمِيّ
ابو بُردہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم میں ایک وادی ہے جسے ھَبْھَبْ کہا جاتا ہے ، اس میں ہر قسم کے سرکش اور باغی رہیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۲ / ۳۳۱ ح ۲۸۱۹ ، نسخۃ محققۃ : ۲۸۵۸) * فیہ ازھر بن سنان : ضعیف ۔
5689
Zaeef
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَعْظُمُ أَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ حَتَّى إِنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سبعمائةِ عامٍ وإِنَّ غِلَظَ جلدِه سَبْعُونَ ذراعان وَإِن ضرسه مثل أحد»
ابن عمر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم والوں کے جسم ، جہنم میں بڑے ہو جائیں گے حتی کہ ان کی کان کی لو سے کندھے تک سات سو سال کی مسافت ہو گی ، اس کی جلد کی موٹائی ستر ہاتھ ہو گی اور اس کی داڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۲ / ۲۶ ح ۴۸۰۰) * فیہ ابو یحیی : لین الحدیث و انظر النھایۃ بتحقیقی (۱۰۷۶) لمزید التحقیق ۔
5690
Zaeef
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي النَّارِ حَيَّاتٍ كَأَمْثَالِ الْبُخْتِ تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيفًا وَإِنَّ فِي النَّارِ عَقَارِبَ كَأَمْثَالِ الْبِغَالِ الْمُؤْكَفَةِ تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيفًا» . رَوَاهُمَا أَحْمد
عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم میں بختی اونٹوں کی طرح اژدہے ، ان میں سے ایک ڈسے گا تو وہ چالیس سال تک اس کے زہر کا اثر محسوس کرتا رہے گا ، اس میں پالان بندھوں خچروں کی طرح کے بچھو ہوں گے ، ان میں سے کوئی ڈسے گا تو وہ شخص چالیس سال تک اس کی زہر کا اثر محسوس کرتا رہے گا ۔‘‘ دونوں احادیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ احمد (۴ / ۱۹۱ ح ۱۷۸۶۴) [و صححہ ابن حبان (۷۴۷۱ نسخۃ محققۃ) و الحاکم (۴ / ۵۹۳) و وافقہ الذھبی و سندہ حسن] ۔
5691
Sahih
وَعَن الحسنِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ثَوْرَانِ مُكَوَّرَانِ فِي النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . فَقَالَ الْحَسَنُ: وَمَا ذَنْبُهُمَا؟ فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَكَتَ الْحَسَنُ. رَوَاهُ البيهقيُّ فِي «كتاب الْبَعْث والنشور»
حسن بصری ؒ بیان کرتے ہیں ، ابوہریرہ ؓ نے ہمیں رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت سورج اور چاند کو لپیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔‘‘ اس پر حسن ؒ نے عرض کیا : ان کا کیا گناہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کر رہا ہوں ، تب حسن بصری ؒ خاموش ہو گئے ۔ صحیح ، رواہ البیھقی فی البعث و النشور ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ البیھقی فی البعث و النشور (ذکرہ السیوطی فی اللآلی المصنوعۃ ۱ / ۸۲) ولہ شاھد عند الطحاوی فی مشکل الآثار (۱ / ۶۶ ۔ ۶۷) و سندہ صحیح] ۔
5692
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِلَّا شَقِيٌّ» . قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنِ الشَّقِيُّ؟ قَالَ: «مَنْ لَمْ يَعْمَلْ لِلَّهِ بِطَاعَةٍ وَلم يتركْ لَهُ مَعْصِيّة» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ صرف بدنصیب شخص ہی جہنم میں جائے گا ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! بدنصیب شخص کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے اللہ کی خاطر کوئی نیک کام نہ کیا اور نہ اس کی خاطر کوئی گناہ چھوڑا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۴۲۹۸) * ابن لھیعۃ مدلس و عنعن ۔
5693
Zaeef